Nighat Akram | ہمہ جہت شخصیت۔۔۔۔ایم زیڈ کنول

انٹرویو: نگہت اکرم۔ لاہور

معاونت: امجد جاوید، حاصل پور

ہمہ جہت شخصیت ۔۔۔۔ ایم زیڈ کنول

ایم زیڈ کنول اُردو پنجابی شاعرہ ادیبہ مقرر کمپیئر اور سرچ نگار ہیں گولڈ میڈلیسٹ ہیں۔آج کل تدریس کے شعبہ سےوابستہ ہیں۔

اسلام علیکم کیسی ہیں آپ؟
وعلیکم اسلام میں بالکل خیریت سے ہوں۔
1)سب سے پہلے آپ اپنا پورا نام بتائیں۔
*۔۔۔مسرت زہراہ کنول
2)ادبی نام
*۔۔۔ایم ۔زیڈ کنول
3)تعلیمی قابلیت
*۔۔۔میں نے چار ایم اے کیے ہوئے ہیں۔ ایم اے ایجوکیشن پلاننگ مینجمنٹ ، ایم اے اُردو ،پنجابی۔ ایم اے ایڈ ایجوکیشن گولڈ میڈلسٹ
4)آپ کی تاریخ پیدائش ۔آپ کا سٹار کونسا ہے؟
*۔۔۔تاریخ پیدائش 25ستمبر سٹار لیبرا
5)کیا آپ ستاروں کے علم پر یقین رکھتی ہیں؟
*۔۔۔ستاروں کے علم پر کسی چال پر یقین نہیں رکھتی۔ علم کی حد تک انجوائے منٹ ہے یہ تکے بازی ہے۔
6)بچپن کیسا گزرا بچپن کی کوئی یاد:
*۔۔۔بچپن بہت خوبصورت اپنے ماں باپ بہن بھائیوں کی لاڈلی تھی۔ہر ایکوٹیوٹی میں حصہ لیا۔
7)شاعری کا آغاز کب کیا؟
*۔۔۔شاعری کا آغازمیں نے کالج میں شروع کیا۔
8)زمانہ طالب علمی کی سرگرمیاں:
*۔۔۔زمانہ طالب علمی میں میں نے مشاعروں ،ڈرامے ،ڈبیٹ اور کوئیز شو سب میں حصہ لیا۔میں کالج اُردو سوسایٹی کی صدر تھی۔مشاعروں میں حصہ لیتی اپنی غزلیں نظمیں پیش کرتی تو ان پر باقاعدہ پرائز بھی ملتا۔جب میں میں نے گریجویشن کیا اور ایجوکیشن کالج لاہور میں ایڈمیشن لیا یہاں پر بہت زیادہ مشاعرے کیے اور پورے پاکستان میں واہ کیٹ،سیالکوٹ،پنڈی اور لاہور کے تمام کالجز میں مشاعرے کروائے۔ بی ایڈ میں تھی تو مجھے مشاعرے میں گولڈ میڈل ملا تھا۔اسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے۔
اسلامیہ کالج ،بوائز کالجز یونیورسٹی لیول کے مشاعرے میں حصہ لیا انگلش اُردو پنجابی ڈبیٹ میں حصہ لیا اور میڈل حاصل کیے۔ یونین کی صدر رہی ہاسٹل کی ہیڈ گرل تھی۔
9)آپ کا پہلا مجموعہ کلام کب منظر عام آیا اس کا نام:
*۔۔۔میرا پہلا مجموعہ کلام 1998میں منظر عام آیا تھا۔اس کا نام ’’چہرے گلاب سے‘‘اس کا ٹائیٹل N.c.aکے پروفیسر نے بنایا اور الحمد پبلیشر نے شائع کیا۔
10)آپ کے آنے والے مجموعہ کلام کا نام:
*۔۔۔میرا دوسرا مجموعہ کلام ’’آسمان مٹھی میں‘‘ جلد آ رہا ہے۔
11)آپ کی اورا دبی تخلیق:
*۔۔۔کشت غم، پیادِ راؤ باقر علی خان
12)آپ نے پہلا عوامی مشاعرہ کب پڑھا؟
*۔۔۔پہلا مشاعرہ گلشن ادب کا مشاعرہ تھا۔جس میں چیف گیسٹ میں تھی۔صدارت شہزاد احمد ۔مہمان خاص ڈار کنول فیروز تھے۔پھر میں نے گوجرانوالا میں مشاعرہ اٹینڈ کیا وہاں پر چیف گیسٹ مرتضیٰ برلاؔ سی تھے۔پنجاب لیول کا مشاعرہ تھا۔میری فسٹ انٹری تھی اور اس کی نقابت میں نے کی تھی۔
مشاعروں کے علاوہ میں نے ڈاکٹر کنول فیروز کی ایوارڈ کی تقریب،طاہر اجمل کی تقریبات میں مقالے مضامین پڑھے۔اور لوگوں نے بہت زیادہ تعریف کی۔
13۔ شاعری میں کسی سے اصلاح لی۔
*۔۔۔شاعری میں کسی سے اصلاح نہیں لی۔
کسی استاد کی محبت ہی میسر نہیں مجھ کو
کوئی سیڑھی کوئی زینہ میسر ہی نہیں مجھ کو
14۔ شاعری کے معیار اور انداز سے آپ کس حد تک مطمئن ہیں۔
*۔۔۔میں شاعری کے معیار اورا نداز سے مطمئن نہیں ہوں ہر بندہ اپنے آپ کو بہت بڑا شاعر سمجھتا ہے۔مشاعروں میں جو اپنے آپ کو مہان سمجھتے ہیں ان کی شاعری بے وزن ہوتی ہے۔ان کا کوئی معیار نہیں ہوتا ہے۔جہاں تک انداز کی بات ہے تو ہر ایک کا اپنا اپنا انداز ہوتا ہے۔
شاعری ہر دور کی ضرورت رہی ہے۔جس طرح کہاجاتا ہے کہ میوزک رو ح کی غذا ہے۔ میوزک اس وقت ہی اچھا لگتا ہے ایسے ہی شاعری ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے
ہم تعلیم کے طرف آئیں ویلوز کے قریب کرتی ہے شاعری میں بڑے پیغام ہیں۔
15۔ کہتے ہیں غزل کا ماضی اور نظم کا مستقبل بہت شاندار ہے۔
*۔۔۔ماضی کی بات نہ کریں غزل ہر دور میں توانا رہی ہے۔غزل کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔نظم کا بھی مستقبل ہے غزل نہ ہو تو نظم بھی آگے نہیں جا سکتی۔
16۔ شاعری آپ کے نزدیک کیا ہے؟
*۔۔۔میرے نزدیک شاعری زندگی ہے میں اسے زندگی لیے علیحدہ نہیں کر سکتی۔
17۔ پہلا مجموعہ کلام منظر عام آنے پر آپ کے تاثرات کیا تھے؟
*۔۔۔بہت اچھا لگا تھا۔میرا پہلا مجموعہ کلام منظر عام آیا تو میرے والد ہاسپٹل میں تھے میں اپنے ابو کے سامنے اپنا کام لانا چاہتی تھی۔اور میرا پہلا مجموعہ کلام 14اگست میرے والد کی بیماری کی حالت میں مجھے ملا۔میں نے اپنی کتاب اپنے والد کو دیکھائی اور وہ بہت خوش ہوئے۔
18۔ بیرون ملک اور اندرون ملک مشاعروں میں کیا فرق:
*۔۔۔ایک مخصوص گروپ ہے جو عام مشاعروں میں دیکھائی نہیں دیتے۔لفافے والے مشاعروں ہی نظر آنے لگتے۔ہمارے مطابق ہمارے مقصد کے نہیں۔جونئیر سنئرز کا کلام نہیں دیکھتے۔تعلقات دیکھے جاتے ہیں۔جس کے تعلقات ہیں وہ آگے ہیں جس کے کسی سے تعلقات نہیں وہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔
19۔ مجموعہ کلام:
*۔۔۔آٹھ بحر سخن۔خوشبوئے بلوچستان، غزل فہمی، ناراک دلاں دیاں دراں۔ہمارے شاعر
20۔ کیا آپ ادبی پرچوں کی مشاورت میں شامل ہیں۔
*۔۔۔میں ادبی پرچوں کی مشاورت میں شامل جن لہراں جمالیات
21۔ زندگی کا مشکل ترین کام:
*۔۔۔زندگی خود ہی مشکل ترین ہے۔
؂جینا کیا مجھے نہیں معلوم
مرنا کیا یہ جانتی ہوں میں
22۔ کیاراستے کی دشواریاں کامیابی کی دلیل ہوتی ہیں؟
*۔۔۔پہلے کبھی ہوا کرتی تھیں اب نہیں اب یہ رکاوٹیں شفارش سے دور ہو جاتی ہیں۔
23۔ دوستی آپ کے نزدیک:
*۔۔۔دوستی میں اگر خلوص نہ ہو تو دوستی نہیں
24۔ محبت کے بارے میں آپ کی رائے:
*۔۔۔محبت کائنات کی بنیاد ہے۔
25۔ چاندنی راتیں کیا پیغام دیتی ہیں؟
*۔۔۔چاندنی راتیں محبت کی ظلمتوں کو دور کریں۔امن کی روشنی کو پھیلائیں یہ پیغام دیتی ہیں۔
26۔ کسی کی مدد کر کے کیسا لگتا ہے؟
*۔۔۔بہت اچھا محسوس ہوتا ہے اطمینان ہوتا ہے۔
27۔ کیسے لوگ پسند ہیں۔
*۔۔۔سچے،سادے محبت کرنے والے بے غرض ایماندار سچے کھرے
28۔ پسندیدہ شخصیت:
*۔۔۔میرے والدین
29۔ تنہائی کے لمحات کیسے گزارتی ہیں؟
*۔۔۔تنہائی کے لمحات تنہائی ملتی نہیں کتابیں ۔کام اتنے کام ہوتے ہیں مجھے تنہائی میسر نہیں ہوتی۔
30۔ بارش برستی ہے تو کیسا لگتا ہے؟
*۔۔۔بارش اچھی لگتی ہے بارش میں ڈرائیو کر دور تک اچھا لگتا ہے۔
31۔ چھپی ہوئی خواہش:
*۔۔۔ بہت سی ،اتنا کام پھیلا ہوا ہے شاعری کی 15کتابیں تیار ہیں۔مقالے ،مضامین میں چاہتی ہوں میرا کام میری زندگی میں منظر عام آئے۔
32۔کن چیزوں کے بغیر گھر سے نہیں نکلتی:
*۔۔۔گاڑی،اپنا کلام اور موبائل
33۔غصہ آئے تو:
*۔۔۔میں غصہ نہیں کرتی۔ملازمین سے بھی محبت و پیار سے رہتی ہوں۔
34۔اپنی پسندیدہ عادت
*۔۔۔سچ بولنا
35۔آپ کی شاعری کے موضوعات:
*۔۔۔میں ہر ٹاپک پر لکھتی ہوں۔انسانی نفسیات کے ساتھ میری شاعری زیادہ تر آمد کی شاعری ہے الہامی شاعری میں غور و فکر زیادہ ہوتی ہے۔
36۔کیا آپ پنجابی میں بھی لکھتی ہیں؟
*۔۔۔میں پنجابی میں بھی لکھتی ہوں۔پنجای پرچوں میں میرا کلام چھپتا ہے اور پنجابی نظموں غزلوں پر مشتمل ایک کتاب ترتیب دی ہے۔
37۔آپ کن ادبی پرچوں سے منسلک ہیں۔
*۔۔۔میرا کلام ’’نامہ دل،ادب معلی، دنیائے ادب،الحرا،بیاص،مشرق،شاداب،ادبیات،قلم کہانی میں شائع ہوتا ہے۔اس کے علاوہ ریشم ڈائجسٹ او ر سوبھلا ٹائم انصاف اخبار میں
38۔کیا آپ ماہیے کی صنف میں بھی لکھتی ہیں؟
*۔۔۔میں نے اُردو ،پنجابی ماہیے بھی لکھے ہیں۔ماہییوں کی کتاب بھی لا رہی ہوں۔راجہ زدلو نے ایسی پر رائے دی ہوئی ہے ۔
39۔دوستوں کو SMS کرنا اچھا لگتا ہے یا کال:
*۔۔۔کال بھی کرتی ہوں اور SMS۔کال کرنے میں ٹائم لگ جاتا ہے۔
40۔پہلی غزل یا نظم کس میگزین میں چھپی
*۔۔۔میری پہلی نظم کالج میگزین میں چھپی تھی۔
41۔پسندیدہ شاعر و ادیب:
*۔۔۔غالب،فیض،منٹو،عصمت چغتائی
42۔مزاجاً کیسی:
*۔۔۔کیرنگ، جھوٹ نہیں بولتی
43۔پیغام
*۔۔۔خدا اس دشت گردی سے بچا ئے امن اور محبت کا گہوارہ بنا دے۔
پسند کی شاعری:
پرسہ
میری تنہائیوں میں مجھ سے ملنے فاختہ آئی
سرہانے دیر تک میرے کھڑی کرتی رہی گریہ
کہا مجھ سے نہ کچھ اس نے
نہ میں نے ہی سبب پوچھا
گرختہ دل وہ جب گانے لگی تو یوں ہوئی گویا
تیری تنہائیوں کی نازشوں کو بوسہ دینے کی
نہیں ہمت مجھے پڑتی دینے آؤں میں پرسہ
تمہاری اس محبت کا
کھن خوشبو کا جوپہنے چمن سے دوستی ہے
سنا ہے بلبلیں تب سے ہولے آنکھیں کجلائے
چمن سے دور رہتی ہے
سنا ہے طائروں کی ٹولیوں نے دیکھ کر یہ سب
شجر ہے۔پھول ہے ۔تتلی ہے سب سے التجا کی ہے
چلو سب پر سہ دے آئیں کنول کو پرسہ دے آئیں
سرہانے اس کی تنہائی کے یاد کے جگنو
اسے واپس بلا لائیں فقط اتنا بتا آئیں
تمہارے بن ہماری انجمن کا دیکھ لو نقشہ
نہ رنگ و ندر کے یادلیں نہ خوشبوؤں کے چھ گل میں
اکیلا دل ہی پاگل ہے اکیلا دل ہی پاگل ہے۔

Viewers: 3227
Share