Nighat Akram | نامور شاعر اور ماہنامہ ارژنگ لاہور کے ایڈیٹر۔۔۔ حسن عباسی

انٹرویو: نگہت اکرم، لاہور
خصوصی تعاون: امجد جاوید، حاصل پور

نامور شاعر اور ماہنامہ ارژنگ لاہور کے ایڈیٹر۔۔۔ حسن عباسی

حسن عباسی کا شمار جدید غزل کے نامور شعرا میں ہوتا ہے۔ان کے تین شعری مجموعے ’’ہم نے بھی محبت کی ہے‘‘ ، ’’ایک محبت کافی ہے‘‘ ، ’’اک شام تمہارے جیسی ہو‘‘ شائع ہو چکے ہیں۔اس کے دو سفر نامے ’’محبت کے پروں میں گھنٹیاں باندھو، ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا‘‘ شائع ہو چکے ہیں۔
حسن عباسی نوجوان نسل کے مقبول ترین شاعر ہیں۔وہ کئی ملکی اور بین الاقوامی مشاعروں میں شرکت کر چکے ہیں۔بین الاقومی مشاعروں میں وہ انڈیا ،ناروے، قطر، دوبئی،ڈنمارک، فرانس اور یورپ کے مشاعروں میں میں شرکت کر چکے ہیں۔
حسن عباسی پبلشنگ کے شعبہ سے وابستہ ہیں نستعلیق مطبوعات کے جی۔ایم ہیں۔جو کہ ادبی کتب کی اشاعت کے حوالے سے ایک منفرد شناخت کا ادارہ ہے۔
حسن عباسی کا کیا گیا ایک تفصیلی انٹرویو:
اسلام علیکم ! حسن عباسی کیسے ہیں آپ؟
میں خیریت سے ہوں۔
1۔ حسن عباسی سب سے پہلے تو آپ اپناتعارف کروائیں
*۔۔۔ میرا حوالہ فقط محبت
میرا تعارف ہے شعر میرا
میرا پہلا تعارف توشاعری ہے جس نے مجھے پہچان عطا کی عزت دی میری تنہائی کو آباد کیا۔
میرا نام حسن محمود ہے ادبی دنیا میں حسن عباسی کے نام جانتے ہیں۔آبائی شہر خیرپور ٹامیوالی(بہاولپور) ہے۔ابتدائی تعلیم کراچی سے حاصل کی۔ماسٹر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے کیا۔
2۔ آپ کی تاریخ پیدائش
*۔۔۔7جنوری1971
3۔ آپکا سٹار : کیا آپ ستاروں کے علم پر یقین رکھتے ہیں؟
*۔۔۔میرا سٹار جدی ہے۔مگر ستاروں کے علم پر یقین نہیں رکھتا۔
4۔ زمانہ طالب علمی میں آپ کی کیا سرگرمیاں تھیں؟
*۔۔۔غیر نصابی کتب کا مطالعہ،شاعری ،کرکٹ،میوزک کے ساتھ وقت گزرتا تھا۔
5۔ ادبی حوالے سے گھریلو ماحول کیسا تھا؟
*۔۔۔گھریلو ماحول تو بالکل ادبی نہیں تھا۔بلکہ آپ ادب مخالب کہہ سکتے ہیں۔مجھ سے پہلے خاندان میں دور دور تک کوئی شاعر ،ادیب دکھائی نہیں دیتا۔سو اگنے والے تو پتھر کا سینہ چیر کے بھی اگ اتے ہیں۔
6۔ آپ اپنی فیملی کے بارے میں بتائیں۔
*۔۔۔ایک بیوی ہے تین بچے ہیں
عشق جھوٹا ہے لوگ سچے ہیں
7۔ شعر و ادب کی طرف رجحان کیسے پیدا ہوا ؟ یہ خیال کیسے آیا کہ لکھنا چاہیے؟
*۔۔۔بچپن سے ہی تصویریں آنکھوں کے سامنے بنتی بگڑتی تھیں یوں لگتا تھا جیسے مجھے منظر اپنی طرف بلا رہے ہیں۔درختوں اور پرندوں سے باتیں کیا کرتا تھا ریت پر ایک نام لکھا کرتا تھا۔وہ نام بیل بنا اس پر پھول آئے اور میں شاعر بن گیا۔
لکھاجو تیرا نام کوئی بیل بن گئی
آجائیں اس پہ پھول دعا کر رہا ہوں میں
میری یہ دعا بچپن میں ہی قبول ہو گئی۔
8۔ آپ نے شاعری کا آغاز کب کیا؟
*۔۔۔میں نے شاعری کا آغاز سکول کے زمانے سے کیا ۔پہلی غزل آٹھویں کلاس میں پڑھتا تھا تب لکھی۔
9۔ آپ نے ابتدا میں کسی سے اصلاح لی۔
*۔۔۔سرائیکی زبان کے نامور شاعر صاحبزادہ ریاض رحمانی سے ابتدا میں اصلاح لی اورا ن سے مجھے بہت سیکھنے کا موقع ملاوہ عطااللہؔ شاہ کے ہمر تھے۔اب اس دنیا میں نہیں ہے۔(اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔)
10۔ آپ کا پہلا شعر:
*۔۔۔پہلی غزل کا مطلع ہے
یہ پھول یہ غنچے یہ چمن بھول نہ جانا
پردیس چلے ہو تو وطن بھول نہ جانا
11۔ آج کل آپ کیا لکھ رہے ہیں کیا کوئی نئی کتاب آنے والی ہے؟
*۔۔۔لکھنے کا سلسلہ تو چلتا رہتا ہے ابھی میرا تازہ سفر نامہ جو کہ یو۔اے۔ای اور دوحہ کی سیاحت پر مشتمل ہے ’’ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا‘‘ کے نام سے شائع ہو اہے اور آجکل یورپ کا سفر نامہ ’’تتلیاں ستاتی ہیں‘‘ لکھ رہا ہوں۔
12۔ آپ کا تعارف ادبی حلقوں میں بطور شاعر رہا ہے شاعری کے حوالے سے آپ ان چند خوش نصیب شاعروں میں سے ہیں جنہیں نہ صرف عوامی پذیرائی حاصل ہوئی بلکہ جن کی کتابیں بھی بکتی ہیں۔ سفر نگاری کی طرف کیسے آئے؟
*۔۔۔کہتے ہیں جب شاعری بوڑھی ہو جاتی ہے تو نثر میں پناہ ڈھونڈتی ہے مگر میرے ساتھ معاملہ الٹ رہا ہے جب شاعری جو بن پہ آئی اور لوگ سراہنے لگے اس وقت مجھے نثر لکھنے کا خیال آیا۔سیاحت کا شوق بچپن سے تھا ۔سندباد جہازی کے سفر نامے بستے میں رہتے تھے۔شاعری اسفار کا وسیلہ بنی اور اسفار سفرناموں کا وسیلہ ٹھہرے۔
13۔ کہا جاتا ہے کہ شاعری خداداد صلاحیت کا نام ہے کیا کوئی شعوری کوشش سے شاعر بن سکتا ہے؟
*۔۔۔قدرت اور فطرت کی طرف سے ہمیں تمام چیزیں خام مال کی صورت نہیں ملتی ہیں۔انسان اپنی ذہانت اور محنت سے انہیں قابلِ استعمال بناتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی شاعر فطری طور پر شاعر ہو تو تب بھی اسے با کمال شاعر بننے کے لیے کرافٹ سیکھنا پڑتا ہے۔مشقِ سخن کرنی پڑتی ہے۔مطالعہ اور مشاہدہ سے بھی بہت کچھ سیکھنا پڑتا ہے اگر فطری طور پر جراثیم نہ ہوں تو کوئی شخص محض شعوری کوشش سے شاعر نہیں بن سکتا ورنہ نقاد ضرور شاعر ہوتے۔
14۔ ہمارے ہاں تخلیق ہونے والے ادب کا عالمی ادب میں کیا مقام ہے؟
*۔۔۔کوئی خاص مقام نہیں شاعر ی میں غزل کو عالمی ادب میں کہیں سٹینڈ نہیں کرتی۔نظم میں کوئی بڑا شاعر پیدا نہیں ہوا۔ان میں راشد اور مجید امجد ہیں مگر جب ان کی شاعری کو عالمی شاعری کے مقابل رکھیں گے تو ان کا چراغ جلتا نظر نہیں آتا۔یہی حال باقی اصناف سخن کا ہے۔نثر میں منٹو کی تحریروں کو عالمی ادب میں کوئی حیثیت مل سکتی ہے کوئی بڑا ناول بھی نہیں لکھا گیا مجھے تو اس حوالے سے اردو کا دامن خالی خالی نظر آتا ہے جو قیام پاکستان کے بعد لکھی گئی۔
15۔ ادب کی ترویح کے لیے قائم ادروں کی کارکردگی سے مطمئن ہیں؟
*۔۔۔ادب کی ترویح کے لیے قائم اداروں کا حال بھی پاکستان کے دیگر اداروں جیسا ہے۔ادب کو اور ادیب کو ان سے کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچ رہا۔ادب تو مرکز سے دور دریا کے کنارے بیٹھا ادیب تخلیق کر رہا ہے۔یا پھر ٹیلے پر بیٹھا یا پہاڑی علاقے میں کسی پتھر پہ بیٹھا ادیب تخلیق کر رہا ہے سرکاری اداروں کے تمام مفادات منظور نظر لوگوں تک پہنچتے ہیں۔
16۔ کیا ادیب کو نظریاتی ہونا چاہیے ادب میں دائیں یا بائیں بازو کے متعلق آپ کیا کہیں گے؟
*۔۔۔ادیب تو ہوتا ہی نظر یاتی تخلیق کار کا کوئی نہ کوئی نظریہ ضرور ہوتا ہے بغیر نظریے کے تو تخلیق ممکن نہیں وہ نظریہ محبت کا ہو یا انقلاب کا۔دائیں اور بائیں بازو کے نظریات ماضی کا حصہ بن چکے ہیں ۔اب تو ایک ہی بازو ہے اور وہ ہے انداز تخلیق کا:
جس دیتے ہیں جان ہو گی
وہ دیارہ جائے گا
17۔ اپنے ہم عصروں میں کس سے متاثر ہیں؟
*۔۔۔ہم عصر ہوں یا سنیئر یا جونیئر اچھا شعر یا اچھی تخلیق سے ضرور متاثر ہوتاہوں اچھی تخلیق پرکھنے کا پیمانہ ہر شخص کا جداہے۔اس میں انسان کے فطری مزاج کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ بعض اوقات ایک نقاد کے نزدیک بہت ارفع و اعلی تخلیق دوسرے نقاد کی نظر میں غیر معیاری ہوتی ہے یہ بڑی لمبی بحث ہے۔
18۔ کیا آپ کو ادبی سفر میں اسے لوگ ملے جن کو آپ نے بے حد مفید پایا؟
*۔۔۔جی ہاں ادب میں عطا الحق قاسمی ،سلیم گورمانی اور سید امتیاز احمد مجھے ایسے دوست ملے جن کی دوستی پر مجھے ہمیشہ ناز رہے گا۔
19۔ دنیا کا مشکل ترین کام:
*۔۔۔کسی کو دکھ دینا میرے لیے مشکل ترین کام ہے۔
20۔ آپ کو حال ہی میں عکس خوشبو ایواڈ ملا۔اس سے متعلق آپ کے جذبات : آپ کیا کہیں گے؟
*۔۔۔شاعرو ادیبوں کی حوصلہ فزائی کے لیے داد و تحسین کا عمل نہایت اہم ہے ۔اس کی ایک صورت ایواڈ بھی ہے۔سرکاری و غیر سرکاری سطح پر بہت سے ایواڈز دیئے جاتے ہیں لیکن کوئی بھی ایواڈ اپنی گریڈ یبلیٹی کے حوالے سے اہم ہوا کرتا ہے۔مختلف تنظیموں کی طرف سے مجھے ملک اور بیرون ملک میں کافی اعزازات اور اسناد مل چکی ہیں۔مگر دو وجوہات کی بناء پر مجھے عکس خوشبو ایواڈ کی خوشی ان سب سے زیادہ ہے ۔پہلی تو یہ کہ یہ ایوارڈ ابتدا سے ہی جینوئن شعرا کو دیا گیا اور دوسری یہ کہ اس کے ساتھ اردو زبان کی نہایت معتبر اور مقبول شاعرہ پروین شاکر کی نسبت ہے۔
21۔ کتابوں کی رونمائیوں کی تقریبات کا مقصد کیا نئی شہرت کا حصول ہے؟
*۔۔۔کسی حد تک کہا جا سکتا ہے بنیادی مقصد تو تخلیق کار اور تخلیق کا تعارف ہوتا ہے۔ مگر میرے لیے اس میں جو بات ناقابل قبول ہے وہ یہ کہ صاحبِ تخلیق کی موجودگی میں اس کی ذات اور اس کی تخلیق کی تعریف کی جاتی ہے جو کہ مستحق نہیں البتہ مثبت لفظ میں ہو تو پھر مضائقہ نہیں۔
22۔ کمپیوٹر کے دور میں کتاب کی اہمیت کم نہیں ہو گی؟
*۔۔۔میرے خیال میں ایسا نہیں کمپیوٹر کو سینے پر رکھ کر تو نہیں پڑا جا سکتا ۔مغرب میں کمپیوٹر بہت پہلے آگیا تھا مگر آج کتاب کی اہمیت وہاں بھی ویسی ہے جیسے کہ پہلے تھی۔
23۔ آپ کا قیمتی اثاثہ:
*۔۔۔پاکستان
24۔ کیا آپ آج کی شاعری سے مطمئن ہیں؟
*۔۔۔میں مطمئن نہیں ہوں اگرچہ میں خود غزل گو شاعر ہوں لیکن یہ سمجھتا ہوں کہ اردو شاعری کو سب سے زیادہ نقصان غزل نے پہنچایا ہے۔ اسے جوان نہیں ہونے دیا۔ زندگی سے متعلق بہت سے موضوعات میں جو اردو شاعری کا اس طرح حصہ نہیں بن سکے یہ بہت ہی افسوس ناک صورتِ حال ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں نظم کو مقبولیت ملی ہے۔ اس سے ہو سکتا ہے مستقبل میں صورتِ حال تبدیل ہو جائے البتہ غزل خاص کر آج کی غزل میں موضوعات کی بہت یکسانیت ہے۔
25۔ بحیثیت ییلترآپ کتاب کا کیا مستقبل دیکھ رہے ہیں؟
*۔۔۔پاکستان میں کتابوں کی صورت حال کبھی حوصلہ افزا نہیں رہی قاری اور کتاب کے درمیان فاصلہ ہے جو کہ روزبڑھتا جا رہا ہے ۔لوگ کتاب پڑھنا چاہتے ہیں مگر مڈل مین (دوکاندار) جس کا کام قاری تک کتاب ترسیل ممکن بنانا ہے سب سے بڑی رکاوٹ ہے کتاب کی تخلیق سے اشاعت تک کے مراحل میں اس کا کوئی کردار نہیں ہوتا مگر وہ اپنی من پسند کتاب جن کمیشن زیادہ سے زیادہ ہو دکان میں رکھتا ہے اور اس طرح سب سے زیادہ فائدے میں رہی رہ جاتا ہے بڑھتی ہوئی کتابوں کی قیمتوں کا زمہ دار حکومت کی طرح وہ بھی ہیں۔
26۔ آپ کی کتابوں کے ناموں میں محبت کا لفظ ہوتا ہے ایسا شعوری طور ہے یا لا شوشعوری طور پر:
*۔۔۔مجھے محبت کا لفظ اچھا لگتا ہے یہ مجھے اپنا نام لگتا ہے جس کے سپنے میں بچپن سے دیکھا کرتا تھا۔یہ لفظ مجھے اپنی زندگی کی آپ بیتی لگتا ہے۔محبت میں مجھے پوری دنیا کے مسائل کا حل نظر آتاہے۔ محبت کا لفظ میرے ہاں بہت وسیع معانی اور مفہوم لیے ہوئے ہے۔ میرے نزدیک بقول اقبال ’’محبت فاتح عالم‘‘
27۔ آپ بیرون ملک بھی مشاعروں میں شریک ہوتے ہیں وہاں اُردو کا مستقبل کیا ہے؟
*۔۔۔بھارت میں تو اردو کے حوالے سے بہت کام ہو رہا ہے روز مرہ بول چال میں جو زبان بولی جاتی ہے اسے آپ لاکھ ہندی کہہ لیں ، ہے تو وہ اُردو ہی۔اڑسیہ میں جو سارک کے پلیٹ فارم سے یوتھ پوئٹری فیسٹول ہوا تھا اس میں بھارت کے تمام صوبوں کے علاوہ سارک ممالک سے نوجوان شعرا آئے ہوئے تھے آپ حیران ہوں گے کہ سبھی اُردو اچھی طرح سمجھتے تھے۔اور کافی حد تک بول بھی لیتے تھے۔نیپال کے شعراء نے احمد ،فراز،منیر نیازی اور پروین شاکر کو ہم سے زیادہ پڑھ رکھا ہے۔البتہ یو اے ای اور دوحہ میں بہت سی ادبی تنظیمیں باقاعدگی سے مشاعرے کراتی ہیں۔سیمنار بھی منعقد ہوتے ہیں وہاں کثیر تعداد میں پاکستانی آباد ہیں اس لیے وہاں بھی اُردو کے حوالے سے نہایت حوصلہ افزا صورت حال ہے۔ ماضی قریب میں سلیم جعفری مرحوم اور ملک مصیب الرحمان نے جو علم و ادب کی شمعیں جلائی ہیں ان کی روشنی تا دیر قائم رہے گی۔البتہ یورپ میں اُردو کی صورت حال نہایت محوس کن ہے۔ نوجوان نسل تو بالکل اس سے بے پروہ ہے آج سے دو تین دہائی قبل جو علم و ادب سے شفق رکھنے والے لوگ اور شاعر و ادیب وہاں جا کر بس گئے تھے۔انہوں نے اپنے تئیں اُردوعلم و ادب کی سانسیں بحال رکھی ہوئی ہیں۔ ان کے بچے بھی تھوڑی سدھ بدھ رکھتے ہیں۔وگرنہ سوائے مایوسی کے اور کچھ نہیں البتہ فرانس میں ابھی باقی یورپی ممالک کی نسبت مشرقی تہذیب اور اُردو زبان نوجوان نسل تک منتقل ہو رہی ہے۔وہاں صورت حال قدرے مختلف ہے
28۔ کہتے ہیں شاعر وا دیب حساس ہوتے ہیں یہ بات کہاں تک درست ہے؟
*۔۔۔میرے خیال میں یہ حساس ہوتے ہیں اس لیے تو ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں اور معمولی واقعات جن کی طرف عام آدمی کا دھیان بھی نہیں جاتا یہ ان پر نظمیں تخلیق کرتے ہیں۔چیونٹی کی موت بھی ان کے نزدیک کسی سانحے سے کم نہیں ہوتی۔انہوں نے اپنے خوابوں میں الگ دنیا کا تصور بنایا ہوا ہوتا ہے جس میں امن ،محبت اور خوشحالی کے جزیرے آباد ہوتے ہیں۔ جب شاعروں کا واسطہ زندگی کی تلخیوں اور بھیانک حلقوں سے پڑتا ہے تو ان کے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں۔ پھر یہ شاعری میں پناہ ڈھونڈتے ہیں ۔غزلیں نظمیں تخلیق کرتے ہیں۔
29۔ آپ کی چھپی ہوئی خواہش:
*۔۔۔کچھ باتیں ان کہی رہنے دو۔
30۔ پسندیدہ ملک،شہر
*۔۔۔پسندیدہ ملک پاکستان اور شہر لاہور
31۔ پچھتاوا کب ہوتا ہے؟
*۔۔۔جب ان لوگوں سے مل نہیں پاتا جو میرے دل میں بستے ہیں۔
وہ جو دل میں ہمارے بستے ہیں
ان سے ملنے کو ہم ترستے ہیں
32۔ پہلی نظر کی محبت پر کس حد تک یقین ہے؟
*۔۔۔محبت تو ہوتی ہی پہلی نظر میں ہے
بس اک نگاہ میں لٹتا ہے قافلہ دل کا
33۔ آپ کس جذبے کی قدر کرتے ہیں؟
*۔۔۔محبت کے جذبے کی کیونکہ اس سے بڑھ کر سچا جذبہ کوئی نہیں۔
34۔ شدید اداسی کے عالم میں دل کیا چاہتا ہے؟
*۔۔۔اداسی میں شال اوڑھے شہر کی سڑکوں پر تن تنہا آوارہ گردی کرنے کو جی چاہتا ہے۔
35۔ محبت کے بدلے محبت پر یقین رکھتے ہیں۔
*۔۔۔جی ہاں یہ تو ایک فطری جذبہ ہے۔
سنو کہ اب ہم گلاب دیں گے گلاب لیں گے
محبتوں میں کوئی خسارہ نہیں چلے گا
36۔ عشق آپ کے نزدیک:
*۔۔۔میرا ایک شعر:
عشق وہ سمندر ہے جس میں ڈوبنے والے
ابر بن کے اٹھتے ہیں لہر بن کر آتے ہیں
37۔ کیا آپ ادب کے فروغ میں میڈیا کے کردار سے مطمئن ہیں؟
*۔۔۔چند میگزین اورا دبی صفحات کو چھوڑ کر ادب کے فروغ میں میڈیا کا کوئی کردار ہے ہی نہیں: تو مطمئن ہونا یا نہ ہونا دور کی بات ہے۔
38۔ چاندنی راتیں کیا پیغام دیتی ہیں؟
*۔۔۔چاند نی راتوں کا مزاج بھی اس جیسا ہے
ہے چاندنی کا سامزاج اس کا
سمندر کو ابھارتی ہے
39۔ کوئی ایسی چیز جو آپ سمجھتے ہیں کہ اس کے بغیر زندگی ادھوری ہے
*۔۔۔محبت
40۔ کس کی یاد آنکھیں نم کر دیتی ہے؟
*۔۔۔گزرے دنوں کی یاد میں ماضی میں رہنے والا شخص ہوں گزرے دنوں کی یادآنکھیں نم کر دیتی ہے۔
41۔ فارغ اوقات میں کیا مشاغل ہیں؟
*۔۔۔یہ تو گئے دنوں کا قصہ ہے اب فارغ وقت کہاں
؂دردِدل باٹنا دور کی بات
دل دکھانے کی کسی کو فرصت نہیں
42۔ کس ادیب کو زیادہ پڑھتے ہیں؟
*۔۔۔عطاء الحق قاسمی
43۔ آپ نے اب تک کتنی غزلیں ،نظمیں لکھیں ۔اپنی کون سی غزل یا نظم زیادہ پسندہے؟
*۔۔۔تین سو سے زائد غزلیں اور سو(100)سے زائد نظمیں لکھی ہیں۔مگر میں ابھی تک خود کو غزل کا طالب علم ہی سمجھتا ہوں غزل کی صنف سے مجھے محبت ہے میں ہر بار غزل لکھتے ہوئے یوں لگتا ہے جیسے پہلی غزل لکھ رہا ہوں مجھے اپنی نظم ’’چاند تم سے شکایتیں‘‘مجھے بہت زیادہ پسند ہے اور جو غزل اچھی لگتی ہے اس کے چند شعر:
مرتی ہوئی زمیں کو بچانا پڑا مجھے
بادل کی طرح دشت میں آنا پڑھا مجھے
وہ کر نہیں رہا تھا میری بات کا یقین
پھر یوں ہوا کہ مر کے دکھانا پڑا مجھے
اس اجنبی سے ہاتھ ملانے کے واسطے
محفل میں سب سے ہاتھ ملانا پڑا مجھے
44۔ کیسے لوگ پسند ہیں؟
*۔۔۔محبت کرنے والے لوگ یہ لوگ سچے قربانی کے جذبے سے سرشار رسم و رواج کی دیواروں کو پاش پاش کر دینے والے اور دنیا میں سب سے بڑے انقلابی ہوتے ہیں مجھے ایسے لوگ پسند ہیں۔
45۔ پسندیدہ شعر:
*۔۔۔ہم جنہیں لوٹ کر نہیں آنا
کیا ہمیں دیکھنا نہ چاہو گے
46۔ تقدیر یا قسمت کس چیز پر بھروسہ کرتے ہیں؟
*۔۔۔اپنے مضبوط ارادوں پر کیونکہ ارادے اور حوصلے ہی قسمت بناتے ہیں۔
47۔ غصہ آئے تو کیا کرتے ہیں؟
*۔۔۔غصہ آتا ہے تو غصہ کرتا ہوں۔انسانی فطرت ہے اس کا اظہار ہونا چاہے۔ غصہ کو دبانے یا روکنے سے اندونی طور پر انسان ٹوٹ جاتا ہے اور اس میں چڑچڑا پن پیدا ہو جاتا ہے۔
48۔ چودھویں کا چاند دیکھ کر کیا سوچتے ہیں؟
*۔۔۔چاند کو جب بھی دیکھتا ہوں شعر کہنے کو جی چاہتا ہے
میں بھی اس کے لیے بیٹھا رہا چھت پر شب بھر
وہ بھی میرے لیے مہتاب میں آیا ہوا تھا
49۔ ادب پر ایک مخصوص گروپ کی اجارہ داری ہے اس کی وجہ:
*۔۔۔جی ہاں! طویل عرصے سے ادب پر ایک مخصوص گروہ نے قبضہ کیا ہوا ہے تمام مفادات اسی کے حصے میں۔ میڈیا ہو یا حکومتی ایوارڈ سب ان کی جھولی میں ہے۔ادب کی ترویج کے لیے قائم کیے گئے حکومتی داروں پر بھی وہی گروہ قابض رہا ہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے بیشتر شاعر و ادیب چھیننا تو کیا مانگنا بھی نہیں جانتے ۔ اب صورت حال بدل رہی ہے ادبی اجارہ داریاں دم توڑ رہی ہیں ۔نوجوان شاعر مراکز کے ہوں یا مضافات کے اب پرنٹ میڈیا اور الیکٹرنک میڈیا تک ان کی رسائی ممکن ہو رہی ہے۔باہر کے ملکوں کے مشاعروں میں بھی ان کو بلایا جا رہا ہے۔ انشا ء اللہ منظر نامہ تبدیل ہو گا۔
50۔ ملک سے باہر جانا ہوا۔کہاں کہاں گئے؟
*۔۔۔پہلی بار 2001میں بھارت جانے کا اتفاق ہوا۔سارک ممالک کی ایک ادبی تنظیم کے پلیٹ فارم سے،پھر 2004میں مجلسِ فروغ اُردو و ادب کے عالمی مشاعرہ میں جانے کا موقع ملا۔یہ میری زندگی کا سب سے یادگار مشاعرہ تھا۔اس کے بعد 2005میں ایشین آرٹس کونسل کی دعوت پر ناروے کے عالمی مشاعروں میں شرکت کی پھر اسی دوران ڈنمارک اور فرانس میں مشاعرے پڑھے بالترتیب 2007،2008اور2009اور2011میں دوبئی میں سارک ممالک کے مشاعرے پڑھے۔2008میں سارک ممالک کے مشاعروں میں ایک بار انڈیا کا دورہ کیا اب 2012میں یورپ کا پروگرام ہے۔
51۔ باہر کی دنیا اور پاکستان میں کیا فرق ہے؟
*۔۔۔باہر کی دنیا میں زیادہ تر لوگ پڑھے لکھے ہیں اور اتفاق ہے تحفظ ہے صفائی ہے خوبصورتی ہے کرپشن نہیں ایک مربوط نظام۔ پاکستان میں یہ سب کچھ نہیں مگر پاکستان اچھا لگتا ہے پہلی محبت میں نے دوہی میں ایک نظم لکھی تھی۔
چاند ستارا ہر پل دھیان میں رہتا ہے
دل پر دیسی پاکستان میں رہتا ہے
52۔ کہتے ہیں ناکام محبت ہو تو زیادہ اچھی شاعری ہوتی ہے آپ کیا کہتے ہیں؟
*۔۔۔اچھی شاعری کا تعلق محبت کی کامیابی یا ناکامی سے نہیں۔اگر اچھا شاعر ہے تو وہ اچھی شاعری ہی کرے گا۔
53۔ جب لوگ آپ کو چاہتے ہیں تو یہ احساس کیسا لگتا ہے؟
*۔۔۔چاہا جانا سب کو ہی اچھا لگتا ہے مگر جب سب لوگ یہی چاہنے لگیں تو اذیت بھی ہونے لگتی ہے بقول شاعر:
چاہے جانے کی اذیت سے نکل کر دیکھوں
نام تبدیل کروں شکل بدل کر دیکھوں
54۔ آپ خوابوں کی دنیا میں رہنا پسند کرتے ہیں یا حقیقت پسند ہیں۔
*۔۔۔خواب دیکھنا اچھا لگتا ہے جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھتا ہوں اور ان کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے کوشاں ہو جاتا ہوں۔
55۔ آپ کا پہلا شعری مجموعہ شائع ہوا تو کتنی خوشی ہوئی کیا احساس تھا؟
*۔۔۔پہلا شعری مجموعہ بھی پہلی محبت کی طرح ہوتا ہے۔ویسی ہی سرشاری وہی خوشی محسوس کی۔
56۔ دولت ،شہرت ، محبت میں آپ کا انتخاب
*۔۔۔محبت
57۔ رنگ کون سا اچھا لگتا ہے؟
*۔۔۔نیلا
58۔ آپ نے مجموعہ انتخاب بھی مرتب کیے ہیں۔
*۔۔۔جی ہاں میں نے مجموعہ انتخاب بھی مرتب کیے ہیں۔جن میں ایک کتاب’’احمد فراز سے وصی شاہ تک‘‘ میرا مجموعہ انتخاب ہے۔عنقریب ایک اور مجموعہ انتخاب منظر عام آنے والا ہے۔
59۔ آپ کے مجموعہ کلام کی تعداد
*۔۔۔میرے تین مجموعہ کلام منظر عام آئے ہیں۔
پہلا مجموعہ کلام ’’ہم نے بھی محبت کی ہے۔‘‘1999میں منظر عام آیا۔اس کے بارہ ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔
دوسرا مجموعہ کلام’’ایک محبت کافی ہے‘‘2005میں شائع ہوا۔اس کے اب تک چھ ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔
تیسرا مجموعہ کلام ’’ایک شام تمہارے جیسی ہو‘‘2010میں شائع ہوا۔
60۔ آپ کے سفر ناموں کی تعداد
*۔۔۔میرے دو سفر نامے منظر عام آچکے ہیں۔
( i) ’’محبت کے پیروں میں گھنٹیاں باندھو‘‘
(ii) ’’ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا‘‘
61۔محبت کے بارے میں آپ کا خیال:
*۔۔۔جانتا ہوں سو بتا سکتا نہیں
ہے محبت کیا؟ یہ پوچھا مت کرو
محبت اپنے پانے تجربے کی بات ہے اور ہر شخص کا تجربہ دوسرے سے الگ ہے ۔میرے نزدیک محبت ایک سیلاب ہے جو اپنے ساتھ سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے ہو سکتا ہے کسی اور کے نزدیک یہ دواُڑنے والے پرندوں کے درمیانی فاصلے کا نام ہے جو کبھی بڑھ جاتا ہے کبھی کم ہو جاتا ہے۔
62۔ زندگی آپ کے نزدیک کیا ہے؟
*۔۔۔ اگر یہ زندگی کچھ ہے تو بس محبت ہے
اپنی بات یہیں پر ختم کرتا ہوں
63۔ دوستی کے بارے میں:
*۔۔۔دوستی کی بنیاد ہمیشہ سچ اور بھروسے پہ ہونی چاہے ایسی دوستی کبھی ناکام نہیں ہوتی دوستوں سے توقعات بھی کم ہی رکھنی چاہیں ہو سکتا ہے وہ کسی مجبوری کے باعث پورا نہ اتر سکیں۔
پیغام:
تخلیق کی فضامیں رہیں۔اپنے اندر ٹھہراو پیدا کریں ۔جلدی نہ کریں کلاسیکی ادب کا مطالعہ کریں۔عصری ادب نظر رکھیں اور بھیڑ میں اپنے لیے الگ راستہ بنانے کی کوشش کریں۔
پسند کی شاعری:
خاموش رہ کر پکارتی
وہ آنکھ کتنی شرارتی ہے
ہے چاندنی سا مزاج اس کا
سمندر کو ابھارتی ہے
میں بادلوں میں جزیرا
وہ مجھ میں ساون گزارتی ہے
کہ جیسے میں اس کو چاہتا ہوں
کچھ ایسے خود کو سنوارتی ہے
خفا ہو مجھ سے تو اپنے اندر
وہ بارشوں کو اتارتی ہے۔

Viewers: 2817
Share