Imran Akif Khan | Afsana| صبا

عمران عاکف خان imranakifkhan@gmail.com 09911657591 85،ڈیگ گیٹ گلپاڑہ،بھرت پور (راجستھان) صبا نفیس ہو ٹل آج بہت ہی زبردست رعنائیوں اور خوبصورتیوں کا مظاہر ہ کر رہی تھی ۔شاید آج کل […]
عمران عاکف خان
imranakifkhan@gmail.com
09911657591
85،ڈیگ گیٹ گلپاڑہ،بھرت پور (راجستھان)
صبا
نفیس ہو ٹل آج بہت ہی زبردست رعنائیوں اور خوبصورتیوں کا مظاہر ہ کر رہی تھی ۔شاید آج کل اس کا انتظام ہی اتنا اعلا ہو گیا تھا ورنہ پہلے تو اس کا شمار متوسط ہوٹلوں میں ہوتا تھا۔میں آج چو نکہ بیس سال بعد جے پور ایک کیس کے سلسلے میں آیا تھا ۔ہوٹل کے دریچوں سے باہر کھلے میدان میں آم ‘ امرو د اور لمبے لمبے ناریل کھڑے سبک رفتار ہواسے اٹکھیلیاں کر رہے تھے ۔اس سے کچھ دور شفاف پانی کی نہر بہہ رہی جس پر رنگ برنگے پرندے منڈلا رہے تھے۔ کچھ اتر رہے تھے اور کچھ اڑان بھر رہے تھے۔ شہر جے پوری کی فلک بوس عمارتیں اپنے حسن اور رعنائیوں کے جلوے دکھارہی تھیں۔بہت حسین تھا یہ منظر ‘بہت دلکش تھا یہ نظارہ میں اسے نہ جانے کب تک دیکھتا رہتا ہے ایک جانی پہچانی سی آواز نے یہ سلسلہ ختم کر دیا….
’’جی ! میں آپ کی کیا خدمت کرسکتا ہوں ؟‘‘بوڑھے صغیر ے نے مینو کارڈ میرے سامنے رکھتے ہو ئے ۔
’’صغیر صاحب !آپ میرے لیے جو بھی پیش کر دیں گے میں خوش دلی سے قبول کر لوں گا۔‘‘ میں نے کہا۔
صغیر صاحب میرا منہ دیکھتے رہ گئے ۔یہ نام انھوں نے آج شاید بیس سال بعد ہی سنا تھا ۔ سب اسے’’ صغیرے‘‘ ہی کہتے تھے ۔آج سے بیس سال پہلے میں یہیں ملٹری اسٹاف کالج میں پڑھتا تھا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہوٹل کے باغ کے آم اور دوسرے پھل پتھر مار مار کر توڑتا تھا اس وقت صغیرے‘میرا مطلب صغیر احمدکی دل خراش دہاڑہمارے معصوم دلوں میں ہلچل مچادیتی اور ہم سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ کھڑے ہوتے ۔وہ بھی دوڑتے اورمیں اکثر ان کے ہاتھ آجا تا بس پھر کیا ہوتا ۔لات گھونسے ‘پٹائی اور مار….میں کان پکڑتا ہوا وہاں سے چلا آتا اور میر ے ساتھی جو کہیں چھپ کر اس مہابھارت کا نظارہ کر تے نکل نکل کر مجھے تسلیاں دیتے اور میں سب بھول بھال کر ویسا کا ویسا۔ سلسلہ تعلیم ختم ہونے کے بعد مجھے محکمہ سراغرسانی میں ایک بڑی پوسٹ حاصل ہو گئی ۔
’’صاحب ! میں سمجھا نہیں آپ کیا کہہ رہے ؟‘‘صغیر صاحب نے میری یادوں کا سلسلہ توڑ دیا ۔
’’میں ‘صغیر صاحب کہہ رہا ہوں اور یہ کہ آپ میرے لیے کچھ بھی لے آئیں۔‘‘میں نے قدرے تیزلہجے میں کہا……
’’تو آ…آ …آپ عارفین ہیں …ارے میرے عارفین ….‘‘کہتے کہتے صغیر صاحب مجھے سے لپٹ گئے …’’.میرے بچے !میرے لال ….ارے تو کہاں چلا گیا تھا ….بیٹا تیرے جانے کے بعد تیری در قدر ہو ئی ….‘‘صغیر صاحب وفور خوشی اور مسرت کے یکبارگی جوش کے عالم میں نہ جانے کیا کیاکہتے جارہے تھے اور مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے کسی تھکی ہاری بیٹی کو ماں نے گلے لگالیا ہو اس کے اس کے غم دکھ خود میں جذب کر نے کے لیے۔
’’سر !گاڑی آگئی ہے ….‘‘میرے اسسٹنٹ نے اطلاع دی اور میں جلدی سے صغیر صاحب سے الگ ہوگیا ۔وہ میرے لیے کچھ لانے کے لیے دوڑ گئے ۔ میرا سسٹنٹ مجھے ایسے دیکھنے لگا جیسے میں کسی دوسرے ستارے کی مخلوق ہوں ….
’’سر آپ …یعنی کہ آپ….‘‘میرا سسٹنٹ گھورتی نظروں کی تاب نہ لا کر بس اتنا ہی کہہ سکا ۔
’’ہاں میں !میں بھی انسان ہوں مسٹر حارث…سچے پیار اور خلوص کا پیاسا ‘ جہاں پیار ملتا ہے اسی طرح سر جھکاکر روحانی خوشی پاتا ہوں ۔‘‘میں نے من ہی من کہا اور پھرجلدی سے بات بنا ئی …
’’وہ دراصل کچھ بھی نہیں وہ میرے کان میں کچھ کہہ رہے تھے …‘‘اتنا خوبصورت جھوٹ میرے اسسٹنٹ کی دل گہرائیوں میں اتر گیا تھا۔ اس نے باتوں کا سلسلہ دوسری طرف کر تے ہو کہا۔
’’سر وہ لڑکی بالکل بے قصور ہے ‘مجھے پتا چلا کہ اسے پھانسنے کی کوشش کی گئی ہے۔سر پلیز آپ کچھ کیجیے‘ وہ پڑھ رہی ہے ‘اس کی تمام پڑھائی اور خواب غارت ہو جا ئیں گے سر پلیز… آپ کا ایک بیان اس کی زندگی بنا سکتا ہے۔‘‘حارث گو یا گڑگڑا رہا تھا۔میں حیران تھا کہ آخر اسے کیا ہو گیا ۔ اچانک مجھے پچیس سال پہلے کا واقعہ یا د آگیا۔
ساجد نگر کے سلم ایرئے میں میرے والد صاحب بی ڈی او بن کر آئے ۔سلم ایرئے میں ہماری کوٹھی کے آگے سارے مکان کسی دیو کے آگے بونے جیسے لگتے ۔ بڑا مکا ن‘صاف ستھرا‘ ہوادار چھت ‘گاڑی‘ نوکر چاکر کیا نہیں تھا ہمارے پاس ۔ان تمام اسباب نے مجھے مغرور بنا دیا ۔بڑے گھر کے ہر بیٹے کی طرح میں بھی بڑا تھا اور جھگی جھونپڑیوں میں رہنے والے لوگوں کو انتہا ئی کم تراور زمین کا بوجھ تصور کر تا تھا ۔مگر ان ہی لوگوں میں ایک لڑکی تھی جو ہمارے بنگلے سے پانچ مکان چھوڑ کر رہتی تھی۔صبا ….اس کا نام صبا تھا ۔ اس کا مکان پکا اور کچھ حدتک صاف ستھرا تھا ۔اس کا باپ درزی تھا اور اس لیے گذر بسر میں کو ئی پریشانی نہیں تھی۔وہ لڑکی ہمارے ہی کالج میں پڑھتی تھی ۔سانولی سی رنگت ‘جھیل جیسی آنکھیں متناسب اعضا اور دلکش ناک نقشہ …..کاش اگر اس کا رنگ تھوڑا اور صاف ہوتا تو مس ورلڈ کے عہدے پر ہمیشہ فائق رہتی ….. اس کے علاوہ ذہین حاضر جواب ‘احساس ذمے داری اور فرض کے تئیں سنجیدہ ‘دوسروں کی مدد کر نے والی…..ایسے لوگوں کی طرف عموما کھنچا ؤ بہت جلد ہوتا ہے ۔ میں بھی کھنچا اور اتنا قریب ہوا کہ اسے اپنے دل کی دھڑکنوں میں محسوس کرنے لگا۔مگر اس کی نظرمیں ‘ میں ناکارہ ‘ماں باپ کا پیسہ بر باد کر نے والا اورنکما انسان تھا اس لیے وہ میری طرف متوجہ تک نہیں ہو ئی …. .اعلا خاندان کے لڑکوں کی یہ ریت ہمیشہ رہی ہے کہ اگر کو ئی سیدھے منہ ان سے بات نہیں کر تا تو وہ منہ توڑ کر اس سے بات کر تے ہیں ….مجھے صباکے اس رویے سے شدید جھٹکا لگا اور میں نے سوچ لیا کہ اب صبا کا ہاتھ پکڑ کر ہی اپنی محبت کا اظہار کر وں گا….ایک دن ایسا کر بھی گزرا….بس وہ دن صبا کا کالج کا آخری دن تھا ۔اسے گھر پر بٹھالیا گیا تھا ۔گر یجویشن کے آخری سال کا بس ایک مہینہ بچا تھا کہ بچاری صبا پر یہ قیامت ٹوٹی .. . . میری وجہ سے تباہی آئی ….میں چو نکہ بڑے گھڑ کا بیٹا تھا اس لیے کسی میں مجھ سے کچھ کہنے کی ہمت نہیں تھی صبا کو سب مجرم بتا رہے تھے۔عام طور پر یہ جملہ تو ہر کس کی زبان پر تھا ’’درزی کی چھوکری بڑے گھرکے سپنے دیکھ رہی تھی ‘بی ڈی او کے بیٹے پر ڈورے ڈال رہی تھی …وہ تو اچھا ہواہوا کہ اوقات دکھادی اسے ….بتا ئیے خاک بھی اڑنے لگی ۔اپنی اوقات سے آگے بڑھنے کا یہی نتیجہ ہوتا ہے۔…‘‘لوگ تھے اور ان کے منہ ‘جن سے کبھی خیر کی باتیں نہیں نکلیں ہاں برائیوں کے انھوں کے اتنے پلندے باندھ دیے تھے جن کو اٹھانے سے صبا اور اس کے گھر والے قاصر تھے۔
’’یہ میں نے کیا کر دیا تھا ….ارے یہ میں نے کیسے کردیا….‘‘انتہائی کر ب ‘دل چیرنے والا درد اورمجھے میری ہی نظروں میں گرانے والے احساس نے مجھ پر یکبارگی حملہ کر دیا ‘ میں سر پکڑ نے علاوہ کچھ نہ کر سکااور بھری بھری دیواروں کی طرح صوفے پر ڈھیر ہو گیا ۔….میرا اسسٹنٹ دوڑ کر میرے لیے پانی لا یا ۔صغیر صاحب بھی آگئے اور میری حالت دیکھ کرپر یشان ہو گئے ….
’’کیا ہوا بیٹے ….کیا ہوا ….‘‘اس کی آواز میں اپنائیت و ہمدردی کے سمندر مچل رہے تھے ۔میں آنکھیں بند کیے لیٹا رہا پھر تھوڑی دیر بعد سنبھل کر بیٹھ گیا ….
’’کچھ نہیں صغیر صاحب !بس اچانک نہ جانے کیا ہوا تھا۔‘‘میرے جواب سے صغیر صاحب کچھ مطمئن ہو گئے اورمیرے سامنے کھانا لگانے لگے ۔ حالانکہ صغیر صاحب اب بھی پوری طرح مطمئن نہیں تھے لیکن سعادت مندی سے میز پر کھانا لگا رہے تھے …..
’’صغیر صاحب !‘‘میں کھانے کے دوران مضمحل آواز میں کہا ۔
’’ہاں میرے عارفین بولو …‘‘صغیر صاحب کسی باپ کی طرح بولے…’’ساجد نگر میں محمد اسلام نام کے ایک درزی رہتے تھے آپ کو ان کے بارے میں کچھ علم ہے ..؟‘‘میں نے پوچھا ۔صغیر صاحب پہلے تو میری طرف دیکھتے رہے پھر بولے ۔
’’ارے بیٹا کیا پوچھتے ہو ان کے بارے میں ….ان پر تو قیامت ٹوٹی تھی بے چارے تین سا ل پہلے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر گئے ‘لوگوں نے انھیں ایسے ہی ذلیل کیا تھا ….اس کی بیٹی کسی بی ڈی او کے لڑکے کے چکر میں تھی ‘ایک دن راز فاش ہوا اور بستی کے لوگوں نے اس سے بائیکاٹ کر لیا۔وہ سب سے الگ تھلک ہوگئے ‘ بیٹی کا غم انھیں ناگ کی طرح ڈسنے لگا ۔صبا نے بہت کہا کہ میری غلطی نہیں ہے مگر کون سنتا اس کی ۔ایک دن اس کی ماں ان حالات کو برداشت نہیں کر سکی اور چل بسی ۔محمد اسلام کی بیماری اس دکھ سے اور بڑھ گئی۔وہ دل کے مریض ہو گئے اور محلے والوں نے اسے کوڑے کے ڈھیر پر ڈال دیا اور پھر ایک دن اس کی لاش کے پاس سب جمع تھے۔….‘‘صغیر صاحب اتنے سفاک انداز میں کہہ رہے تھے کہ خدا کی پناہ ….اور میں‘میں لفظ لفظ‘ایک ایک جملے‘ ایک قیامت پر اپنے وجود کو فنا کررہا تھا ….وہ میں ہی تھا جس نے اس آباد اور خوشحال گھر کو اجاڑ کر ایسا بنا دیا کہ ویرانوں کو بھی اس سے وحشت آئے….لیکن اب ….اب کیا کر سکتا تھا میں …. اچانک میرا ملٹی سیمسنگ وائی موبائل بجاجس کے ساتھ ہی میرا احتساب شروع ہو گیا ۔
’’ہاں نجمہ کیسی ہو ‘ارے کیا ہوا تجھے ‘نجمہ …رو کیوں رہی ہو ….سنو تو ….‘‘میرے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں ….’’سلیمہ اغوا ہو گئی …ا…و….ر ‘‘نجمہ نے بد قت کہا اور میں تیزی کے عالم میں حارث کا ہاتھ پکڑ کر باہرچلاآیا۔
Viewers: 2834
Share