فرخندہ رضوی کے شعری مجموعے زیر لَب خندہ کی تقریب رونمائی

۲۹ جون بروز ہفتہ(اردو سخن رپورٹ) فرخندہ رضوی کی کتاب زیر لب خندہ کی رسم اجرأ کے سلسلے میں ایک تقریب کا انعقاد انگلینڈ کے شہر ریڈنگ میں پاکستانی کیمونٹی سینٹر میں کیا گیا ۔دیواروں کو رنگ برنگی ہلکے پردوں سے خوبصورت بنایا گیا تھا ۔تقریب اور کتاب کی رونمائی کا بینر پردوں پر نصب کر کے ہال کو جا بجا خوبصورت بنانے کی کوشش کی گئی تھی ۔۔اس تقریب میں ریڈنگ ،لندن اور گردونواح کے علاوہ برطانیہ اور سکاٹ لینڈ کے دیگر شہروں سے معروف شعرأ و شاعرات نے شرکت کی ۔۔وقت کارڈوں پر ساڑھے تین بجے سہ پہر کا تھا مگر کچھ لوگ تاخیر سے پہنچے تو پروگرام بھی کچھ دیر سے شروع ہوا ۔۔نظامت کے فرائض کی ادائیگی بانو ارشد صاحبہ نے کی۔صدارت جناب صفدر ہمدانی ،مہمان خصوصی جناب امجدمرزاصاحب ،مہمان اعزاری گلاسگو سے تشریف لائی ہوئی راحت زاہد ،اور پاکستانی ایمبیسی سے آئے ہوئے ڈپٹی منسٹر جناب امجد جاوید باجوہ صاحب تھے ۔بیرسٹر رشید صاحب نے پروگرام کا آغار اپنی خوبصورت آواز میں تلاوت کلام پاک سے کیا ۔۔پھر بقاعدہ پروگرام کو آگے بڑھایا گیا ۔سب سے پہلے مصباح پرویز جو کہ فرخندہ رضوی کی بھانجی تھیں انہوں نے فرخندہ رضوی کی شخصیت پر ایک مضمون پڑھا ۔کتاب اور شخصیت پر اظہار خیال کرنے والوں میں فرحت خان ریڈنگ کی شاعرہ ، ڈاکٹر خالد باجوہ صاحب پاکستانی کیمونٹی سنٹر کے ایک رُکن ، سیداکمل حسین صاحب بیورو چیف لندن عالمی اخبار اور مرثیہ خواں ،نے فرخندہ رضوی کی کتاب کے حوالے اور شخصیت پربات کی۔مرزا امجد صاحب نے کتاب اور مصنفہ پر اپنا طویل مضمون پڑھا ۔اور شاعرہ نوجہاں نوری صاحبہ نے اپنی آواز میں فرخندہ کے لیئے منظوم پڑھا اور فریم شدہ یہ منظوم فرخندہ کو پیش کیا ۔ریڈنگ کی اردو سوسائٹی کے خالق جناب خصر مفتی نے مختصر مصنفہ کی شخصیت پر روشنی ڈالی ۔ایک اور ریڈنگ کے بزرگ شاعر جناب سالم جعفری صاحب نے چند لفظوں میں اظہار خیال کیا ۔راحت زاہد جو خود بھی بہت اچھی شاعرہ ہیں گلاسگو سے تشریف لائی ہوئی تھیں زیرلب خندہ اور فرخندہ کی شخصیت پر خوبصورت مضمون پڑھا۔
سعیدہ مغل گلوگارہ نے فرخندہ رضوی کے شعری مجموعے زیرلب خندہ سے ایک غزل کا انتخاب کیا اُسے اپنی آواز کا رنگ دیا ۔ فرخندہ رضوی نے ڈائس پر آکر اس تقریب میں آئے ہوئے تمام مہمانوں اور اپنی فمیلی کے تمام ممبران کا شکریہ ادا کیا ۔فرخندہ رضوی نے اس کتاب کا انتساب اپنی مرحوم والدہ صاحبہ اور مرحوم بہن کے نام کیا ہے۔ایک نظم والدہ اور نوحے کے شکل میں بہن کی جدائی میں چند لفظ نثری نظم میں کہے اور اپنی اسی کتاب سے ایک غزل سنائی ،اور وہاں آئے ہوئے بہت سے شعر�أ کو زیر لب خندہ کا نسخہ پیش کیا ۔
آخرمیں پھر جناب صدر صفدر ہمدانی صاحب نے اپنا خطبہ دیا مصنفہ کے ادبی سفر کا حوالہ خوش اسلوبی سے بیان کیا اور اُسے کتاب کی مبارک باد پیش کی ۔پاکستانی ایمبسی سے آئے ہوئے منسٹر جناب امجد جاوید باجوہ صاحب کے ہاتھوں زیر لب خندہ کی رسم اجرا ہوئی ۔ریڈنگ کے مئیر کی طرف سے فرخندہ رضوی کو ادبی خدمات کو سراہاتے ہوئے شیلڈ پیش کی گئی ۔۔اس طرح اس خوبصورت ادبی شام کا اختتام ہوا۔تمام آئے ہوئے مہمانوں کی دلکش کھانے سے تواضع کی گئی ۔۔۔۔۔۔

Viewers: 1138
Share