سحرتاب رومانی کے مجموعہ کلام’’ممکن‘‘ کی تقریب رونمائی

پاکستان ایسوسی ایشن کے ذیرِ اہتمام معروف شاعر سحرتاب رومانی کے مجموعہ کلام’’ممکن‘‘ کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا سحرتاب کو اُنکے پہلے مجموعہ کلام ’’گفتگو ہونے کے بعد […]
پاکستان ایسوسی ایشن کے ذیرِ اہتمام معروف شاعر سحرتاب رومانی کے مجموعہ کلام’’ممکن‘‘ کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا
سحرتاب کو اُنکے پہلے مجموعہ کلام ’’گفتگو ہونے کے بعد ‘‘سے دوسرے مجموعہ کلام’’ ممکن‘‘ تک کے کامیاب سفر پر دلی مبارکبادیں پیش کی گئیں اور پیڈ کی ادبی خدمات کو خوب سراہا گیا
تقریب کے حصہ اول میں سحرتاب رومانی کے ادبی فن کے حوالے سے گفتگو ہوئی،حصہ دوئم ’’کلامِ شاعرباذبانِ شاعر‘‘ میں شعراء اکرام نے کلام پیش کر کے محفل کو چار چاند لگا دیئے
رپورٹ: حسیب اعجاز عاشر(دبئی) پاکستان ایسوسی ایشن دبنی کی ادبی کمیٹی کے زیرِ اہتمام منفرد لب و لہجہ کے معروف شاعر سحرتاب رومانی کے دوسرے مجموعہ کلام ’’ممکن‘‘ کی تقریب رونمائی عمل میں لائی گئی،سحرتاب رومانی کا ۲۰۱۰ میں شائع ہونے والا پہلا مجموعہ کلام ’’گفتگو ہونے کے بعد‘‘ کوبھی بہت پذیرائی حاصل ہو چکی ہے،انکے جنگ ،جسارت اور ایکسپریس ڈیلی میں شائع ہونے والے کئی ادبی مضامین،نامور شعراء اکرام اور ادیبوں کے انٹرویوز اور مختلف تصانیف پر تبصرے بھی مقبول عام رہے ہیں۔گزشتہ بارہ سالوں سے بسلسلہ روزگار دبئی میں مقیم ہیں۔سحر تاب اردو افق پر ایک جگماتے ستارے کی طرح اُبھرے ہیں انکا معیاری کلام اور فعالیت اردو کے لئے فالِ نیک ہے،بہت دلکش انداز میں شعر کہتے ہیں، انکا عام فہم مگر دل میں اتر جانے والا انداز سننے اور پڑھنے والوں کو بے حد متاثر کرتا ہے، انکے خوبصورت اشعار انکے پختہ ایمان، مثبت سوچ اور انکے اندر موجود پر امیدی کی خوب عکاسی کرتے ہیں،اانہوں نے اپنے کلام میں خوبصورب و لطیف انداز میں خدا، انسان، زندگی ، کائنات، عشق، محبت،نفرت ،وفا کے موضوعات بنایا ہے، جذبات و احساسات کو سحرتاب نے گویا زبان بخشی ہے،۔انکا کلام جس طرح فورا دل پے اثر کرتا ہے اُسی طرح انکی پُر امید آنکھیں،مسکراتے لب، چہرے پے چھلکتی خود اعتمادی، خوش لباسی، خوش مزاجی ، خوش کلامی اور اعلی اخلاق بھی سحرتاب کے نام کی مانند سحر انگیز ہیں۔سب کے دلوں میں خاص مقام رکھنے کی ہی وجہ ہے کہ اس تقریب میں معروف شعراء اکرام اور ادیبوں اور نمایاں شخصیات نے شرکت کی اور پاکستان ایسوسی ایشن نے بھی پہلی بارکسی مقامی شاعر کے مجموعہ کلام کی تقریب رونمائی کا شاندار اور پُرتکلف اہتمام کیا۔
تقریب کے باقاعدہ آغاز ہوا توحافظ یاسر نے تلاوت قرآنِ پاک کی سعادت حاصل کر کے دلوں کو منور کر دیا، ڈاکٹر اکرم شہزاد کو بارگاہِ رسالتﷺ میں سحر تاب رومانی کے مجموعہ کلام ’’ممکن‘‘ہی سے منتخب ہدیہ نعت ’’ستاروں سے سلامی چاہتا ہوں،میں اُس در کی غلامی چاہتا ہوں‘‘ خوبصورت لحن میں پیش کرنے کا شرفملا،جس نے حاضرینِ محفل کو روحانی تازگی و تقویت بخشی۔تعارف کی ذمہ داریاں فرحان خان کے حصے میں آئیں۔طاہر زیدی نے استقبالیہ کلماتمیں تمام مہمان گرامی اور حاضرین کو خوش آمدید کہا،انہوں نے پیڈ کی ادبی کمیٹی اور اسکی کارکردگی کے حوالے سے کہا کہجب ہم نے دو سال پہلے اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا تو ،زیادہ شناسائی نہیں تھی۔ مگر آہستہ آہستہ اسی فیلڈ سے متعلقہ شخصیات سے شناسائی ہوتی گئی اور یہ شناشائی دوستی میں بھی بدلتی چلی گئی،دسمبر۲۰۱۱ میں پہلے مشاعرے کا انعقاد کیا جسمیں خدشات دور ہوئے اور توقعات بلکل صیح ثابت ہونے پر ہمارے حوصلے بلند ہوئے۔اور اب تک ہم اس ہال میں مختلف موضوعات پر۹کامیاب مشاعروں کا انعقاد کر چکے ہیں جبکہ دو مشاعرے جنکا اہتمام ا وپن ایئر میں کیا گیا، پاکستان ایسوسی ایشن کی تاریخ کے عالی شان منظم مشاعرے تھے اورہماری کمیٹی منفرد نوعیت کے بے شمار رنگا رنگ تقریبات کا انعقادبھی کر چکی ہے ،باعث فخر ہے کہ ہماری کاوشوں کو پیڈ کی انتظامیہ اور کمیونٹی نے بہت سراہا ہے، یہ بھی ہماری خوش قسمتی ہے کہ ادبی سرگرمیوں میں ہمیں اول و آخر سحرتاب رومانی کا تعاون حاصل رہا ہے اور اب پیڈ کے پلیٹ فورم ہی سے انکے مجموعہ کلام ’’ممکن‘‘کی رونمائی ہمارے لئے باعثِ عزاز ہے،عا گوہ ہوں کے اللہ تعالی انہیں مزید بلندیا ں اور ترقیاں عطافرمائے،
نامور شاعرطیب رضا کو نظامت کے فرائضسونپے گئے جو انہوں نے بڑے شیریں الفاظ ،دلکش لہجے اور جداگانہ انداز میں تقریب کے اختتام تک سنبھالے رکھے انہوں نے کہا کہ ممکن ایک بہت پُر امید لفظ ہے،قارئین سحرتاب کے شعری سفر میں چھپے ہوئے ممکنات کو تلاش کرتے نظر آئیں گے۔انکے کلام میں خود اعتمادی ہے انہوں نے ،صدرتقریب یعقوب تصور،مہمان خصوصی ع۔س۔مسلم ،مہمان اعزازی سحرتاب رومانی کے ہمراہ پیڈ کے ادبی کمیٹی کے عبدالطیف،طاہر زیدی اور طارق رحمان کوبھی سٹیج کی خصوصی نشستوں پر مدوح کیا ۔یعقوب تصور،ع ۔س۔مسلم ، طاہر زیدی، طارق رحمان نے سحرتاب رومانی کے مجموعہ کلام ’’ممکن‘‘کی رونمائی عمل میں لائے ،شرکاء کی تالیوں کی گونج نے منظرکو قابل دید بنا دیا اور سحرتاب رومانی کو بھرپور مبارکبادیں پیش کی گیں۔تقریب دو حصہ پر مشتمل تھی۔حصہ اول میں آصف رشید اسجد،شرافت علی شاہ، امجداقبال امجد، پروفیسر وحیدالزمان طارق،پیر کلاش،ڈاکٹر ثروت زہرہ اور یعقوب تصور نے سحرتاب رومانی کے ادبی فن کے حوالے سے اپنی آرا کا اظہار کیااور سحرتاب رومانی نے کلام پیش کر کے محفل کو کشتِ زعفران بنا دیا جبکہ تقریب کا حصہ دوئم ’’کلامِ شاعربازبانِ شاعر‘‘ میں باذوق سامعین نے ہر اچھے شعر پر دل کھول کر داد دی۔
اپنی آرا کا اظہار کرتے ہوئے امجد اقبال امجد نے کہا کہ سحرتاب نے ممکن میں قدیم اسلوب و رنگ سے کام لیا ہے،انکیکلام میں نہایت سادگی،شگفتگی،تازگی،رعنائی اور دلربائی ہے،سحرتاب رومانی کی جتنی خوبصورت شخصیت ہے اُس سے کہیں زیادہ خوبصورت اور دلنشیں انکی شاعری ہے،انہوں نے محبتوں کے معاملات کو بڑی سچائی سے ایسے بیان کیا ہے، کہ کلام سنتے ہی منہ سے فی البدیع ’’واہ‘‘ یا ’’آہ‘‘ نکل جاتی ہے،مجھے امید ہے کہ مستقبل قریب میں اپنی ایسی ہی اچھی غزلوں سے شائقین ادب کو نوازیں گیں۔آصف رشید اسجد نے پہلے تو انکے ساتھ اپنے تعلق کے سلسلے کا اظہار کیا جوانکے پہلے مجموعہ کلام ’’گفتگو ہونے کے بعد‘‘کی تقریب رونمائی کے ساتھ شروع ہوا پھر آہستہ آہستہ دوستی میں ڈھل گیا۔انہوں نے کہا کہ مجھے انکی شخصیت اور شاعری کو بڑے قریب سے دیکھنے کا موقع ملاہے ،انکا کلام صحرا میں نظر آنے والے اُس ایک پیڑ کی طرح ہے جو دور سے چھوٹا نظر آتا ہے مگر جب اُسے کے سائے میں بیٹھا جائے تو اُس پے شعروں کی شکل میں لگے ہوئے پھلوں کے ڈھیرنظر آئیں گے،اگر کسی کو بھی چھکا جائے تو اُس کا ذائقہ منفرد انداز میں دماغ و روح کو معطر کردیتا ہے۔انہوں نے اپنے جذبات اور احساسات کو بڑی خوش اسلوبی سے لفظوں میں ڈھالا ہے،وہ اپنے کلام میں دنیا سے ایک باغی شخص نظر آتے ہیں۔انکے کلام میں عشقِ حقیقی عشقِ مجازی پے غالب نظر آتا ہے،پیڈ کے جوائنٹ سیکریٹری طارق رحمان نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اکیسویں صدی ٹیکنالوجی کی صدی ہے کمپیوٹر اور اُسکے لوازمات زمانے کو مسخر کر چکے ہیں، انسانی اقدار کو شکست کا سامنا ہے،کتاب کیلئے بھی ایک بُرا وقت ہے۔ایس ایم ایس،ٹیویٹر،فیس بک اور لائبریریوں کا فقدان سب مل کر بقول امجد الاسلام امجد کے انسان کو ریبورٹ بنا رہے ہیں۔ان حالات میں سحرتاب رومانی کی سنجیدہ اور معیاری شاعری کا دوسرا مجموعہ ’’ممکن‘‘کا شائع ہونا اور اتنے بڑے پیمانے پر پذیرائی ملناکوئی عام بات نہیں۔انکے کلام میں ہجر و وصال کے تذکروں سے زیادہ فکر کی گہرائی نظر آتی ہے،یہ صرف نام کے رومانی ہیں کیونکہ انکی شاعری میں رومان سے زیادہ تفکر نظر آتا ہے،وہ سنجیدگی کے ساتھ اردگرد کے مسائل پر نظر رکھتے ہیں۔وہ خیال کی سچائی پے لکھتے ہیں ، مبالغہ آرائی نہیں کرتے ۔بڑے حساس اور باشعور شاعر ہیں جو اُمیدوں کے چراغ جلاتے نظر آتے ہیں،انہوں نے سحرتاب رومانی کو مبارکبادینے کے علاوہ حافظ زاہد علی اور ابو الحسن سمیت تمام میڈیا حضرات کا تہہ دل کا شکریہ ادا بھی کیا۔شرافت علی شاہ کا کہنا تھا کہ سحر تاب ایک اچھے انسان اور اچھے شاعر ہیں انہوں نے اپنے کلام میں یہ ثابت کیا ہے کہ وہ بڑی اور کڑی سچائیاں بہتخوبصورتی سے چند مصرعوں میں کہہ دینے کا فن خوب جانتے ہیں،انہوں نے پیڈ کی ادبی خدمات کو بھی خوب سراہا کہ انہوں نے ’’ممکن‘‘ کو ’’ممکن‘‘ کر دیکھایا۔ڈاکٹر ثروت زہرہ نے سحرتاب رومانی کو انکے کتاب کی آمد پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ نظریات کے سیلاب کے بیچوں بیچ سُچا اور سَچا شاعر اور شعر وہ ہے جو وہ گانٹھ اور گرہ لگانا جانتا ہے جولاوجود اور روح کو اُجر سے باندھ دیتاہے اور سحرتاب نے ’’ممکن‘‘ میں یہ ممکن کر دیکھایا ہے،غزل کو اپنانااپنا لہجہ تراشنااور شناخت پیدا کرناآسان کام نہیں تاہم سحرتاب نے نہ صرف اپنا لہجہ منوایا ہے بلکہ اپنی شناخت پیدا کی ہے،چہروں کے بِیچنئاچہرہ تراشنا مشکل بہت ہے شعر میں لہجہ ،میرے خیال میں حقیقی شاعری لفظ نہیں تلاش کرتی بلکہ جذبوں کی حدت سے کسی بھی لفظ میں معنی نکھارنے کا ہنر جانتی ہے،یہ گرم ریت میں دبے ہوئے مکئی کے دانوں کے کھلنے ہنر ہے،اگر لفظ میں احساس کی حدت موجود ہے تو لہجہ معنی سے کہیں آگے چلا جاتا ہے،شعر میں خود باخود تمام نفسیات جاگ جاتیں ہیں،سحرتاب اس حدت کو سنبھالنے کا تجربہ اور سلیقہ رکھتے ہیں۔پیر کلاش کا کہنا تھا کہ سحرتاب شاعری کی تمام فنی باریکیوں سے خوب واقف ہیں،مجھے ’’ممکن‘‘ میں ناممکن سے ممکن تک کی جانب انوکھا سفر کا راستہ نظر آیا ہے،یہ اپنے کلام میں بس تو ہی تو کرتے اور اپنی ذات کی نفی کرتے نظر آرہے ہیں۔ڈاکٹر وحید الزمان طارق نے اپنے اظہار میں کہا کہ سحرتاب سراپا آفتاب ہیں جنہیں اب دلیل کی حاجت نہیں وہ صاحبِ دلیل بن چکے ہیں کیونکہ اپنا فنی لوہا منوانے کے بعد ان کا سکہ سخن جاری ہے اور وہ ایک ثقہ سنخور شاعر کی حثییت سے جانے جاتے ہیں اور ہمارے لئے یہ امر باعثِ فخر ہے کہ ہم ان کے عہد میں زندہ ہیں،وہ نور کے متلاشی ہیں اور فلسفہ اشراق کی جو جھلک سحر کی شاعری میں مجھے دکھائی دے رہی ہے وہ حق کے نور کی روشنی ہے،کلام میں سادگی ہے،سحرتاب اس امر کے قائل ہیں کہ زندگی کے مسلسل تغیر میں لمحہ موجود کے ادھورے خواب کی تکمیل کے لئے آگے بڑھنے کا درس دیتے رہنا چاہیے،اپنے کلام میں سحرتاب رومانی آئینے سے خائف ہیں وہ اس کا سامنا اس لئے نہیں کرنا چاہتے جو ایک مجزوب کا خاصہ ہوتا ہے وہ اپنی ذات کو کہیں گم کر چکے ہیں،انہیں نے ’’ممکن‘‘ کی کامیاب اشاعت پر سحرتاب رومانی کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ پیڈ ادب کے میدان میں جس انداز میں اپنی خدمات پیش کر رہا ہے یقیناًخراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔ؑ ؑ ؑ ع۔س۔مسلم نے بھی سحرتاب کو انکے نئے مجموعہ کلام پر دلی مبارکباد اور پیڈ کی ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیااور اُمید کی کہ پیڈ اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ایسی تقاریب کا انعقاد کرتا رہے گا۔صدرِ محفل یعقوب تصور اپنا اظہار خیال اس شعر سے کیا’’پوچھا سخن میں انتہا ممکن ہے کس طرح۔اُس نے تھما دی ہاتھ میں اپنی نئی کتاب‘‘ سحرتاب دنیاشعرو ادب کے متاثرکُن شاعر ہیں،انکے کلام میں چمک دمک اور رعنائی ابھرتی دیکھائی دیتی ہے،انکی شاعری کا زیادہ حصہ انکی زندگی کے اتار چڑھاؤ پر مشتمل ہے۔لگتا ہے کہ وہ نہ تو مصرعے کہتے ہیں اور نہ ہی انہیں کوئی تگ و دو نہیں کرنی پڑتی بلکہ الفاظ اور مصرعے خود با خود اترتے چلے جاتے ہیں اورخیال مرتب ہوتے ہوئے پیکرِشعر میں ڈھل جاتا ہے۔سحرتاب نے اپنے مجوعہ کلام ’’ممکن‘‘ میں تمام تر ممکنات کے ساتھ نا ممکن کو ممکن بنایا ہے،اللہ انکی صلاحتوں اور فنی توانائی میں مزید اضافہ فرمائے۔سحرتاب رومانی نے صدرِ محفل،مہمانانِ گرامی، تمام شرکاء ،میڈیا حضرات اور پاکستان ایسوسی ایشن کی ادبی کمیٹی خصوصاطارق رحمان اور طاہر زیدی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے تقریب کی کامیابی میں تعاون اور شرکت فرما کرکے انکی عزت افزائی فرمائی۔ اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے ایسے مخلص دوستوں کا ساتھ ملا جو جو میری مسلسل حوصلہ افزائی کر کے مجھے لکھنے کی ہمت عطا کرتے ہیں،یہ میرے لئے سرمایہِ حیات ہیں۔سحرتاب رومانی نے اپنی خواہش کے مطابق پہلے اپنے پسندیدہ کلام پیش کیے جسے باذوق سامعین نے نہایت انہماک سے سنااور خوب داد و تحسین دی۔ پھرکئی فرمائشی غزلیں بھی پیش کر کے ادبی محفل کو مزید رنگین و معطر کر دیا،حصہ اول کے اختتام پر سحر تاب رومانی کے پیش کئے گئے کلام میں ایک شعری دھنک قارئین کی نذر ہے
سحر تاب رومانی
میں نے یہ کب کہا ہے کے دھوکے کیے گئے
وعدے کیے گئے تھے جو، پورے کیے گئے؟
پہلے تو بیچ صحن میں دیوار تھی فقط
پھر اس مکان کے کئی حصے کیے گئے
پہلے ہماری سرحدیں تشکیل دی گئیں
پھر اس کے بعد ملک کے سودے کیے گئے
پھر یوں ہوا کہ وقت نے یہ فیصلہ دیا
جو لوگ اگلی صف میں تھے، پیچھے کیے گئے
کاپی، قلم،کتاب پر شب خون مار کر
مفلوج میری قوم کے بچے کیے گئے
میں نے یہ جب کہا مجھے انصاف چاہیے
میری زبان کے کئی ٹکڑے کیے گئے
میں جو ہر ایک راہ کو رستہ بنا گیا
مسدود مجھ پہ میرے ہی رستے کیے گئے
تقریب کا حصہ دوئم ’’کلامِ شاعرباذبانِ شاعر‘‘ میں کنول ملک، اکرام اکرم، سلمان خان، فرہاد جبریل،آصف رشید اسجد،فقیر سائیں،حفیظ عامر،پروفیسر وحید الزمان طارق، ظہیر بدر، طیب رضا، ڈاکٹر ثروت زہرہ،ع ۔س۔مسلم نے اپنے اپنے کلام سے ڈھیروں داد سمیٹ کر تقریب کو یادگاربنانے میں بھرپورحصے دار بنے۔ تقریب میں ک۔م۔حسرت ، زینت لاکھانی،پرنس اقبال، ذوالفقار شاہ،مسز وحید الزمان طارق،عفان وحید،شفیق پیرزادہ،محمد عدنان سمیت کمیونٹی کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔سحرتاب نے اپنا نئا شعر ی مجموعہ ’’ممکن‘‘ حاضرین کو پیش بھی کیا۔تقریب کے اختتام پر پاکستان ایسوسی ایشن نے اپنی مہمان نوازی کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے پرتکلف عشائیہ کا بھی اہتمام کیا۔ شعراء اکرام کے پیش کردہ کلام سے منتخب اشعار باذوق قارئین کے لئے پیش خدمت ہیں۔
اکرام اکرم
لطیف احساس قلب و جان میں اُتار دینا
محبتوں کے نگر نگر کا اصول ٹھہرا
کنول ملک(نظم)
گُھٹ گُھٹ کے جی رہے ہیں
ہم زہر پی رہے ہیں
حفیظ عامر
چلا گیا ہے وہ خیمے سے تو گِلا کیسا
دِیئے کی لَو توبجھی جا رہی تھی ویسے بھی
فقیر سائیں
مجھے نفرت کی وہ پاؤں پٹخ اچھی نہیں لگتی
اِسی کارن تو میں لاہور سے واہگہ نہیں جاتا
آصف رشید اسجد
روز کہتی ہے نئا بھیس بدلنے کے لئے
زندگی تو نے اداکار بنا رکھا ہے
فرہاد جبریل
کون دے سکتا ہے ورنہ یہ طلا طم اب کو
عشق مائل کر رہا ہے رقص پر گرداب کو
سلمان خان
جھولیا ں بھرتیں گئیں وہ ہاتھ بھی اٹھے رہے
جو ملا ماں کی دعاووں کا ہی نذرانہ تھا
ظہیر بدر
محبت تشنہ کامی ہے
یہ کارِ ناتمامی ہے
وحید الزمان طارق
آگرہ کے منار شاہد ہیں
عشق کے مقبروں میں عورت ہے
طیب رضا
یہ کشمکش میری پرواز کھا گئی آخر
میں آشیاں جو بچاتا،شجر چلا جاتا
ڈاکٹر ثروت زہرہ
خوعا زم سوال ازل کانپتی رہی
یکدم یہ کائنات تمنا میں ڈھل گئی
ع۔س۔مسلم
رہا غم میں امت کے وہ بے قرار
ہمہ شب رہا پیشِ حق اشکبار
یعقوب تصور
تم اپنی دوسری منزل کے نور اثار کمرے کے
دریچے کھول کر رکھنا،میرے گھرروشنی ہو گی
نہ ہو دل میں اگر حبِ محمد کا دیا روشن
نہ باہر روشنی ہو گی نہ اندر روشنی
ََََََََََََََََََََّّّّّّّّّّّّّ
Viewers: 2922
Share