Suhail Saqib | سامعہ، ناصر ملک اور میں

سہیل ثاقب دمام۔ سعودی عرب سامعہ ، ناصر ملک اور میں خلیجی ساحل، بحرین کا سمندری پل، خوشگوار ہوا، میں اور ناصر ملک۔۔۔ کافی پینے کے دوران ہمارے درمیان چھڑا […]
سہیل ثاقب
دمام۔ سعودی عرب
سامعہ ، ناصر ملک اور میں
خلیجی ساحل، بحرین کا سمندری پل، خوشگوار ہوا، میں اور ناصر ملک۔۔۔
کافی پینے کے دوران ہمارے درمیان چھڑا ہوا موضوع۔۔۔’’سامعہ کیا ہے؟‘‘
یہ تجسس تھا جو سوال بن کر میرے لبوں پر ثبت تھا اور سرجھکائے بیٹھا ہوا ناصر ملک ۔۔۔ نوٹ پیڈ پر آڑی ترچھی لکیریں کھینچتا ہوا۔۔۔ رُک رُک کر بولتا ہوا۔۔۔’’سہیل صاحب! میں تو سامعہ کو بس اس حد تک جانتا ہوں کہ اس کا ہونابشارت، نہ ہونا عذاب، روٹھنا امتحان، ماننا احتساب، سننا وبالِ جاں، نہ سننا خلا ، پوچھنا تصدیق اور خاموش رہنا تنقید ہوتا ہے۔‘‘
میری حالت دگرگوں۔ کیا پوچھوں؟
وہ بولا، ’’خوش بخت ہوں کہ مجھے سامعہ مل گئی۔ ملی تو آپ کو بھی ہے، مگر آپ اسے اہمیت نہیں دیتے اس لیے عذابِ شعر سے محفوظ رہتے ہیں۔‘‘
مجھے ناصر ملک سے شناسائی کا دورانیہ حاصل رہا۔ آشنائی کیلئے ایک ماہ ملا۔ اس ایک ماہ میں اس محبت جو شخص نے مجھے قدم قدم پر چونکایا۔ جتنا بڑا شاعر، اتنا بڑا انسان۔ جتنا بڑا افسانہ نگار، اتنا بڑا دوست۔ بچوں کی طرح شوخ اور لڑکوں کی طرح پرجوش۔ جوانوں کی طرح مضبوط اور بوڑھوں کی طرح مفاہمت شناس۔ مزاح میں دل موہ لیتا تو ادبی گفتگو میں دماغ۔ کبھی آنکھوں سے بات کرتا تو کبھی اشاروں کنایوں سے بڑی بڑی باتیں کر جاتا۔ اس کی خاموشی میں بھی طویل گفتگو پنہا ں تھی۔ گفتگو میں بسیط خلا۔ ہر وقت نئی جگہ دیکھنے کا اشتیاق۔ ہر وقت نئی شعری بساط بچھانے میں گم۔ افسانہ ہو یا شعر، تنقید ہو یا تاریخ ۔۔۔ وسیع مطالعہ اور عمدہ نتیجہ۔
’’سہیل صاحب! سامعہ مجھے پوری طرح ڈبو چکی ہے۔ اب اس کا صرف ایک ہی کام باقی ہے کہ مجھے پوری قوت سے سطحِ آب پر ابھار دے۔‘‘
’’کیا یہ کام سامعہ کر پائے گی؟‘‘
جواب ندارد۔ نظریں پیڈ پر ثبت۔ جونہی ہوا کے ایک جھونکے نے ہماری میز پر پڑے کاغذ اُڑائے، وہ چونکا۔ مسکرایا۔ بولا، ’’یہ تو اب اسی پر منحصر ہے کہ وہ مجھے ابھار پاتی ہے یا تہہِ آب رکھتی ہے۔‘‘
’’کیا نثرپاروں اور شعری داستانوں کا امتزاج اچھا تجربہ ہو گا؟‘‘
’’مرشد! کچھ معلوم نہیں۔ مگر جو کچھ میرے اور سامعہ کے درمیان چل رہا ہے، میں اُسے پوری دیانت داری کے ساتھ اپنے قاری کے روبرو رکھنا چاہتا ہوں۔ میں اس کتاب میں کوئی تیسرا وجود کھڑا نہیں کرنا چاہتا۔ کوئی رائے دہندہ، کوئی تقریظ کار، حتی کہ کوئی اضافی یا رکاوٹی صفحہ۔‘‘
اور پھر مجھے یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ ناصر ملک اور سامعہ کی وہ گفتگو جو ابھی صفحہ ءِ اشاعت پر نہیں آئی تھی، وہ میری فرمائش کے جواب میں مجھے سننے کو مل گئی۔ وہ بولتا رہا۔ میں سنتا رہا۔ شعر ، نثر پارے، گفتگو ۔۔۔ وقت شاید تھم گیا تھا یا ہمارے درمیان ٹھہر کر سامع بن گیا تھا کہ دوپہر سے شام ہو گئی، چائے کے کئی کپ خالی ہو گئے، کئی فون بیلز تشنہ رہیں مگر مجھے ناصر ملک کے توسط سے اس کی سامعہ سے آشنائی نصیب ہو گئی۔
’’شاعری جو ڈائری میں رہی‘‘۔۔۔ کوئی امر مانع تھا تو ناصر ملک نے اپنی ان تخلیقات کو اپنی کتب کا حصہ نہیں بنایا تھا اور اپنے پاس محفوظ رکھا تھا۔ کسی موزوں وقت کیلئے یا کسی موزوں عنوان کے لئے۔۔۔ ڈائری کی زینت بنی رہ جانے والی شاعری میں کچھ مختلف ضرور تھا۔ ’’خطوط جو پوسٹ نہ ہوئے‘‘۔۔۔ یہاں بھی وہی عقدہ موجود ہے۔ ناصر ملک ڈرتا تھا۔ گھبراتا تھا۔ لکھنے کے بعد محفوظ کر لیتا تھا اور جسے پڑھانا چاہتا تھا، اسے نہیں پڑھاتا تھا۔ کیا وہ اپنے مخاطب کی ذہنی سطح کے بلند ہونے کا منتظر تھا یا اسے کوئی داخلی خوف لاحق تھا؟ اس کا جواب قدم قدم موجود ہے اور پڑھنے والے کو دم بخود کرتا رہتا ہے۔
مجھے یقین ہے کہ فنی طور پر ’’سامعہ‘‘ کے مشمولات میں کوئی جملہ بھی معترضہ نہیں ہے۔ کوئی مصرعہ بھی ایسا نہیں ہے جس پرانگلی اٹھے۔ ’’یہ نظم نہیں ہے‘‘ اور ’’ادب شناس آنکھ کو یہاں قافیہ اچھا نہیں لگے گا‘‘ جیسے جملے ناصر ملک ہی لکھ سکتا ہے۔
اور۔۔۔ ’’سامعہ کے نام ادھوری نظم‘‘ جسے میں بیسیوں مرتبہ پڑھ چکا ہوں اور ہر مرتبہ وہی کیفیت مجھ پر حاوی ہوئی جو پہلی مرتبہ پڑھنے پر ہوئی تھی ۔۔۔ یعنی لحظہ بھر میں اپنے حال کٹ جانے اور ماضی سے جڑ جانے کی کیفیت۔۔۔ یہ خاصی طویل ہے۔ ختم ہونے پر تشنگی رہ جاتی ہے کہ دو تین صفحات اور بھی مل جاتے ۔۔۔ کاش! یہ ادھوری نہ رہ جاتی بلکہ ناصر ملک اس کو مکمل کرنے میں کامیاب ہو جاتا۔ پھر یہ سوچ کہ تکمیل پانے کے بعد کیا ہوتا؟ ۔۔۔
ہر شعر لاجواب تھا۔ ہر سطر باکمال تھی۔ کئی اشعار یاد ہو گئے۔ کئی اشعار کے مفہوم ذہن میں رہ گئے۔ آج جب سامعہ میرے سامنے ایک ٹھوس حقیقت کی شکل میں آئی تو میں نے اپنے پسندیدہ اشعار چننے کا کام شروع کر دیا۔ پہلے چند ایک تھے، اس مطالعے کے بعد ان کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی۔ کم کرنا چاہے، نہ ہو سکے تو ابتدائی چند ایک احباب کے ساتھ شیئر کرنے کے ارادے سے فیس بک پر لایا ہوں۔ پڑھیے اور حظ اٹھائیے۔
میں جو اکتائے ہوئے شام و سحر کاٹ رہا ہوں
یہ کسی اور کے حصے کا سفر کاٹ رہا ہوں
میری تنہائی مری تلخ نوائی کے سبب ہے
یعنی میں اپنے گناہوں کا ثمر کاٹ رہا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دفن ہونا ہے مجھے شہر میں تکریم کے ساتھ
میں تو میت کی طرح گھر سے نکالا گیا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اک سانس کے سودے میں خدائی کی غلامی
اک دید کے لالچ میں ترے در پہ کھڑا ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جلا کے خاک کر گئی مرے مکان کو مگر
یہ محسنوں کی آگ تھی بھڑک گئی تو کیا ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سامعہ! لازم نہیں ہے تم مجھے سنتی رہو
میں تو مجبوری سمجھ کر بولتا ہوں کیا کروں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی موت کو اٹھا لائی
کتنی اکتا گئی ہے اب مجھ سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہاری یاد حوصلے میں رکھتی ہے
وگرنہ تو یہ قید مار دے مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور کتنی بار پوچھو گے مجھے کیا ہو گیا
عشق لاحق ہو گیا اور باخدا دل سے ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سانس لینے سے چوڑیاں ٹوٹیں
آج وہ اس قدر اکیلا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس شہرِ نامراد کے سارے شریف لوگ
بے نام و نسل ہو گئے گم نام قتل سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی کیوں اجاڑ دی ناصر
باپ ترکے میں دے گیا تھا کیا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر طرف خار اگے ریت اڑی خوں پھیلا
دشت میں خواہشِ تعمیر کہاں تک ہوتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عقل توہینِ مراسم سے گریزاں ہے
عشق توہینِ تمنا نہیں کر سکتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس جنوں کے طفیل برسوں سے
برسرِ روزگار دل بھی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے قامت کو ماپنے والے
تیری دستار گرنے والی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ نہیں ہاتھ میں بخت میں کچھ نہیں
وہ اگر ساتھ ہو تو کمی ہے بھی کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخری وصل کو پرکیف بنا اور کئی بار
چاند بے پردہ دکھا، زلف بھی کھول اور مجھے دیکھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر آگہی عذاب کے در کھولتی رہی
گھر کے سخن وروں سے بھی ڈرنا پڑا مجھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آشفتہ سری حد سے زیادہ ہے وگرنہ
تھم جائے مرا درد جو توفیق سے نکلے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرحوم کا ہونا تھا نہ ہونے جیسا
جانا ہے اسے جائے نہ روکا جائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خدا کے نام کی تشہیر کرتا ہے وہ مجبوراً
یہ مذہب کی دکاں اس نے بڑی مشکل سے کھولی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اب میں تھک گیا ہوں۔ لفظ دائرے بننے لگے ہیں، کاغذ جھیلیں اب تم مجھے اکیلا چھوڑ دو۔ الودا ع کہہ دو۔ فی امان اللہ ۔۔


Viewers: 2804
Share