شفیع عقیل دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔

اردو اور پنجابی کے مایہ ناز ادیب، شاعر اور صحافی شفیع عقیل جمعے کو رات گیارہ بجے کراچی کے ایک مقامی ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ انھیں ہفتہ کو کراچی میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔شفیع عقیل کی عمر 83 سال تھی۔ وہ جنگ گروپ کے ہفت روزہ اخبارِ جہاں سے سبکدوشی کے بعد زیادہ وقت لکھنے پڑھنے میں گزار رہے تھے۔ انھیں پھیپھڑوں کے انفیکشن کا عارضہ لاحق تھا۔ کچھ روز قبل انھیں سانس کی تکلیف بھی ہو گئی جس کے باعث انھیں اسپتال میں داخل کر دیا گیا مگر ان کی طبعیت سنبھل نے سکی۔وہ 1930 میں لاہور کے ایک گاوں تھینسہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انیس سو پچاس میں وہ کراچی منتقل ہوگئے۔ انھوں نے افسانہ نگاری بھی شروع کی اور 1952 میں ان کے افسانوں کا پہلا مجموعے ’بھوکے‘ شائع ہوا۔اس مجموعے پر حکومت نے فحاشی کا مقدمہ دائر کیا۔ اس مقدمے میں سعادت حسن منٹو، شورش کاشمیری اور مولانا عبدالمجید سالک گواہانِ صفائی تھے۔ یہ مقدمہ ڈھائی سال چلنے کے بعد ختم ہو ا۔وہ پنجابی شاعری میں چار مصروں کی ایک نئی صنف کے بھی موجد تھے۔ ان کی یہ شاعری طویل عرصے تک جنگ میں اردو ترجمے کے ساتھ شائع ہوتی رہی بعد میں اسے دو جلدوں میں شائع کیا گیا۔انھوں نے پنجابی کی لوک کہانیوں کو جمع کیا بعد میں ان کی یہ کتاب یونیسکو سے انگریزی اور دوسری کئی زبانوں میں بھی شائع کی گئی۔ اس کے علاوہ انھوں نے دنیا بھی کی لوک کہانیوں کو اردو میں منتقل کیا ۔یہ کہانیاں گیارہ جلدوں میں شائع ہو چکی ہیں۔پنجابی شاعری پر بھی انھوں نے بہت کام کیااور پنجابی کلاسیکی شاعری پر ان کا کام کئی جلدوں پر مشتمل ہے۔شفیع عقیل نے مجید لاہوری کی شخصیت اور فن پر بھی کتاب لکھی اور مجید لاہوری کے کالم بھی حرف و حکایت کے نام سے مرتب کیے۔ اس کے علاوہ انھوں نے مشہور اہل قلم کی گم نام تحریریں اور نامور ادیبوں کا بچپن کے نام سے بھی کتابیں مرتب کیں۔انھوں نے مرزا غالب کے کلام اور قائد اعظم کے باتوں کو بھی پنجابی میں منتتقل کیا۔شفیع عقیل کو سیر و سیاحت سے بھی گہری دلچسپی تھی اور ان کے سفر نامے کئی کتابوں پر مشتمل ہیں۔حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ امتیاز پیش کیا۔ انھیں داود ادبی انعام اور خوشحال خان خٹک ایوارڈ بھی دیے گئے۔

Viewers: 1030
Share