ایوانِ اقبال دبئی کے ذیرِ اہتمام ’’پہلا ماں بولی پنجابی مشاعرہ۲۰۱۳‘‘کا انعقاد

۔ ماں بولی پنجابی زبان کے فروغ کے لئے ہم نے عملی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے:اقبال پرنس
ابوظہبی میں پنجابی زبان کے لکھاری راجہ محمد احمد کی میزبانی میں پاک پنجابی ادبی پریاھ کے زیرِ اہتمام پنجابی
مشاعرے کا انعقاد ۔ڈاکٹر عاصم واسطی،طارق حسین بٹ کا اظہار خیال

ابوظہبی:حسیب اعجاز عاشرؔ : خیالات کے اظہار کے لئیہاتھ اور زبان بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔اشاروں کی زبان ہو یا پھر ہاتھ سے قلم تھامنے ،حرف،لفظ اور جملے بنانے اور اُس میں اثر ڈالنے کیلئے انسان کو بہت وقت اور تجربہ درکار ہیمگر زبان کا سہارا تو پیدائش سے ہی لیا جاتا ہے۔اِس اللہ کی عظیم نعمت کی قدر اُن سے پوچھیئے جو قوتِ گویائی سے محروم ہیں۔زبان ہی کی بدولت دنیا،ملک ،صوبے ،شہر اور بستی بستی،کوچہ کوچہ آپس میں منسلک رہتے ہیں۔ بین الاقوامی زبان، قومی زبان، مادری زبان کی اپنے اپنے دائرہ کارمیں بڑی اہمیت ہے۔ہمیں فخر ہے کہ ہماری قومی زبان اُردونے بھرپور توانائی کیساتھ، دنیا میں خصوصاہمسایہ ممالک اور خلیجی ریاستوں میں وقار حاصل کر رکھا ہے جہاں یہ بولی اور سمجھی جاتی ہے۔لیکن اگر ہم پنجاب کی ماں بولی زبان پنجابی کا ذکر کریں تویہ ایک سو تیس ملین لوگوں کی ماں بولی زبان ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کی دس مقبول ترین بولی جانے والیں زبانوں میں سے ہے۔تقریبا۹۳ فیصد کا تعلق پاکستان اور انڈیا سے ہے جو کہ تقریبا ۷۶ ملین ہیں۔اکثریت کا تعلق پاکستان سے ہیجو آبادی کا ۴۴ فیصد ہیں۔پنجابی زبان یوکے اور کینڈا سمیت کئی ممالک میں اقلیتوں کی زبان بھی تصور کی جاتی ہے۔علاقائی اعتبار سے یہ کئی لہجوں میں موجود ہے ،جسیے مجھی، پوٹھوہاری، ہندکو اور ملتانی،پہاڑی، دھانی، شاہ پوری، جھنگ گوچی، ریاستی، سرائیکی، ڈوگری، چھاچی، رچناوی وغیرہ، مگر ایک دوسرے سے مناسبت رکھنے کے باعث سب ایک دوسروں کو با آسانی سمجھ لیتے ہیں
اگر اِس کے فروغ کے حوالے سے بات ہو تو سرحد کے اُس پار توپنجاب میں بسنے والوں نے پنجابی زبان کو دنیا میں ایک مقام دلوایا اوراِسی کے بل بوتے نمایاں شناخت حاسل کی۔مگر سرحد کے اِس پار بابا فرید گنج شکر، حضرت سلطان باہو،بابا بلھے شاہ اور میاں محمد بخش،وارث شاہ کی اِس پنجابی زبان کے فروغ کے لئے جس دلجمعی ،پیمانے ،انداز اور رفتار سے کام ہونا چاہیے تھا نہ ہو پایا،اسکی ذمہ داری حکومت کی بے حسی قرار دینے والوں کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ یہاں تو اپنی ماں بولی زبان پنجابی کو گھروں سکولوں کالجوں اوردوست احباب کی محافل میں بولنے کے بجائے اُردو بولنے میں فخر محسوس کیوں کیا جاتا ہے؟؟کیا یہ حیران کُن نہیں کہ اُردو بعد میں آنے والی زبانوں میں سے ہو کر ایک مقام حاصل کر چکی ہے اور اسکے فروغ میں تو پنجاب کی ہی خدمات کو خوب سراہا جاتا رہاہے،مگر اب ایک بات کافی خوش آئندنظر آ رہی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سوچ میں بھی تبدیلی زور پکڑ رہی ہے اور یہ احساس جاگ رہا ہے کہ ہمیں اردو کی طرح پنجابی زبان کے فروغ کے لئے بھی اپنے اپنے حصے کی کوشش کرنی ہے۔پنجابی اخبارات، رسالے میگزین،ٹی وی چینلز، ریڈیو چینلز ، منعقد ہونے والے پنجابی ادب کی محافل اور پنجابی شعرو ادب سے نوجوانوں کا بڑھتا ہوا رحجان اِس بات کامنہ بولتا ثبوت ہیں کہ ہم اِس حوالے سے اپنی راہوں کا تعین کر چکے ہیں،سمندر پار بسنے والے پاکستانیوں میں بھی اِس لگن کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے کہ اپنی ماں بولی زبان پنجابی کو فروغ دینے کے لئے اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں۔اور یہلگن گرم و خشک موسم میں کسی خوشگوارخوشبودار ہوا کے ٹھنڈے جھونکے سے کم نہیں ہے۔
شارجہ کے ایک مقامی ہوٹل میں اِسی حوالے سے ’’پہلا ماں بولی پنجابی مشاعرہ۲۰۱۳‘‘کا انعقاد ایوانِ اقبال دبئی کے زیرِاہتمام ہوا ۔میزبان تقریب اور ایوانِ اقبال کے صدر معروف سماجی و سیاسی شخصیت پرنس اقبال گورایا نے تقریب سے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم نے اُس سفر کا آغاز کر لیا ہے جو ہماری ماں بولی زبان پنجابی کے فروغ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا،مہمان خصوصی پریس قونصلر دبئی عبد الواحد نے اِس موقع پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ قابلِ تحسین بات ہے کہ دیارِ غیر میں اردو ادب کے ساتھ پنجابی ادب کے فروغ کے لئے بھی کاوشوں کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔تقریب کی صدارت نامور ادیب ع۔س۔مسلم نے کی،ایوانِ اقبال لیڈیز ونگ کی صدر ڈاکٹر ثمینہ چوہدری نے مہمانِ اعزازی کی حثیت سے شرکت کی،تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا ۔نعت رسول مقبولﷺ پیش کی کرنے کی سعادت قاری جمیل کے حصے میں آئی ۔نظامت کے فرائض ظہیر بدر اور حفیظ عامر نے بڑی خوش اسلوبی سے ادا کئے،شعراء اکرام جن میں امجد اقبال امجد، مقصود احمد تبسم، سرفراز علی حسین، حفیظ عامر، فقیر سائیں، ڈاکٹر وحید الزمان طارق، ک۔م۔حسرت شامل تھے نے اپنا اپنا منفرد پنجابی کلام پیش کرکے خوب داد و تحسین کے حقدار بنے ۔جہاں شعراء اکرام کا دلکش کلام قابلِ سماعت تھا وہاں با ذوق سامعین کی دلچسپی بھی قابلِ دید تھی۔تقریب میں مہمان خصوصی پریس قونصلر دبئی عبد الواحد ، میاں منیر ہانس اورمسز وحید طارق، طاہر منیر طاہر، حافظ زاہد، یاسر امتیاز، خالد اعوان، مرزا اقبال، بابر عزیز بھٹی، حاجی محمد یونس، چوہدری ریئس، ابراھیم واصف سمیت پنجابی ادب سے لگاؤ رکھنے والی پاکستان کی نمایاں شخصیات خصوصا سرائیکی کمیونٹی کی کثیرتعداد نے شرکت کی۔
ابوظہبی میں پنجابی ادب کے ہی حوالے سے چند روز قبل بھی معروف پنجابی زبان کے لکھاری راجہ محمد احمد کی میزبانی میں پاک پنجابی ادبی پریاھ کے زیرِ اہتمام پنجابی مشاعرے کا انعقاد کیا گیا،طارق حسین بٹ نے نظامت کے فرائض با حسن خوبی سر انجام دیئے۔صدر تقریب ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پنجابی زبان کے احیا کیلئے موجود دور کے ادبا اور شعراٗ کو اپنے نئے افکار کے ساتھ سامنے آنا ہو گااور جدید دور کے تقاضوں کے سامنے رکھتے ہوئے اس کے احیا کا مجرب نسخہ ہے۔اُن کا کہنا ہے کہ پنجابی زبان کی شیرینی اسکی وسعت اورا س کی ہمہ گیری کے پیشِ نظر مجھے یقین ہے کہ یہ زبان ایک دفعہ پھر اپنا کھویا ہوامقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیگی،میزبان تقریب راجہ محمد احمد تقریب سے خطاب کرنے ہوئے کہا کہ بیوروکریسی کی سرد مہری بھی پنجابی زبان کی راہ کا سنگِ گراں ہے، اشرافیہ بھی اسے پیچھے دھکیلنے میں سرگرم عمل ہے اور یوں پنجابی کو اپنے ہی گھر سے دیسن کالا دے دیا گیا ہے۔دس کروڑ انسانوں کی زبان کوئی معمولی بات نہیں ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ کوئی بھی دس کروڑ انسانوں کو ان کی زبان دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔حکومتی اہلکار انہیں گونگا اور بہرہ بنا کر رکھنا چاہتے ہیں تا کہ ایک خاص طبقہ اور گروہ ان پر اپنی حکمرانی قائم رکھ سکے اور عوام کا یہ ہجوم ان کے مقابل کھڑا ہونے کی جسارت نہ کر سکے ۔ہمارامطالبہ ہے کہ پنجابی زبان کو صوبے کی سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے۔طارق حسین بٹ نے کہا کہ دنیا کی ساری زبانیں قابلِ احترام ہوتی ہیں کیونکہ یہ انسانوں سے درمیان رابطے کا کام کرتی ہیں۔ساری زبانوں کا احترام ہر شخص پر لازم ہوتا ہے کیونکہ اس میں ان کی اپنی زبان سے محبت کا راز بھی پنہاں ہوتا ہے۔یہ ممکن نہیں ہے کہ دوسروں کی زبانوں کو حقیراور کمتر سمجھ کر نظر انداز کر دیا جائے لیکن اپنی زبان کو تقدس و تفا خر عطا کر کے اس کی عظمتوں کے زمزمے بہائے جائیں۔اس طرح کے منفی رویوں کو کوئی بھی قوم شرف قبولیت بخشنے کے لئے تیار نہیں ہوتے کیونکہ نفرت بانجھ پن کی کیفیت کا نام ہے جبکہ محبت ایثار قربانی اور وسعت قلبی کا نام ہے جو کبھی کبھار عزیز ترین کو بھی قربان کر دینے کا جگرا عطا کرتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ محبت بے لوث قربانی سے ہی تقویت پذیر ہوتی ہے اور اس کی یہی تقویت پزیری بڑے مثبت نتائج پیدا کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب پاکستان کی سب سے بڑی اکائی ہے جس کی ماں بولی پنجابی ہے اور پنجاب کی اکثریتی عوام کا ذریعہ اظہار ان کی یہی ماں بولی ہے لہذا عوام کی دیرینہ خواہش ہے کہ ان کی ماں بولی کو اس کا مناسب مقام و مرتبہ عطا کیا جائے لیکن بدقسمتی کی انتہا یہ ہے اس ماں بولی کی ترویج اور فروغ کے لئے مناسب کاوششیں نہیں ہو رہیں جس سے پنجابی زبان تنزلی کا شکار ہو کر رہ گئی ہے۔ہمیں نے اپنی کاوششوں کو عملی صورت دے دی ہے۔ اور پنجابی فروغ کے لئے ایسی محافل کا انعقاد کا سلسلہ جاری رہے گا۔

Viewers: 1347
Share