Aziz Belgaumi | زندگی بندگی ورنہ کیا زندگی

عزیز بلگامی بنگلور۔ انڈیا زندگی بندگی ورنہ کیا زندگی نظریۂ توحید اور حقیقتِ وحد انیت کو محض ایک مذہبی رسم سمجھنے والی بے لگام دنیاکو اُ سی کے اُسلوب میں […]

عزیز بلگامی
بنگلور۔ انڈیا

زندگی بندگی ورنہ کیا زندگی

نظریۂ توحید اور حقیقتِ وحد انیت کو محض ایک مذہبی رسم سمجھنے والی بے لگام دنیاکو اُ سی کے اُسلوب میں ڈائیلاگ اور اُسی کے لہجے میں اہلِ توحید کی تحریروں کی اشاعت کی آج جس قدر ضرورت در پیش ہے، اُتنی شاید اس سے پہلے کبھی نہیں رہی۔کتاب اللہ اتنی با کمال ہے کہ احساسِ عبدیت سے خالی سینوں میں دھڑکنے والے دلوں کو آج بھی قرآنی آیات کی اوریجنل ٹیکسٹ کے حوالے سے متاثر کیا جاسکتا ہے۔اس کی ایک ادنیٰ سی کوشش درج ذیل سطور میں کی گئی ہے ، اس امیدکے ساتھ کہ ایک بار پھر انسانیت اپنے رب کی طرف پلٹنے کے سلسلے میں سنجیدہ ہو جائے گی۔
قرآنِ حکیم کی دوسری سورۃ کی اکیسویں اور بائیسویں آیت کی ترجمانی کچھ اس طرح ہے: ’’ اے علمبردارانِ انسانیت! بن جاؤ اپنے پالنہار کے عبادت گزار، جو(نہ صرف) تمہارے پیکرِ وجود کا خلاق ہے (بلکہ) تمہارے (عالمِ وجود میں آنے سے)قبل انسانوں (کے جتنے گروہ بھی گزرے ہیں اُن سب) کا خالق ہے(اور اُس کی اِس تخلیق کاری کا واحد مقصد اس کے سوا کچھ نہیں) کہ تمہیں خشیتِ الٰہی کی سعادت نصیب ہو جائے۔ وہی تو ہے جس نے (تمہارے پاؤں تلے وسائلِ حیات سے مالا مال) زمین کا فرش بچھایا اور(تمہارے سروں پر )آسمانِ(بے کراں) کا (گویا ایک)سائبان اُستوار کیا اور (اِسی ) آسمان(کی سمت ) سے پانی بھی برسایا( اور اِسی پانی کے ذریعہ) بشکلِ ثمرات، تمہارے رزق اورسامانِ بود و باش اور ہر قسم کے پرووِژن کا سامان بھی بہم پہنچایا۔چنانچہ (تمہاری تخلیق سے لے کرتمہارے لیے نظام رزق تک اللہ ہی کی خلاقی مصروفِ کار رہی ہو) تو (تمہارے لیے زیبا نہیں کہ)تم کسی اور( مخلوق کو) اس کا شریک بناؤ،درآنحالیکہ تم اِس حقیقت سے باخبر ہو۔‘‘
کس قدر سادہ اور قابلِ فہم ہیں خدا وندِ کریم کی یہ آیتیں جو قرآنِ مجید کی ابتداء ہی میں ہمیں نظر آتی ہیں۔ اسقدر عام فہم کہ معمولی سی عقل کا آدمی بھی سمجھ جائے، چاہے وہ کسی دور سے کیوں نہ تعلق رکھتا ہو۔ حالانکہ بات معمولی نہیں ، بلکہ بہت گہرائی و گیرائی لیے ہوئے ہے۔ابتدائے آفرنیش سے لے کرآج تک اورآج سے لے کر قیامت تک کے سارے انسانوں کا اکیلا خالق۔لیکن مخلوق کی تعداد اتنی کہ جس کا اندازہ لگایا نہ جاسکے۔ ؂
میں عبد ہوں مرے جیسوں کا کوئی حد و حساب
تو لاشریک ہے اور کون تیرے جیسا ہے (عزیزؔ بلگامی)
پھرماضی ، حال اور مستقبل کی اس قدر زبردست انسانی آبادی کے سامان و ضروریاتِ زندگی کی تخلیق و فراہمی کا سارا کام اُسی ایک خالق کا کارنامہ ہے۔ذرا اس مقام پر رُک کر ہم غور کریں کہ یہ بے حد و حساب انسان جو نہ جانے لمحہ بہ لمحہ کتنے لاکھ ٹن غذا، جیسے گیہوں، چاول اور نہ جانے کس کس قسم کی اجناسِ اغذیہ، کتنے ٹن سبزیاں اور کتنے گیالن پانی پی جاتے ہوں گے۔پہلے تو اشیاء کی مقدار دیکھیے اور پھر سوچیے کہ کس نے پیدا کیا ان بے حد و حساب اشیائے خوراک کو؟کس نے بخشی بے جان زمین کو قوتِ نمو؟کس نے لہلہائے یہ کھیت و کھلیان؟کس نے بادلوں کی تنظیم کی اور ابر کے ٹکڑوں کو آبی بخارات کے ساتھ اِذنِ سفر دیا؟کون ہے وہ جو پیاسی زمین پر آسمانوں سے بارش برساتا ہے ؟کہاں سے آیا دریاؤں میں پانی؟کون ہے جس نے زمین کی گہرائیوں میںآبِ طیب کے جھرنے جاری کیے؟کون ہے وہ جس نے تالابوں ، ندیوں اورکنوؤں میں پانی کے ذخیرے پیدا کیے؟ اگر کسی کے سینے میں دل ہے اور سر میں دماغ تو وہ ضرور پکار اٹھے گا کہ یہ اُسی قادرِ مطلق کی کبریائی کا کمال ہے جو پانی کے ایک ایک قطرے میں،اناج کے ایک ایک دانے میں اور ہوا کے ایک ایک جھونکے میں ظاہر ہو رہا ہے۔
پھر کس طرح کسی بند�ۂ خدا کی جئ ت ہو سکتی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور طاقت کواُس کا ہمسر سمجھنے لگے؟کیا اب ہمارے سر ہی کو نہیں بلکہ ہمارے سراپاکو بارگاہِ ایزدی میں پورے ہوش و حواس کے ساتھ خم نہیں ہو جانا چاہیے؟کیا ہمارے دل و دماغ، ہماری قوتوں و صلاحیتوں کو احساسِ عبدیت کی خوشبو سے معطر نہیں ہو جانا چاہیے؟کیسے ممکن ہے کہ ہم کسی اورمعبود یا شکتی کے آگے سر بہ سجود ہونے کا تصور بھی کریں!جس زمین پر ہم جیتے بستے ہیں اورجس کی آغوش میں ہم اپنے صبح و شام،لیل و نہارگزارتے ہیں،ضروری ہے کہ ہم اپنے فہم اور اپنی عقل عام ے ذریعے اس پیاری سی زمین کے حقیقی خالق و مالک کو پہچان لیں۔
دیکھیے! کہ یہ نیلی چھتری کی طرح پھیلا ہوا خوبصورت آسمان جو بغیر کسی ستون یاسپورٹ کے نہ جانے کتنی مدت سے ہمارے سروں پر تنا کھڑا ہے۔اِدھرسہانی شام کیاہوئی کہ اُدھر اس نیلی چادر پرجگمگاتے ستاروں کی خوبصورت محفل سج گئی۔پھر صبح ہوئی تو سو رج کی تابناک روشنی نے سارے عالم کو نور کی چادر میں لپیٹ لیااور خوشگوار تپش سے زندگی کو گویا حرکت بھی دی ا ور حرارت بھی۔پھرتاروں کے جمگھٹ میں چاند نکل آتا ہے تو اس کی مدھم مدھم سی مگر نورانی روشنی پورے ماحول کوروح پرور و فرحت آفریں بنادیتی ہے۔پھرہماری خدمت پر معمور یہ پلٹتے بدلتے سہانے موسم،یہ چہچہاتے نغمے لٹاتے محوِ پرواز پرندے،یہ زمین کے مختلف حصوں میں قل قل کے نغمے لٹاتی رواں دواں ندیوں کے جال،آسمان سے سرگوشیاں کرتے ہوئے زمین پر ایستادہ یہ بلند پہاڑ، دور دور تک پھیلے ہوئے ہرے بھرے درختوں کے خوب صورت سلسلے،یہ مانند عروس پھولوں کی چادر میں لپٹے ہوئے ہوش رُبا باغات،غرض کہ ان تمام نعمتوں پر نظرپڑتی ہے تومعلوم ہوتا ہے کہ ان کے خالق نے ہم انسانوں ہی کی خدمت کے لئے انہیں وجود بخشا ہے۔دوسری سورۃ کی اُنتیسویں آیت میں ارشاد فرمایا:’’(اے باشندگانِ زمین !) وہ باری تعالےٰ ہی تو ہے جس نے(آسمان اور اسکی قوتوں کی تخلیق سے قبل)تمہارے لیے ہی کرّۂ ارض پر موجود جملہ لوازماتِ حیات کو تخلیق کا جامہ پہنایا۔‘‘
ایمانداری سے بتایا جائے کہ دنیا میں موجود ان نعمتوں کا حقیقی استعمال کرنے والا اور اصلی کنزیومر کون ہے؟ظاہر ہے ا نسانی مخلوق کے سوا اور کون سی مخلوق ہو سکتی ہے جن کے لیے نعمتوں کی یہ بساط بچھائی گئی ہے؟زمین پر موجود ان نعمتوں سے متمتع ہونے والا انسان ہی تو ہے جسے ان سے بھر پور لطف اندوز ہونے کا موقع میسر آتا ہے۔ صرف یہی نہیں کہ انسان ہی ان سے فیض یاب ہوتا ہے بلکہ یہ صرف اور صرف انسان ہی ہے جو دیگر مخلوقات کے مقابلے میں دنیاوی وسائل و ذرائع کوایکس پلور کرنے کا سلیقہ بھی جانتا ہے اور بڑے کمالِ فضیلت سے ان کو اپنے استعمال میں بھی لاتا ہے۔اگر ہم سترویں سورۃ کی ستّر ویں آیت کو دیکھیں توہمیں اس حقیقت کے اظہار کے صاف صاف اشارے ملتے ہیں کہ کس طرح رب تعالےٰ نے فرشِ زمین اور آسمان کے سائبان تلے ساری اشیاء کو،یہاں تک کہ خلا میں موجود ساری چیزوں کو ہمارے ہی نفع کے لئے پیدا کیا ہے اور ہم انسانوں ہی کو اپنی دیگر فضیلت یافتہ مخلوق کے مقابلے میں بڑے گریڈز بھی عطا کیے ہیں اورہمیں عزت واکرام سے بھی نوازا ہے۔ مذکورہ آیت کی ترجمانی کچھ اس طرح ہوگی:’’۔۔اور فی الحقیقت ہم نے نسلِ آدم کو(مقامِ )مکرّم عطا کیا اور اُنہیں خشکی اور تری میں (نقل و حمل کے لیے تیز رفتار) سواری عطا کی، نیز ہم نے انہیں رزق کے طیّب ذرائع بھی عطا کیے،(یہاں تک کہ) ہم نے کثیر( تعداد میں آباد)با فضیلت مخلوق کے مقابلے میں (بنی آدم کے وقار و دبدبے) کی شان بڑھا دی ہے۔‘‘
اس آیت پر خصوصی توجہ کیجیے گا تو محسوس ہوگا کہ اس میں ایک ایسی بات ارشاد فرمائی گئی ہے،کہ جس کی طرف ہماری کم ہی توجہ جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض ’’حیوان نواز انسان‘‘ بنی آ دم کے وقار کوجانوروں کے مقابلے میں گھٹانے کوسعادت سمجھنے لگتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس زمین پر مختلف ا قسام کی مخلوقات پائی جاتی ہیں۔مگر ان مخلوقات میں صرف ایک انسانی مخلوق ہی ایسی ہے جسے اسکے رب نے دیگر مخلوق کو قابو میں کرکے سواری میں استعمال کا فن عطا فرمایا ہے۔ابتداً جبکہ جدید سواریاں ایجاد نہیں ہوئی تھیں،سامان کے حمل و نقل کے لئے رب تعالےٰ نے ہمارے لیے جانوروں کے استعمال کی تدبیر سجھائی تھی، جیسے گدھے، خچر، گھوڑے،ہاتھی اور اونٹ وغیرہ ۔پھر یہ بھی دلچسپ حقیقت ہے کہ دنیا کی کوئی مخلوق کسی دوسری مخلوق پر سواری نہیں کرتی۔پھر یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے کہ جانور بھی اپنی پیٹھ پر سوائے انسانوں کے کسی اور مخلوق کو بیٹھنے نہیں دیتے اورانسانوں ہی کے سکھائے ہوئے اشاروں کے مطابق دوڑتے ہیں،اپنا رخ بدلتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔یہاں تک کہ وہ اپنے تھنوں سے ہماری خوراک کے لئے اپنا دودھ فراہم کرنے میں بھی کبھی مانع ثابت نہیں ہوتے۔حالانکہ کسی اور مخلوق کو ایسے کسی کام کے لیے وہ اپنے قریب پھٹکنے بھی نہیں دیتے۔سولویں سورۃ کی آٹھویںآیت ہمارے سامنے ہے جس کی ترجمانی ہے:’’۔۔اور(اے زمین کے خلفائے با تمکنت!)اُسی(مالکِ حقیقی) نے تمہارے لئے گدھے ،گھوڑھے اور خچر(جیسی سواریوں کی) تخلیق کی (اس لیے کہ) تم ان پر سواری بھی کرواور(مال برداری کا کام بھی لو اورجب تم ان پر سوار ہو جاؤ تووہ )تمہاری شان میں اضافہ کا باعث بھی بنیں اور یوں وہ(تمہاری ضروریات زندگی میں کام آنے والی کئی دوسری اشیاء کی) تخلیق میں(مستقل)مصروف ہے جس کی(بسا اوقات)تمہیں خبر بھی نہیں ہو پاتی۔‘‘
ڈیڑھ ہزار سال پہلے کا زمانہ، جب قرآن شریف کا نزول ہو رہا تھا،وہ زمانہ تھا جب نقل و حمل کے لیے قوت وتوانائی کے منبعوں کی شکل میں صرف جانور ہی میسر تھے اور دنیا سفر اور نقل و حمل کی اپنی ضروریات کی تکمیل ان ہی جانوروں سے پوری کیا کرتی تھی۔کسی پہیے کو گھما کر توانائی کی جدید شکل سے لوگ ناواقف تھے ۔چونکہ اللہ نے حضرتِ انسان کو عقل کی دولت سے مالا مال کیا تھا، اس لیے اس نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عقل کا خوب استعمال کیا اور نئی نئی اشیاء ایجاد کرتا رہا یہاں تک کہ زمانۂ جدید کے آدمی کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اب گھومنے والے پہیوں سے بھی بے نیاز ہوگیا ہے اور کمپوٹروں کی حیرت انگیز ایجاد نے اسے انتہائی تیز رفتار وسائل فراہم کئے ہیں۔سائیکل سے لے کر خلائی جہاز تک آج جو بھی سواری موجود ہے وہ انسانی عقل کے باکمال مظاہرکا نمونہ ہے۔اب تووہ دن بھی باقی نہیں رہے کہ آسمان میں محو پروازپرندوں کی طرح انسان کو ہوا میں اُڑتے دیکھ کر کسی کو تعجب بھی ہو۔ رب کا ارشاد ہے(جس کا حوالہ اوپر آچکا ہے):’’۔۔ ہم نے کثیر
( تعداد میں آباد)صاحبِ فضیلت مخلوق کے مقابلے میں (بنی آدم کے وقار و دبدبے) کی شان بڑھا دی ہے۔‘‘
اب سوال یہ باقی رہ جاتا ہے کہ مذکورہ بالاانتظام کیا بلاوجہ ہوسکتا ہے؟کیا یہ سب کچھ کسی مقصد کے پیش نظر بھی ہے؟زمین پر موجود یہ انسانی مخلوق، جسے ہم’ خاندانِ حضرتِ آدم‘ بھی کہہ سکتے ہیں،کیوں کسی دوسری مخلوق کے ساتھ زمین و آسمان میں موجود نعمتوں کو شئیر نہیں کرتی؟ کیوں اسے زمین پر خلیفہ بنایا گیا ہے اورکیوں بالواسطہ یا بلا واسطہ دوسری ہر مخلوق کو انسان کی خدمت پر لگا دیا گیا ہے!ظاہر ہے یہ سب کچھ بے سبب نہیں ہو سکتا۔ایک باشعور انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اُس مقصد کی جستجو کرے جس کے لیے یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔وہ تلاش کرے کہ وہ منطق و علت کیا ہے جس کے لیے ایک عظیم الشان کائنات کو انسان کے لیے مسخر کیا گیا ہے۔یہ جب تک نہ ہوگا تب تک ایک عام آدمی تو کیا، ایک باشعور آدمی بھی اپنی ناپائیدار زندگی کے لیے ایک صحیح ، محفوظ اور معتدل پروگرام بنانے میں دِقت محسوس کرے گا۔تیئسویں سورۃ کی ایک سو پندرویں میں فرمایا:’’(اے کرّۂ ارض کے باشندو)کیا تم ابھی اِسی خیالِ خام میں (غلطاں و پیچاں) ہو کہ تمہاری تخلیق محض ایک کارِ عبث ہے؟اور یہ کہ(تمہارے مواخذہ کے لیے) ہماری طرف(کبھی) تمہاری واپسی ہوگی ہی نہیں؟‘‘
انسان کی عقل، منطق،معقولیت اوروجہ ہر گز اس بات کو قبول نہیں کر سکتی کہ یہ کائنات،یہ زمین ،یہ انبوہِ انسانیت یہ انسانی آبادیاں اور یہ انسانوں کا جینا اور مرنا بے مقصد ہوگا۔لیکن یہ عجیب بات ہے کہ انسان اپنے ضمیر کی آواز کے خلاف ایک غیر ذمہ دارانہ موقف و طرزِ عمل اختیار کرلیتا ہے اور اپنی عقل ہی کی چھٹی کر دیتا ہے۔عقل اور عقلِ عام جیسی عظیم نعمتوں سے سرفراز ہو نے کے باوجود اپنے فضیلت یافتہ ہونے کا یا اپنی اُخروی زندگی میں جواب دہی کا کوئی سگنل وصول نہیں کرپاتا۔نتیجتاً ایک بے مقصد زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ٹھیک اس مقام پر اللہ کی کتاب ہماری رہنمائی کے لیے آگے بڑھتی ہے۔اکیاونویں سورۃ کی چھپنویں آیت مقصدِ حیاتِ انسانی کا ایک واضح اعلامیہ نہ صرف انسانوں بلکہ جنوں کے سامنے رکھتی ہے، جو اس زمین پر بسنے والی ایک اور مخلوقِ خدا وندی ہے:’’اور میں نے گروہِ جن و اِنس کی تخلیق ہی اس لیے کی ہے کہ وہ مجھ ہی سے عبدیت کا تعلق استوار کر لیں۔‘‘
زندگی کا یہ مقصد عام معنوں میں محض کسی ’’مذہبی سرگرمی‘‘کا دوسرا نام نہیں ہے۔بلکہ یہ حقائق کی مندرجہ بالا کڑیوں کا ایک فطری و منطقی نتیجہ ہے کہ انسانی اور جنّ آبادیاں فی الفوراپنے معبودِ حقیقی کے آگے سجدہ ریز ہو جائیں۔ کیا یوروپ، کیا امریکہ، کیا نسلی مسلم کیا غیر مسلم، کیا کالے کیا گورے، کیا چینی کیا عربی، سب کے سب بارگاہِ الٰہی کی دہلیز پر اپنی پیشانیاں ٹیک دیں۔ایک ایمان دار عبد کی طرح، ایک وفا شعار غلام کی طرح۔ظاہر ہے ایک عبد یا غلام کی ڈیوٹی اس کے سوا اور کیا ہوگی کہ وہ اپنے مالک کے ہر حکم پر عمل آوری کے لیے ہمہ تن و ہمہ وقت تیار رہے۔اس کی نافرمانی کا قلادہ اپنے گلے سے اتار پھینکے۔معصیتوں کے بھنور سے اپنے آپ کو نکال لائے۔وہ اپنے رب کو دھوکہ نہیں دے سکتا، چاہے دھوکہ شعوری ہو کہ غیر شعوری ۔وہ خود اپنی فلاح کی سوچے،اس لیے کہ وہ ایسا نہیں کرتا تو اپنے آپ کوCheatکر رہا ہے، وہ اپنے رب کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔وہ اللہ کی نظروں سے اوجھل نہیں ہے نہ ہو سکتا ہے۔رب کی پکڑ سے فرار اِس کے بس کی بات نہیں۔اس لیے کہ وہ رکارڈ پر ہے اورخفیہ کیمرے کی آنکھ اُس پر برابر لگی ہوئی ہے۔
وقت کے موجودہ تمام قدروں اورپیرا میٹرز کواُلٹتے ہوئے ایک بڑا دن ساری انسانیت پر نمودار ہوگا، سارے زمانوں کے، سارے لوگ اپنی زندگی کا حساب دینے کے لیے اُس کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے۔ہمارے اعمال کا پورا لیکھا جوکھا ہمارے سامنے پیش کردیا جائے گا۔جس میں کوئی بھی چیز ایسی نہیں ہوگی کہ وہ مس ہوگئی ہو یا بڑھادی گئی ہو۔اٹھارویں سورۃ کی اُننچاسویں آیت کے مطابق اس دن گنہ گار لوگ چیخ اٹھیں گے:’’۔۔اُف ! یہ ہماری بد بختی !کس قدر( باریک بینی سے مرتب کیا گیا ہے ہمارے اعمال کا)یہ ریکارڈ کہ نہ کسی معمولی بات ہی سے یہ چشم پوشی کرتا ہے اور نہ کسی بڑی بات ہی سے یہ پہلو تہی برتتا ہے ۔یہ تو ہمارے اعمال کا کچا چٹھا اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے !۔۔۔‘‘اُس دن وہ اپنی عطا کردہ نعمتوں کے بارے میں سوال کرے گا کہ ان نعمتوں کے حصول کے بعد تمہارا عمل اور رویہ اپنے خالق کے لئے کیسارہا؟ ایک سوتیسری سورۃ کی آٹھویں آیت میں ہے:’’پھربروزِ پرسش( اُن تمام)نعمتوں کے (جنہیں تمہاری تفویض میں دے دیا گیا تھا،اچھے یا بُرے استعمال )کے بارے میں تم( بارگاہِ الٰہی میں) باز پرس کیے جاؤ گے۔‘‘
یہ کیسی بد تہذیبی ہے کہ مالک کی ہر نعمت کا زندگی بھر بلاتکلف استعمال بھی کرتے رہیں اوراُس کا شکر بجا لانا تو دور کی بات ہے اُسے پہچانیں بھی نہیں! اور دل مان رہا ہے پہچان رہا ہے،لیکن رسماًہی سہی اسے تھینکس دینے کاہمارے پاس کوئی پرووژن اور فرصت ہی نہ ہو۔!یہ کہاں کی شرافت ہے۔!یہ کیسے آداب ہیں ہمارے۔!نعمتوں پر شکر گذاری تو ایک فطری و منطقی شے ہے۔ تو پھر کیوں نہیں سر جھکتا انسانیت کا اپنے خالق و مالک کے آگے۔!
زندگی بندگی ، ورنہ کیا زندگی
بندگی ہی کا اک سلسلہ زندگی (عزیزؔ بلگامی)

Azeez Belgaumi,
No 43/373 First Floor ، Gopalappa layout
Bhuvaneshwari Nagar Main, M K Ahmed Road
Kempapura , Hebbal Post ,BANGALORE 560024
Karnataka INDIA

Viewers: 2433
Share