ادبی مجلہ ماہنامہ شمشاد چمن کی تقریب رونمائی

رپورٹ ۔غلام محمد مخلص کوئٹہ۔ شمشاد رائٹرز فورم پاکستان کے زیراھتمام ادبی مجلہ ماہنامہ شمشاد چمن کی تقریب رونمائی تقریب کا انعقاد سٹیزن پبلک مڈل سکول اقبال روڈ کوئٹہ میں منعقد ہوا ۔ جسکی صدارت مرکزی صدر حافظ محمد صدیق نے کی ۔ جبکہ مہمان خصوصی معروف ادیب پروفیسرچودھری انور حسین تھے ۔ تقریب کا آغاز مولوی زبیح اللہ کے تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔ تقریب سے شمشاد رائٹرز فورم پاکستان کے مرکزی نائب صدرجمال روشان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادب انسانی زندگی کی ترجمانی کرتا ہے ہمیں ادب سے دلی لگاو رکھنا چاہیے آج جس پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوئے ہیں اسکا مطلب بھی یہی ہے کہ معاشرے میں نوجوانوں کے شعور کیسے بیدار کیا جاسکتا ہے اور معاشرے کو صحیح سمت پر لیجانے کیلئے کیا طریقہ اپنانا چاہئے اور یہ کہ باشعور اور اہل علم افرد کیا کرسکتے ہیں مثبت اور تعمیری فکر کیلئے کام کرنا اس عہد کی ضرورت ہے ۔ اس لئے شمشاد رائٹرز فورم پاکستان قارئین اور اہل قلم میں رابطے کا ذریعہ ہے ۔اور ادبی مجلہ ماہنامہ شمشاد چمن کے اجراء سلسلے کی ایک کھڑی ہے۔جتنے ادیب زندگی ہوئے ہیں انکی مثال ہمارے سامنے ہیں ۔انہوں نے مشاہدہ قدرت اور مطالعہ زندگی کواپنا موضوع بنایا ہے ہرادیب کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ زندگی کے ہر اچھے برے نامطلوب پہلو کو احاطہ تحریر میں لائے کوئی بھی ادیب زندگی سے دامن چھڑاکر ایک لفظ بھی نہیں لکھ سکتا وہ اپنے گرد وپیش بہتر طور پر متاثر ہوتا رہتا ہے وہ جن جن خیالات کا حامل ہوتا ہے انہی کو اپنے جزبات کا محرک پاتا ہے اسلئے کسی ادیب کی روح کو سمجھنے کیلئے اسی فضا کو سمجھنا ضروری ہے جسمیں اس نے زندگی پائی ہے جب اس زمانے کی زندگی نہ سمجھی جائے ادیب کے جزبات واحساسات کو سمجھنا مشکل ہے۔ شمشاد رائٹرز فورم پنجاب صدر افضل حسین سومرو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ادب کے مسائل کو زندگی کے مسائل سے الگ نہیں کیا جاسکتا اسکا مقصد یہ ہے کہ ادیب زمان ومکان کی حدبندیوں سے بالاتر رہتے ہوئے اپنے گرد و پیش کی عکاسی کرے تاکہ اسکے اچھائیوں اور برائیوں سے آگاہ ہوکر انسانیت کی ترقی کی پر گامزن کیا جاسکے ادیب کا فرض ہے کہ ماضی کی عیب سے حال کو باخبر کرے اورحال کی تصویر اس طرح کھینچے کہ اسمیں مستقبل کے ارشادات واضح طور پر نظر آئیں ۔ ادبی مجلہ ماہنامہ شمشاد چمن کے تقریب رونمائی تقریب کے مہمان خاص اور معروف ادیب پروفیسرانورحسین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج مجھے بہت خوشی ہوئی کہ میں باشعور افراد کے مجلس میں شرکت نصیب ہوئی میں شمشاد رائٹرز فورم پاکستان کے مرکزی قائدین اور خصوصامرکزی صدر وبانی اور ادبی مجلہ ماہنامہ شمشاد چمن کے چیف ایڈیٹر حافظ محمد صدیق شمشادکو داد دیتاہوں کہ وہ کئی سالوں سے سفر جاری رکھے ہوئے ہیں اور آج ادبی مجلہ ماہنامہ شمشاد چمن جیسے ادبی مجلہ کے اجراء کرکے عملی نمونہ پیش کیا جو قابل ستائش ہے انہوں نے کہاکہ ادب انسانیت کا نقاد ہے وہ اسکی کج رومی ظاہر کرتا ہے اور اسکی خامیوں کو بے نقاب کرتا ہے اس کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انسان کی حیات مستعار کو دائم وقائم رکھتا ہے کہ وہ حالات کے غلام نہیں بلکہ حالات اسکے غلام ہیں وہ اپنی زندگی کے مالک ہیں اور اسے جس روش پر چاہے لے جاسکتا ہے ۔ صدر مجلس اور شمشاد رائٹرز فورم پاکستان کے مرکزی صدر اور ر ادبی مجلہ ماہنامہ شمشاد چمن کے چیف ایڈیٹر حافظ محمد صدیق نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ آج ہمیں یہ محسوس ہوا کہ وہ وقت دور نہیں کہ ہمارے معاشرے پر باشعور نوجوانوں کے راج ہوگا کیونکہ آج ہمارے معاشرہ بہت زوال اور پستی کی جانب چلی گئی ہے جو کہ اہل علم اور مودب نوجوانوں کی ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں جو کہ معاشرہ ان ہی نوجوانوں کی بدو لت سنواراجاسکتا ہے کیونکہ ادب کا مطلب بھی یہی ہے کہ وہ انسان کے خیالات اور احساسات کے مکمل طور پر معاشرے میں اظہاراور انکے استعمال اور نہ استعمال کے فوائد و نقصانات کے علاوہ گزشتہ حالات کے تجربات کو سامنے لانے کو ادب کہتے ہیں ادب زندگی کے ہر پہلو پر حاوی ہے لیکن ادب صرف شاعری تک محدود نہیں ہمیں اپنے دانشور ،علماء کرام،مودبین کرام اور اہل علم حضرات اور اپنے اسلاف کے مکمل احترام کرنی چاہیے اور انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھیں شمشاد رائٹرز فورم پاکستان بھی یکم جنوری 2000 ء کو قیام عمل میں اسلئے لایا گیاکہ وہ معاشرے کی پسماندگی کی اسباب کی خاتمہ اور نوجوانوں کے شعور بیدار کرنے اور ان میں تعمیری سوچ پیدا کرنے کیلئے کوشاں رہیں گے ۔ شمشاد رائٹرز فورم پاکستان مرکزی جنرل سیکرٹری غلام محمد مخلص نے کہا کہ ادب ہمارے زندگی میں بہت اہم کردار ادا کررہا ہے اور ادب ہی سے ہمیں زندگی کے ہر پہلومیں روشنی ملتی ہے جسمیں اسلامی ادب وعلوم اسلامی سر فہرست ہے ۔ انہوں نے شرکاء مجلس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ بھی ایسے مجالس میں ہمارے ساتھ شرکت کرتے رہیں گے۔تقریب میں اسلامی، علمی اور ادبی مجلہ ماہنامہ شمشاد چمن میگزین کے باقاعدہ افتتاح کیاگیا۔

 

Viewers: 2956
Share