چوہدری امانت علی کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’رودادِ وطن ‘‘پر شریف اکیڈمی ایوارڈ دیا گیا

چوہدری امانت علی کی صحافت میں تعمیرِ وطن اوراصلاحِ معاشرہ کا پہلو ملتا ہے،شفیق مراد
شریف اکیڈمی جرمنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے متفقہ فیصلہ کے مطابق ڈنمارک میں مقیم علمی، ادبی اور سماجی شخصیت نامور صحافی چوہدری امانت علی کو انکی تصنیف ’’رودادِ وطن ‘‘پر شریف اکیڈمی ایوارڈسے نوازا گیا۔یہ ایوارڈانہیں اکیڈمی کے دوسرے سالانہ عالمی کنونشن کے موقع پر دیا گیا۔جو 6 ؍اپریل 2013کو الحمراء آرٹس کونسل لاہورمیں منعقد ہوا۔اس موقع پر شریف اکیڈمی کے چیف ایگزیکٹو شفیق مراد نے کہا کہ چوہدری امانت علی ڈنمارک میں رہ کر ملکی سیاست اور ملکی حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔اور ایک بیباک اور نڈر صحافی کے ساتھ ساتھ ایک مصلح کا کردار بھی ادا کر رہے ہیں ۔ان کی صحافت میں تعمیرِ وطن اوراصلاحِ معاشرہ کا پہلو ملتا ہے ۔چوہدری امانت علی 1970ء سے ڈنمارک میں مقیم ہیں ۔’’پاکستان سوسائٹی‘‘ کے بانی ممبر کی حیثیت سے کمیونٹی کی خدمات کا آغاز کیا۔ بعد ازاں مختلف اداروں اور تنظیموں سے وابسطہ رہے ہنوز ملک و قوم کی خدمت میں سرگرم عمل ہیں۔ متعدد ثقافتی ، سماجی ادبی اور علمی پروگرام ترتیب دے چکے ہیں۔ ڈنمارک میں مقیم پاکستانیوں کے مسائل پر انکی گہری نظر ہے ۔ جذبہ حب الوطنی سے سرشار چوہدری صاحب پاکستان کے سیاسی حالات سے با خبر رہ کر ایک بے باک صحافی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی پہلی کتاب ان کے ہجرت کے سفر کی داستان ہے جو مقبولیت سے ہمکنار ہوئی ۔ حال ہی میں ان کی کتاب ’’رودادِوطن‘‘ جو سیاسی تجربات ،ڈنمارک کی تاریخ اور پاکستان کی سیاست اور پاکستان کے مسائل پر پُر مغزکتاب ہے ۔جب یہ تصنیف منصۂ شہود پرآئی تو اہل علمِ و دانش نے اسے انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا ۔
’’وطن نیوز‘‘ کے نام سے ویب سائٹ چلا رہے ہیں ۔علاوہ ازیں وطن نیوز کے نام سے ہی ایک رسالہ شائع کرتے ہیں۔جس میں ادبی علمی مضامین کے علاوہ مختلف ممالک کے ثقافتی اور بین الاقوامی حالات پر تبصرے شائع ہوتے ہیں۔شفیق مراد نے مزیدکہاکہ چوہدری امانت علی حب الوطنی کی اعلیٰ مثال ہیں جو ڈنمارک میں اپنے وطن کی نہ صرف نمائندگی کر رہے ہیں بلکہ وطن کی خوشبو پھیلانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔اور پاکستانی کمیونٹی کے لیے قیمتی سرمایہ ہیں ۔گورنر پنجاب جناب مخدوم سید احمد محمود سے گورنر ہاؤس میں شفیق مراد کی سربراہی میں شریف اکیڈمی جرمنی کے وفد کی ملاقات کے دوران یہ کتاب محترم گورنر صاحب کو پیش کرتے ہوئے اس کتاب کا مختصر تعارف کروایا گیا اوربتایا گیا کہ اس کتاب کو ’’شریف اکیڈمی ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔
Viewers: 1097
Share