Faisal Azfar Alvi | Kala daira | کے پی کے حکومت اور بجٹ 2013-14 ء

کے پی کے حکومت اور بجٹ 2013-14 ء
تحریر: فیصل اظفر علوی
خیبر پختونخواہ حکومت جو کہ 90 فیصد سونامی پر مشتمل ہے نے بلآخر کابینہ کی منظوری کے بعد مختصر ترین وقت میں صوبے کا مالی سال 2013-14 ء کیلئے 3 کھرب 44 ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش کر ہی دیا‘ تین بڑے صوبوں کے بجٹ میں کے پی کے کا بجٹ سب سے زیادہ زیر بحث رہا کیونکہ ماہرین کیمطابق بجٹ کے مجموعی حجم کو مد نظر رکھتے ہوئے بہترین تقسیم کے طریقہ کار پر عمل کرنے کی بڑی حد تک کامیاب کوشش کی گئی۔
قارئین کرام! ہچکولے کھا کھا کر پچھلی حکومت کا 5 سالہ مدت پوری کرنا اور کامیابی سے سویلین حکومت کا سویلین حکومت کو اقتدار منتقل کرنا جمہوریت کیلئے یقیناََ نیک شگون ہے‘ کے پی کے کی نوزائیدہ حکومت اگرچہ اتنی مضطوب نہیں جتنی مرکز کی اور صوبہ پنجاب کی حکومت ہے مگر پختون عوام کو موجودہ حالات میں ایک امید کی کرن ضرور دکھائی دے رہی ہے‘ کے پی کے حکومت کے پیش کئے جانے والے بجٹ میں اہم اقدامات کی تقریباََ تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے تعریف کئے‘ کی پی کے حکومت کے مطابق صوبہ بھر میں تعلیمی اور توانائی ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا گیا ہے جو کہ بہترین حکمت عملی کا پہلا قدم ثابت ہوگا‘ کے پی کے میں محنت کشوں کی بڑی تعداد موجود ہے جن سے متعلق حکومت کے اعلان نے تمام حلقوں کو حیران کر دیا ہے کہ آئندہ کسی بھی مزدور کو دس ہزار روپے ماہانہ سے کم اُجرت پر رکھا گیا تو یہ قابل سزا جرم ہوگا‘ یکساں نظام تعلیم‘ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کے خرچوں میں نصف کمی‘ مہمان خانوں‘ ریسٹ ہاؤسز میں مفت قیام‘ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے جیسے اقدامات نے عوامی حلقوں میں حکومت سے وابستہ امیدوں کے پایہ تکمیل تک پہنچنے کی روشن راہیں متعین کر دی ہیں‘ سب سے زیادہ اہم بات یہ کہ تقریباََ 10 کروڑ آبدی کے صوبہ پنجاب کے ہیوی بجٹ میں سے تعلیم کیلئے جو حصہ مختص کیا گیا ہے وہ صرف 25 ارب روپے ہے جس کے برعکس محدود مجموعی حجم کے خیبر پختونخواہ حکومت کے بجٹ میں تعیلم کیلئے 66 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو کہ سونامی حکومت کا تعلیمی انقلاب لانے کیلئے ایک سنجیدہ فیصلہ ہے اور عوام الناس کی طرف سے اس اہم اعلان کی بھرپور پذیرائی بھی کی گئی کیونکہ تعلیم کی کمی ہی تمام مسائل کی جڑ ہے اور یہی وجہ ہے کہ زمانے بھر کے ڈاکو‘ چور اور لٹیرے ہم پر مسلط ہو جاتے ہیں۔
قارئین کرام! خیبر پختونخواہ حکومت کے بجٹ میں صحت سے متعلق بھی قابل تعریف حصہ مختص کیا گیا ہے جو کہ دیگر صوبوں کیلئے قابل تقلید ہے‘ کے پی کے حکومت نے تعلیم کیلئے 22 ارب 80 کروڑ روپے اور پولیس کیلئے 23 ارب 78 کروڑ روپے مختص کئے ہیں جو کہ پولیس گردی کو لگام ڈالنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا‘ قارئین کرام! میرے خیال میں کے پی کے حکومت کو ایف آئی آر کے اندراج کے آن لائن طریقہ کار اور فون پر اندراج کے طریقہ کار پر نظر ثانی کرنی چاہئے کیونکہ فون پر ایف آئی آر درج کروانے اور آن لائن طریقہ کار کے استعمال میں کئی قباحتیں موجود ہیں جس کی وجہ سے پولیس‘ عوام اور خود حکومت مزید مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے‘ فون پر ایف آئی آر کے اندراج کا طریقہ کار غلط مقاصد کیلئے استعمال ہو سکتا ہے اس لئے کے پی کے حکومت کو چاہئے کہ وہ ایف آئی آر کے اندراج کے طریقہ کار میں تبدیلی ضرور لائے مگر اس سے پہلے مکمل غوروفکر ضروری ہے۔
سونامی حکومت کا دور بلا شبہ چیلنجز سے بھرپور ہے مگر عمران خان اور پرویز خٹک کو عوام سے کئے گئے وعدوں پر عمل پیرا ہونے کیلئے جان توڑ کوشش اور محنت کرنا ہوگی‘ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مرکز میں موجود مسلم لیگ (ن) کی حکومت اور کے پی کے میں اس کی بحیثیت اپوزیشن موجودگی اور مولانا فضل الرحمن کی جماعت سونامی حکومت کی راہ میں روڑے ضرور اٹکائیں گے اور مولانا صاحب تو اس بابت جذباتی بھی ہو سکتے ہیں مگر قوی امید ہے کہ تحریک انصاف کی خیبر پختونخواہ میں حکومت تمام تر چیلنجز پر مکمل طور پر نہ سہی لیکن 80 فیصد قابو ضرور پا لے گی اور تحریک انصاف کی حکومت کیلئے ایسا کرنا انتہائی ضروری ہے جس کے کیلئے بھرپور عوامی تعاون درکار ہوگا‘ کے پی کے حکومت کو اس وقت سب سے بڑا در پیش مسئلہ دہشتگردی کا ہے جس کے حالیہ واقعات نے پورے صوبے کو لرزا کر رکھ دیا ہے‘ دہشت فردی کا خاتمہ کے پی کے حکومت کی اولین ترجیح ہونا چاہئے۔
آخر میں ایک عرض کرنا چاہوں گا جس پر مکمل کالم اگلی بار لکھوں گا کہ تحریک انصاف خیبر پختونخواہ کی حکومت نے اگر کالا باغ ڈیم کی مخالفت کی تو تحریک انصاف میں بغاوت کا علم بلند ہو جائے گا۔
Viewers: 1708
Share