Abbas Malik | Column | یہ طرزِ سیاست کیا ہے

یہ طرز سیاست کیا ہے عباس ملک ملک میں جمہوریت اور جمہوری قدروں کی پاسداری کے دعوؤں کے ساتھ سیاستدان جمہوری اقدار کے درپے بھی ہیں۔ میاں صاحب کو عام […]
یہ طرز سیاست کیا ہے
عباس ملک
ملک میں جمہوریت اور جمہوری قدروں کی پاسداری کے دعوؤں کے ساتھ سیاستدان جمہوری اقدار کے درپے بھی ہیں۔ میاں صاحب کو عام پاکستانی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے لیکن انہوں نے متنازعہ فیصلوں کی کیچڑ سے اپنی شخصیت خود آلودہ کر لیاہے۔ الیکشن کمیشن نے انتخابی نتائج کا پوری طرح اعلان نہیں کیا تھا کہ میاں صاحب نے انڈیا دوستی کا نعرہ مستانہ بلند کر دیا ۔ انڈیا کو ہم دشمن قرار نہ بھی دیں لیکن اس کو دوست سمجھنا سب سے بڑی حماقت ضرور ہوگی۔ہندو بنیا مطلب کے بغیر کسی طرح بھی مسلم کے قریب نہیں آتا ۔اسے کسی وار کیلئے قریب آنے کا بہانہ چاہیے ہوتا ہے۔ وہ قربت کیلئے دوستی بھائی چارے کو استعمال کرکے مسلمانوں کو گلے لگا کر ان کی پیٹھ پر وار کرنے کی کرتا ہے۔ انڈیا پاکستان کے حالات سے فائدہ اٹھانے اور پاکستان کو میدان سے باہر ہی شکست خوردہ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ میدان جنگ میں پاکستانیوں کا سامنا کرنے کی بجائے روایتی سیاست سے ہی مسلمانوں کو گھٹنے کاٹ دیئے جائیں۔ مسلمان کو ایک دوسرے سے لڑانا انتہائی آسان جبکہ انہیں میدان جنگ میں شکست دینا انتہائی مشکل ہے۔ ایک دوسرے پر اعتماد نہ کرنا اور ایک دوسرے کو گرا کر اگے نکلنے کی کوشش مسلم امہ کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امت مسلمہ کی زوال کی وجہ ہی اس میں مسلکی اختلافات ہیں۔ اگر یہ نہ ہوں تو پھر امت مسلمہ ایک فولا د لیکن یہ فولاد بھس سے بھی کمزور ہے ۔اس پر مزید یہ کہ ان اختلافات کو لسانی اور گروہی عصبیتوں کی دیمک بھی چاٹ رہی ہے۔ ظاہر میں جسیم نظر آنے والے اندر سے کتنے کمزورہو گئے یہ تو ہمارے اکابرین کے طرز عمل سے ہی عیاں ہے۔کوئی ایک کال پر ڈھیر ہو رہا ہے توکوئی وسیع ترقومی مفاد میں غلامی کے طوق کو اتارنے کیلئے تیار نہیں۔ ہمیں ڈالر کا غلام بنا دیا گیا اور ہماری زندگیاں ڈالر کو مستحکم رکھنے کیلئے رہ گئی ہیں۔ ہمیں یہ تو پرواہ ہے کہ امریکہ کی مشکلات میں کس بات سے اضافہ ہو سکتا ہے۔ ہمیں پرواہ نہیں کہ پاکستان کے امیج پر اس کے اثرات کیا مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان کو وسیع تر قومی مفاد میں بھلا دیا جاتا ہے قوم کا مفاداورپاکستان پیچھے رہ جاتاہے۔قوم مفاد کے بوجھ تلے دب چکی مفاد رہ گیا قوم بکھر کر رہ گئی ہے۔ سیاسی عمائدین کا نہ کوئی نظریہ نہ کوئی زبان اور نہ ہی یہ کسی اقدار کے پابند ہیں۔ ہم بس قومی مفاد کے پابند ہیں لیکن مجھے کوئی یہ تو بتائے کہ وہ قوم کدھر ہے۔ اس قوم کا حدود دربعہ کیا ہے۔ اس کی شناخت صرف رسوائی اور کشکول ہے۔ خودداری غریب حمیت اور عزت کا احساس اس قوم سے چھین لینے کی سعی کو اس قوم کے مفاد میں بہتر بتایا جارہا ہے ۔اکابرین اپنی بات سے مکر جانے کو اقدار کی کمزوری کی بجائے سیاست کی مضبوطی سے تشبیہہ دیتے ہیں۔ مفسدات کو اگر محرمات سے درجاتی مطابقت ہی دے دی جائے تو یہ اقدار کو تلپٹ کرنے کا مترادف عمل ہو گا یا نہیں ہوگا ۔ اگر اچھے اور برے کے درمیان تفریق ختم کر کے سب کو مساوی قرار دے دیا جائے تو اس کے نتائج معاشرے پر کیا پڑیں گے۔ ہم نے اچھے کوبرا اور برے کو اچھا بنا کر پیش کرنے کی روایت کی پیروی کو ترجیح دی ہے۔امن کو اسلام میں اولین ترجیح دی گئی ہے۔ اسلام کا مطلب ہی سلامتی اور امان ہے ۔ ایسے میں اس کے پیروکار اگر راہ کھو کر شیطانیت کے اسباق کو اسلامی نصاب کا حصہ بنا کر پیش کرنا شروع کردیں تو یہ اسلام کی بدقسمتی کے ساتھ سب کی بدقسمتی ہے۔ انسان جب خود پرستی کا شکار ہو جاتا ہے تو پھر خود کو ناخدا سمجھنے لگتا ہے۔ جس کانقصان یہ ہوتا ہے کہ وہ باقی کو اپنامحتاج اور زیرنگر جاننے کے ساتھ اپنے سے ذہنی اور جسمانی طورپر حقیر جانتا ہے۔ وہ ان کی دماغی اور سوچنے او رعمل کی صلاحیتوں کو اپنے مقابل دیکھنا اور سننا نہیں چاہتا۔اکابرین سلطنت ایسی امثال قائم کر رہے ہیں جو مشرقی کیامغربی روایات کی بھی پاسداری نہیں کرتی ۔ حصولِ مفاد کیلئے روایات واخلاقیات کی پامالی سے عمومی طور یہی دیکھا جا رہا ہے کہ حق وصداقت کی روح چھلنی ہو رہی ہے۔ایسا کوئی دامن نہیں جو داغ سے مبرا قرار پائے۔ جس سمت انگلی اٹھتی ہے وہ برائی کی نشاندہی کر رہی ہے کوئی اچھائی کا اشارہ بھی تو کرنے والا ہو۔ سیاسی اقدار کو اس قدر آلودہ کر دیا گیا ہے کہ اب صدر مملکت کے عہدے کے امیدوار کو دہی بھلے والا قرار دیا جا چکا ہے۔ اس سے پہلے مسڑ پرسنٹ اس عہدہ جلیلہ پرفائز تھے۔ قوم کے اکثر نمائیندے جعلی ڈگریوں کے حامل قرار پا چکے ہیں۔ اعلیٰ ترین لیڈرشپ پر آئین کی آرٹیکل 62کا اطلاق ہوتا ہے؟سیاسی لیڈر جلسے جلوسوں میں عوام کے جذبات سے کھیل کر ان کو مستقبل کی سنہری نوید اور جھلک دکھا کر گرویدہ کرنے کے فن میں طاق ہیں۔ ملک کی پالیسیاں ایسے مرتب کی جاتی رہی ہیں جن سے غریب کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ اس سے طبقہ اشرافیہ کومفادات کو ہی تحفظ ملتا ہے۔کہتے ہیں کہ غریب کیلئے کر رہے ہیں پر کرتے کچھ نہیں غریب کی بہتری کیلئے کوئی بھی ایسا کام جس سے غربت کا سایہ منحوس اس سرزمین سے اپنا ڈیرہ اٹھا لے۔رمضان میں سستے بازاروں میں چلے جاؤ تو سستا تو کچھ نہیں ملتا البتہ سارے جہاں کاکچرا ضرور اکھٹا کر کے عوام کے پلو میں باندھ دیا جاتا ہے۔کس کو فائدہ ہوا ۔سرمایہ دارکو سرمایہ کار کو۔ بھائی یہی اشیاء بازار میں کیوں اس قیمت پر دستیاب نہیں ہیں ۔کیاحکومت کی رٹ ہے اور کیا حکومت کا زورہے۔کیا قانون ہے اور کیا قانون کے رکھوالے ہیں۔ ذخیرہ اندوز ہر چیز کے ریٹ کو اپنی مرضی سے بڑھاتے چلے جارہے ہیں۔ حکومت ان کو ہاتھ نہیں ڈالتی کیونکہ ان میں سے اکثر حکومت کے ہی سپورٹر ہیں۔ ان کی سیاسی وفاداریوں کے سبب انہیں چھوٹ دی جاتی ہے۔ ایسے میں کیسے ممکن ہے کہ ذخیرہ اندوزی پر قابو پایا جا سکے۔ اداروں میں سیاسی جماعتیں سیاسی وونگز کے طور پر یونین کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔ پھر اداروں کو سیاسیات سے کیسے پاک کیا جا سکتا ہے۔ ملک میں سیاست ہی سیاست ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔ سب جوڑ توڑ میں مصروف ہوتے ہیں۔ اس میں عوام کے جوڑ ہل چکے ہیں۔ ضروری ہے کہ عوام پر توجہ دی جائے اور انہیں مسائل سے نکالنے کیلئے عوامی پالیسی مرتب کی جائے۔ عوام کو انتطار کی سولی پر لٹکے بہت عرصہ ہوگیا۔اب انہیں عرصہ ہوگیا اس دشت کی سرائی میں اور سیرآب کے پیچھے بھاگتے ہوئے ۔انہیں اب مزید اسلام اور جمہوریت کے نام پر دوڑا نے سے پرھیزکیا جائے۔ سیاست کو جھوٹ دھوکا مطلب بر آوری تک محدود کرنے کی بجائے عوامی مسائل سے منسلک کیا جائے۔عوامی نمائیندوں سے عوامی مسائل کا حل یقینی بنانے کیلئے ہرایم این اے او ر ایم پی اے کا ریکارڈ رکھا جائے کہ اس نے اپنے دور میں خالص عوامی مسائل کیلئے کیا تجاویز اور حکمت عملی یاعملی طور پر کام کیا۔ اگر وہ عوامی نمائیندگی کے پچاس فیصد پر بھی کامیاب ہے تو اسے مزید موقع دیا جائے ورنہ اس کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دئیے جائیں۔ عوام کے نام پر کامیاب ہونے والے نمائیندے اگر قومی یا صوبائی اسمبلی یاسینٹ میں عوام کیلئے ایک بھی بل پیش کرنے میں ناکام رہے ہوں تو انہیں کیا استحقاق حاصل ہے کہ وہ عوام کا نام بھی اپنی زبان پر لائیں۔ سیاست میں اگر سیاستدان کادامن غیر سیاسی امور اور دیگر فروعیات سے داغدار ہے تو اسے عوامی نمائیندگی سے محروم کیا جائے۔ سیاستدانوں کو سیاست برائے خدمت کیلئے آئینی اور قانونی طورپر باضابطہ طورپر پابند نہیں کیا جائے گا اس وقت تک سیاست آلودہ زدہ رہے گی۔
Viewers: 6004
Share