Dr Aslam Jamshedpuri | اسماعیل میرٹھی یادگاری خطبہ

ادب اطفال عمیق مطالعے،وسیع تجربے،گہرے مشاہدے اور زبان وبیان پر دسترس کا متقاضی ہے۔پروفیسر ارتضیٰ کریم
اسماعیل میرٹھی یادگاری خطبہ اور مہتاب عالم پرویز کی کتاب ’’کارواں‘‘ اور نعیم انیس کی کتاب ’’میزان افکار‘‘ کا
اجراء عمل میں آیا
میرٹھ18؍اپریل2013ء(پریس ریلیز)شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ اور قومی کونسل برا ئے فروغ اردو زبان،نئی دہلی کے اشتراک سے،شعبہ کے پریم چند سیمینار ہال میں مولانا اسماعیل میرٹھی یادگا ری خطبہ بعنوان’’بچوں کا ادب: تاریخ،ارتقا اور امکانات‘‘ منعقد ہوا۔پروگرام کی صدارت صدر شعبۂ اردو ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے کی۔خصوصی مقرر کی حیثیت سے پرو فیسر ارتضیٰ کریم(شعبۂ اردو،دہلی یونیورسٹی، دہلی)،مہمان خصوصی کی حیثیت سے راجکمار سچان ہوری (سابق،ایم سی ڈی کمشنر،میرٹھ) اور مہمانان ذی وقار کی حیثیت سے ڈاکٹر نعیم انیس (کلکتہ)مہتاب عالم پرویز(جمشید پور) ،ڈاکٹر خالد حسین خاں(صدر شعبۂ اردو،میرٹھ کالج ،میرٹھ )اور معروف ادیب طالب زیدی شریک ہوئے۔جب کہ نظامت کے فرائض شعبہ کے استاد ڈاکٹر آصف علی نے انجام دیے۔
تقریب کا آ غاز حافظ محمد خالد نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ہدیہ نعت فرح نازاور اسماعیل میرٹھی کے مختلف نصیحت آمیز اشعارچاندنی عباسی نے ،استقبالیہ کلمات محمد آ فاق خاں نے اور ڈاکٹر شاداب علیم کے ذریعے لکھا گیا مولانا اسماعیل میرٹھی کا مختصر تعارف عامر نظیر ڈار نے پیش کیا۔مہمانوں نے مل کر شمع رو شن کی اور گلوں کے ذریعے مہمانوں کا استقبال کیا گیا۔
اس کے بعد خصوصی مقرر پرو فیسر ارتضیٰ کریم نے مذکورہ موضوع پر ایک تفصیلی اور جامع خطبہ پیش کیا،جس میں انہوں نے بچوں کے ادب کی اہمیت کے ساتھ ساتھ اس کے عہد بہ عہد ارتقا ء کی تفصیلات بیان کرتے ہو ئے ،اس کے مستقبل کے امکانات پر بھی مدلل گفتگو کی۔جس نے سامعین کومتحیر کردیا۔انہوں نے کہا کہ آج بچوں کو تعلیم تو دی جارہی ہے لیکن تہذیب نہیں جو صالح معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے۔بچوں کا ادب لکھنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ ادب اطفال عمیق مطالعے،وسیع تجربے،گہرے مشاہدے اور زبان وبیان پر دسترس کا متقاضی ہے۔ کیوں کہ بچوں کی اپنی ایک الگ دنیا ہو تی ہے،ان کی نفسیات،معاملات ،اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت الگ ہوتی ہے جسے سمجھنے اور سمجھانے کے لیے قلم کار کوانہی کے رنگ میں رنگنا ضروری ہے۔اسی لیے بچوں پر لکھنے وا لے ادیبوں کی تعداد کم ہے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ کم وبیش ہر بڑے اور تاریخ ساز ادیب و شاعرنے بچوں کے لیے ضرور لکھا ہے۔اسماعیل میرٹھی نے بھی بچوں کی نفسیات کو بخو بی سمجھا اور اپنی تخلیقات میں پیش کیا ہے۔
مہمان خصوصی راج کمار سچان ہوری نے اسماعیل میرٹھی کی شخصیت اور خدمات پر رو شنی ڈالتے ہو ئے کہا کہ اسماعیل میرٹھی بچوں کے ساتھ ساتھ عوام کے شاعر تھے۔انہوں نے ہمیشہ ثقیل الفاظ، مشکل محاورات اور دور ازکار تشبیہات و استعارات کے بجائے عوام میں رائج الفاظ ،روزمرہ کے محاورات استعمال کیے ہیں۔آج اردو اور ہندی کے ادیب اپنی اپنی زبانوں کوفارسی اور سنسکرت کی طرف لے جانے کی کوشش کررہے ہیں ،یہ نقصان دہ نظریہ ہے۔آج پھر ضرورت ہے کہ ہم الفاظ کی شعبدہ بازی سے باز آکرسادہ عام فہم اور سماج میں رائج زبان کا استعمال کریں۔یہی ان زبانوں کی بقا کا واحد راستہ ہے۔
تقریب کے دوسرے حصے میں دو کتابوں ڈاکٹر نعیم انیس کی تحقیقی و تنقیدی کاوش’’میزان افکار‘‘اور مہتاب عالم پرویز کے افسانوی مجموعے’’کارواں‘‘ کی رسم نقاب کشا ئی بھی کی گئی۔میزان افکار پر ڈاکٹر محمد کاظم(شعبہ اردو،دہلی یونیورسٹی، دہلی)نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ نعیم انیس کی یہ کتاب ادبی ،تہذیبی اور ثقا فتی وراثت کو اجا گر کرتی ہے۔اس میں نامور قلم کاروں کے ساتھ ساتھ بہت سے گمنام ادیبوں کی خدمات کو قارئین کے سامنے لایا گیا ہے۔
’’کارواں‘‘ پر اپنے خیالات کا اظہار کر تے ہو ئے ڈاکٹر ریحانہ سلطا نہ(گوتم بدھ یونیورسٹی، نوئیڈا) نے کہا کہ مہتاب عالم پر ویز کی کہانیاں قارئین کو اپنی گرفت میں لیے رہتی ہیں۔وہ معاشرے کے تلخ حقا ئق سے رو شناس کرا تی ہیں جس کی چبھن سے بعض اوقات قاری بے چین ہو اٹھتا ہے۔ان کے کردار پسماندہ طبقات پر ہورہے ظلم و ستم کے خلاف نبرد آزما ہونے کا حوصلہ بخشتے ہیں۔انہوں نے طبقۂ نسواں کوبھی قوت اور سماج میں با عزت مقام عطا کرنے کی کوشش کی ہے۔مہتاب عالم پرویز کی کہا نیاں سماج کی آئینہ دار ہیں۔
صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے کہاکہ اسماعیل میرٹھی ان معدودے چند ادیبوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے ادب کے ذریعے ملک و قوم کی تعمیر میں حصہ لیا ہے۔جب کو ئی ادیب مفکر، دانشور اور ماہر تعلیم بھی ہو تا ہے تو اس کے ادب کے آ فاق بدل جاتے ہیں۔اسماعیل میرٹھی نے اپنی تخلیقات سے نہ صر ف قوم کی اصلاح کا کام اوراتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنے کی کوشش کی بلکہ قوم کے نو نہالوں کے مستقبل کو سنوارنے وا لا ادب پیش کر کے انسانیت کے تن مردہ کی جڑوں کو سینچنے کا فریضہ انجام دیا۔ساتھ ہی لڑکیوں کی تعلیم کا نہ صرف نظریہ پیش کیا بلکہ عملی طور پر ان کی تعلیم کا انتظام بھی کیا۔
اس مو قع ڈاکٹر خالد حسین خاں،طالب زیدی،ڈاکٹر نعیم انیس ،مہتاب عالم پرویز اور قاری شفیق الرحمن قاسمی نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا جس کا لب لباب یہ تھا کہ اسما عیل میرٹھی نہ صرف ایک ادیب تھے بلکہ ایک عظیم ماہر تعلیم بھی تھے۔انہوں نے تعلیم نسواں پر بہت زور دیا۔ان کی تصنیف کردہ کتابیں آج مدارس میں توپڑھائی جاتی ہیں۔مگر افسوس یہ ہے کہ اسکول اور کالجز میں اس کا رواج ختم ہو رہا ہے جس کے نقصانات ہمارے سامنے ہیں۔
پروفیسر ارتضیٰ کریم ،ڈاکٹر نعیم انیس اور مہتاب عالم پرویز کو اس مو قع پر شعبۂ اردو کی جانب سے گلدستہ،شال اور نشان یادگار دے کر ان کا اعزاز بھی کیا گیا۔اس مو قع پرپروفیسروائی وملا،ڈاکٹر الکا وششٹھ، ڈاکٹر فرحت خاتون، ڈاکٹر قمر النساء زیدی، ڈاکٹر عفت ذکیہ،صبیحہ خاتون،ڈاکٹر آمرین، قمر الحق،عرش منیر،ہیمنت گویل، انل شرما،بھارت بھوشن،جتندر شرما،سریندر شرما،نایاب زہریٰ زیدی، اکرام بالیان،محمد اظہر اور کثیر تعداد میں طلبا و طالبات نے شرکت کی۔
Viewers: 2048
Share