والتھم فاریسٹ پاکستانی کمیونٹی کا عالمی مشاعرہ اور دو کتابوں کی رسم اجراء

ناورے کے فیصل نواز چوہدری اور جرمنی کے سرور غزالی کی کتابوں کی لندن میں رسم اجراء کی گئی

(خصوصی ادبی رپورٹ) ہر ماہ کی پہلی اتوار کو سابقہ چھ برسوں سے عظیم الشان ادبی و ثقافتی محفلیں منعقد کرانے میں لندن کی معروف تنظیم ’’والتھم فاریسٹ پاکستانی کمیونٹی فورم‘‘ جس میں لندن و گرد و نواح کے علاوہ برطانیہ کے دیگر شہروں سے معروف شعراء و شاعرات شریک ہوتے ہی تھے مگر اس بار ناورے کے معروف ادیب جناب فیصل نواز چوہدری اور جرمنی (برلن) کے مشہور شاعر،افسانہ نگار جناب سید سرور ظہیر غزالی نے اپنی کتابوں کی رسم اجرا بھی لندن کی اس معروف تنظیم کے پلیٹ فارم سے کروائی ۔ WFPCFکے بانی و جنرل سیکریٹری امجدمرزا امجدؔ نے اس محفل کی نظامت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں خوشی و فخر ہے کہ آج ہماری اس ادبی تنظیم کی اچھی ساکھ اور کئی برسوں کی انتھک پر خلوص محنت نے سیکنڈے نیویا اور یورپ کے ممالک کے ادبا و شعراء تک رسائی کرلی ہے کہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی کتابوں کی رسم اجرا کے لیے ہماری تنظیم کو ہی چنا ۔ تین بجے پروگرام کی شروعات ہوئی جبکہ دو کتابوں کی رسم اجرا اور مقررین کی تقاریر کے بعد مشاعرے کو ختم ہوتے ساڑھے سات بج گئے مگر امجد مرزا کی شگفتہ نظامت اور شعرا کی کثیر تعداد کی وجہ سے ساٹھ سے بھی زیادہ سامعین نے اختتام تک اس خوبصورت یادگار محفل سے لطف اٹھایا۔ ماہر اقبالیات جناب پروفیسر محمد شریف بقا ء صاحب کی صدارت میں ناروے کے فیصل نواز چوہدری ،جرمنی کے سرور ظہیر غزالی ، برنلے کے معروف شاعر ضمیر طالب سیال ، لندن کی معروف شاعرہ نورجہاں نوری ،ماہنامہ ساحل کے مدیر اعلی تنویر اختر،برطانیہ کا صف اول ہفتہ وار اخبار’’نیشن‘‘ کے مدیر اعلی جناب محمد سرور اور فورم کے صدر ڈاکٹر شوکت نواز مہمانان خصوصی تھے ۔ علامہ اسماعیل بلوچ نے نہایت پرسوز آواز میں کلام پاک کی تلاوت سے ابتدا کی ،فیصل نواز چوہدری کی ضخیم کتاب ’’یادیں‘‘ کی رسم اجراء پروفیسر محمد شریف بقاء صاحب نے کی جبکہ ان کے ساتھ اسٹیج پر بیٹھے تمام خصوصی مہمانوں نے بھی شرکت کی ۔امجد مرزا امجدؔ نے فصیل نواز کی زندگی اور ان کے قلمی کارناموں پر سیرحاصل مضمون پڑھا ،سرور غزالی نے بھی ان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم دونوں نے لندن میں اپنی کتابوں کی رسم اجرا کا جب پروگرام بنایا تو ہمیں امجد مرزا اور ان کی ادبی تنظیم ہی اس قابل لگی جہاں سے ہم اپنی کتابوں کی کامیاب رسم اجرا کرسکتے تھے جو ہمارے لئے قابل فخرہے کیونکہ موجودہ وقت میں امجد مرزا اور ان کی تنظیم ہی لندن میں کامیابی کے ساتھ ادب کی آبیاری کررہی ہے اور ہمیشہ ان کے چاہنے والوں سے ہال بھرا رہتا ہے جس کی مثال آج بھی آپ دیکھ سکتے ہیں۔‘‘ اس کے بعد سرور غزالی کی دوسری کتاب ’’دوسری ہجرت‘‘ کی رسم اجراء امجد مرزا کے ہاتھوں ہوئی جس میں اسٹیج کے تمام مہمان اور صدور شامل تھے۔ امجد مرزا نے کتاب اور مصنف کے بارے میں اپنا وہ مضمون پڑھا جو کتاب کی پشت پر شائع کیا گیا ،انہوں نے کہا کہ سرور میرا بہت پرانا اور عزیز دوست ہے اور مختصر افسانہ لکھنے میں اس کا بڑا نام ہے مگر آج اس نے ناول لکھ کر مثال قائم کردی کہ جہاں وہ کامیاب ناول نگار ہے وہاں ایک اچھا شاعر ، ناقد ، کہانی کار ہے اور ایک بہترین انسان ہے جس کی دوستی پر میں جتنا بھی فخر کروں کم ہے ۔معروف شاعرہ ،افسانہ نگار محترمہ بانو ارشد نے بھی سرور غزا لی کے افسانوں پر مفصل مضمون پڑھا جو انہوں نے اپنی نئی کتاب میں شاملِ اشاعت کیا۔آخر میں سرور غزالی نے اپنے اس ناول کے بارے میں بتایا کہ یہ ناول المیہ مشرقی پاکستان کے تناظر میں لکھا گیا ہے اور اس میں پاکستان کے نام پر خون بہانے والوں اور اُن گمنام شہیدوں کا ذکر ہے جن کا نام کسی تاریخ میں نہیں جو یکسر بھلا دیئے گئے ان مہاجرین کا بھی ذکر ہے جو لاکھوں کی تعداد میں ابھی تک بے گھر ہیں اور کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہیں ۔سرور غزالی اور فیصل نواز چوہدری نے اپنی کتابیں امجدمرزا، ڈاکٹر شوکت نواز ،پروفیسر محمد شریف بقاء ، مدیر اعلی نیشن محترم محمد سروراور فاروق قریشی کو تحفتاً دیں ۔ مدیر اعلی ماہنامہ ساحل جناب تنویر اختر اپنا رسالہ ساحل ناروے کے مہمان فیصل نواز کو مرحمت فرمایا۔پہلے حصے کا اختتام بخوبی ہوا اور مشاعرے کا حصہ شروع ہوا جس کی ابتدا امجد مرزا نے ترنم سے اپنی غزل سے کیا ۔یونس ڈھویا جو مقامی فنکار ہیں نے چمٹے پر جگنی سنا کر خوب داد وصول کی ،شعراء میں اسلم رشید ،فضل کریم مغل ،صوفی لیاقت، ڈاکٹر جمال سوری ، ڈاکٹر رحیم اللہ شاد،محمود علی محمودؔ ، شاہد اقبال ، منزہ شاہ ،ریاست رضوی ، شیخ یوسف، اشرف عطارد، علامہ اسماعیل بلوچ،شاہین اختر شاہین ،مبارک احمد مبارکؔ ، چوہدری محبوب احمد محبوبؔ ، لندن کی معروف پانچ کتابوں کی مصنفہ جو پہلی بار اس محفل میں تشریف لائیں محترمہ گلزیب زیبا، بانو ارشد ،فاروق قریشی اور اسٹیج سے طارق راجہ ، سرور غزالی ، نورجہاں نوری ،برنلے سے آئے ہوئے ضمیر طالب سیال جنہوں نے اپنے منتخب اشعار سنا کر بے حد داد وصول کی ،ماہنامہ ساحل کے مدیر تنویر اختر نے تنظیم اور اس کے ممبران کا شکریہ ادا کیا اور آج کی اس خوبصورت محفل کے انعقاد پر امجدمرزا کو مبارک دی ۔ نیشن کے مدیر اعلی جناب محمد سرور نے کسی اور جگہ میٹنگ پر جانا تھا لہذا وہ اختتام سے پہلے اجازت لے کر چلے گئے تھے جس پر امجد مرزا نے ان کا بے حد شکریہ ادا کیا اور اپنے تمام شعرا و شاعرات اور سامعین کو تاکید کی کہ ہمیشہ نیشن خریدیں کہ اس میں ہمارے مشاعروں کو نہایت اچھی جگہ بلکہ رنگین صفحات پر کوریج دی جاتی ہے اس کے علاوہ ہر ہفتے وہ معروف مقامی شعرا و شاعرات کا کلام بھی شائع کرتے ہیں۔آخر میں صدر محفل جناب پروفیسر محمد شریف بقا ء صاحب نے دونوں مصنفین جن کی کتابوں کی اجرا کی گئی پر قطعات پڑھے اور اپنا خطبہ دیا اور دونوں مہمان مصنفین کو ان کی کتابوں پر مبارک باد دی ۔پروگرام کی طوالت کے باوجود ہال میں تمام سامعین نے پوری توجہ،دلچسپی کے ساتھ مشاعرے کو سنا اور محظوظ ہوئے ۔اس ماہانہ ادبی محفل کا اختتام کرتے ہوئے فورم کے صدر جناب ڈاکٹر شوکت نواز نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انشاء اللہ اگلے ماہ جولائی کی پہلی اتوار جو ۷ تاریخ کو ہوگی اسی ہال میں عظیم الشان مشاعرے کا انعقاد ہوگا چونکہ اس کے بعد رمضان المبارک کی وجہ سے ہم اگست کا پروگرام نہ کرپائیں گے لہذا ستمبر میں ہم کوشش کریں گے کہ عید ملن پارٹی کریں جس کا بعد میں باقاعدہ اعلان و دعوت امجد مرزا دیں گے ۔اس طرح یہ خوبصورت ادبی شام دلوں میں خوبصورت یادوں کے ساتھاختتام پذیر ہوئی ۔

Viewers: 783
Share