Nazir A Qamar | نذیر اے قمر کی شاعری سے ایک صفحہ

نذیر اے قمر اسپین غزلیں سانس لینے کو تو دنیا میں دو پل دیتا ہے پھر بھی آنکھوں کو محبت کے محل دیتا ہے بانجھ ہو جاتی ہیں ماضی کی […]

نذیر اے قمر
اسپین

غزلیں

سانس لینے کو تو دنیا میں دو پل دیتا ہے
پھر بھی آنکھوں کو محبت کے محل دیتا ہے

بانجھ ہو جاتی ہیں ماضی کی سنہری کرنیں
وقت حالات کے چہرے کو بدل دیتا ہے

اپنے سائے میں تو رکھتا ہے بلا کی رونق
بوڑھا ہو جائے شجر تو کہاں پھل دیتا ہے

ساتھ انسان کے دنیا سے نہیں جاتا کچھ
جیسے آتا ہے اسی طور یہ چل دیتا ہے

خود کو اس در پہ ہی مصروف عبادت رکھنا
اس زمانے میں بھی عزت کے جو پل دیتا ہے

میں بھی گرتا ہوں اسی وقت قمر ، سایہ مرا
جب کبھی سانپ کے جیسے مجھے بل دیتا ہے
۔۔۔۔۔۔

خواب کی صورت حسیں تُو ، میری جاں ہے زندگی
موت ہی بس تیرے میرے درمیاں ہے زندگی

کون کہتا ہے زمیں پر رائیگاں ہے زندگی
درد کی بارش میں بھی دیکھو جواں ہے زندگی

یہ تو میرے بخت کی آنکھوں میں جل کر مر گئی
ڈھونڈنے نکلا تھا جس کو وہ کہاں ہے زندگی

رات کے سائے میں ہے یہ چا ر سو بکھری ہوئی
صبح کے ہونٹوں پہ روشن ، کہکشاں ہے زندگی

عمر سا ری کٹ گئی میری ا سے سنتے ہو ئے
اور ابھی تک اک ادھو ری دا ستا ں ہے زند گی

رنج و غم کی دھوپ ہے چا رو ں طرف پھیلی ہو ئی
میرے گلشن میں خزا ں کا کا روا ں ہے زند گی

چا ہتا تھا میں کہ ہو شمع و فا کی روشنی
اس دیارِ شام میں لیکن دھوا ں ہے زند گی
۔۔۔۔۔

جو کہنا ہے وہ کہہ دیتے ہیں مکاّری نہیں کرتے
کسی کے خوف سے ہم تو اداکاری نہیں کرتے

بھروسہ دوستی پر ان کے کیسے کر لیا جائے
سگے بھائی سے جو اپنے وفاداری نہیں کرتے

جہاں ایمان بک جاتا ہے دولت کے ترازو پر
ہم ایسی نوکری کوئی بھی سرکاری نہیں کرتے

وہ ظالم ہے تو ظالم کی حمایت کس لئے یارو
جو سچے ہیں وہ جھوٹوں کی طرفداری نہیں کرتے

مقابل ہو اگر کوئی تو ڈٹ جاتے ہیں میداں میں
کسی کا خوف اپنے ذہن پر طاری نہیں کرتے

خدا کا نام لے کر چین سے سوتے ہیں بستر پر
ستاروں کی طرح بے چین بیداری نہیں کرتے

قمر ہر شعر اپنا ایک پیغامِ محبت ہے
بنا مقصد کبھی اس ذہن کو بھاری نہیں کرتے
۔۔۔۔۔

میں ہونٹوں سے پی لیتاہوں تاثیر بنا کر
خوش رہتا ہوں قرطاس پہ تصویر بنا کر

ہوتی ہے کہاں پوری کئی بار نظر میں
دیکھی ہے بہت خواب کی تعبیر بنا کر

ہے چاروں طرف درد کے لمحوں کا بسیرا
کیا پایا ہے اس پیار کی جاگیر بنا کر

جو بانٹتا پھرتا ہے وفاؤں کے خذانے
رکھتا ہے جفاؤں کے بھی وہ تیر بنا کر

لڑتے ہوئے جاں دے دوں میں اس ارضِ وطن پر
دے آج مجھے جذبوں کی شمشیر بنا کر

اب رکھتا ہوں میں قید قمر اپنی انا کو
خود اپنے لئے ضبط کی زنجیر بنا کر
۔۔۔۔۔

رب کی رحمت ہے مرے سر پہ عطا کی صورت
ماں کی شفقت ہے سدا ساتھ دعا کی صورت

اب تو مطلب ہے ضعیفی سے محبت کرنا
آج چاندی ہے مرے سر پہ ردا کی صورت

جب سے بچھڑا ہے وہ دل اور جواں ہونے لگا
اُس کی یادیں ہیں مرے ساتھ دوا کی صورت

میرے افکار پہ پہرہ وہ لگا دے لیکن
میرے اشعار تو پھیلیں گے صدا کی صورت

میری تنہائی کو اک بار ذرا دیکھ یہاں
کیسے نوچے ہے مرا جسم بلا کی صورت

زندگی تجھ سے یہاں پیار کے معنی کیا ہیں
موت منڈلاتی ہو جو سر پہ قضا کی صورت

پھول ، کلیوں سے محبت کا نتیجہ ہے قمر
خوشبو رہتی ہے سدا پاس ہوا کی صورت
۔۔۔۔۔

اقبال کا حیات میں یہ فلسفہ بھی ہو
شامل یہاں نصاب میں “بانگِ درا “بھی ہو

کچھ ایسا کر کہ اپنی بھی حرمت بچا سکیں
کچھ ایسا ہو کہ زیست میں سب کا بھلا بھی ہو

آنکھوں کے میں نے اس لئے تارے بجھا لئے
شاید کہ کوئی پھوٹتی سحرِ انا بھی ہو

دنیائے کرب و ہجر میں دیکھا نہیں یہاں
ناکردہ ہر گناہ پہ واجب سزا بھی ہو

جی چاہتا ہے ایسا شجر ہو کہ صحن میں
بیٹھوں تو تیری یاد کی تازہ ہوا بھی ہو

مجھ کو ہے اپنی لغزشوں پہ اس لئے فخر
شاید وہ میری ذات سے کچھ سیکھتا بھی ہو

رہنا ہے ساتھ ساتھ تو دیوار پر قمر
جینے کو اشتہار پہ چہرہ نیا بھی ہو
۔۔۔۔۔
نظم: زندگی میں بہار آئے

میں منتظر ہوں کہ زندگی میں بہار آئے
میں منتظر ہوں بہار کر کے سنگھار آئے
میں منتظر ہوں نجات پاؤں اداسیوں سے
میں منتظر ہوں کہ میرے دل کو قرار آئے

میں چاہتا ہوں ستائے مجھ کو نہ یاد ماضی
میں چاہتا ہوں نہ پاس آئے کبھی اداسی
میں چاہتا ہوں حیات کے اب ورق نہ پلٹیں
میں چاہتا ہوں کبھی نہ دیکھوں پرانا باسی

نہ یاد آئے مجھے پرانا وہ حادثہ اب
کہ جس کو مانا تھا زندگی کا میں سہارا
جسے عطا کی تھیں میں نے خوشیاں زمانے بھر کی
اسی نے دل میں دغا کا خنجر مرے اتارا

میں چاہتا ہوں ڈسیں نہ مجھ کو پرانی یادیں
میں چاہتا ہوں خیال میں بھی اسے نہ لاؤں
میں چاہتا ہوں کھنک سنوں اب نہ چوڑیوں کی
میں چاہتا ہوں بھنور سے باہر نکل ہی جاؤں

میں منتظر ہوں کہ زندگی میں بہار آئے
میں منتظر ہوں کہ میرے دل کو قرار آئے
۔۔۔۔۔۔


Share