Raza Siddiqui | سامعہ ۔ناصر ملک کی مکالماتی شاعری

سامعہ ۔ناصر ملک کی مکالماتی شاعری سامعہ ایک تصوراتی پیکر جسے ناصر ملک نے جنم دیا۔یہ ناصر ملک کی ساری خود کلامی سنتی ہے مگر مشرقی محبت کی مانند خاموش […]
سامعہ ۔ناصر ملک کی مکالماتی شاعری
سامعہ
ایک تصوراتی پیکر جسے ناصر ملک نے جنم دیا۔یہ ناصر ملک کی ساری خود کلامی سنتی ہے مگر مشرقی محبت کی مانند خاموش رہتی ہے۔محبت کے اس خاموش پیکر کو اپنے سامنے بیٹھا کر ناصر ملک زمانے کا ہر رخ قاری کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔کہیں مکالماتی آزاد نظمیہ خط کی صورت میں اور کہیں غزل کی صورت۔اس مکالماتی نظمیہ ماحول اورغزل کی فضا کے حسین امتزاج نے ناصر ملک کو شاعری میں ایک انفرادیت عطا کی ہے جو انہی کا حصہ ہے۔ناصر ملک اپنی سامعہ کو مخاطب کر کے معاشرے کا مصنوعی پن کس انداز میں پیش کرتے ہیں، آئیے دیکھتے ہیں۔
سامعہ
میری کتابوں کو ترتیب نہ دو
انہیں ایسے ہی بے ترتیب پڑا رہنے دو کیونکہ میرے نزدیک یہی حسن ہے۔
بالکل ایسے ہی جیسے تمہارے ابرو غیرتراشیدہ ہیں اور تمہارے صحرائی ٹیلے جیسے گالوں پر بلیچ کریم نے اپنے گنہگار پیر نہیں ڈالے۔
چونکو مت۔۔۔میں نے ترتیب اور توازن کا مرکزی کردار ایک چمکتے دمکتے متوازن شہر میں دیکھا تھا ۔۔۔ اور تائب ہو گیا تھا ۔باوجود کہ دنیا توازن کو حسن قرار دیتی ہے۔
کوئی سال بھر پرانی بات ہے۔
میں نے ایک کتاب کی تلاش میں اسلام آباد کی ایک بڑی سڑک پر ایستادہ شیش محل جیسے کتاب گھر کا رخ کیا۔ میری مطلوبہ کتاب وہاں نہ تھی اور وہاں موجود کتابیں اپنی قیمت کے سبب میری بساط سے باہر تھیں،کتابوں کے سرورق دیکھنا، کسی ایک آدھ کو کھول کر دیکھنا اور واپس رکھ دینا مفت تھا، سو یہ کام میں کافی دیر کرتا ریا۔اس کارِ بے فیض میں بھی لطف پنہاں تھا۔ ایسے وقت میں جب میں اس شیش محل سے نکلنا چاہ رہا تھا ، قدرت کے عطا کردہ توازن کو مکمل بگاڑنے والی ایک خوش رو خاتون تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی کاونٹر پر پہنچی اور بولی۔۔۔’’ تین سنٹی میٹر موٹی جلد اور سکائی کلر کے ٹائٹل والی دو کتابیں، پنک یا گرے ٹائٹل والی ون پوائنٹ فائیو سنٹی میٹر موٹی ایک اور ساڑے سات ضرب ساڑے نو انچ کے ڈارک بلو ٹائٹل والی ایک کتاب دے دیں۔ جلدی کریں۔ باہر گاڑی پارک نہیں ہو رہی۔۔۔‘‘
میں حیران رہ گیا۔ماقبل زندگی میں چند اہم شہروں کے اہم کتاب گھر دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، کتابوں کی خریداری ہوتے بھی دیکھی تھی مگر کسی خریدار کو اس طرح کتاب خریدتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔دکاندار نے انچ ٹیپ اٹھایا ،الماریوں کا رخ کیا اور کچھ دیر بعد کام مکمل کر کے کاونٹر پر آگیا۔ بل کا پرنٹ لیا اور خاتون کو تھما دیا۔ خاتون نے کمال لاپروائی سے رقم ادا کی اور کتابوں کو دیکھے بغیر اٹھا کر باہر کا رخ کیا۔
میں نے کاونٹرمین سے پوچھا ،’’بھائی صاحب!میں نے آج تک کتابوں کو یوں پیمائش کے اصول پر بکتے نہیں دیکھا۔‘‘وہ مسکرایا اور لاپروائی سے بولا ’’اس میں حیران ہونے والی کون سی بات ہے؟ اس نے اپنے ڈرائنگ روم یا اسٹڈی کی بک شیلف کی پیمائش اور کلر سکیم کے مطابق کتابیں خریدی ہیں۔‘‘ میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔تو کیا وہ ان کتابوں کو پڑھنے کے لئے نہیں لے گئی؟اس نے عجیب نظروں سے مجھے دیکھا اور نئے آنے والے گاہک سے محوِگفتگو ہو گیا۔
ہاں سامعہ!
تب سے مجھے ترتیب سے پڑی ہوئی کتابیں اچھی نہیں لگتیں۔۔۔شاید آج کے بعد تمہیں بھی یہی نفسیاتی عذاب جھیلنا پڑے کیونکہ اب تم بھی کتابوں کی ترتیب کے فلسفے سے آگاہ ہو۔
ناصر ملک کی سامعہ کو تو کتابوں کی ترتیب کی سمجھ آئی ہو یا نہ آئی ہو ہمیں بحرحال اس کتاب کی بے ترتیبی کی سمجھ ضرور آگئی ہے۔
ناصر ملک کہتے ہیں
میں نے سیکھا ہے زمانے سے یہی منفی رویہ
سر پہ جو سایہ فگن ہے، وہ شجر کاٹ رہا ہوں
گردشِ وقت،اٹھا اپنی ترقی کے صحیفے
ورنہ میں آج ترے دستِ ہنر کاٹ رہا ہوں
سامعہ کیا ہے آئیے ناصر ملک سے پوچھتے ہیں۔ناصر ملک اپنی ہی دھن میں مگن کہہ رہے ہیں
تجھے خبر ہے سامعہ
مرا بھرے جہاں میں کوئی نہیں، کوئی نہیں
ترے سوا کوئی نہیں
یہ مختصر سی زندگی،یہ تشنگی ،یہ عاشقی
یہ جاں کنی
یہ بے ثمر ریاضتیں، کتابِ دل، یہ شاعری
اگر یہ سب فریب ہے۔ یہ جھوٹ ہے، سراب ہے
تو میرے زادِراہ میں لپیٹ دے۔۔۔
اگر یہ سب حقیقتیں ہیں تو سبھی سمیٹ لے
تجھے خبر ہے سامعہ
سدا یہ انتسابِ دل ترا ہی منتظر رہا
ہم نے ناصر ملک سے پھر پوچھنا چاہا کہ کچھ تو کہو یہ سامعہ کیا ہے،تو ناصر ملک ہم سے مخاطب ہوئے بغیر کہنے لگے۔۔
سامعہ ! کچھ تو کہنا ہو گا
ہر کامیابی کا سہرا اپنے سر پر باندھ لینا اتنا مضحکہ خیز عمل نہیں جتنا ہر ناکامی کا ملبہ گرد کی صورت اپنے تن سے جھاڑ کر تقدیر کے سر ڈال دینا حیران کن عمل ہے۔
ناصر ملک پھر سامعہ سے مخاطب ہیں ،ہماری پہلی ملاقات محض اتفاقی تھی کہ ہم اسے تقدیر کے کھاتے میں ڈال دیں؟
کیا تقدیر کا دنیا میں بس یہی کردار رہ گیا ہے کہ وہ مجھے اور تمہیں تمام عمر رلاتی رہے اور ایک دوسرے کے قریب آنے سے روکتی رہے؟
نہیں سامعہ۔۔۔ ان دنیا کو اتنا چھوٹا سمجھنے کا رویہ دم توڑنے لگا ہے اور ناکامیوں کا ملبہ اپنے سر ڈالنے سے ہی رہِ نصرت آتی ہے۔شاید ناصر ملک کہنا چاہتے تھے کہ:
میں نے خود اپنے تراشے ہیں خدوخال یہاں
میں کہاں بخت کے ہاتھوں سے نکھارا گیا ہوں
تمہارے روبرو ہونا۔۔۔
تمہیں سننا۔تمہیں دیکھنا۔۔۔
کتنا پر اشتیاق اور جنوں خیز مرحلہ تھا جسے عبور کرتے ہوئے میرے حواس تحیر کے دبیز خلا میں معلق ہو گئے۔ تم بولتے ہوئے کیسی لگتی ہو؟ تم کیا بولتی ہو؟اور تمہیں بولتے ہوئے انہماک سے سننا کتنا پر کیف تجربہ ہے؟ تمہیں خبر نہیں۔۔۔مجھے بھی اس کے غیر معمولی ہونے کا احساس نہیں تھا۔۔۔مگر آج آشکار ہوا ۔۔۔کڑی دھوپ میں چہرے کی درخشانی پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے ، گویا شبنم سجائے تم نے کیاکہا۔۔بھول گیا۔۔۔مجھے کیا جواب دینا تھا، اور کیا دیا۔۔۔بھول گیا یعنی کہا سنا بھول گیا۔
ہم سامعہ کو کیا سمجھ رہے تھے۔ایک ایسا خاموش وجود جو ناصر ملک کی سنتا ہے،خود کچھ نہیں کہتا،ناصر ملک خود ہی سوال ہے اور خود ہی اس کا جواب۔ وہ کہتا ہے
عزیز از جاں سامعہ
تم کیا سمجھتی ہو؟ تمہارا بدن مجھے بلاتا ہے؟
نہیں۔ اس جیسے، اس سے کہیں چمکیلے اور آفتابی بدن محض چند نوٹوں کے عوض رات بھر کے لئے مل جاتے ہیں۔تمہارے بدن کو تو بکنے کا ہنر بھی نہیں آتا ہوگا۔۔۔۔اور اب تمہارا یہ کہنا کہ تمہیں محبت ہو گئی ہے۔۔کتنا عجیب سا لگ رہا ہے مجھے۔
محبت سب سے پہلے بچپنا چھینتی ہے۔اس کا پہلا وار آنکھوں کی چمک ، لہجے کی سچائی انگیز کھنک، فطری لا پروائی، بے خوفی، تجسس آمیز کو، برجستگی، شرارت، اپنے جذبات کے اظہار کی بے لاگ عادت، روانی، قناعت پر ہوتا ہے اور آناََ فاناََ سب کچھ چاٹ جاتی ہے۔ اب تم جا کر آئینہ دیکھو۔۔ پھر اپنے اس بیان کی تلخیوں پر نگاہ ڈالو۔۔ کیا میں نے سچ کہا ہے کہ تمہیں محبت نہیں ہوئی؟
پہلے پہلے عشق میں جب رابطہ دل سے ہوا
یاد ہے طے ہجر کا ہر مرحلہ دل سے ہوا
برسوں سے سنبھالا ہے مری آنکھوں نے
وہ اشک جو الفاظ میں ڈھل جاتا ہے
یہی سامعہ ہے، اب ناصر ملک ہم سے مخاطب تھے سامعہ ۔ وہ اشک ہے جو مری آنکھوں میں مدتوں بسا رہا اور اب بے ضبط ہو کر بہہ نکلا ہے اور ضبط و اشک کے باہمی ربط نے الفاظ میں ڈھل کر سامعہ کو امرکر دیا ہے۔
Viewers: 6718
Share