Irshad Arshi Malik | کب آو گے اُن سے ملنے۔۔۔۔

ارشاد عرشی ملک اسلام آباد کب آو گے اُن سے ملنے۔۔۔۔ امریکہ کی سڑکوں پر کاریں دوڑاتے اپنے بچوں کی صحبت میں ہنستے گاتے ہفتوں اور اتواروں کو پکنک پر […]

ارشاد عرشی ملک

اسلام آباد

کب آو گے اُن سے ملنے۔۔۔۔

امریکہ کی سڑکوں پر کاریں دوڑاتے

اپنے بچوں کی صحبت میں ہنستے گاتے

ہفتوں اور اتواروں کو پکنک پر جاتے

ڈھیروں شاپنگ کر کے اپنا دل بہلاتے

یاد کرو اک بُوڑھی ،بُوڑھا

سات سمندر پار ،اِک ویراں گھر میں بیٹھے

خالی خالی نظروں سے بے رونق گھر کو دیکھ رہے ہیں

فون کی ہر گھنٹی پر دونوں چونک اُٹھتے ہیں

فون اُٹھانے میں اِک دُوجے پر سبقت لے جاتے ہیں

صحت ٹھیک ہو تو کچھ واک بھی کر لیتے ہیں

ورنہ گھنٹوں ٹی وی دیکھ کے صبح و شام بِتاتے ہیں

رات کو رُوکھا سا پرہیزی کھانا کھا کر

بستر پر پڑ جاتے ہیں

نیند نہیں جب آتی پہروں ،ماضی میں کھو جاتے ہیں

یاد تمہی کو کرتے کرتے ،وہ تھک کر سو جاتے ہیں

اُن آنکھوں میں مُستقبل کے خواب نہیں

نظروں کی لوبھی مدھم ہے، چہرے بھی شاداب نہیں

خیر سے تُم مصروف بہت ہو ،وقت نہیں ہے

اُن کے سیارے پر لیکن وقت کا چکر ٹھہر گیا ہے

کب آو گے اُن سے ملنے۔۔۔۔۔

کب آنے کا وعدہ کرکے اُن کی آس بندھاو گے

خوشبو سے اُمید کی اُن کے روز و شب مہکاو گے

دن گنتے رہنے کے شغل سے عرشی کب بہلاو گے

کیا تب وقت نکالو گے

جب عُمر کی ڈوری اُن کمزور ،تھکے ہاتھوں سے چُھوٹ چکے گی

Viewers: 4350
Share