Ahmad Khiyal | حلقہ این اے ۱۱۸اور میاں حامد زمان

احمد خیال۔ لاہور فون نمبر: 03345418078 حلقہ این اے ۱۱۸اور میاں حامد زمان  انتخابات سر پر کھڑے ہیں،پاکستان پیپلز پارٹی،اے این پی اور متحدہ قومی موومنٹ کی انتخابی سرگرمیاں طالبان […]

احمد خیال۔ لاہور

فون نمبر: 03345418078

حلقہ این اے ۱۱۸اور میاں حامد زمان

 انتخابات سر پر کھڑے ہیں،پاکستان پیپلز پارٹی،اے این پی اور متحدہ قومی موومنٹ کی انتخابی سرگرمیاں طالبان کی طرف سے حملوں اور دھمکیوں کی وجہ سے انتہائی محدود ہو کر رہ گئی ہیں،پنجا ب میں مسلم لیگ ن اورپاکستان تحریک انصاف پور ی قوت کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابل صف آرادکھائی دیتی ہیں،فریقین کو اس بات کا اچھی طرح سے ادراک ہے کہ پنجاب کی فتح انہیں اقتدار کی راہداریوں تک آسانی کے ساتھ لے جا سکتی ہے سو یہی وجہ ہے کہ پنجاب پانی پت کا محاذبنا نظر آتا ہے،پنجاب میں خصوصا ‘‘ لاہور کی نشستوں کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائی جا رہی ہے،لاہور ایک عرصے سے شریف برادران کی مٹھی میں تھالیکن اب تحریک انصاف کی بھرپور انتخابی مہم کی وجہ سے ریت کی صورت پھسلنا شروع ہو چکا ہے،تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن اورٹکٹوں کی تقسیم کے وقت پیدا ہونے والے اختلافات کی دھول چھٹنی شروع ہوئی ہے اور منظر نامہ شفاف ہونے لگا ہے،عبدالعلیم خان نے اپنی سیٹ کی قربانی دیتے ہوئے تحریک انصاف کا پرچم ہاتھوں میں تھاما ہے اور بے لوث طریقے سے عمران خان اور تحریک انصاف کی انتخابی مہم کو نئے زاویوں سے روشناس کرواتے ہوئے مخالفین کی نیندیں اڑا دی ہیں .
پاکستان تحریک انصاف نے حلقہ این اے ۱۱۸سے میاں حامد زمان کو ٹکٹ جاری کیا ہے،۲۰۰۸کے الیکشن میں یہاں سے مسلم لیگ ن کے ملک ریاض۵۵۹۰۰ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے،پاکستان پیپلز پارٹی کے سید آصف ہاشمی ۲۴۷۱۲ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ کے میاں اظہر۱۵۰۷۵ووٹ حاصل کر پائے،جب تحریک انصاف نے میاں حامد زمان کو ٹکٹ جاری کیا تو مخالفین اس بات پر بہت شاداں تھے کہ یہ ان کا آبائی حلقہ نہیں ہے اور اس بات کو بنیاد بناتے ہوئے عوام کے دلوں میں یہ بات بہ آسانی بٹھائی جا سکتی ہے کہ ایک ایسا شخص جس کا اس حلقے سے تعلق ہی نہیں وہ کیسے ان کے مسائل جان سکتا ہے اور ان کا حل نکال سکتا ہے ،میاں حامد زمان نے جب اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا توان کے مخالفین انگشت بدنداں رہ گئے کہ اتنی تیزی کے ساتھ انہوں نے حلقے کے لوگوں کوکیسے اپنی طرف متوجہ کرلیا،انتخابی مہم کے دوران ان کے مخالفین پریہ بات کھلی کہ وہ اس حلقے کے لئے قطعی اجنبی نہیں ہیں،میاں حامد زمان بنیادی طور پر ایک بزنس مین ہیں اور شاہدرہ کے علاقے میں ان کی کئی فیکٹریاں ہیں انہوں نے ہزاروں مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کیا ہوا ہے اور وہ اسی علاقے میں مزید یونٹ لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں،ان کی فیملی شاہدرہ کے علاقے میں عرصہ ۴۰سال سے بزنس کررہی ہے،وہ اور ان کی فیملی پاکستان کے پانچ ٹاپ کلاس برانڈزکے مالک ہیں اور یہ برانڈز عالمی سطح کی شہرت کے حامل ہیں،ان کے کریڈٹ پر شاہدرہ کے قریب ایک ٹیکسٹائل پروسیسنگ یونٹ بھی ہے جس نے انتہائی کم عرصے میں اپنی پہچان بنائی ہے جو کوالٹی کے حوالے سے عالمی شناخت رکھتا ہے،میاں حامد زمان اور ان کی فیملی سوشل ویلفئیر کے حوالے سے بھی کافی متحرک ہیں،فلاح عامہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ، زمان ویلفیئر فاونڈیشن ایسا ہی ایک فلاحی ادارہ ہے جس نے  ۲۰۰۵ کے قیامت خیز زلزلے کے دوران امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،متاثر ین کے لئے بہت سے گھر تعمیر کروائے ،بعد میں پاکستان پر سیلاب کی صورت میں ٹوٹنے والے قہر میں بھی اس کا کردار مثالی رہا۔حامد زمان فاونڈیشن شہر کے بہترین ہسپتالوں میں نادار مریضوں کو مفت علاج کی سہولت بھی مہیا کرتی ہے۔ فروغ تعلیم کے لیے بھی ان کی اور ان کی فیملی کی کاوشیں قابل داد ہیں۔
میاں حامد زمان نے کنسرنڈ سٹیزن آف پاکستان کے نام سے سول سوسائٹی کی ایک تنظیم کی بھی بنیاد رکھی جس نے پرویز مشرف کے آمرانہ ہتھکنڈوں کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا،بعد میں عدلیہ بحالی تحریک میں بھی بھر پور کردارادا کیا،ان کی زندگی پیہم کاوشوں سے عبارت ہے،انتہائی بے لوث اور ایماندار شخصیت ہیں،یہی وجہ تھی کہ انتخابی مہم کے آغاز ہی میں انہیں بھر پور پذیرائی ملی اور شاہدرہ کے لوگ جوق در جوق تحریک انصاف کے جھنڈے تلے جمع ہونا شروع ہو گئے،اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میاں حامد زمان کی شخصیت تحریک انصاف کے انتخابی امیدواروں کی شفافیت کے دعووں پر من و عن پورا اترتی ہے،ان کا سارا بزنس اور اثاثہ جات پاکستان میں ہیں اور ایسے لوگ ہی تحریک انصاف کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں،میاں حامد زمان کی انتخابی مہم کو مہمیز اس وقت ملی جب ان کی ایک کمپنی کے چیف آپریٹنگ آفیسر جناب آصف مسعو د ان کے ساتھ میدان کارزار میں کود پڑے،انہوں نے اپنی انتظامی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے شروع کیے تو کامیابی کے امکانات اور روشن ہونا شروع ہو گئے۔
میاں حامد زمان کے مخالف امیدوار مسلم لیگ ن کے ملک ریاض تصور کیے جا رہے ہیں ،پاکستان پیپلز پارٹی کے سید آصف ہاشمی کی نااہلی کے بعد ان کے بیٹے فراز ہاشمی میدان میں ہیں لیکن عوام پیپلز پارٹی کے پچھلے پانچ سالہ دور کی کارکردگی کی وجہ سے انتہائی نالاں ہیں اس لیے ان کی کامیابی کے امکانات نظر نہیں آتے۔شاہدرہ کے صوبائی حلقہ پی پی ۱۳۷کی نشست پر پچھلے انتخابات میں مسلم لیگ ن کے رانااقبال کامیاب ٹھہرے تھے،اس مرتبہ ان کی جگہ مسلم لیگ ن نے خواجہ عمران نذیر کو ٹکٹ دیا ہے جس کے رد عمل میں رانا اقبال کے حمایتی کھل کر ملک ریاض کی مخالفت کر رہے ہیں،جس کا فائدہ یقینی طور پر میاں حامد زمان کو ہو گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے نوجوان جس جذبے اور لگن کے ساتھ پورے پاکستان میں مصروف کار ہیں وہی جذبہ اور لگن حلقے میں بھی نظر آتی ہے،آج کا نوجوان شعوری طور پرانتہائی بالغ ہو چکا ہے اور اس کے اثرات ہمیں انتخابی مہم میں جا بہ جا دکھائی دیتے ہیں،ایک نوجوان پورے خاندان کے نظریات کو تبدیل کرتا دکھائی دیتا ہے۔
وہ لوگ جو تحریک انصاف کے اس اقدام پر تنقید کر رہے تھے کہ اندرون شہر کے ایک باشندے کو شاہدرہ جیسے مضافاتی علاقے میں لاکھڑا کرنا کہاں کی دانشمندی ہے ،اب بغلیں بجاتے پھر رہے ہیں ،اخبارات اور ٹیلی ویژن کی رپورٹس اس بات کا واضح اشارہ دیتی نظر آتی ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ ن کوحلقہ این اے ۱۱۸ میں کسی انتہائی تگڑے امیدوار کا سامنا ہے،میاں حامد زمان اور ان کی ٹیم شبانہ روز کاوشوں میں مصروف ہے،انتخابی مہم ایسے بھر پور طریقے سے چلائی جا رہی ہے کہ مخالفین حواس باختہ ہو چکے ہیں،روزانہ علاقے کی بڑی شخصیات کی تحریک انصاف میں شمولیت میاں حامد زمان کی پوزیشن اور مضبوط کرتی چلی جا رہی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ وہ اپنے مخالف امیدوار کو بھاری اکثریت سے ہرانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

Viewers: 4208
Share