Shahbaz Waraich | اردو ڈائجسٹ کے بانی مدیر الطاف حسن قریشی کی باتیں

انٹرویو؛ فرخ شہباز وڑائچ ،، سید بدر سعید
* میرے استاد نے بتایا کہ اس وقت اردو میں سب سے عمدہ لکھنے والا شخص مولانا ابوالا علی مودودی ہیں۔
* مولانا ابو الاعلی مودودی کی تحریر ایسی ہے جو پڑھنے والے کو اپنے ساتھ بہا کر لے جاتی ہے۔
* اردو ڈائجسٹ کے ذریعے ہم نوجوانوں میں مہم جوئی اور آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرنا چاہتے تھے۔
* بھٹو صاحب لائن پر آئے بہت غصے میں تھے کہنے لگے الطاف صاحب یہ آپ نے کیاکر دیا میں تو تم سے آف دی ریکارڈ باتیں کی تھیں تم نے آن دی ریکارڈ شائع کردیں۔
*’’آپ کے اس انٹرویو کی وجہ سے صدر ایوب خان نے مجھے کابینہ سے نکال دیا ہے’’ Now I am out‘‘
*میں نے کہا آپ کی قسمت کھل گئی ہے اور اس قوم کے اگلے لیڈر آپ ہیں‘‘
* ذولفقار علی بھٹو صاحب کہنے لگے کچھ کریں صدر صاحب آپ کی گرفتاری کے آرڈر جاری کرنے والے ہیں میں نے کہا ’’کچھ نہیں ہوتا گرفتاری تو ہوتی رہتی ہے‘‘۔
* وہ اپنی تقریروں میں دو تین لوگوں کا نام لیتے تھے کہ میں ان کو ’’فکس اپ‘‘ کر دوں گا اس مین میرا نام بھی تھا ا
* مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بھٹو صاحب کا بہت بڑا رول تھا۔
* بھٹو صاحب نیاقتدار مین آنے کے بعد پہلا وار ہم پر کیا سب سے پہلے اردو ڈائجسٹ بند کیا گیا۔
* کرپٹ لوگ اسی میڈیا کی بدولت بے نقاب ہو رہے ہیں لیکن ہمیں توازن قائم رکھنا چاہئے توازن کی کمی ہے۔
* مشرف صاحب اگرچہ ڈکٹیٹر تھے لیکن اس طرح سے دباؤ نہیں ڈالتے تھے۔
* نواز شریف کے زمانے میں بھی آزادی تھی لیکن بعض معاملات میں میاں صاحب بھی بہت حساس تھے ۔
* آزادی صحافت مسئلہ نہیں رہا اب تو مسئلہ یہ کہ جو آزادی ملی ہے اس کو حدود و قیود میں کیسے لانا ہے۔
* اب لوگ میڈیا کی آزادی سے خوف کھا رہے ہیں ۔
* ’اب پتا نہیںیہ کون لوگ ہیں اب یہ جو ایجنسیوں کے لوگ ہوتے ہیں خرچ کہیں کرتے ہیں نام کسی کا ڈال دیتے ہیں‘
* نواز شریف صاحب نے ماضی کے واقعات سے بہت کچھ سیکھا ہے ان کے ہاں میانہ روی دیکھنے میںآئی ہے۔
* ۔اگر ہم بلوچستان کے حقیقی مسائل پر توجہ دیں تو بہتری آسکتی ہے ۔
تعارف؛ الطاف حسن قریشی صحافت کا بہت بڑا نام ہیں۔الطاف حسن قریشی نے مختلف ادوار میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں لیکن ہمیشہ حق کی آواز بلند کی ہے۔ انہیں ڈائجسٹ جرنلزم کا کنگ بھی کہا جاتا ہے۔الطاف حسن قریشی پاکستان کے سب سے بڑے اردو ماہنامے ’’اردو ڈائجسٹ‘‘ کے مدیر اعلی ہیں اور روزنامہ جنگ میں کالم بھی لکھتے ہیں۔

سوال : اپنے خاندانی پس منظر اور بچپن کے حالات بتائیں؟
*میرے والد شیخ عبدالغفار محکمہ انہار میں پٹواری تھے مالی اعتبار سے مڈل کلاس سے تعلق ہے میری والدہ مرحومہ فردوسی بیگم کوشش کرتی تھیں جو وسائل ہیں ان میں ہی اپنے بچوں کی بہترین تربیت کا اہتمام کیا جائے بڑی جراء ت مند اور سلیقہ پسند خاتون تھیں اور وہ جانتی تھیں کہ بچوں کی تعلیم کی کتنی اہمیت ہے یہ تقسیم سے پہلے کی بات ہے میرے والد صاحب کا اکثر تبادلہ ہوتا رہتا تھا کبھی کرنال کبھی حصار(اب ہندوستان میں ہیں) محکمے کی جانب سے کبھی انھیں کسی شہر بھیج دیا جاتا انھی حالات کو دیکھتے ہوئے میری والدہ محترمہ نے میرے والد صاحب کو کہا کہ کسی ایسی جگہ پہ مکان بنا دیں جہاں بچوں کی تعلیم کا حرج نہ ہو اور وہ باقائدگی سے تعلیم حاصکل کر سکیں چناچہ انھوں نے مشرقی پنجاب کی تحصیل سرسہ میں چھوٹا سا گھر بنایا میں نے اپنی ابتدائی تعلیم سرسہ میں ہی حاصل کی بلکہ جب تقسیم ہوئی اس وقت میں نے میٹرک کا امتحان دیا تھا اس کے بعد فسادات شروع ہو گئے ہمارے امتحانات اس زمانے میں مارچ میں ہوتے تھے میرا سنٹر حصار میں بنا میں نے اور میرے بھتیجے ڈاکٹر اسرار احمد نے میٹرک کا امتحان اکھٹے دیا وہ حصار میں رہتے تھے وہ بعد میں ڈاکٹر بنے پھر تقسیم ہوگئی ہم وہاں سے پاکستان آگئے اب پاکستان میں آنے کے بعد ہمارا سب سے بڑا مسئلہ روزگار تھا چونکہ حالات ایسے تھے کہ ہم اپنے ساتھ کچھ بھی نہ لا سکے تھے میرے بڑے بھائی وہ بھی محکمہ انہار میں ملازم تھے اتفاق سے اس وقت ان کی تعنیاتی بھی لاہور میں تھی سب سے پہلے ہم ہارون آباد آئے یہاں ہم دو تین مہینے رہے اس کے بعد ہم یہاں لاہور آگئے میں، میری والدہ ،میری بڑی بہنیں اور میرے بڑے بھائی اعجاز قریشی لاہور جبکہ میرے بھائی حافط افروغ حسن وہیں رہے ہم نے لاہور میں سرکاری رہائش گاہیں تھیں جنہیں چوبرجی کوارٹرز کے نام سے جانا جاتا ہے میں رہائش اختیار کی پھر سوا ل یہ پیدا ہوا کہ روزگار کا کیا جائے چناچہ میرے بھائی جنہیں ٹیلی گرافی آتی تھی انہوں نے مجھے کہا میں یہ کام جانتا ہوں اور یہی تمہیں سکھا سکتا ہوں انہوں نے مجھے ٹیلی گرافی سکھائی میں نے امتحان دیا اور 1947میں محکمہ نہر میں بھرتی ہو گیا اس کے بعد جو مجھے یاد پڑتا ہے پاکستان آنے کے بعد مجھے شوق ہوا کہ مولانا ابو الاعلی مودودی سے ملوں میں نے بچپن سے ہی مولانا کی بہت سی کتابیں پڑھ رکھی تھیں میں نے لوگوں سے معلوم کیا کہ مولانا کہاں ہوتے ہیں اور کہاں ملاقات کرتے ہیں میں پوچھتا پوچھتا اچھرہ ان کی رہائش گاہ پہنچ گیا اور ان سے ملاقات ہوئی آپ اندازہ نہیں کر سکتے مجھے ان سے مل کر کتنی خوشی ہوئی وہ شخص جس کی کتابیں میں پڑھا کرتا تھا ساتویں جماعت میرے ایک استاد تھے ناظم الدین صاحب جو ہمیں اردو اور حساب پڑھاتے تھے ان سے ہمارا اچھا تعلق تھا انہوں نے ہمیں بتایا کہ اس وقت اردو میں سب سے عمدہ لکھنے والا شخص مولانا ابوالا علی مودودی ہے مولانا ابو الاعلی مودودی کی تحریر ایسی ہے جو پڑھنے والے کو اپنے ساتھ بہا کر لے جاتی ہے بس یہی وہ وقت تھا جب میرا مولانا سے روحانی رشتہ بن گیا جب میں یہان آیا دسمبر کا مہینہ تھا انہوں نے ہیاں رحمان پورہ کی ایک چھوٹی سی مسجد میں درس قرآان کا سلسلہ شروع کیا جہاں تک مجھے یاد پڑتا میں اس پہلے درس قرآن میں شریک تھا اس کے بعد میں نے مولانا کے پاس باقائدگی سے جانا شروع کردیا اس کے بعد میرا لاہور سے تبادلہ ہو گیا ہمارے والدین نے ہم سب بہن بھایؤں کو تعلیم کی اہمیت کے متعلق بتاتے تھے وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ تعلیم بہت ضروری ہے میرے والد صاحب اس وقت کے حالات کی وجہ سے صرف مڈل تک ہی تعلیم حاصل کر سکے تھے لیکن ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا فارسی ادب اردو ادب کا مطالعہ کرتے تھے صبح کے وقت وہ ہمیں نماز کے لئے اٹھاتے تھے اس کے بعد قرآن پڑھاتے اور پھر فارسی کے اشعار وغیرہ سناتے تھے وہ اکثر کہتے تھے کہ مولانا ظفر علی خان کتنے اچھے انشاء پرداز ہیں اور کتنے زبردست صحافی ہیں میری خواہش ہے کہ میری اولاد میں سے بھی کوئی یہ راستہ اختیار کرے وہ اکثر اس خواہش کا اظہار کرتے تھے یہ وہ زمانہ تھا جب آپ پرایؤٹ ایف اے۔،بی اے کا امتحان نہیں دے سکتے تھے اس سے پہلے عربی فاضل کرنا لازمی تھا تو پھر میں نے مرالہ میں ہی عربی فاضل کے امتحان کی تیاری شروع کردی دل میں علم حاصل کرنے کی تڑپ تھی جو والدین نے پیدا کی تھی اس زمانے میں مرالہ ہیڈ ورکس جانے کے لئے پہلے سمبڑیال جانا پڑتا تھا پھر وہاں سے مرالہ کے لئے ایک ٹرالی چلتی تھی جو دن میں صرف ایک بار جاتی تھی اور اگر آپ اس ٹرالی کے چلے جانے کے بعد پہنچتے ہیں تو پھر آپ کو مرالہ جانے کے لئے اگلے دن تک اس ٹرالی کا انتظار کرنا پڑتا تھا چار بیلدار اس ٹرالی کو کھینچتے تھے دوپیچھے سے دو آگے سے یہ تین گھنٹے کا سفر ہوتا تھا میرے پاس کتابیں خریدنے کے بھی پیسے نہیں تھے میں سیالکوٹ میں ایک پبلک لائبریری تھی میں وہاں گیا وہاں کے جو لائبریرین تھے بڑے اچھے انسان تھے میں نے ان کو اپنی مجبوری بتائی اور کہا کہ آپ مجھے کتابیں ایشو کر دیا کریں میں آپ کو ایک ماہ کے بعد واپس کر دیا کروں گا انہوں نے کہا ہم کتابیں تو ایشو نہیں کرتے البتہ آپ یہاں بیٹھ کر ان کا مطالعہ کر سکتے ہیں میں نے انھیں بتایا میرے لئے روز آنا ممکن نہین انہوں نے اپنے انچارج سے بات کی اور مجھے بھی ان سے ملوایا انہوں نے مجھے کہا آ پ اپنے محکمے سے ایک خط لے آئیں ہم آپ کو کتابیں جاری کر دیا کریں گے ہمارے اس وقت انچارج نثار احمد صاحب ہوا کرتے تھے میں نے ان سے بات کی انہوں نے خط جاری کر دیا کہ یہ ہمارے ہاں کام کرتے ہیں مین ان کی ذمہ داری لیتا ہوں یہ آپ کو کتابین واپس کر دیا کریں گے خیر اس طریقے سے مجھے اجازت مل گئی اور میں عربی فاضل کے امتحانات میں بیٹھ گیا میرے بڑے بھائی اعجاز حسن قریشی صاحب انہوں نے بھی میرے ساتھ امتحان دیا اس امتحان میں کل 2400 لڑکے جن میں سے صرف 16لڑکے پاس ہوئے ان لڑکوں میں ہم دو بھائی بھی شامل تھے یہ بڑا سخت امتحان ہوتا تھا خدا کا شکر ادا کیا کہ ہم دونوں بھائی کامیاب ہوگئے اس کے بعد میں نے ایف اے کر لیا پھر میرا لاہور میں تبادلہ ہو گیا اس عرصہ میں ۔میں نے بی اے بھی پاس کر لیا اس کے بعد میں نے پولیٹیکل سائنس جس میں مجھے بہت دلچسپی تھی اور اسلامک سٹڈیز میں ماسٹر کر لیا۔اس کے بعد سوال یہ پیدا ہوا اب کیا کام کیا جائے اس دوران میرے بھائی اعجاز قریشی جنہیں پنجاب یونیورسٹی کی طرف سے سکالر شپ پہ PHDکے لئے جرمنی بھیجا گیا تھا وہ بھی ڈگری مکمل کر کے واپس پاکستان آگئے ہم نے سوچا کیوں نہ تعلیمی ادارہ شروع کیا جائے چناچہ پھر ہم نے ایک تعلیمی ادارہ لاہور کالج کے نام سے سمن آباد میں کھولا ہم دونوں بھائیوں نے پڑھانا شروع کر دیا یہ سلسلہ کوئی دو سال جاری رہا ہم سوچ رہے تھے کہ کوئی اور کام بھی شروع کیا جائے اس دوران ملک مین مارشل لاء لگ گیا ہمارے دوست تھے نصراللہ خاں عزیز صاحب وہ روزنامہ تسلیم اور غالبا ہفت روزہ یا سہ روزہ کوثر نکالتے تھے۔روزنامہ تسلیم تو جماعت اسلامی کا پرچہ تھا کوثر ان کا اپنا پرچہ تھا جو بہت عرصہ سے چل رہا تھا تقسیم سے پہلے سے چل رہا تھا مارشل لاء لگنے کے بعد یہ دونوں پرچے بند کردیے گئے۔اب نصراللہ عزیز اور ان کے بیٹے ظفراللہ عزیز صاحب سے ہمارے تعلقات بہت اچھے تھے ان سے جماعت اسلامی کے پروگرامات میں بھی ملاقات رہتی تھی اور میرے بھائی اعجاز قریشی کوثر میں کام بھی کر چکے تھے۔ایک دن ظفر اللہ عزیز ہمارے پاس کالج آئے وہ یہ تجویز لے کے آئے کہ ہم ریڈرز ڈائجسٹ کی طرز پر اردو میں ایک ماہنامہ نکالیں جس کی زبان آسان ہو جس کے موضوعات میں تنوع ہو اور معلومات زیادہ سے زیادہ ہوں دلچسپ مضامین ہوں انہوں نے کہا اس کا نام بھی اردوڈائجسٹ ہو خیر وہ تجویز تو دے گئے ہم سوچتے رہے کہ اس کے لئے وسائل کہاں سے آئیں گے مختلف پہلووں کا جائزہ لینے کے بعد ہم تینوں نے سوچا یہ کام ضرور کرنا چاہئے اور اس طرح سے کوئی ماہنامہ موجود بھی نہیں تھا اس زمانے میں ہمارے جو ادیب تھے ان میں اشتراکیت کا چرچہ بڑھتا جا رہا تھا اور کچھ عریانی بھی زیادہ آگئی تھی بس اس صورتحال میں یہ بات بھی ہمارے ذہن میں تھی کہ کوئی ایسا ماہنامہ ہو جسے پورا خاندان پڑھ سکے مطلب باپ کو یہ فکر نہ ہوکہ یہ ماہنامہ میں اپنی بیٹی کے سامنے کیسے پڑھوں اس نقطہ نگاہ کو لے کہ ہم آگے بڑھے کہ ہم نے قوم کہ صاف ستھرا لٹریچر دینا ہے اور اسلام کی تاریخ کو اس طرح سے پیش کریں کہ نوجوان اس کو دلچسپی سے پڑھے اور اپنی اسلامی تاریخ پر فخر کرسکے اور نوجوانوں کو ان حالات سے آگاہ کر سکیں جن میں پاکستان بنا اور اب اس ملک کی ترقی عالم اسلام کے لئے کتنی ضروری ہے اس ماہنامے کو شروع کرنے میں ہمارا مقصد یہ بھی تھا کہ اردو کا دامن وسیع کیا جائے اور دوسری زبانوں میں موجود اچھے لٹریچرکو ترجمہ کر کے اردو زبان میں شائع کریں تاکہ اردو زبان پڑھنے والے کو پتا چلے کہ دنیا میں کیا شائع ہو رہا ہے۔ اس ڈائجسٹ کو شروع کرنے سے پہلے ہم یہ بھی سوچ چکے تھے کہ اس ڈائجسٹ کے ذریعے ہم نوجوانوں میں آگے بڑھنے اور مہم جوئی کا شوق پیدا کریں اور ہم نوجوانوں کو ایسا مواد فراہم کر سکیں جسے پڑھ کر نوجوان نسل میں اپنے دین اور ملک کی محبت پیدا ہو۔یہ چند مقاصد تھے جن کی خاطر ہم نے اردو ڈائجسٹ نکالنے کا فیصلہ کیا۔اس وقت ڈیکلریشن لینا بہت مشکل تھا بہرحال ہمیں ڈیکلیریشن مل گیا اس طرح سے اردو ڈائجسٹ کا پہلا شمارہ نومبر 1960میں آیا۔پھر لوگ اردو ڈائجسٹ کو پسند کرنے لگے دو چار سالوں میں الحمداللہ اردو ڈائجسٹ مقبولیت کی حدوں کو چھونے لگا۔
سوال؛اردو ڈائجسٹ کچھ عرصہ بند بھی رہا کیا وجوہات تھیں اور آپ کا لائحہ عمل کیا تھا ؟
ٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌٌ* یہ کہانی تو بہت لمبی ہے ایوب خان کے زمانے میں پریس پر بہت پابندیاں تھیں ایک بڑی گھٹن موجود تھی اخبارات اور رسائل کھل کر بات نہیں کر سکتے تھے پبلیکشن آرڈیننس نھی بنایا گیا تھا اس وقت ہم نے بڑی شخصیات کا انٹرویو کرنے کا فیصلہ کیا سب سے پہلے میں نے جسٹس ایس اے رحمن (مرحوم) کا انٹرویو کیا اس زمانے میں ان کی خاص اہمیت تھی بڑے نفیس آدمی تھے علم و ادب سے گہرا تعلق رکھتے تھے۔اس کے بعد میں نے مولانا ابو الاعلی مودودی کا انٹرویو کیا یہ سلسلہ بہت پسند کیا گیا لوگوں کی دلچسپی بہت بڑھ گئی ان انٹرویوز کے ذریعے ہم بہت سلیقے سے وہ تمام باتیں اٹھاتے تھے جن کا کیا جانا اس وقت بہت ضرور ی تھا مثلا ہم پوچھتے تھے کہ پاکستان بنانے میں علما کا کیا کردار تھا اس وقت سیاست دانوں نے کیا کردار اد کیا تھا اس زمانے میں صحافت کا کیا کردار تھا ان انٹرویوز کے ذریعے ہم نے ایک فضاء بنائی تاکہ نوجوان ان حالات کو بخوبی جان سکیں۔ان انٹرویوز کی مقبولیت بڑھتی گئی پھر یہ ہونا شروع ہو گیا اخبارات نے ان انٹرویوز میں سے اچھی چیزیں لے کر شائع کرنا شروع کر دیں ایک دفعہ ایسا ہوا میں نے سوچا ذولفقار علی بھٹو کا انٹرویو کیا جائے اس وقت بھٹو صاحب وزیرخارجہ تھے میں نے کسی کے ذریعے ان تک اپنی خواہش پہنچائی ان کے آدمی نے کہا وہ ماسکو میں ہیں واپسی پہ وہ لاہور آرہے ہیں میں تمہاری ملاقات کرونے کی کوشش کروں گا وہ لاہور ایرپورٹ آئے میری ملاقات ہوئی میں نے کہا میں آپ کا انٹرویو کرنا چاہتا ہوں یہ صبح کا وقت تھا کہنے لگے میں فلیٹییز ہوٹل میں ٹھہرا ہوں شام کو آجانا طے کر لیں گے میں شام کو فلیٹیز میں چلا گیا ان کا ایک کمرہ مخصوص تھا وہ اسی میں ٹھہرتے تھے میں ملا ان کو اردو ڈائجسٹ دیا وہ پڑھتے رہے کہتے اچھا ابھی تو مجھے اسلام آباد جانا پڑرہا ہے آپ ایسا کریں وہیں آجایءں میں نے کہا ٹھیک ہے ہم نے ان کے پرسنل اسسٹنٹ سے بات کی اس نے ہمیں تاریخ دے دی ہم پہنچ گئے ہم وہاں دو تین دن رہے لیکن ان سے ہماری ملاقات نہیں ہو سکی غالبا مصروف بہت زیادہ تھے یا وہ انٹرویو کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہے تھے مجھے نہیں معلوم کیا معاملہ تھا۔ایک دن ان کے پی ایس نے ہمیں بلا لیا ہم چلے گئے ابھی انٹرویو کا سلسلہ شروع کیاہی تھا تو وہ کہنے لگے مجھے تو صدر صاحب نے بلایا ہے مجھے جانا پڑے گا ان کے پی ایس نے کہا ایسا ہے کہ منسٹر صاحب آج شام لاہور جارہے ہیں آپ بھی ایسا کریں بکنگ کروا لیں ایک گھنٹے کی فلائٹ ہے آپّ رام سے گفتگو کر لیجیے گا سو ہم نے بکنگ کروا لی یہ 1966کی بات ہو گی ایک گھنٹے میں بڑی تفصیلی گفتگو ہوئی انڈیا کے بارے میں بھی انہوں نے کہا ہم بھارت کی بالادستی قبول نہیں کریں گے بلکہ برابری سطح پہ تعلقات رکھیں گے ،ہندوستان اور پاکستان کی تاریخ الگ ہے ان کے ہیرو الگ ہیں۔انٹرویو ہو گیا ہمارا پرچہ 30 تاریخ تک مارکیٹ میں آجاتا تھا 31 مئی کو ہمارا پرچہ آگیا اب ہوا یہ کہ پاکستان ٹائمز جو اس وقت کا انگریزی کا سب سے بڑا روزنامہ تھا پاکستان ٹائمز نے اس انٹرویو کی آٹھ کالمی سرخی لگائی فرنٹ پیج پر اس میں انڈیا والے اس بیان کو پیش کیا گیا کہ ہم انڈیا کی بالادستی کو قبول نہیں کریں گے ہوا یہ کہ بھٹو صاحب کو فورا صدر ایوب خان نے طلب کر لیا ہمارا دفتر اس زمانے مین سمن آباد میں ہوتا تھا جب میں صبح اپنے دفتر پہنچا تو مجھے راولپنڈی سے فون آیا آدمی نے میرا نام پوچھا اور کہا وزیر خارجہ آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں مین نے کہا جی کروائیں بھٹو صاحب لائن پر آئے بہت غصے میں تھے کہنے لگے الطاف صاحب یہ آپ نے کیاکر دیا میں تو تم سے آف دی ریکارڈ باتیں کی تھیں تم نے آن دی ریکارڈ شائع کردیں مجھے صدر صاحب نے بلایا ہے وہ سخت ناراض ہیں بہت غلط ہو گیا اب آپ یہ کریں کہ تردید شائع کردیں! میں نے کہا کس چیز کی تردید؟ آپ نے جو گفتگو کی تھی میں بالکل وہی شائع کی ہے اور آپ نے مجھے کہیں نہیں کہا کہ یہ آف دی ریکارڈ ہے آپ نے جو کچھ کہا میں نے لکھ دیا کہنے لگے آپ کو کچھ کرنا پڑے گا ورنہ صدر صاحب آپ کے خلاف ایکشن لیں گے خیر ابھی یہ بات ہو رہی تھی کہ فون کٹ گیا تو اس کے آدھے گھنٹے بعد ہمارے دفتر کے پاس ہی علامہ علاوالدین صدیقی صاحب رہتے تھے جو اسلامی نظریاتی کونسل کے چئیرمین بھی رہے ہیں پتا چلایا گیا کہ ہمارے دفتر کے قریب کس کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے چناچہ علامہ صاحب کو راولپنڈی سے ٹیلی فون کال آئی کہ ہم الطاف قریشی سے بات کرنا چاہتے ہیں علامہ صاحب کا ملاز میرے دفتر آیا اور کہنے لگا علامہ صاحب آپ کو بلا رہے ہیں آپ کا فون آیا ہے راولپنڈی سے مجھے سمجھ آ گیا کہ کس کا فون ہو سکتا ہے چلنے سے پہلے میں نے فون چیک کیا تو وہ ٹھیک ہو چکا تھا میں نے ان کے ملازم سے کہا ٹیلی فون ٹھیک ہو چکا ہے میں ان سے بات کر لیتا ہوں ملازم چلا گیا۔خیر میرا رابطہ ہو گیا بھٹو صاحب سے میں نے بھٹو صاحب سے کہا مجھے نہیں لگتا میں نے کوئی ایسی بات شائع کی ہے جس کی تردید کرنی چاہئے اور اگر میں تردید کرنا بھی چاہوں تو میرا ماہنامہ ہے اگلے ماہ ہی کر سکتا ہوں بھٹو صاحب کہنے لگے کچھ کریں صدر صاحب آپ کی گرفتاری کے آرڈر جاری کرنے والے ہیں میں نے کہا ’’کچھ نہیں ہوتا گرفتاری تو ہوتی رہتی ہے‘‘ یہ بہت اہم بات ہے جو بھٹو صاحب نے کی انہوں نے کہا ’’آپ کے اس انٹرویو کی وجہ سے صدر ایوب خان نے مجھے کابینہ سے نکال دیا ہے’’ Now I am out‘‘ میں نے کہا کیا آپ کو نکال دیا ہے؟ مین نے کہا آپ نے ان کے ساتھ جرات سے بات کی تھی Did you fight well? کہتے yes I could well میں نے کہا پھر آپ فکر نہ کریں ’’اس قوم کے اگلے لیڈر آپ ہیں اگر آپ نے واقعی ہمت دکھائی ہے اور اسی بات پر کابینہ سے نکل آئے ہیں تو آپ کی قسمت کھل گئی ہے اور اس قوم کے اگلے لیڈر آپ ہیں‘‘مین بھٹو صاحب سے یہ بات کر ہی رہا تھا کہ میرے دوست مشکور حسین یاد صاحب وہ ہمارے گھر کے پاس ہی رہتے تھے وہ اکثر کالج جانے سے پہلے ہمارے دفتر آجاتے جب میں یہ بات کر رہا تھا وہ بھی آگئے فون ختم ہونے کے بعد مشکور صاحب نے پوچھا کس کا فون تھا میں نے کہا بھٹو صاحب کا کہتے کیا ہوا میں نے بتا دیا یہ مسئلہ ہوا کہتے اچھا۔ تو یہ وجہ بنی اس مسئلے کی جو میں آپ کو بتا رہا تھا بھٹو صاحب کو اس بات کا بڑا قلق تھا کہ میں نے ان کا انٹرویو چھاپ کر ان کے لئے بڑے مسائل پیدا کئے ہیں انہیں اس بات کا بہت دکھ تھا چناچہ جب وہ اقتدار میں آئے تو وہ اپنی تقریروں میں دو تین لوگوں کا نام لیتے تھے کہ میں ان کو ’’فکس اپ‘‘ کر دوں گا اس مین میرا نام بھی تھا ان کی مخالفت کی وجہ ایک تو میری سوشلزم کے خلاف جنگ دوسرا ان کو جو زخم لگا تھا حالانکہ میرے خیال میں وہ واقعہ ان کے لئے اچھا ثابت ہوا تھا۔بھٹو صاحب جب حکومت میں آئے تو اس وقت کوثر نیازی کو مشیر اطلاعات مقرر کیا گیا ان سے ہمارا خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہا وہ کہتے تھے آپ یہ نہ چھاپیں یہ نہ چھاپیں ہم یہ سمجھتے تھے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بھٹو صاحب کا بہت بڑا رول تھا اور ہم پر یہ قومی فرض عائد ہوتا ہے کہ ہماس بات کو قوم کے سامنے لے کر آئیں انہوں نے مجیب الرحمن نے اور یحیی خان نے مل کر مشرقی پاکستان کو تقسیم کر دیا اور ہم شائستگی کے دائرے میں رہ کر کوشش کر رہے تھے کہ بھٹو صاحب کا اصل چہرہ قوم کے سامنے لا سکیں دو تین ماہ گزر گئے بھٹو صاحب نے پہلا وار ہم پر کیا سب سے پہلے اردو ڈائجسٹ بند کیا گیا پھر زندگی پر پابندی لگی ۔
سوال؛ اردو ڈائجسٹ بند بھی رہا اور آپ کو کتنا عرصہ جیل میں رہنا پڑا؟
* بھٹو صاحب کے ساتھ ہمارے جو پانچ سال گزرے وہ ایسے ہی تھے ابھی ڈائجسٹ بند ہو گیا اور ہمیں جیل بھیج دیا جاتا میں پانچ سات مرتبہ جیل گیااور میرے بھائی اعجاز قریشی صاحب بھی جیل میں رہے ہمیں تقریبا تین سال قید کاٹنا پڑی اللہ کے فضل سے ہم نے اپنا مشن جاری رکھا اور یہ چراغ جلتا رہا۔
سوال؛پاکستان میں ایک دور تھا کہ ڈائجسٹ چھایا ہوئے تھے اب کہا یہ جاتا ہے کہ الیکٹرانک میڈیا اور انٹرنیٹ ڈائجسٹ جرنلزم کو کھا گیا آپ کیا سمجھتے ہیں یہ درست ہے؟
* دیکھیں جی بات کسی حد درست ہے لیکن ہمارا ڈائجسٹ اس کے پیچھے مقاصد ہیں ہمارا مقصد تو پیسے کمانا نہیں ہے اپنے خیال میں ہم تو یہ اعلی مقاصد کے لئے نکالتے رہے ہیں اور سب کو پتا ہے اب الیکٹرانک میڈیا اور انٹرنیٹ کی وجہ سے اشاعت تو سبھی کی کم ہوئی ہے اردو ڈائجسٹ کی بھی کم ہوئی ہے لیکن اللہ تعالی کا شکر ہے ہمارے ڈائجسٹ تین نسلوں کی آبیاری کرتے یہاں تک پہنچا ہیاس لئے ہمارا تو نیو کلئیس اللہ کے فضل سے قائم ہے یہ ٹھیک ہے اثر پڑا ہے لیکن اگر آپ ٹھیک کام کر رہے ہیں تو لوگ آپ کو پڑھتے ہیں۔
سوال؛ یہ جو چینلز کی بھرمار ہے کوئی کچھ بھی دکھا سکتا ہے اسے آزادی صحافت کا نام بھی دیا جاتا ہے آپ کے خیال میں معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟
* چینلز تو ترقی یافتہ ممالک میں بھی بہت زیادہ ہیں لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں جو گروتھ ہوئی ہے وہ سائینٹیفک بنیادوں پر نہیں ہوئی الیکٹرانک میڈیا سے منسلک حضرات جن میں رپورٹرز اور اینکر پرسن شامل ہیں انہیں اس بات کی تربیت نہیں دی گئی کہ وہ جو دکھا رہے ہیں آیا وہ قومی مفاد میں ہو گی کہ نہیں! اور نہ ہی اس کی وہ ضرورت محسوس کر رہے ہیں۔حقیقت میں اس سے آزادی صحافت کو نقصان پہنچ رہا ہے لوگوں میں اس سے بڑی بیزاری پیدا ہو رہی ہے اور ایسے مناظر جو نہیں دکھانے چاہئے ان کے بار بار دکھانے سے معاشرے میں منفی اثرات ہیدا ہو رہے ہیں جہاں کچھ منفی چیزیں موجود ہیں وہاں مثبت چیزیں بھی نظر آرہی ہیں کرپٹ لوگ اسی میڈیا کی بدولت بے نقاب ہو رہے ہیں لیکن ہمیں توازن قائم رکھنا چاہئے توازن کی کمی ہے۔
سوال؛ آپ نے مختلف لوگوں کا اقتدار دیکھا آپ کے خیال میں کس حکمران کے دور میں صحافت واقعی آزاد تھی؟
* ایوب خان کے زمانے میں صحافت پر بہت پابندیاں تھیں اس کے بعد بھٹو صاحب آئے انہوں نے بھی آزادانہ صحافت پر پابندیاں لگائیں کہنے کو تو ان کے دور مین صحافت آزاد تھی لیکن بھٹو صاحب آزادی سے لکھے جانے کو پسند نہیں کرتے تھے اس کے بعد ضیاء الحق صاحب آئے شروع میں سختی کی گئی رکاوٹ رہی لیکن آگے چل کر مجھے یہ احساس ہوا کہ کہ ان کے ہاں کافی آزادی لوگوں کو ملتی تھی کچھ معاملات تھے جن پہ وہ چاہتے تھے کہ اس پر آپ احتیاط سے لکھیں اس کے بعد نواز شریف کے زمانے میں بھی آزادی تھی لیکن بعض معاملات میں میاں صاحب بھی بہت حساس تھے نجم سیٹھی سے بھی میاں صاحب کے معاملات خراب رہے مشرف صاحب اگرچہ ڈکٹیٹر تھے لیکن اس طرح سے دباؤ نہیں تھا لیکن کچھ ذرائع سے وہ لوگوں کو کستے تھے تاکہ ان کے خلاف کم لکھا جائے انہی کے زمانے میں الیکٹرانک میڈیا آیا اور لوگون میں آزادی کا احساس پیدا ہوا لوگوں نے کھل کر بولنا اور لکھنا شروع کیا لیکن آخری وقت میں انہوں نے پھر کچھ سختیاں شروع کردیں بہرحال اب میں سمجھتا ہوں کہ آزادی صحافت مسئلہ نہیں رہا اب تو مسئلہ یہ کہ جو آزادی ملی ہے اس کو حدود و قیود میں کیسے لانا ہے اب لوگ اس آزادی سے خوف کھا رہے ہیں کسی کی بھی پگڑی اچھالی جاتی ہے لوگ اس آزادی سے بیزار بھی نظر آرہے ہیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے ایسے مناظر نہ دکھائے جائیں جس سے قوم میں مایوسی یا ہیجان پیدا ہو اس کی بجائے احتیاط سے کام لینا چاہیے بڑے واقعات تو پوری دنیا میں ہوتے ہیں لیکن اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ آپ ان واقعات کو بار بار دکھا کر قوم میں مایوسی کی صورتحال پیدا کریں ایک منفی رویہ جو پیدا ہو گیا ہے کہ سب سے پہلے بری خبر کس نے دی اور پھر بار بار بتایا جاتا ہے کہ اس خبر کو سب سے پہلے سامنے لانے کا اعزاز ہمارا ہے ریٹنگ کے چکر میں ہم بہت کچھ غلط کر رہے ہیں۔
سوال؛آپ کیا صورتحال دیکھ رہے ہیں کیا موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کر پائے گی؟
* میری عمر 86سال ہو گئی میں نے بہت سی حکومتوں کو بنتے اور ٹوٹتے دیکھا ہے تاریخ کا مطالعہ بھی ہے میرا جہاں تک خیال ہے جو آغاز ہوا ہے وہ بہت اچھا ہے اور میں امید رکھتا ہوں نواز شریف صاحب نے ماضی کے واقعات سے بہت کچھ سیکھا ہے ان کے ہاں میانہ روی دیکھنے میںآئی ہے وہ بڑی شائستگی سے بات کر رہے ہیں اب وہ چاہتے یہ ہیں کہ ملک کی خدمت کی جائے اور ملک کو بحرانوں سے نکالا جائے خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں اچھے فیصلے کئے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ میاں صاحب ان لوگوں کو برداشت کر پائیں گے کہ نہیں جو منہ پر بات کرنا جانتے ہیں اگر میاں صاحب نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور کارکردگی کا مظاہرہ کیا تو ہی حکومت ٹھہر پائے گی۔
سوال؛ نئی حکومت کے آنے کے بعد ڈرون حملہ کیا گیا امریکہ کی جانب سے کیا پیغام دیا گیا؟کیا ہم ڈرون حملوں کو روک سکتے ہیں ؟
* بات یہ ہے کہ پہلی مرتبہ پاکستان نے زبردست ردعمل دکھایا ہے امریکی ناظم الامور کو بلا کر وارننگ دی ہے امریکہ نے ایک ریپڈ فورس بنائی تھی جو اس بات کا خیال رکھتی تھی دنیا میں جہاں بھی امریکہ کے مفادات کے خلاف کام ہو ریپڈ فورس فورا وہاں پہنچ جایا کرتی تھی یہ مہنگا کام تھا فوج کو رکھنا اور ان کو بھیجنا اس کا حل انہوں نے ڈرون کی صورت میں نکالا جہان آپ چاہیں حملہ کر دیں یہ ان کی سٹریجٹی کا حصہ ہے اور ان کے وزیر خارجہ کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ ڈرون حملے امریکہ کے دفاع کے لئے ہیں ہم انہیں جاری رکھیں گے اب مسئلہ یہ کہ پاکستان میں جو فضا بن رہی ہے امریکہ کو پاکستان سے بات کرنا ہوگی میں اس دن قومی اسمبلی کے اجلاس میں تھا نواز شریف صاحب کی جس بات پر پورے ایوان نے سب سے زیادہ ڈیسک بجائے وہ ان کا یہ بیان تھا کہ ’’کہ اب ڈرون حملے بند کرنا ہوں گے‘‘ تمام ارکان ان کی اس بات پر ان کے ہم آواز تھے لیکن مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ ہمارے حکمران کوئی ایسا کام نہین کریں گے جس سے معاملات الجھ جائیں کوشش کریں گے کہ ڈپلومیسی کے ذریعے کوئی درمیانی راستہ کل آئے۔
سوال؛ آپ کو کیا لگتا ہے بلوچستان کی صورتحال میں کوئی تبدیلی آئے گی؟
* ایک ماہ پہلے ہم 13صحافی بلوچستان گئے تھے وہاں ہم نے بلوچستان کے حالات دیکھے وہاں کے لوگوں نے بہت مشکل حالات میں ووٹ ڈالے بار بار دھمکیاں ملتی تھیں آپ دیکھیں حملے ہوئے بھی سردار ثنااللہ زہری کے بھائی اور بھتیجے کو جاں بحق کر دیا گیا لیکن وہاں انتخابات ہو گئے اب وہاں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ ایسے آدمی وزیراعلی بنے ہیں جو نہ نواب ہیں نہ سردار مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والا پڑھا لکھا آدمی ہے مجھے اب بھی یاد ہے میں جب بھی وہاں جاتا تھا ان کا چھوٹا سا کلینک تھا جو یہ چلاتے تھے وہاں ان سے ملاقات ہوتی تھی اب دیکھتیں ہیں کہ وہ معاملات کو کیسے کنٹرول کرتے ہیں خوش آئند بات یہ ہے کہ انہیں سب پارٹیوں نے مل کر منتخب کیا ہے اور اب وہ ان سے تعاون بھی کریں گے۔جب سیاسی لوگ بیٹھتے ہیں تو کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیتے ہیں یہ اختر مینگل صاحب کو بھی راضی کرلیں گے ابھی وہ ناراض لگتے ہیں لیکن مجھے امید ہے کہ یہ ان کو منا لیں گے۔اگر ہم بلوچستان کے حقیقی مسائل پر توجہ دیں تو بہتری آسکتی ہے حالات اس مرتبہ کچھ بہتر ہیں اور امید ہے کہ انشاللہ وہاں مزید بہتری آئے گی۔
سوال؛اصغر خان کیس میں آپ کا نام بھی آیا یہ کیسے ہوا؟
* دیکھیں جی پہلے میرا اور مجتبی صادق صاحب کا نام آیا ہم نے اسی وقت تردید کی کہ ہمارا کوئی تعلق نہیں اور ہم نے کسی سے کوئی پیسے نہیں لئے اس کے بعد یہ بات دوبارہ 1996 میں کہی گئی ہم نے پھر یہی بیان دیا۔’’اب پتا نہیںیہ کون لوگ ہیں اب یہ جو ایجنسیوں کے لوگ ہوتے ہیں خرچ کہیں کرتے ہیں نام کسی کا ڈال دیتے ہیں‘‘میں نے اسد درانی سے پوچھا خدا کا خوف کرو تم خدا کی قسم کھا کہ کہہ سکتے ہو تم نے ہمیں پیسے دیے کہنے لگا نہیں نہیں میں نہیں کہہ سکتا تو مین نے کہا پھر کیوں ہمارا نام بار بار لیتے ہو وہاں بیان دو اس نے کہا اب ریکارڈ میں آگیا ہے اور چل رہا ہے ۔ نام یہ آیا کہ ڈھائی لاکھ میں نے لئے ہیں ڈھائی مجتبی صاحب نے یہ سب غلط باتیں ہیں ہمارا اس سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔کسی نے کہیں خرچ کئے ہوں گے انہون نے ہمارا نام ڈال دیا پتا نہیں اور کتنے لوگوں کا نام اسی طرح ڈالا گیا ہے۔
سوال؛موجودہ حالات مین اگر کوئی نیا ڈائجسٹ شروع کیا جائے تو اس کا کیا مستقبل نظر آتا ہے؟
* دیکھیں یہ تو ڈائجسٹ پہت منحصر ہے اب لوگ چیزوں کو گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ اخبارات کے مضامین اور ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں بھی سطحی باتیں کی جا رہی ہیں اگر کوئی ڈائجسٹ یہ کمی پوری کر دے اور دوسری زبانوں میں موجود ادب کا ترجمہ کر کے لوگوں کو فراہم کریں تو میرے خیال میں کوئی نیا ڈائجسٹ بھی جگہ بنا سکتا ہے اگر کوئی یہ کام کرے تو لوگ ضرور دلچسپی دکھائیں گے۔
سوال؛صحافت کے طلباء کے لئے کیا پیغام دیں گے۔
* طلبا ء مین مطالعے کا رجحان بہت کم ہے اپنی تاریخ سے نابلد ہیں وہ جانتے ہی نہیں کہ پاکستان بنانے میں کن لوگوں نے کردار ادا کیا ۔صحافت میں کن کن لوگوں نے اپنا کردار ادا کیا ہے اس کے اثرات آپ خودی دیکھ لیں ہمارے جو نوجوان اینکرپرسن آرہے ہیں انھیں اپنی تاریخ کا پتا ہی نہیں اور کتنے حقائق مسخ کر جاتے ہیں کیوں کہ انہون نے مطالعہ ہی نہیں اس صورتحال کو دیکھتا ہوں تو بہت دکھ ہوتا ہے میں سمجھتا ہوں کہ صحافت کے لوگوں کو مطالعہ کرنا چائیے کیوں کہ لوگ ان سے امید کرتے ہیں یہ ہمیں صحیح بات بتائیں گے اور راہنمائی ملے گی ۔صحافت کے اساتذہ پر بھی یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ طلباء کو صحافت کی اہمیت اور دنیا میں صحافت کے کیا رجحانات ہیں ان سے آگاہ کریں۔

Viewers: 1987
Share