Rehan Bashir Shad | سناٹے کا ساتھ

کتاب کا عنوان: سناٹے کا ساتھ شاعر: ریحان بشیر شاد سانجھ پبلی کیشنز لاہور کے زیر اہتمام اشاعت بہت خوبصورت ہے۔ صفحات 144۔ قیمت 200۔ ’’سناٹے کا ساتھ‘‘ بلاشبہ شعری […]

کتاب کا عنوان: سناٹے کا ساتھ

شاعر: ریحان بشیر شاد

سانجھ پبلی کیشنز لاہور کے زیر اہتمام اشاعت بہت خوبصورت ہے۔ صفحات 144۔ قیمت 200۔

’’سناٹے کا ساتھ‘‘ بلاشبہ شعری تخلیقات کا بہترین مجموعہ ہے جس میں خارزارِ شعر کے نووارد ریحان بشیر شاد نے قریہ بہ قریہ جذبات و محسوسات کو حسنِ بیاں سے مہمیز کرتے ہوئے آئینہ کر رکھا ہے۔ اس طلسم کدے میں جہاں حسن و جمالیات پر آشفتہ حسرتوں کی بیاں بازیاں، ہجرو وصال کے ادھورے قصے اور خواہشات کا جہاں آراستہ ہے، وہیں معاشرتی ڈھلوانوں پر تصویر کاری کا سفر بھی رقم ہے۔ اس کے پاس اظہارِ خیال کی بھرپور توانائی اور جہانِ آرزو کا توانا احساس موجود ہے جس کی بدولت وہ اپنے خوابوں ، تخیلاتی ماحول اور ناآسودہ آرزوؤں کے رہن میں رہ کر ایک دم نکلتا ہے اور پھر پلٹ کر اس صحرائے خیال پر محوِ کلام بھی ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ وہ زمانے کو اپنے طور سے مشاہدے کی بھٹی میں ڈال کر دیکھتا ہے اور اچھائی کو اچھائی اور بدی کو بدی کے طور پر مصور کر کے اپنے قاری کے روبرو کرتا ہے۔ اس کے ہاں لفظیات کے داؤ پیچ اور الجھاوے، بیاں کی پیچیدگیاں اور ثقیل جملوں کے یورشیں نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی سادہ کاری کے سبب پڑھنے والے کو اپنا مسحور کر لیتا ہے۔ اپنے عشق کی سچائی اور جذبات کی جلدبازی کو چھپانے کی ہرگز ضرورت محسوس نہیں کرتا۔
بجا طور پر وہ سچا اور کھرا شاعر ہے اور اس کے غزل اور نظم کی بنت کاری دیکھتے ہوئے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں وہ اردو ادب کو اچھا مواد دینے میں کامیاب ہو جائے گا۔ وہ اپنی محبوبہ سے مخاطب ہوتا ہے یا اس معاشرے سے، یا اپنے آپ پر انگلی اٹھاتا ہے تو اس کے لہجے کی کھنک، شبابیں انداز اورجذباتی جارحیت اپنے روائتی انداز میں اس کا ساتھ دیتی ہے۔ یہ تاب و تمکنت اس کے ہاں شعر شعر میں موجود ہے۔
گریباں چاک ہو تو درد کی تشہیر ہوتی ہے
میں اپنے زخمِ سیتا ہوں ، تمہاری مان لیتا ہوں

Viewers: 3512
Share