سہ ماہی رسالہ ’موج ادب‘ کا اجراء

ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری نے رانچی سے شائع ہونے والے سہ ماہی رسالہ ’موج ادب‘ کا اجراء کیا
رانچی مورخہ ۲ ؍جون جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی رسالے ’’موجِ ادب‘‘ کی رسمِ اجراشہر میں واقع ہوٹل یوراج پیلس میں چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میرٹھ (یو۔پی) کے صدر شعبہء اُردو ، مُنشی پریم چند کی تحریری روایت کو برقرار رکھنے میں کامیاب افسانہ نگار،بین الاقوامی سطح پر اردو کے فروغ کے لئے کوشاں شخصیت اورآج کی تقریب کے مہمانِ خصوصی ڈاکٹر اسلم جمشید پوری کے ذریعہ انجام پائی۔جلسے میں جناب سہیل انور اڈوکیٹ جنرل،جھارکھنڈ سرکار،جناب عبد العلّام سینئر اڈوکیٹ و اسٹینڈنگ کونسل ،جھارکھنڈ ہائی کورٹ،جناب خورشید حیات چیف کنٹرولرساؤتھ ایسٹ سینٹرل ریلوے،بِلاس پور،ایم۔قیصر علی اے۔ڈی۔ایم،بانکا۔بہاراور شان بھاتی ایڈیٹر سہ ماہی’’رنگ‘‘ دھنباد مہمانِ اعزازی کی شکل میں محفل کی رونق بڑھا رہے تھے۔تقریب کی صدارت معروف شاعر اور بہار اردو اکادمی کے سابق وائس چیئرمین نے کی جب کہ نظامت کے فرائض شہر کے مقبول شاعر ڈاکٹر سرور ساجدنے انجام دیے ۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز حافظِ قُرآن جناب حذیفہ رحمانی کے تلاوتِ کلام پاک سے ہوا۔اس کے بعد موجِ8 ادب کے مدیر اعلیٰ جناب عالمگیر ساحل نے رسالے کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ فی الوقت رانچی سے ایک ہی ادبی رسالہ نکلتا ہے جو اس شہر کے ذی علم اور با ذوق حضرات کے لیے نا کافی ہے ،اسی لیے ہم نے یہاں سے ایک معیاری ادبی رسالہ نکالنے کی سعی کی ہے جو انشاء اللہ با قاعدگی سے جاری رہے گا اور قاری کی تشنگی کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔موج ادب کے مدیر اعزازی ملک کے معروف افسانچہ نگار جناب ڈاکٹر ایم۔اے۔حق نے نہایت مختصر اًپنی بات واضح کرتے ہوئے کہا کہ یہ رسالہ صرف اس کے مدیران کا نہیں ہے بلکہ اس شہر کے تمام باذوق اور ادب نواز اُردو دوستوں کابھی ہے۔اُنہوں نے یہ اعلان کیا کہ آج جو بھی شخص اس رسالے کی خریداری قبول کرے گا اُسے ۱۵۰ روپے کی جگہ صرف ۱۰۰ روپے ہی ادا کرنے ہونگے۔اس اعلان کا خاطر خواہ اثربھی پڑااور حاضرین کی ایک بڑی تعداد رسالے کی خریداری کرنے کے لئے ٹوٹ پڑی۔
جناب وکیل رضوی نے رسالے کے متعلق اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ رسالے کے اداریہ میں مدیر اعلیٰ نے جو دعوے کیے ہیں ان پر عمل کر پانا واقعی بڑی بات ہوگی۔
سہ ماہی رسالہ ’رنگ‘ کے ایڈیٹر شان بھارتی صاحب نے رسالہ جاری کرنے میں جو دشواریاں پیش آتی ہیں ان پر روشنی ڈالتے ہوئے ایک شعر میں اپنی بات کو سمیٹ لیا ۔
ہاتھ دوزخ میں ڈال کر دیکھو
اک رسالہ نکال کر دیکھو
جناب ایم قیصر اے ڈی ایم بانکا نے موج ادب کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے اپنے نیک خواہشات کا اظہارکیا اور کہا کہ آج سب سے بڑا مسئلہ اردو کا تحفظ ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ زبان بھی فارسی کی طرح کہیں گم ہو جائے۔
مشہور افسانچہ نگار جناب خورشید حیات نے کہا کہ موج ادب اس شہر کی ادبی روایت میں ایک اضافہ ہے۔ رسالہ نکالنا گھاٹے کا سودا ہے اور یہ سودا وہی کر سکتا ہے جوجنونی ہو تا ہے۔اور جناب ڈاکٹر ایم اے حق اور عالمگیرصاحبان کا جنون دیکھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ رسالہ دور تک جائے گا۔
مہمان خصوصی ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری نے موج ادب کے مدیران کو اپنے نیک مشوروں سے نوازتے ہوئے رسالے کی ترقی کے گرُبتائے۔ انہوں نے کہا کہ آج پھر ادب میں ایک نئے رسالے کا جنم ہوا ہے اور ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم اسے خوراک دیں اور پھلنے پھولنے کا موقع فراہم کریں۔ انہوں نے اس رسالے سے یہ توقع ظاہر کی کہ ’موج ادب‘ رانچی کو انٹرنیشنل سطح پر متعارف کرائے گا۔
جھارکھنڈ ہائی کورٹ کے سنیئر اڈوکیٹ و اسٹینڈنگ کونسل عبد العلام صاحب نے کہا کہ میں رسالے کے مدیران کا شکر گزار ہوں جنہوں نے موجِ ادب جاری کر کے رانچی شہر پر احسان کیا ہے۔ اردو کی صورت حال بہت اچھی نہیں ہے اور اس کے ذمہ دار خود ہم ہیں۔اردو ہماری تہذیب ہے اور اردو رسائل اور اخبارات ہماری تہذیب کی نشانیاں، جہاں تہذیب مر جاتی ہے وہاں کے انسان جانور ہو جاتے ہیں۔
ایڈوکیٹ جنرل جناب سہیل انور نے اردو داں کی تعداد میں تیزی سے آتی ہوئی گراوٹ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل میں اردو کے لیے نہ کوئی شوق باقی ہے نہ Commitmentہمارے بچوں کی تعلیم کی شروعات A B Cسے نہیں ا ب پ سے ہونی چاہیے۔ یہ شعور اگر نئی نسل میں بیدار نہیں ہوتا تو اسی طرح رسائل نکلتے اور بند ہوتے رہیں گے۔
تقریب کی صدارت کر رہے مشہور شاعر جناب صدیق مجیبی نے اپنے صدارتی خطبے میں مدیران کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے رسالے کی مشمولات پر بات کی انہوں نے کہا کہ اس رسالے میں ان تمام موجودہ اصناف کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو عا م طور پر مقبول ہیں یا جن پر طبع آزمائی ہو رہی ہے۔ اس میں مضامین بھی ہیں ، انٹرویو بھی، غزلیں نظمیں اور افسانے و افسانچے بھی ۔ اس کی مشمولات سے اس کے اعلیٰ معیار کا پتا چلتا ہے۔ سلام بن رزّاق کامضمون’’ ہندوستانی دیو مالا اور اردو افسانہ‘‘ حقّانی ا لقاسمی کا مضمون ’’سید احمد شمیم کی شاعری میں تمجید بدن‘‘ ڈاکٹر منظر حسین کا مضمون ’’ڈاکٹر صغیر افراہیم۔فکشن کی تنقید کا ایک معتبر دستخظ ‘‘ڈاکٹر سرور ساجد کا آرٹیکل’’اختر اورینوی حیات اور شاعری‘‘ایک تنقیدی مطالعہ ‘‘ اور ڈاکٹر ایم۔اے۔حق کا مضمون’’ لے سانس بھی آہستہ : اردو ادب کی ایک نادر تخلیق‘‘کے علاوہ غزلیں، افسانہ با الخصوص میراق مرزا کا افسانہ ’سرپنچ گاندھی‘اور افسانچے گویا تمام تخلیقات معیاری اور قابل مطالعہ ہیں۔انہوں نے اردو زبان کے حوالے سے کہا کہ اس زبان سے اگر آپ دور ہو رہے ہیں تو اپنی تہذیب سے دور ہو رہے ہیں ایسے لوگوں کو جینے کا کوئی حق نہیں۔موج ادب ایک معیاری رسالہ ہے لیکن اگر اس کے معیار سے سمجھوتہ ہوا تو رسالہ زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہ سکے گا۔جس شہر سے کوئی رسالہ نکلتا ہے تو اس شہر کی ادبی معیار کا پتہ چلتا ہے کہ اس شہر میں علماء ادب اور مشاہیر ادب موجود ہیں۔
آخر میں رسم شکریہ جناب ہدایت اللہ نے اداکی اور تقریب کے اختتام کا اعلان کیا۔اس تقریب میں شہر کی معروف ادبی ہستیاں موجود تھیں۔

سہ ماہی رسالہ ’’موجِ ادب‘‘کی اجراء شدہ کاپی ۵۰۰۰ روپے میں نیلام ہوئی۔
رانچی ۲؍ جون ۳۱۰۲ رانچی واقع ہوٹل یوراج پیلس میں سہ ماہی رسالہ موج ادب کی رسم اجراء کے موقع پر ایک پرانی روایت کو زندہ کیا گیا ۔مہمانِ خصوصی ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری،صدر شعبہء اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ(یو۔پی) کے ہاتھوں کئے گئے اجراء کی کاپی پر صدر جلسہ ڈاکٹر صدیق مجیبی،مہمانِ خصوصی ،مہمانانِ اعزازی جناب سہیل انور،جناب خورشید حیات ،جناب اے ۔علّام ،جناب ایم۔قیصر علی ،جناب شان بھارتی کے ساتھ ساتھ رسالے کے مدیر اعلی جناب عالمگیر ساحل اور مدیر اعزازی ڈاکٹر ایم۔اے۔حق کے دستخط کئے گئے۔اس مخصوص رسالے کی نیلامی کا اہتمام کیا گیا۔نیلامی کی بولی چھابڑا555کے پروپرائٹر جناب حاجی محمدشفیق نے۱۰۰ روپے سے شروع کی جوڈاکٹر مسعودجامی کے اعلان پر ۵۰۰۰ روپے پر آکر ختم ہوئی۔ڈاکٹر مسعود جامی ملک کے معروف افسانہ نگار ،ناول نگار،فلم اداکار،ڈرامہ آرٹسٹ اور اُردو سے جنون کی حد تک لگاؤ رکھنے والے ایک باہمّت شخص ہیں۔ڈاکٹر جامی افسانوی مجموعے ’’کافور اور حنا‘ اور’ہم تو ڈوبے ہیں صنم‘ ناول ’’میرے دیش کی مٹّی‘‘ ڈرامہ کی مشہور کتاب ’’اسٹیج کی تکنیک اور اُردو ڈرامے ‘‘ اور ’ ریسرچ میں معاون کتاب’رموزِ تحقیق ‘‘کے مصنّف ہیں۔ نیلامی کے بعد مدیراعلیٰ عالمگیر ساحل اور مدیر اعزادی ڈاکٹر ایم اے حق نے ڈاکٹر جامی کی گُل پوشی کی اور دستخط شدہ کاپی اُن کے حوالے کیا۔ ڈاکٹر مسعود جامی کے حوصلے کو حاضرین محفل نے خوب سراہا اور ہوٹل یو راج پیلیس کا کشادہ ہال ’’محفل ‘‘ اُن کی تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے گونج اُٹھا۔جامی کی اس ادب دوستی کو ادارہ موج ادب سلام کرتا ہے۔
Viewers: 1400
Share