Khursheed Hayat | اردوشاعری کا ماہی خانہ۔ بارہ قباؤں کی سہیلی

اردوشاعری کا ماہی خانہ۔ بارہ قباؤں کی سہیلی خورشید حیات اردو شاعری کا آبدیدان حوض اُلسّمک بارہ قباؤں کی سہیلی ’’بارہ قباؤں کی سہیلی‘‘ عذرا پروین کے ذہنی واردات و […]
اردوشاعری کا ماہی خانہ۔ بارہ قباؤں کی سہیلی
خورشید حیات
اردو شاعری کا آبدیدان
حوض اُلسّمک
بارہ قباؤں کی سہیلی
’’بارہ قباؤں کی سہیلی‘‘ عذرا پروین کے ذہنی واردات و حادثات کا آبدیدان ہے۔ ایک ایسا آبدیدان، جس میں خوبصورت سی، پیاری پیاری، سنہری مچھلیاں، تھرکتی، مچلتی، اٹکھیلیاں کرتی ہوئیں اپنی طرف آکر شت کرتی ہیں تو کبھی حوض السمّک/ماہی خانہ کی یہ مچھلیاں کراہتی، تڑپتی اور چھٹپٹاتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
مچھلی/آج کی عورت
عورت / مچھلی
مچھلی کی تڑپ، بے چینی، ہمہ دم اضطراب ہی تو روح کے زندہ ہونے کی علامت ہے۔ بھیگے ہوئے سوالوں کے ماہی خانہ میں کراہتی ہوئی مچھلیاں ہیں، یا پھر کئی قسطوں میں مرتی جیتی آج کی عورتوں کا وجود؟
Truely speaking – life of todays woman is much sufffocated and diversified in several responsibilities, She is the Mother, Father, bread earner, Care Taker, Path finder and above all a shelter. For her offsprings protecting them from scortching heat extreame cold and other adversities of society, “Mother” ! you are greatest creation of “God” the only way to reach salvation. They are luckiest one those having shelter of Mother’s Lap. (K.H.)
’’راگ راگ مٹی‘‘ کی شاعری کب کیوں اور کیسے؟ بارہ قباؤں کی سہیلی‘‘ بن گئی اس کا اندازہ مردہ عورت کی زندہ ڈائری پڑھنے کے بعد ہوتا ہے۔ انسان جب تک دوسرے کا دکھ نہیں دیکھتا اُسے اپنا دکھ سب سے بڑا نظر آتا ہے۔ کچھ یہی معاملات انگریزی نظم نگاروں اور ڈرامہ نگاروں کے سامنے بھی پیش آئے۔ برنارڈ شا، عورت کو دیکھ کر بے ساختہ یہ کہنے پر مجبور تھا کہ ’’جب میں عورت کو دیکھتا ہوں تو مجھے اپنے چاروں طرف موت کھڑی دکھائی دیتی ہے۔‘‘ پروین شاکر نے تو یہ کہنے پر اکتفا کیا میں سچ کہوں گی اور پھر بھی ہار جاؤں گی، وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دیگا، جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محبتوں کا وہ کہہ رہا تھا کہ میں اُسے بھول جاؤں گی۔۔۔۔۔۔
’’بارہ قباؤں کی سہیلی‘‘ کی نوعیت نجی ہوتے ہوئے بھی اسی زمان و مکان کا کڑوا سچ ہے، سچ ہے اُس جلتے ہوئے ریگستان کا جہاں کبھی سمندر ہوا کرتا تھا۔ ابھرتی ڈوبتی لہریں ہوا کرتی تھیں۔ مگر آج تپتے ریگستان کی صرف چینخ باقی رہ گئی جو ہمیں سنائی پڑ رہی ہے۔
بچّے کی مُسکان سمندر ڈوب گئی میں پانی میں
سار جیون بھید چھپا تھا بچے کی حیرانی میں
(بارہ قباؤں کی سہیلی ۔صفحہ ۷)
میرا بچّہ کبھی سوتے میں سسک اٹھا تھا
عمر گزری ہے فقط تب سے نگہبانی میں
(بارہ قباؤں کی سہیلی ۔صفحہ ۱۹)
تپتے ریگستان میں اپنے ’’میں‘‘ کی تلاش میں ننگے پاؤں دوڑتی عذرا پروین کب ’’راگ راگ مٹی‘‘ بنی اور کب ’’بارہ قباؤں کی سہیلی ‘‘بن بیٹھی۔ اس کا اندازہ ایک سچی اور اچھی شاعرہ کے اندر بیٹھی، صعوبتوں اور اذیتوں کے پُل پر مر مر کر جیتی عذرا کو دیکھنے سے ہوتا ہے۔ اکستاب و انحراف کی منزل سے گذر کر ان کی نظم کا چہرہ، اُس کی آواز اور ہر لفظ کی چینخ ہمارے احساس کو جگا جاتی ہے۔
میں انتم شرنگار کروں گی
وقت سے کہنا آج تمہاری ہار کا دن ہے
قید زماں سے سحر مکاں سے یہ میرے انکار کا دن ہے
(آج میں تم میں جاگوں گی)
ننگی عورت کا نام بھارت ہے
سورت ساڑیوں کے لئے مشہور بھارت کے اس
ننگے سورت کی ننگی سیتائیں، دوڑتی سیتائیں کسے پکاررہی ہیں؟
یہ اپنا شہر ہے کرفیو کا مارا
یہاں تورات ڈائن بن کر آتی ہے !
(۶؍دسمبر کے بعد)
لب و لہجہ کا تیکھاپن خارجی حقائق کے رد عمل سے پیدا شدہ موضوعیت اور داخلیت سونامی کیسے بن جاتے ہیں اس کا اندازہ عذرا پروین کی نظموں کے مطالعہ سے ہوتا ہے۔ اپنے ابو (سید عقیل احمد رضوی) کی لائبریری میں عذرا SHE سے رو برو ہوئیں She ۔ عذرا ۔ He عذرا کے ہر لفظ، گونگی یا گونگی کر دی گئی آواز کا مکالمہ بن گئے ہیں۔
آدھا دن مرد/آدھا دن عورت/ دفتر میں آدھا باپ/ گھر میں آدھا دن ماں / بچوں کی آنکھوں میں سانسوں میں / مرد، عورت، عورت، مرد۔۔۔ بدل لیتی ہوں پل بھر میں / خود کو اُس میں اِس میں/ کیا پوچھنا کہ میں اس Gender میں خوش رہی/ یا اُس Gender میں ہر دونوں Gender جنگل ہوگئے میرے لئے/ میں کھو گئی / اور ہوتے ہوئے خود جنگل ہوگئی۔ (آدھی آدھی)
کہیں پر غصہ کہی پر جھنجھلاہٹ تو کہیں نئی زمین کی تلاش، نئے آرزوں کو ساکار ہوتے دیکھنے کی چاہت، احتجاج کی نئی آواز، سماجی نظام سے ٹکرانے کی جرأت، انفرادی ہوتے ہوئے بھی اجتماعی بن گئی ہے۔ تیکھی عصری حسیّت، جرأت فکر، بانکپن فنی ارتفاع کی عمدہ مثال ہیں۔
تم تو صرف کتّے ہی نکلے !
میں اس میں مرد ڈھونڈتی تھی
میں اس مرد میں باپ بھی چاہتی تھی
میں تو اس باپ میں ایک بچہ بھی
میں اس بچے میں خدا بھی
مگر تم تو ۔۔۔ صرف کتّے نکلے !
اور میں ماں نکلی !
اب کئی دن سے کوشش میں لگی ہوں کہ
ماں سے کتّا پکڑنے والی گاڑی میں بدل جاؤں !
مگر ! خسارہ ہے
ماں کا کتّا پکڑنے والی گاڑی میں بدل جانا
(خسارہ)
ممتا میرا جہاد ہے / ممتا میرا عشق ہے / عشق میری نماز ہے
(مرد، عورت کی زندہ ڈائری III )
لہروں کی اُتھل پتھل، زمین و آسماں کی سچائی، ہوا کے جھونکوں سی تازگی، جاگتے ’’عشق کی داستان لکھتی گئی نظم اور عذرا پروین اپنی انگلیوں میں پھنسے قلم کے اشارے پر چلتی رہیں، مچلتی رہیں، جس طرح کا لباس پہنے ہوئی تھی نظم، باہر نکل گئی کہ فن از خود اسلوب کی تعمیر کرلیتا ہے۔ عشق چاہے کسی نازنین سے ہو یا پھر اپنے رب سے، بے لوث ہونا چاہیئے۔ کوئی ’’شریک‘‘ نہیں، کوئی ریاکاری نہیں کہ ’’عشق‘‘ میں کائنات کا سارا راز پوشیدہ ہے۔
جن کھو جا تن پائیاں۔ گہرے پانی پیٹھ
اظہار چاہے شاعری کی ذریعہ ہو یا موسیقی کے ذریعہ اسے کھلی اور آزاد فضا ملنی چاہیئے۔ شاعری عذرا پروین کے تخلیقی شعور کی کٹیا ہے۔ جس کا فرش مٹّی ہے اور اس مٹی کے نیچے دبی بیٹی/ اندھی ہوکر اپنی قبر سے باہر آرہی ہے / ڈھونڈو !/ کیا حکم ہے اندھی کے لئے (سپلائز)
عذرا پروین کی نظمیہ شاعری کے ’’آنگن‘‘ میں ہر لفظ بہت کچھ کہہ رہے ہیں۔ مگر آج نئے ہزارے میں ہر لفظ سے رو برو ہوتا کون ہے؟
وقت کی کسوٹی پر کھری اترنے والی ’’ماں‘‘ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ تمہارے سر سے ’’آنچل‘‘ نہیں سرکا ہے۔ آنچل۔ ہماری سنہری تہذیب کی علامت۔
۔۔۔ ہر انقلاب میں ہر دم، ہر آب و تاب میں ماں
۔۔۔ جنوں کے شیلف میں ہے، عشق کی کتاب میں ماں
۔۔۔ تھی پہلے صرف سوال اب ہے ہر جواب میں ماں
(ماں صفحہ ۲۹)
نئے پیرائیہ اظہار اور نئے تیور کے ساتھ راگ راگ مٹی کی شاعرہ، بارہ قباؤں کی سہیلی کے ساتھ بیٹھی ہے۔ لفظ بول رہے ہیں اور شاعرہ کے اندر بیٹھی ماں طوفان سے پہلے کی خاموشی میں تبدیل ہورہی ہے کہ خاموشی کی بھی اپنی زبان ہوتی ہے۔
عذرا پروین کی زیادہ تر نظموں کا موضوع آج کا مرد ہے۔ مرد جو ’’نا مرد‘‘ ہے۔ لفظ ’’نامرد‘‘ اپنے لفظی معنی سے الگ ہٹ کر بہت کچھ کہہ رہے ہیں۔ جذبات کی گرمی اور کہیں کہیں جوش اتنا بڑھ جاتا ہے کہ پڑھنے والے پر تحیّر کا عالم چھا جاتا ہے۔ نثری نظموں میں آج کی مشینی زندگی کی عورت کا سچا اظہار ایک الگ سماں پیدا کرتا ہے۔ لفظوں کے ذریعہ سحر سازی کوئی عذرا پروین سے سیکھے۔
سماجی نا ہمواری کے خلاف احتجا ج، اک عورت کے جسم میں مار دی جانے والی چینخ، نئی سماجی معنویت کے پائل کی جھنکار بن گئی ہے۔
وہ میرے رستے میں آگ رکھ کر مجھے سفر سے ڈرا رہا تھا
اب آگ پر ننگے پاؤں چل کر میں اُس کو ڈرنا سیکھا رہی ہوں
(صفحہ ۲۰)
بارہ قبائیں۔ بارہ نہریں پھوٹتی ہوئیں شاعری کی کتنے سوالوں سے روبرو کرا جاتی ہیں۔
عذرا پروین کی شاعری مسلسل ذہنی جدوجہد کا نام ہے۔ ان کی نظمیہ شاعری ایک ایسی روشنی ہے جو شیشے کے کٹ ورک سے منعکس ہو کر مختلف رنگوں کا آمیزہ پیش کررہی ہیں۔ کہیں قوس قزح کی صورت میں تو کہیں Bitter Truth کی صورت میں ۔ خوشی ہوتی ہے کہ تخلیق کار کی مدد سے شاعرہ نے طوفان کا مقابلہ کرنا سیکھ لیا ہے۔ کائنات کی ہر شئے کا تحرک کسی ’’ذات‘‘ سے جڑا ہے۔ حیات و کائنات کی دھڑکنیں کسی سے جڑی ہوئی ہیں۔ عذرا پروین کے درد کی شمع میں کتنے مردوں کو پگھلتے ہوئے آپ محسوس کریں گے۔ ان مردوں کو جو اندھیرے میں جینے کے عادی ہیں کہ اندھیرا سب کچھ چھپا دیتا ہے۔ داخلی کرب جب سرخ دوپٹے کی طرح لہراتا ہے تب نظم کا چہرہ معنی خیز ہوجاتا ہے۔ عذرا پروین کے اندر بیٹھے ’’میں‘‘ کا باہر کے ’’ہم‘‘ سے جہاد ان کی نظمیہ شاعری کو ایک نئی معنویت عطا کرتا ہے۔ بارہ قباؤں کی سہیلی سے گفتگو کرنے کے بعد جب میں گھر سے باہر نکلا تو سویا ہوا شہر بھی جاگتا سا لگا۔ اونگھتے شہر میں جاگتی زندگی کا قصہ ابھی جاری ہے کہ چوہے اب بلّی سے نہیں ڈرتے۔
(غیر مطبوعہ)
Khursheed Hayat
Qtr. No. 16/3, New N.E. Colony,
Bilaspur – 495 004 (C.G.)
Mob. 09752475934
Viewers: 3457
Share