اختر رضا سلیمی کے شعری مجموعہ خواب دان کی تقریب رونمائی

اختررضاسلیمی اپنے موضوعات کی نیرنگی،اپنے پیرایۂ اظہار اور اپنے بیانیے کی اثرانگیزی کی وجہ سے خوشگوار تاثر چھوڑتے ہیں(اسدمحمدخان)
سلیمی کی شاعرانہ دانش اُن شعرا سے کہیں زیادہ ہے جو ماہ و سال کے اعتبار سے اُس سے دوگنا راستہ طے کرچکے ہیں (عباس رضوی)
(رپورٹ: انجم جاوید)۔۔۔اختررضاسلیمی کی کئی نظمیں پڑھ کر خیال آتا ہے کہ میں ان کو سامنے رکھ کر ایک کہانی لکھوں اور اس کا نام رکھوں’’سلیمی کی سوچی ہوئی کہانی‘‘۔ اختررضاسلیمی اپنے موضوعات کی نیرنگی،اپنے پیرایۂ اظہار اور اپنے بیانیے کی اثرانگیزی کی وجہ سے خوشگوار تاثر چھوڑتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار معروف افسانہ نگاراورشاعر اسدمحمدخان نے کراچی آرٹس کونسل آف پاکستان میں منعقدہ اختررضاسلیمی کے نظموں کے مجموعے ’’خواب دان‘‘ کی تعارفی تقریب میں بحیثیت صدرِمحفل صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سلیمی اپنی آزاد نظموں میں بحوراورقوافیے کی پابندی بے شک کرتے ہیں لیکن اُن کی نظموں کے مصرعوں کی ساخت ایسی ہے کہ وہ کہیں کہیں نثری نظم کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں ہیں۔میری خواہش ہے کہ وہ نثری نظم بھی کہیں۔انھوں نے کہا کہ سلیمی صاحب نے کئی نئی تراکیب بھی واضع کی ہیں جوپڑھنے اور سننے میں دل کولبھاتی ہیں۔ یہ ایک روشن مستقبل شاعرکی شاعری ہے۔
مہمانِ خصوصی جناب عباس رضوی نے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ اختررضاسلیمی ایک مختلف ماحول اور فضا بناناچاہتا ہے ۔ اس کا اپنا ایک معیار ہے، اس معیار سے کم پر وہ کسی صورت آمادہ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی شاعری اس کی عمر سے زیادہ پختہ اور سن رسیدہ ہے۔انھوں نے کہا کہ سلیمی کی شاعرانہ دانش اُن شعرا سے کہیں زیادہ ہے جو ماہ و سال کے اعتبار سے اُس سے دوگنا راستہ طے کرچکے ہیں۔ اسی لیے اُسے خوب معلوم ہے کہ اُس کا قاری اسے کس فریکوئنسی پر ملے گا۔ اس نے کمال مہارت سے نظمیں لکھی ہیں، نظم پر غزل کی چھاپ نہیں آنے دی۔ اس کی غزل کا ڈکشن، اس کی نظم کے ڈکشن سے مختلف ہے۔ اختررضا سلیمی کا پسندیدہ موضوع ’’وقت‘‘ ہے۔وہ بار بار اس موضوع کی جانب آتا ہے۔ اس کی کئی نظمیں اس موضوع کو گرفت میں لیتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں مگر ہر مرتبہ ایک نئے زاویے سے۔
معروف شاعر اور ’’اجرا‘‘کے مدیراحسن سلیم نے کہا کہ اختررضاسلیمی نے لفظوں کے دروبست سے خیالات کا کینوس سجایا ہے۔ بتدریج ان کی بدلتی ہوئی سوچ غزل سے نظم کا روپ دھارتی ہے جس میں زندگی کا فلسفہ اور فلسفیانہ طرزِ فکر کی گہری چھاپ ملتی ہے۔ یہ گل و بلبل والا شاعر نہیں بلکہ اس کی شاعری گہرے فکری خیالات کی غماز ہے اور اس نے اپنی شاعری میں کئی سوچیں اور فکریں سموئی ہیں۔ وہ قدرتی طورپر متوازن شاعری کررہا ہے۔ شعری حسیت پیداکیے بغیر ہم اچھاشعر نہیں کہہ سکتے ۔اسی لحاظ دیکھا جائے تو اختررضاسلیمی کے ہاں غیرمعمولی فطری جوہر موجود ہے۔
معروف صحافی اور افسانہ نگار زیب اذکار کا کہناتھا کہ مجموعہ’’خواب دان‘‘ عجز،جرأتِ اظہار کی یک جائی کا نام ہے اور اسی جذبے میں ان کی نظمیں گندھی ہوئی ملتی ہیں۔ ان کی نظمیں گہرے عصری شعور کی غماز اور ایک منفردڈکشن کی ترجمانی کرتی ہوئی نظرآتی ہیں۔ یہ نظمیں کہیں نہ کہیں بامعنی مزاحمت کرتی ہوئی نظر آتی ہیں لیکن ان کے ہاں بلند آہنگی کا شائبہ تک نہیں۔وہ اپنی نظموں کو تہ داری دینے کے لیے تلمیحات سے کام لیتے ہیں اور ان تلیمحات کو اپنے عصر سے جوڑتے ہیں۔ ان نظموں میں انسانی حقوق کی بحالی کے لیے تڑپ ملتی ہے۔ مَیں ’’خواب دان‘‘ کو نظم کے حوالے سے مستقبل کی ایک اہم شعری تخلیق سمجھتاہوں۔
معروف شاعر، صحافی جاویدصبانے کہا کہ اختررضاسلیمی اپنی بات کہنے کا ہنرجانتاہے۔یہی وجہ ہے کہ اس نے مختلف موضوعات پر نظمیں لکھ کر اپنی بات قاری تک پہنچانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔انھوں نے کہا کہ بہت کم ایساہوتا ہے کہ کوئی شاعر فلسفے کے منطقے میں داخل ہوکر صحیح سلامت واپس آجائے۔سلیمی کی کامیابی یہ ہے کہ وہ نہ صرف فلسفے کی حدود سے صحیح سلامت واپس آگیا ہے بلکہ اُس نے فلسفیانہ موضوعات کو بھی انتہائی سلیقے سے شاعرانہ پیرائے میں بیان کیا ہے۔ ’’خواب دان‘‘ سنجیدہ علمی حلقوں میں پسند کی جائے گی۔
معروف شاعر اور صحافی خالدمعین نے کہا کہ میں اس کتاب سے قبل اختررضاسلیمی کو غزل کا ایک کامیاب، منجھا ہوا شاعر سمجھتا رہا اب اس کتاب نے اسے ایک بااعتماد نظم گو شاعر بھی ثابت کردیا ہے۔اختررضاسلیمی کے مزاج کی درویشی، سادہ پن اس کی نظموں میں بھی جھلکتا ہے۔ اختررضاسلیمی کا مطالعہ انتہائی وسیع ہے۔ اس کا تنقیدی شعور اُس کی غزل کی طرح اُس کی نظم میں بھی کارفرماہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ ایک نظم کو کئی ڈائمنشنزدے دیتا ہے اور قاری اپنی اپنی سطح پر ان کی تفہیم کرتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ان نظموں پر گفتگو اتنی آسان نہیں ہے ۔ ان سے پورے طورپرلطف اندوز ہونے کے لیے اس کتاب کے عمیق مطالعے کے ساتھ ساتھ مختلف علوم سے آگاہی بھی ضروری ہے۔
اس موقع پر اختررضاسلیمی نے اپنا کلام بھی سنایااور خیالات کا اظہار بھی کیا۔ ان کا کہناتھا کہ میں غزل کی تنگ دامنی کا قائل نہیں ،جس صنف میں میر،غالب اور اقبال جیسے عظیم شعرا نے اظہار کیا ہو، وہ تنگ دامن کیسے ہوسکتی ہے ۔نظم کی طرف میرے آنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ میرے کچھ ایسے موضوعات تھے جو جزیات کے متقاضی تھے۔کچھ مضامین،کچھ خیالات غزل میں نہیں ،نظم میں بہتر طریقے سے پیش کیے جاسکتے ہیں۔ تقریب کی نظامت کے فرائض عظیم حیدر سید نے انجام دیے۔ آخرمیں عظیم حیدرسید اور معروف ڈرامہ نگار سیماغزل نے شرکا اور مہمانوں کا شکریہ اداکیا۔
Viewers: 1588
Share