Dr. Khalid Bajwah | فرخندہ رضوی۔۔۔ ایک معتبر رشتہ دھرتی اورمصنفہ سے

ڈاکٹر خالد باجوہ ریڈنگ۔ انگلینڈ فرخندہ رضوی۔۔۔ ایک معتبر رشتہ دھرتی اورمصنفہ سے فرخندہ رضوی سے میری ملاقات ریڈنگ میں ہوئی لیکن فرخندہ سے میرا ایک معتبر حوالہ ہے اور […]

ڈاکٹر خالد باجوہ
ریڈنگ۔ انگلینڈ

فرخندہ رضوی۔۔۔ ایک معتبر رشتہ دھرتی اورمصنفہ سے

فرخندہ رضوی سے میری ملاقات ریڈنگ میں ہوئی لیکن فرخندہ سے میرا ایک معتبر حوالہ ہے اور یہ حوالہ میری پیاری دھرتی کا ہم دونوں کا تعلق ایک ہی دھرتی سے وہ دھرتی ڈاکٹر علامہ اقبال اور فیض احمد فیض کے حوالے سے بہت بڑا مقام رکھتی ہے۔شہر سیالکوٹ علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے اس کی فضائیں اور ہوائیں اپنے اندر قوت تخلیق رکھتی ہیں ۔جو قالب میں ڈھلتی ہیں تو اقبال و فیض پیدا کرتی ہیں ۔فرخندہ نے بھی انہی ہواؤں و فضاؤں میں پرورش پائی ہے۔ایک احساس طبیعت ہونے کے ناطے ان میں ذوق علم وادب و شاعری نے اپنی ایک جگہ بنا لی ہے۔
فرخندہ رضوی کو جب بھی میں نے دیکھا ہمیشہ مسکراتے ہوئے پایا مگران کی شاعری میں فنی عنقا نظر آتا ہے ۔شاعری میں اُداسی و غم ،زخم ،خودداری،حسرت و ناکامی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں مگراِس کا مطلب یہ نہیں کہ رجائیت بلکل ناپائید ہے ،مثلاََ
گھر کے آنگن میں دھواں ہے ایسا
میری دنیا ہی جلی ہو جیسے
فرخندہ کی شاعری میں ایک زندگی دُھند کی مانندہے اور یہ سفر کٹھن اور مشکل ہی نہیں بلکہ اُس میں ہر جگہ مشکلیں اور مُصیبتیں گھات لگائے بیٹھی ہیں ۔جیسے خود ایک جگہ کہتی ہیں
میری تقدیر میں خدا کیا ہے
ہار ہے جیت ہے کیا ہے
جاہ وحشمت ہو چاہے دولت ہو
دہر میں تیرے ماسوا کیا ہے
زندگی کے اِس سفر میں وصل و ہجر کے تجربات بھی بڑے دُکھ دینے والے ہیں ناوصل میں قرار نا ہجرمیں مقام ،اکثر ہی جگہ پر فرخندہ ایک مسلسل اضطرابی کیفیت سے دو چار نظر آتی ہیں۔محبت ایک ایسا جذبہ ہے جس سے ہر کوئی دوچار ہوتا ہے ۔محبت زندگی کی روح رواں ہے لیکن یہ بہت عجیب بات ہے کہ اردو ادب میں محبت نے غم زیادہ اور سُکھ کم دیئے ہیں اس کی وجہ برصغیرہندو پاک کی مٹی میں زندگی کو ایک گراں بار ہی سمجھا گیا ہے ۔ہماری شاعری اور ادب گلے شکوؤں سے بھرا پڑا ہے ۔
محبت میں ملتی ہیں کیا کیا سزائیں
غزل میں سمونے کو جی چاہتا ہے
سجاتی ہوں خندہ ؔ اندھیروں کی محفل
کہ خوابوں میں کھونے کو جی چاہتاہے
اور فرخندہ نے ایک جگہ تو حد ہی کر دی کہ میں اس کے ان اشعار میں ڈوب سا گیا ۔کبھی ان اشعار اور کبھی اس کے مسکراتے چہرے اور پھر اس کے پہلو میں بسی خوابوں کی دنیا کو ایک نظر دیکھنے نکل جاتا ۔
محبت کی فطرت میں ہے بے وفا ئی
محبت سے ہے لاتعلق خدائی
( یہ دو سے زیادہ نظریات کے درمیان غوطہ زن نظر آتی ہیں )
محبت جلوہ حق ہے ازل سے
جو بستی ہے دِلوں میں
محبت ایسا جذبہ ہے
رہے گا جو روز ابد تک
محبت ہی تو ہے بیشک محبت
جو تخلیق دو عالم کا سبب ہے
محبت فاتح عالم ہے،سچ ہے
نظام دہراِس سے ہے قائم
محبت یہی ہے آخر
فرخندہ کی زیر نظر کتاب 249249 زیر لَب خندہ ،، دراصل صرف فرخندہ کے جذبات و خیالات کا سفر ہی نہیں بلکہ ہو ایک عورت کا سفر ہے۔فرخندہ کو رشتوں کی پہچان ہے بہت سے شعرأ کے طرح شاعرہ نے ماں کو بھی موضوع سخن بنایااور کیا خوب بنایا۔اِس نے ماں سے محبت کا اظہاربہت دلکش انداز میں بیان کیااور اِس سے بچھڑے کے احساس کو کچھ اس طرح اپنے شعروں میں سمویاکہ کوئی بھی پڑھنے والااِس کو اپنا داتی غم سمجھے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ماں کی بچوں کے لیئے اہمیت کیا ہے ملاحظہ کیجئے
دُور ہو جاتی ہیں اُن کی مشکلیں
ہاتھ اُٹھا کر بچوں کو جب دعا دیتی ہے ماں
مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ فرخندہ اپنا کلام لکھتے ہوئے ایک ایسے رشتے کو نہیں بھولی جو انسانی زندگی میں اہمیت کا حامل ہے لیکن اکثر شعرأ نے اِس رشتے کو نظر انداز کیا ہے
اور وہ رشتہ ہے باپ کا ۔
اُس کے اِس رشتے سے ہے اسکا رُتبہ اُس کا نام
باپ آخر باپ ہے ،ہے باپ کا اعلیٰ مقام
باپ کا جو دل دُکھائے ،چین پا نہیں سکتا
واضح ہے وہ جنت میں جا نہیں سکتا
ذاتی ،انفرادی اور عورت کے سفر سے ہٹ کرفرخندہ رضوی نے معاشرتی مسائل کو بھی اپنا موضوع بناکر دلیری و ہمت کا مظاہرہ کیا ہے کہ اُس نے الفاظ،خیالات و قوتِ اظہار میں بڑے بڑوں کو شرمندگی کی چادر اُڑھنے پر مجبور کر دیا ۔
دین کے کیسے یہ نگہبان ہیں یہ
نہ عیسائی ،نہ ہندو،نہ مسلمان ہیں یہ
یہ تو قاتل ہیں جلاد ہیں ،شیطان ہیں ہی
ہیں تو انسان نما،کب یہ انسان ہیں یہ
ٓآخر میں میری دعا ہے کہ فرخندہ رضوی کا یہ علمی سفر جاری و ساری رہے اور ہم اِس کے انوکھے اور اچھوتے خیالات سے مستفیدہوتے رہیں ۔میں اس کے شعری مجموعے
زیر لَب خندہ کی کامیابی کے لیئے دعا گو ہوں اور مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

Viewers: 3252
Share