Abdul Aziz Sohail | ڈاکٹر محسن جلگانوی کا شعری مجموعہ شاخِ صندل

شاخِ صندل شاعر : ڈاکٹر محسن جلگانوی مبصر:ا محمد عبدالعزیز سہیل ریسرچ اسکالر عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد 1970 ء کے بعد حیدرآباددکن سے ابھرنے والے جدید لب و لہجے کے شعراء […]

شاخِ صندل

شاعر : ڈاکٹر محسن جلگانوی
مبصر:ا محمد عبدالعزیز سہیل ریسرچ اسکالر عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد
1970 ء کے بعد حیدرآباددکن سے ابھرنے والے جدید لب و لہجے کے شعراء میں ڈاکٹرمحسن جلگانوی کا نام بھی اہمیت کا حامل رہاہے ۔جلگاؤں سے اپنے شعری سفر کا آغاز کیا اور حیدر آبادپہنچ کر اسے پروان چڑھایا۔ریلوے میں ملازمت کے دوران سکندرآباد میں مقیم رہے اور وہاں اردو کا دیا روشن کیا۔ ڈاکٹرمحسن جلگانوی کے کلام میں پاکیزگی اور انفرادیت پائی جاتی ہیں انکی شاعری اور خاص طور سے غزل گوئی نے انہیں خصوصی مقام بخشا ہے جنوبی ہند میں اکثر مشاعروں کی صدارت اور جدید شاعری کی نمائندہ شخصیت کے طور پرڈاکٹر محسن جلگانوی کا نام لیا جاتا ہے۔ حیدرآباد لٹریری فورم کے زیر اہتمام شاعری کے جدیدلب و لہجہ کو اختیار کیا۔ ترقی پسند تحریک کی موضوعاتی شاعری کے بعد اردو شعر وادب میں جدید رجحانات فروغ پائے اور سماج کے بجائے ایک مرتبہ پھر فرد کی شناخت کا مسئلہ در پیش رہا تو جدیدیت کے زیر اثر شاعری میں بھی فرد کی آواز بلند ہوئی۔ اور موضوعات میں تنوع اختیار کیا گیا۔ نئی علامتوں کا استعمال ہوا۔ اور لفظ اور معنی کا رشتہ ایک مرتبہ پھر مضبوط ہوا۔ ڈاکٹرمحسن جلگانوی نے بھی جدیدیت کی اس تحریک کا بھر پور ساتھ دیا اور اپنی شاعری سے اس کا اظہار کیا۔ ’’شاخ صندل‘‘ ڈاکٹرمحسن جگانوی کا چوتھا شعری مجموعہ ہے اس سے قبل انکا پہلا شعری مجموعہ ’’الفاف‘‘1979ء دوسر ا شعری مجموعہ ’’تھوڑا ساآسماں زمیں پر‘‘1994ء اور تیسراشعری مجموعہ’’آنکھ سچ بولتی ہے‘‘2000ء شائع ہوکراردو ددنیامیں مقبولیت حاصل کرچکے ہیں اس کے علاوہ نثری تصنیف’سکندرآباد کی ادبی دستاویز‘‘1989ء میں شائع ہوچکی ہیں۔ڈاکٹر محسن جلگا نوی کو ادبی خدمات کے عوض مختلف انعامات واعزازات سے نوازہ گیا جن میں قابل ذکر بہار ساہتیہ سنسد ایوارڈ1998ء،غالب کلچرل اکیڈمی ایوارڈکرناٹک1990ء،اردو رائٹرز فورم ایورڈ مہاراشٹراء2003ء،وغیرہ اس کے علاوہ انکی تصانیف پربھی مختلف ریاستوں کی اردو اکیڈمیوں کی جانب سے ایورڈ عطایئے گئے ہیں۔حالیہ دنوں ریاست آندھراپردیش کا اعلی ادبی ایوڑد’’کارنامہ حیات‘‘ بھی اردو اکیڈمی آندھراپردیش کی جانب ڈاکٹر محسن جلگانوی کو پیش کیا گیاہے۔
’’شاخ صندل‘ ڈاکٹر محسن جلگانوی کا چوتھا شعری مجموعہ ہے جو نور پبلی کیشنز حیدرآباد کے تحت شائع ہوا ہے۔ ’’شاخ صندل‘ ڈاکٹر محسن جلگانوی کی خوبصورت غزلوں ،نظموں اور قطعات پر مشتمل شعری مجموعہ ہے۔جس کاپیش لفظ جناب رشید عبدالسمیع جلیل نے ’’پیکرشاخ صندل‘‘ کے عنوان سے لکھاہے انہوں ڈاکٹرمحسن جلگانوی کی شاعری پراظہار کرتے ہوئے لکھاہے۔’’جہاں تک محسن کا معاملہ ہے نظم نگاری کے میدان میں وہ اپنی نہج پر خاموشی کے ساتھ گامزن ہیں لیکن صداؤں کے عظیم صحراء میں اپنی آوازکو بلندرکھنے میں ہمہ تن منہمک ہیں ان کے اسلوب میں جدید لب ولہجے کی تازگی کے ساتھ اپنے ماحول کی کہنہ روایت پر برہمی کاا نداز مسلسل جھلکتا ہے،ہوسکتا ہے کہ فکری سطح پر انہوں نے بانیؔ یا مظفرحنفیؔ کے اثرات شعور یاغیر شعوری طور پر قبول کئے ہوں لیکن شعر گوئی میں اپنی انفرادیت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں‘‘(ص ۶)

پیش لفظ کے بعداپنی بات کے تحت ’’ یہ شاعری میری ہے‘‘ کے عنوان سے ڈاکٹر محسن جلگانوی نے اپنے شعری سفر کی مختصر ردواد بیان کی ہیں اور لکھاہے۔’’1970ء کے آس پاس ادب کے نئے ذہن اورنئے انفس وآفاق سے متعارف ہوا۔ادارہ پیکر اور پھر حیدرآباد لٹریری فورم(حلف)سے قربتیں اور نئے رحجان اور اسلوب نے فکر کے نئے دروا کئے جس کانقش اولیں میرا پہلا شعری مجموعہ الفاف تھاجس نے جدید حلقوں میں بڑی پذیرائی حاصل کی۔‘‘(ص ۸)

شاخ صندل کا آغاز حمد سے ہوتا ہے حمد کے اشعار ملاحظ ہوں۔
اذیتوں کے کنویں سے نکال دے مولا
کھلی فضاء کے سمندرمیں ڈال دے مولا
نہیںیہ چاہ کہ پیپل کی چھاوں بن کے جیوں
مجھے تو اک نئے سورج میں ڈھال دے مولا
حمد کے بعد ایک دکھنی ردیف میں غزل،نذر زبیر رضوی کے علاوہ دیگر غزلیں شامل ہیں۔ ’’شاخ صندل‘‘ کے اس شعری مجموعے میں ڈاکٹرمحسن جلگانوی کے خیالاات ،آسان اسلوب بیان لفظوں کی پر کاری اور غزل میں ردیف وقافیہ کا اچھوتا انتخاب انکے کلام کو انفرادیت بخشتا ہے ۔ ڈاکٹرمحسن جلگانوی کے غزل کے اشعار ملااحظہ ہو جس میں آسان اسلوب نمایاں طور پر محسوس ہوتا ہے۔
آدمی ہوگا کوئی اور نہ فرشتہ ہوگا
صورتیں دیکھ کے ملئے گا کہ دھوکا ہوگا
یاد آتا ہے بہت دشمنِ ایماں محسن
جانے کم بخت سے کس دردکا رشتہ ہوگا
زندگی مانگنے جاتا ہوں خداسے لیکن
موت ہمراہ چلی آئی تو پھرکیا ہوگا
سیج پھولوں کی سرراہ بچھی تو ہے مگر
وقت آجائے تو کانٹوں پہ بھی چلنا ہوگا
ڈاکٹرمحسن جلگانوی کے غزلوں میں زندگی کے موضوع پر بھی بہترین اشعار کاا انتخاب ملتا ہے جہاں ایک طرف خوشی کی بات ہے تو ددوسری طرف غم کا پہلو نمایاں ہے ساتھ ہی حوصلہ و ہمت بھی انکی شاعری میں نمایاں طور پر پر نظر آتا ہے چند اشعار ملاحظہ ہو،
بھیک مانگی بہت مفلسی نے
کچھ دیا ہی نہیں زندگی نے
زندگی میں بہت غم تھے محسن
سب غلط کردئیے شاعری نے
زندگی لوریاں سناتی ہے
بعد مدت کے نیند آتی ہے
جی رہے ہیں زندگی کے واسطے
تیرگی میں روشنی کے واسطے
زندگی کے غم لاکھوں‘ دل ہے ناتواں تنہا
بجلیوں کے سائے میں جیسے آشیاں تنہا
ڈاکٹرمحسن جلگانوی کی شاعری میں جذبات بھی ہے نئی امیدیں حوصلہ اوراعتماد کی بھی جھلک نظرآتی ہیں اور ساتھ ہی جذبہ کا اظہاربھی ملتاہے یہ چنداشعار ملاحظ ہو۔
ہر راستے سے دور نئی راہ ڈھونڈ لیں
منزل نئی بنائیں ،مرے ساتھ آو تم
شوق کے جذبے کی عظمت کو بڑھانا ہے ابھی
منزلوں کو خود مرے نزدیک آنا ہے ابھی

دار پر چڑھ کر جنوں کو مسکرانا ہے ابھی
حوصلہ اہل خرد کا آزماناہے ابھی
چلتی ہیں مرے ساتھ زمانے کی ہوائیں
اس عزم سے منزل کی طرف بڑھتا چلاہوں
ڈاکٹرمحسن جلگانوی کے کلام میں عشق ومحبت کے تذکرے ہیں خوشی اور غم کا امتزاج ہے حوصلہ اور اعتماد کی باتیں بھی ہیں غوروفکر تدبر‘امید کی کرن، تنہائی کا ا ظہار بھی ہمیں نظرآتا ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب کے آخری حصہ میں چندآزاد نظمیں جن کے موضوعات ،نوحہ کالی ساعتوں کا ،سورج کا سفر ،نئی صبح ، بَن باس،رائیگاں،سرَیاد آیا،آئینے کا مقدر،َ سر بہ گریباں،کے علاوہ چند قطعات شامل ہیں۔
ڈاکٹر محسن جلگانوی ؔ ایک اچھے شاعر کے ساتھ ساتھ ایک اچھے صحافی اور مدیر بھی ہیں ان کی ماہرانہ ادارت میں روزنامہ اعتماد حیدرآباد کا ادبی ایڈیشن ’’اوراق ادب‘‘ اردو کے شعری و ادبی حلقوں میں کافی مقبول ہے۔ اور اردو سے نا سپاسی کے دور میں اردو ادب کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اوراق ادب میں انکا انتخاب بہت عمدہ و پاکیزہ ہوتا ہے میری اپنی رائے یہ ہیکہ ہمارے ملک کی سطح پر دیگر اخبارات کے برعکس روزنامہ اعتماد کا اوراق ادب اولیت کے ساتھ ساتھ اپنی انفرادیت بھی رکھتا ہے۔
ڈاکٹر محسن جلگانوی جدیدیت کے نمائندہ شاعر ہیں انکے کلام میں جدید رحجان کے اثرات نمایاں طور پر محسوس کیے جاسکتے ہیں۔ شاخ صندل کا مطالعہ محسن جلگانوی کے کلام کی پختگی ،جدید لب ولہجہ میں دلکش اشعار ،تشبہیات،استعارے کے حسیں استعمال کا پتہ دیتا ہے۔ امید کے محسن جلگانوی اسی طرح شعر وشاعری کے ذریعہ اردو ادب کی خدمات انجام دیتے رہیں گے ان کی اس تصنیف کو بھی اردو حلقوں میں خوب پزیرائی ملے گی۔کتاب کی قیمت 200روپیئے رکھی گئی ہیں۔کتا ب ملنے کا پتہ ہدی بک ڈسٹری بیوٹرچھتہ بازار حیدرآباد یا مصنف سے فون نمبر 9505967365ء پر ربط کے ذریعہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔

Viewers: 7706
Share