Dr. Akhtar Azad | گھر

ڈاکٹراخترآزاد مکان نمبر ۔۳۸،روڈ نمبر۔۱ آزاد نگر ، جمشیدپور۔۸۳۲۱۱۰ موبائل۔09572683122 dr.akhtarazad@gmail.com گھر بوڑھے اطہر علی خاں لان میں بیٹھے یادوں کے البم سے گھر کی پرانی تصویریں نکال کر دیکھ […]
ڈاکٹراخترآزاد
مکان نمبر ۔۳۸،روڈ نمبر۔۱
آزاد نگر ، جمشیدپور۔۸۳۲۱۱۰
موبائل۔09572683122
dr.akhtarazad@gmail.com
گھر
بوڑھے اطہر علی خاں لان میں بیٹھے یادوں کے البم سے گھر کی پرانی تصویریں نکال کر دیکھ رہے تھے کہ عین اُسی وقت اُن کا بیٹا وہاں پہنچ گیا ۔ اور جب اُنہوں نے بھی گھر دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو وہ خوشی سے پاگل ہو اُٹھے ۔
’’بیٹا تم نے یہ کیا کہہ دیا ۔؟ اب جتنی جلدی ہو کاغذات تیّار کر لو ۔ میں جلد سے جلد ہندوستان جانا چاہتا ہوں ۔‘‘
سرفراز علی آزاد ایک مشہو رفکشن رائٹر تھے ۔ کئی کتابیں تھیں اُن کی ۔ متعدّد ایوارڈ مِل چکے تھے جب وہ یونیورسیٹی سے ریٹائرہو ئے تب انہوں نے سب سے پہلے آٹو بائیو گرافی لکھنے کا منصوبہ بنایا ۔ لیکن جب بھی وہ لکھنے بیٹھتے ۔ پریشان ہو جاتے ۔ اُنہیں کچھ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کہاں سے شروع کریں ۔ ؟پیدا ئش تو ہندوستان کی ہے ۔ اِس لئے وہ چاہتے تھے کہ اپنی جائے پیدائش کو دیکھیں ، محسوس کریں اور تب قلم اُٹھائیں تاکہ اُن کے بیان میں سچّائی اور تحریر میں شگفتگی آسکے ۔
قریب تین مہینے کے اندر تمام کاغذات تیّار ہو گئے ۔ جب گھر سے ہندوستان کے لئے روانہ ہوئے ، تب اُن کا پوتا شاہنواز علی جنّاح بھی ان کے ساتھ تھا ۔ اطہر علی خاں کی آنکھوں میں اُس وقت گھر کی تصویریں ناچ رہی تھیں ۔
جب ٹرین ہندوستانی سرحد میں داخل ہوئی تو اُنہیں ایک طرح کی گوناگوں راحت کا احساس ہو ا۔ وہ خیالوں میں کھو گئے …..
بنٹوارہ اور بنٹوارے سے پیدا ہونے والے حالات کو دنیا کی تمام قوموں نے کم وبیش ایک ہی طرح سے جھیلا ہے ۔ کچھ ایسے ہی ناگُفتہ بہ حالات سے نبرد آزما ہو کر وہ دسمبر سینتالس کی کڑکڑاتی ہوئی سرد رات میں لاہور پہنچے تھے ۔ جہاں رہائش کے لئے اُنہیں ایک ہندو کا گھرالاٹ کیا گیا تھا ۔
آج بھی وہ دن اُنہیں اچّھی طرح یاد ہیں ۔ حالات ناگزیر ہو گئے تھے ۔ مولانا آزادسے متاثر ہونے کی وجہ سے وہ پاکستان جانے کے حق میں نہیں تھے ۔ لیکن ایک ڈھلتی ہوئی شام کا سورج ابھی پوری طرح سے زردایا بھی نہیں تھا کہ اُن کا دوست ہانپتا کانپتا وہاں آیا ’’ اطہر میرے یار ! جب سے پیشاور اور لاہور سے ریل گاڑیوں میں لاشیں بھر کر آئی ہیں ، تب سے یہاں کے لوگوں کے دماغ میں بارود بھر گیا ہے ۔ محلّے کے سارے مسلمان پہلے ہی گھرچھوڑکر پاکستان چلے گئے ہیں ۔اس لئے اچّھا ہو گا کہ تم اپنی ضد چھوڑ دو اور فوراََ یہاں سے نکل جاؤ ۔رات بھر میں کہاں کیا ہو جائے گا بتانا مشکل ہے ۔‘�ۂ
اُس وقت تک اطہر علی خاں کو بھی حالات کی سنگینی کا علم ہو چکا تھا ۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ رات کے اندھیرے میں گُم ہوتے ، بجرنگ بلی کے نعرے لگاتے ہجوم نے اُنہیں گھیر لیا ، اقبال سنگھ نے اپنی جان کو جوکھم میں ڈال کر اطہر علی خاں ، ان کی بیوی اور بچّے کو کرپان کی دھار پر پولس اِسٹیشن تک پہنچایا ۔ جہاں سے انہیں کیمپ میں بھیج تو دیا گیا ،لیکن اقبال سنگھ کا کیا ہوا ۔؟وہ کہاں گیا ۔؟ یہ اب تک ایک معمّہ بنا ہوا ہے ۔
لاہور سے دہلی تک کا سفر کیسے طے ہوا ۔ اطہر علی خاں کو پتہ ہی نہیں چلا ۔ اُنہوں نے جامع مسجد کے پا س ہی ایک ہوٹل میں قیام کیا ۔ پہنچتے ہی شام ہو گئی تھی ۔ تھکے ہار ے تھے اِس لئے دوسرے دن ناشتے کے بعد وہ گھر کی تلاش میں نکلے ۔ ایک دو اور پھرپورے بارہ دن تک اُنہیں گھر کا کوئی سراغ نہیں ملا تیرہویں دن ہوٹل سے نکلتے ہی اطہر علی خاں نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ آج وہ آخری بار گھر ڈھونڈنے نکل رہے ہیں ۔ کیوں کہ پندرہویں دن پاکستان لوٹ جا نا تھا ۔ چودہویں دن مارکیٹنگ کا پروگرام تھا ۔ آج وہ پورا شہر چھان مارنے کے ارادے سے نکلے تھے ۔ لیکن پرانی عمارتوں کی جگہ بنی عالی شان عمارتوں اورسڑکوں کے مکڑ جال نے اُن کے حوصلے پست کر دئے تھے ۔ سب کچھ بدلا بدلا سا تھا ۔ آٹورکشے پرچلتے چلتے وہ تھک گئے تھے ۔ مایوسی نے اُن کے قدم جکڑنے شروع کردئے تھے ۔ اور اب وہ لوٹنے ہی والے تھے کہ یکایک چمتکار ہو گیا ۔
’’مل گیا …..‘‘
اطہر علی خاں زور سے چلاّئے اور لگ بھگ رکشے سے بوڑھے پاؤں پرکود گئے ۔ دونوں نے جلدی سے پکڑا ۔ لیکن وہ تو دوسری دنیا میں تھے۔ اِسلئے وہ بہت دیر تک حیران وششدروہیں کھڑے رہے ۔ ساٹھ سالوں میں پوری دلّی بدل گئی تھی۔ لیکن اُن کا گھر آج بھی ویسا ہی تھا ۔ جیسا وہ چھوڑ گئے تھے سرفراز علی آزاد نے فوراََ کیمرہ سنبھال لیا ۔ اُس وقت شاہنواز اُس گھر کو کم ، اونچی اونچی عمارتوں کو زیادہ دیکھ رہا تھا ۔
اطہر علی خاں کے بوڑھے پاؤں میں گرماہٹ آگئی تھی ۔وہ دونوں سے پہلے سڑک پار کر کے گھر کے قریب پہنچ گئے اور جذبہء سرشاری میں دیواروں کو چھونے لگے ۔اُس وقت اُن کی آنکھیں نم ہو گئی تھیں ۔ وہی دیواریں ، وہی لکھی ہوئی آیتیں ، وہی ستون اور اُن پر بنے وہی گُل بوٹے …… پھر دھیرے دھیر ے اطہرعلی خاں برآمدے کے سامنے آگئے ۔ وہ دونوں بھی اُن کے پیچھے آکر کھڑے ہو گئے ۔ وہاں سے سامنے والے کمرے کا منظر پردہ سرک جانے کی وجہ سے صاف دکھائی دے رہا تھا ۔ جہاں پلنگ پر لیٹا ہوا ایک بوڑھا وکیل سے کہہ رہا تھا ۔
’’یہ گھر مجھے پارٹیشن کے بعدرہنے کے لئے ملا تھا ۔ یوں سمجھو کہ یہ کرائے کا گھر ہے ۔ معقول کرائے کی ایک رقم تب سے لے کراب تک بینک میں جمع بھی کرتا آیاہوں ۔ چونکہ یہگھر میرا نہیں ہے ۔اِس لئے میں چاہتا ہوں کہ میری موت کے بعد اِس گھر کے مالک یا حقیقی وارث کو جو یقیناپاکستان میں ہیں۔اُس کا پتہ کورٹ اپنے طور لگائے اور لیگل پروسیس کے تحت یہ گھر اُن کے حوالے کرے ۔تاکہ میری آتما کو شانتی ملے ‘‘
جئے کمارکو اپنے باپ کی وصیّت کے بارے میں پہلے سے علم تھا۔ لیکن جب پہلی بار رام کمار کو معلوم ہوا تو وہ دل ہی دل میں دادا کو پاگل قرار دینے لگا باپ کے ڈر سے کچھ دیر خاموش رہا ۔ لیکن کب تک خاموش رہتا۔ یکایک اندر کی ناراضگی اُبل پڑی ۔
’’ دادا گھر آئی لکشمی کو ٹھکرایا نہیں جاتا ۔ اور اس پر ستم یہ کہ آپ کرایہ بھی جمع کر رہے ہیں …..؟ ‘‘
ستّیہ کمار نے مسکراتے ہوئے پوتے کو اپنے پاس بٹھایا ۔ سر پر ہاتھ رکھا اور سمجھایا ۔ ’’ جس گھر کو میں نے بنایا ہی نہیں ، وہ میرا کیسے ہو سکتا ہے ۔ ؟ جس کا ہے اگر اُسے اتنے سالوں بعدمل جائے تو اَغوا ہوئی اولاد کو پانے جیسی خوشی ملے گی ۔ کتنی دعائیں دے گا وہ ۔ یہ تم سوچ بھی نہیں سکتے ۔ ‘‘
’’ لیکن دادا ! بٹوارے میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔ جس کے پاس جو آگیا وہ اُسی کا ہوگیا ۔ ‘‘ پھر کچھ رک کر طنزیہ لہجے میں ۔’’وہ جسے آپ نے بنایا تھاوہ کسی پاکستانی کے قبضے میں ہی ہو گا نا … ؟ پہلے یہ بتائیے کہ اُس نے کبھی آپ سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی …؟پھر ہم کیوں لوٹائیں…؟‘‘
بیٹے کی اِس حرکت پرجئے کمارنے اُسے ڈانٹ پلائی ’’جب اُن کا فیصلہ مجھے منظور ہے تو تمہیں اعتراض کا کوئی حق نہیں ۔ بلکہ تمہیں تو اُن کی آئیڈیالوجی پر فخر ہونا چاہئے ۔‘‘
اطہر علی خاں بیٹے اور پوتے کے ساتھ اندر کی ساری باتیں سُن چکے تھے ۔ اُس وقت وہ دل ہی دل میں مسکرا رہے تھے اور بوڑھے سے جلد سے جلد ملنے کے لئے بے تاب تھے ۔ لیکن آواز دینا مناسب نہیں سمجھ رہے تھے ۔ تبھی بوڑھے کا بیٹا وکیل کو چھوڑنے باہر آیا ۔اطہر علی نے اُسے اپنے بارے میں بتایا ۔ کچھ دیر بعد بوڑھے کو جب یہ معلوم ہوا کہ پاکستان سے اطہر علی خاں آئے ہیں تو اُن کی سانسیں تیز ہو گئیں ۔ بولے ۔ ’’ جا کر پوچھ کے والد کا کیا نام ہے ۔؟‘‘ جب نام بتایا گیا تو دل دھونکنی کی طرح دھڑکنے لگا ۔’’ انہیں اندربٹھاؤ۔‘‘جلدی میں انہیں چپّل بھی نہیں مل رہی تھی ۔بڑی مشکل سے ملی بھی تو پیروں میں سمانے میں وقت لگا ۔
وہ تینوں ہال میں صوفے پر آکر بیٹھ گئے ۔اطہر علی خاں نے دیکھا کہ طاق میں قُرآن شریف اُسی جگہ رکھا ہوا ہے جہاں انہوں نے رکھ چھوڑا تھا ۔یہ دیکھ کر ان کی بوڑھی آنکھیں بھیگ گئیں ۔پاورلگے چشمے کے شیشے کو انہوں نے صاف کیا بیٹے کو کچھ کچھ سمجھ میں آرہا تھا ۔ تیس سالہ پوتا اِن باتوں کو سمجھنے سے قاصر تھا ۔لیکن وہ اتنا تو سمجھ ہی رہا تھا کہ یہ گھر اب بھی دادا کے نام سے ہے ۔ اور اگر بٹوارہ نہیں ہوا ہوتا ۔ پاکستان نہیں بنتا۔ وہ بھی اسی گھر میں پیدا ہوا ہوتا ۔ یہیں رہتا ۔
ہندوستانی دادا لاٹھی ٹیکتے ہوئے ہال میں داخل ہوئے اور سیدھے پاکستانی دادا کے گلے سے لگ گئے ۔ دیر تک دونوں کی آنکھوں کے کنارے رِستے رہے ۔
’’ کیا حال ہے بھئی میرے لاہور کا …..؟ ‘‘ ستیّہ کمار کی آواز میں وطن چھوڑنے کا درد نمایاں تھا ۔ وہ وہاں کے بارے میں جاننے کے لئے بے تاب تھے ۔
’’ سب ٹھیک ہے ….‘‘ اطہر علی خاں نے اپنی آنکھوں کے کنارے صاف کرتے ہوئے اُن کی طرف دیکھا ۔
’’اطہر میاں ! میں نے آپ کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی ۔ ہر اُس شخص سے جو پاکستان آتاجاتا تھا ، اُس سے میں تمہارا ذکر کرتا تھا ۔ لیکن کبھی کوئی خبر نہیں ملی ۔ ‘‘پھر وہ کچھ وقفے کے لئے رُکے اور اپنے پوتے سے کہا ۔ ’’ رام کماربیٹا ! ہاتھ منہ دھونے کے لئے پہلے پانی وانی لا۔اور اندر جا کر اپنی ماں سے کہہ کہ مکان مالک آئے ہیں ۔ اِس لئے کچھ اچّھا اچّھا کھانا بنا ۔ ورنہ پاکستان میں ہندوستانی ذائقے کی بڑی بدنامی ہو گی ۔ ‘‘ ستیّہ کمارجی ! یہ کھانا وانا تو ٹھیک ہے ، لیکن مکان مالک کہہ کر آپ مجھے شرمندہ کررہے ہیں ۔ بھئی ہم لوگ تو آپ کے مہمان ہیں ۔‘‘ پھر بات کا رُخ بدلتے ہوئے اُنہوں نے بیٹے کی طرف اِشارہ کیا ۔ ’’ یہ ہے میرااکلوتا بیٹا آزاد ۔ پندرہ اگست ۱۹۴۷ ؁ء کو اسی گھر میں پیدا ہوا تھا۔ رائٹر ہے ۔ سوانح عمری لکھ رہا ہے ۔ اُس کی خواہش تھی کہ اپنے ہندوستان والے گھر کو دیکھوں ۔ اور وہ میرا پوتا ہے ۔شاہنواز علی جنّاح ۔‘‘
’’یعنی اگر بیٹا جیونی نہیں لکھ رہا ہوتا تو آپ کبھی یہاں نہیں آتے ۔؟‘‘ ستیّہ کمار نے سوال کی ایک چھوٹی سی انّی پھینکی جو سیدھے اُن کے سینے میں اُتر گئی ۔
’’ ہاں ایسا ہو سکتا تھا ۔ کیوں کہ بہت سارے زخم …..‘‘ کہتے کہتے اُنکا بوڑھاجسم کپکپانے لگا۔ آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ اور پھر بہت سارے بھیگے مناظر آنکھوں کے اِسکرین نما اسٹیج پر محوِ رقص ہو گئے ۔
کیمپ کا دوسرا دن تھا ۔ سامان چوری ہو گیا تھا ۔ دو تین دن تک کھانا جیسے تیسے کر کے مل گیا ۔ لیکن جیسے جیسے لوگوں کی تعداد بڑھنے لگی ۔ کھانے پینے میں بد نظمی آتی چلی گئی ۔ جب بھی بد نظمی بڑھتی ۔منتظمین کھانا تقسیم کرنا بند کردیتے ۔اِس کے بعد جو پیسہ یا زیور لے کر رسوئی جاتا ، اُسے چھپا کر کھانا دے دیا جاتا یا اندر ہی کسی کونے میں بٹھا کر کھلا دیا جاتا۔ چار ماہ کے سرفراز کو دودھ نہیں ملنے کی وجہ سے اُس کابُرا حال تھا ۔ کھانے کی کمی سے بیوی کے سینے میں دودھ کے سوتے سوکھ گئے تھے ۔ اُس روز اُن کے پاس نہ پیسے تھے اور نہ زیورات ہی جسے وہ رسوئی میں آگ کی نذر کرتے ۔ گھنٹوں لوگوں کے ہاتھ پاؤں جوڑنے کے بعد اُنہیں تھوڑا سا کھانا مل پایا تھا ۔ جب وہ لوٹے تو دیکھا کہ سرفراز دودھ کے لئے تڑپ رہا ہے ۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اُن کی بیوی کسی منتظم کے ساتھ دودھ لینے کے لئے رسوئی تک گئی ہے ۔ وہ بچّے کو لے کر اِدھر اُدھر دوڑتے رہے ۔ لیکن اُن کی بیوی کا کہیں کوئی پتہ نہیں چلا دوسری صبح کیمپ کے باہر رسوئی کی دوسری جانب منتظمین کی آرام گاہ کے پچھواڑے اُس کی لاش برہنہ حالت میں پائی گئی ۔ جسے شام ہوتے ہوتے ندی کے کنارے بغیر کفن کے دفن کر دیا گیا ۔
اطہر علی خاں کی آنکھوں سے آنسورُکنے کانام نہیں لے رہے تھے ۔ ستیّہ کمار نے چپ کرانے کی بہت کوشش کی ۔ اِس کوشش میں کامیاب ہوئے تو اُن کی آنکھوں کے مضبوط بندھ خود بخود ٹوٹ گئے۔آنسوؤں کا سیلاب اُنہیں بھی بہاکر دور بہت دور ماضی کی ایک ایسی دنیا میں لے گیا ، جہاں پہنچتے ہی وہ خود میں کھو سے گئے ۔
جب وہ پشاور ایکسپریس میں سوار ہو کر ہندوستان کے لئے روانہ ہوئے تو ان کی ٹرین کا حال کرشن چندر کی پیشاور ایکسپریس جیسا ہی تھا ۔ راستے میں چند شر پسند نوجوانوں نے اُ ن کی بیوی اور چودہ سالہ بچّی کو اُ ن کے سامنے گھسیٹ کر پلیٹ فارم پر اُتار لیا ۔مزاحمت کرنے پر اُنہیں مار مار کر ادھ مرا کر دیا ۔ وہ وہیں گر پڑے ۔ لیکن کچھ دیر بعد جیسے تیسے کر کے اُٹھے ۔ کھڑکی سے باہر دیکھا تو پلیٹ فارم کا منظر ہی بدلا ہوا تھا ۔ دوسرے کمپارٹمنٹ سے بھی کئی عورتیں اور لڑکیاں اُتاری گئی تھیں ۔ جنہیں بے شمار بھیڑئے چاروں طرف سے نوچ رہے تھے ۔ قریب دو گھنٹے تک ٹرین وہاں رکی رہی ۔ درندوں نے اُن کی بیوی کو ہوس کا شکار بنانے کے بعد بڑی بے رحمی سے اُن کے دونوں سینے کاٹ لئے تھے ۔ خون سے وہ لت پت پلیٹ فارم پر تڑپ رہی تھی دوسرے پلیٹ فارم پر اُس کی کمسِن بیٹی کئی ایک جوانوں کے درمیان پھنسی ہوئی تھی ۔ اُس کی چیخ بھی سہی سے نہیں نکل پا رہی تھی ۔ لیکن واہ رے اُس کی ہمّت کہ اُس نے کئی کو د انت کاٹ کر زخمی کر دیا تھا ۔ وہ اِدھر سے اُدھر بھاگ رہی تھی ۔ لیکن کوئی بچانے والا نہیں تھا ۔ آخر میں ایک درندے نے اُس کے پھول سے بدن کے پھول سے انگ پر بھالے سے وار کیا ۔ خون کا فوّارہ اُٹھا جسے دیکھنے کی تاب ستیّہ کمارمیں نہیں تھی ۔ وہ بے ہوش ہو گئے ۔
ستیّہ کمار کی آنکھوں سے آنسو اب بھی بہہ رہے تھے ۔ اطہر علی اُنہیں سمجھانے کی کوشش کرتے رہے ۔ کچھ دیر تک ہال میں خاموشی سی چھائی رہی ۔ پھر اُنہوں نے روہانسی آواز میں کہا ۔
’’اطہر میاں ! کیا بٹوارہ اتنا ہی ضروری تھا ۔ ؟ تم نے اپنے جنّاح کو کیوں نہیں سمجھایا کہ پاکستان کی ضد چھوڑو ۔ ورنہ دونوں طرف کے لاکھوں لوگ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے ۔اپنے گھر سے بے گھر ہو جائیں گے۔‘‘
’’ستیّہ کمار جی آج کون کس کی بات سنتا ہے ۔ ‘‘ اطہر علی خاں نے طنزیہ لہجے میں بات جاری رکھی ۔ ’’ گاندھی ، نہرو، آزاد اوردوسرے نیتا ؤں کوجب اس بات کا علم تھا کہ جنّاح چند ہی روز کے مہمان ہیں ، تو پھر اُن رہنُماؤں نے دور اندیشی سے کا م کیوں نہیں لیا ؟ کچھ د ن کے لئے وزیر اعظم بنا دیتے تو ملک کا بنٹوارہ تونہیں ہوا ہوتا نا ؟ اگر آج ایک ہوتے توچاند کیا ،سورج بھی ہماری مُٹھی میں ہوتا ۔‘‘
’’ ہاں ۔! ‘‘ ستیّہ کمارنے اپنے آنسوؤں کو پوچھتے ہوئے اُن کی باتوں پر صداقت کی مہر لگائی ۔ ’’ لیکن جو ہو گیا ، اُس کا کیا کیا جائے؟ اب سے بھی ہمارے سیاسی رہنُما صِدق دل سے ایک دوسرے کے قریب آجائیں تو نہ دوبارہ اکہتّر کی خوں ریزی ہو گی ۔ نہ کشمیریوں میں دہشت پھیلے گی ۔اور نہ کبھی کارگل ہو گا ۔ ‘‘
’’بات تو سولہ آنے سچ کہی ہے آپ نے ۔ ‘‘ اطہر علی کی آنکھیں کچھ بڑی ہو کر سرخ ہو گئی تھیں ۔ ’’ لیکن اگر اکہتّر نہیں ہوا ہوتا تو کبھی کارگل نہیں ہوتا ۔ چوں کہ اکہتّر ہوا ہے اور ابھی بنگلہ دیش کا زخم پاکستان کے سینے میں تازہ ہے ۔ اس لئے اِ س کے ردِّ عمل میں جو کچھ ہو رہا ہے اُس سے نپٹنے کے لئے ہندوستانی حکومت جتنی بھی فوجیں سرحد پر تعینات کر دیں ۔ لیکن کشمیر آزاد ہو کر رہے گا ۔‘‘
دوپہر کے کھانے میں کئی طرح کے پکوان بنائے گئے تھے ۔ سب نے سیر ہو کر کھایا ۔ اطہر علی نے کھانے کی بہت تعریف کی ۔ کھانے کے فوراََ بعد رام کمار کے ساتھ شاہنواز’ مائی نیم از خان ‘دیکھنے کے لئے نکل گیا ۔ وہ ہندوستانی فلموں اور خاص طور سے شاہ رخ خان کا بہت بڑا فین تھا ۔ اطہر علی خاں ، ستیّہ کمارکے ساتھ اُن کے کمرے میں آرام کرنے چلے گئے ۔
سرفراز علی آزاد اورجئے کمار وہیں ہال میں صوفے پر بیٹھے تھے ۔ایک ادیب تھا تو دوسرا آرٹسٹ ۔ دونوں کو اس بات کا افسوس تھا کہ وہ جس ملک میں پیدا ہوئے ہیں ، اُس ملک نے اُنہیں پناہ نہیں دی ۔ دونوں کی حالت اُس وقت اُس بچّے کی طرح تھی جسے مائیں جنم دے کر دوسرے کو گود دے دیتی ہیں…… گود لئے بچّے چاہے کچھ بھی بن جائیں اُنہیں عدم تحفُّظ کا احساس ہمیشہ ستاتا رہتا ہے کہ کہیں ….؟یہ دونوں بھی ہمیشہ اندر ہی اندر ڈرے سہمے سے رہتے کہ کہیں دونوں ممالک کے درمیان جنگ نہ چھڑ جائے ۔ اِ س سے بچنے کے لئے دونوں ایک ہی طرح سے سوچتے ہیں ۔
’’ جنگ مسائل کو جنم دیتی ہے ختم نہیں کرتی….. ‘‘
’’اصل میں ہم ختم کرنا نہیں چاہتے ۔اگرجغرافیائی حدود کا خیال رکھیں ۔کشمیر کی دانستہ اوور لیپنگ سے اجتناب برتیں ۔اور اپنے اپنے ملک کے نقشے کو درست کرلیں ۔تو پھر کوئی مسئلہ ہی نہیں رہے گا۔‘‘
’’ جئے کمار جی! اِس طرح کے کئی اہم مسئلوں پر ہمارے رہنُما شملہ ، لاہور اور آگرہ سمجھوتے کر چُکے ہیں ۔ بین الاقوامی کانفرنسوں میں بھی یہ مدّے اُٹھائے گئے ہیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ عالمی ادارے اِس مسئلے کو سلجھا سکیں گے۔؟ جو خود کٹھ پتلی ہیں ‘‘ سرفراز علی خاں نے یہ کہہ کرعالمی امن اداروں کے وجود پر ہی سوالیہ نشان لگا دیا تھا ۔
’’ آپ نے بالکل سہی کہا ہے ۔‘‘ جئے کمار نے اُن کی بات کو کچھ اور آگے بڑھائی ۔ ’’ ورنہ لاکھوں فلسطینیوں ، لبنانیوں ، افغانستانیوں اور عراقیوں کی جانیں بے موقع و محل نہیں جاتیں ۔ صدّام کو پھانسی نہیں ہوتی ۔‘‘

’’ رام کماراور شاہنواز جب فلم دیکھ کر لوٹے تو اُسی بائک سے جئے کماراور سرفراز علی آزاد کتاب بازار گئے ۔ سرفراز کو گیان پیٹھ اور ساہِتیہ اکاڈمی انعام یافتہ کتابیں خریدنی تھیں دونوں کے ہال سے باہر نکلتے ہی دونوں کے صاحبزادے دونوں کی جگہوں پر دوبارہ براجمان ہو گئے ۔
شاہنواز پالٹیکل سائنس میں پی جی تھا تو رام کمار نے شدّت پسند گیروا پارٹی جوائن کر رکھا تھا ۔ اِ س لئے فوراََ سیاست پر گفتگو شروع ہو گئی ۔ موضوعِ بحث تھا۔ فوجی حکمراں ، دہشت گردی ، لائن آف کنٹرول ، مقبوضہ کشمیر ، آئی ایس آئی ، جماعت اسلامی ، آرایس ایس ، اکچھر دھام ، لال قلعہ اوربابری مسجد …..
’’ اکثر تمہارے فوجی حکمراں ڈرانے کی کوشش کیوں کرتے ہیں ….؟‘‘ بات ہی بات میں رام کمارنے شاہنواز سے پوچھ ہی لیا ۔
’’ تم جو بھی کہو ۔ لیکن سچّائی یہ ہے کہ پہلے تم نے پوکھران کا دھماکہ کیا ۔ ہم نے تو صرف جوابی کارروائی کر کے بتایا کہ ہم نے بھی کوئی چوڑیاں نہیں پہن رکھی ہیں ۔‘‘
اِس دوران جئے کماراور سرفراز علی آزاد بازار سے لوٹ آئے تھے ۔ دونوں کو سیاست پر گفتگو کرتے دیکھ کرجئے کماربھی میدان میں کود پڑے ۔
’’جواب تو دونوں حکومتوں کا نہیں ہے ۔ دونوں کے یہاں کسان خود کشی کر رہے ہیں ۔لوگ غریبی سے مر رہے ہیں لیکن دونوں ایک دوسرے پر سیاسی برتری حاصل کرنے کے لئے ایٹمی طاقت کو بڑھانے میں رات دن پاگل ہورہے ہیں ۔‘‘
’’اسلحے کبھی ملک کی ترقی کے ضامن نہیں ہو سکتے ۔ ‘‘ سرفراز علی خاں نے بھی اپناموقّف ظاہر کیا ۔ ’’ اِس پر جتنے پیسے خرچ کئے جارہے ہیں اگر اس کا آدھا حصّہ بھی غریبوں کے لئے مختص کر دیا جاتا تو دونوں ملکوں کی خوشحالی کا گرا ف آج کچھ اور کہانی بیان کر رہا ہوتا ۔لیکن افسوس…؟‘‘
جئے کمار، سرفراز علی آزادکے ساتھ اپنے کمرے میں چلے گئے ۔رام کمار اور شاہنوازدونوں کے ذہن میں اب بھی بہت سارے سوالات کلبلا رہے تھے ۔ جیسے بابری مسجدبغیرکسی تاریخی شواہد اور عدالت کے فیصلے کے بغیر کیوں توڑ دی گئی ۔ ؟ ہائی کورٹ کا فیصلہ آیا تو بابری مسجد اوررام جنم بھومی میںآدھا آدھا نہیں بٹ کر تین حصّے میں کیسے بٹ گیا؟کیا مدرسے دہشت گردی کے اڈّے نہیں ہیں ؟ لال مسجد میں جو ہوا وہ کیا تھا ۔؟
ستّیہ کمار اور اطہر علی خاں دوسرے کمرے سے لیٹے لیٹے سب کچھ سن رہے تھے اور یہ سوچ رہے تھے کہ نئی نسل ’پاکستان ‘کا مطلب ….. ’ دہشت گرد ‘ اور ’ہندو ‘کا مطلب ’ہندوستانی مسلمانوں پر ظلم ڈھانے والا ‘کیوں سمجھتی ہے ۔؟ ایک دوسر ے کو ہمیشہ شک کی نگاہ سی کیوں دیکھتی ہے ۔؟ اس پر اطہر علی خاں نے افسوس کا اِظہار کرتے ہوئے کہا ۔
’’ اِس میں قصور نئی نسل کا نہیں ، حکومت کا ہے ۔ ہمارے دانشوروں کا ہے ۔ جنہوں نے بنٹوارے کو ہندو مسلم کی نگاہ سے دیکھا اور ہندی، اردو کے لئے الگ الگ نصاب تیّار کئے ۔ ہمارے پاکستان میں جو نئی نسل ہے وہ گاندھی نہرو اور آزاد کو نہیں جانتی ۔ یا پھر وہ اہمیّت نہیں دیتی ۔ جب کہ یہ ہمارا مشترکہ سرمایہ ہے ۔ ‘‘
’’ہمارے یہاں بھی جنّاح اور ان کے حمایتیوں کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ۔ بڑے بڑے مسلم رہنُماؤں پر ادنیٰ قسم کے رہنُما کو فوقیت دی جاتی ہے ۔ حامد جیسے جاں بازوں کو مثال بنا کر پیش نہیں کیا جاتا ۔ جب تک نئی نسل مشترکہ کارناموں سے روشناس نہیں ہو گی ، تب تک وہ حقیقت سے بعید ایک دوسرے سے نفر ت کرتی رہے گی جلیاں والا باغ کے کلپرٹ مائکل اوڈائر کو قتل کرنے والے اودھم سنگھ کی باقیات کو ’ پینٹن ولے ‘ لندن کے کوئک لائم یارڈ سے نکال کر سرکاری اعزاز کے ساتھ آزادی کے فوراََ بعد بھارت لایا جاتا ہے ۔ لیکن ۱۸۵۷ ؁ء کے ہیرو ،مغل سمراٹ بہادر شاہ ظفر کی باقیات کو آزادی کے ساٹھ سال بعد بھی رنگون سے دہلی نہیں لایا جاسکا ہے ۔ آخر کیوں ۔؟ ‘‘
دوسرے دن مارکیٹنگ کے لئے تینوں باہر نکلے ۔ ڈھیر سار ے تحفے تحائف رشتہ داروں اور دوستوں کے لئے خریدے گئے ۔ واپسی میں ہوٹل سے سامان بھی لیتے آئے ۔ اُس رات کھانے کے بعد سبھی ستیّہ کمار کے کمرے میں موجود تھے ۔ دورانِ گُفتگو ستیّہ کمارنے موقع غنیمت جان کر وہ بات بھی کہہ دی جسے کہنے کے لئے وہ برسوں سے بے چین تھے ۔
’’ اطہر میاں ! زندگی اور موت کا کیا ٹھکانا ۔ آج ہوں کل نہ رہوں ۔ پھر نئی نسل کا کوئی بھروسہ نہیں کہ کب ہمیں بھول جائے ۔ اِ سلئے میں نے وکیل کو بلوایا تھا ۔ لیکن اب جب آپ خود آگئے ہیں تو اس کی کوئی ضرورت نہیں میں نے گھر کے سارے کاغذا ت سنبھال کر رکھے ہیں ۔ ‘‘ ستیّہ کمار نے پلنگ کے نیچے سے زنگ آلود صندوق کھینچا۔ اسے زنجیر سے باندھ کر رکھا گیا تھا ۔ اس میں سے انہوں نے گھر کے کاغذات اور بینک کی پاس بُک نکالی اور اطہر علی کی طرف بڑھا دیا ۔’’ جب تک میں اِسے آپ کے حوالے نہیں کرتا ۔ چین سے موت بھی مجھے گلے نہیں لگاتی ۔‘‘ ستیّہ کمار کی اِس بات پر پہلے اطہر علی خاں مسکرائے پھر بولے ۔
’’ میں کیا کروں گا اِسے لے کر ۔ ؟ مجھے نہیں چاہئے یہ سب ۔ کیا یہ کم ہے کہ آپ نے میرے سپنوں کو سنجو کر رکھا ہے ۔اور میں اتنے سالوں بعد اپنے اُس گھر کو اسی حالت میں دیکھ رہا ہوں ۔جس میں چھوڑگیا تھا۔‘‘ یہ کہتے ہی اطہر علی خاں کی آنکھیں شکریہ کے انداز میں جھُک گئی تھیں ۔
ستیّہ کمار اس سے پہلے کہ کچھ کہتے شاہنواز دادا کے سامنے آ جاتا ہے ۔
’’ دادا جان ! ستیّہ دادا جب خوش دلی سے آپ کو آپ کی چیز لوٹا رہے ہیں تو پھر لینے میں بُرائی کیاہے ۔ ؟‘‘
دوسری طرف رام کمارکروڑوں کی جائداد کو اپنے ہاتھوں سے نکلتے دیکھ کر اندر ہی اندر پریشان ہو جاتا ہے اور آخر میں دادا سے کہتا ہے ۔’’ برسوں سے جب آپ اِس گھر کی حفاظت کررہے ہیں تو پھر آگے آپ کو کیا پریشانی ہے ۔ ؟ میں ہوں نا آپ کی دیکھ بھال کے لئے ….‘‘
اُس وقت جئے کمار عجیب کشمکش میں پھنس گئے تھے ۔ اُن کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہاتھا کہ وہ کیا کریں ۔؟ باپ کی حمایت کریں یا بیٹے کی حرکت پر اُسے ڈانٹیں ۔ پھر وہ کچھ سوچتے ہوئے نئی اور پرانی نسل کے درمیان ترازو بن کر جھول گئے ۔
’’ پاپا ! ایسا کیوں نہیں کرتے کہ گھر انکل کو دے دیں اور کرائے والی وہ رقم جو بینک میں ہے اُسے اپنے پاس رکھ لیں ۔ ‘‘
ستیّہ کمار نے بیٹے کی طرف ترچھی نظر سے دیکھا ۔لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتے ،سرفراز علی آزاد نے مسکراتے ہوئے بنٹوار ے کا خیر مقد م کیا ’’ انکل جئے کمار ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہے ۔ میرے حساب سے مناسب تو یہ رہے گا کہ….. کل چونکہ ہم لوگ جا رہے ہیں۔ گھر تو لے جا نہیں سکتے اور نہ ہی اتنی جلدی میں کسی سے بیچ سکتے ہیں ۔ لیکن رقم کو آسانی سے ایکسچینج کر کے پاکستان لے جا سکتے ہیں اِس لئے ……‘‘
سرفراز کی اس بات پر اطہر علی خاں برانگیختہ ہو اُٹھتے ہیں ۔ ’’ تم اتنے بڑے رائٹر ہو کر اس طرح کی گھٹیا باتیں کر رہے ہو ۔ ارے انسانیت کا تقاضہ تو یہ ہے کہ جس طرح سے اُنہوں نے میرے گھر کی حفاظت کی ہے ، مجھے اس کے عوض اُنہیں انعام دینا چاہئے اور تم ہو کہ …..؟‘‘
دادا کی اس بات پر شاہنواز نے ایک زور دار ٹھہاکا لگایا اور اندر ہی اندر کچھ بُدبُدایا ۔ پھر وہ کچھ دیر تک ماحول کا جائزہ لیتا رہا ۔ سوچتا رہا کہ اُس کے دادا کتنے معصوم ہیں ۔ گھر آئی دولت کو لات مار رہے ہیں ۔اُسے رونا آرہا تھا دوسر ی طرف رام کماریہ سوچ رہا تھا : کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ پاکستانی دادا کا ارادہ بدل جائے ۔ مفت ہاتھ آجائے تو بُرا کیا ہے ۔ یہ تو انسان کی فطرت میں شامل ہے ۔ وہ دوسری ترکیب سوچنے لگتا ہے۔پھر جھوٹی تعریف کے پُل باندھ دیتا ہے ۔
’’واہ داد ا واہ! آپ کے اِس فیصلے نے مجھے اپنا مُرید بنا لیا ہے ۔انسان کی اگر پوجاکی جاتی تو دل کے مندر میں آپ کو بٹھا کر میں صبح وشام پوجتا رہتا ۔‘‘
’’ نہیں ! پوجنے کے لائق تو تمہارے دادا ہیں بیٹے ۔‘‘ سرفراز علی نے کہا ۔ ابھی ابھی میں نے فیصلہ کیا ہے کہ سوانح عمری سے پہلے تمہارے دادا کو مرکزی کردار بنا کر ایک زبردست ناول لکھوں گا ۔ قسم خدا کی ایسا جیتا جاگتا کردار آج کے مطلب پرست دور میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملنے والا ۔‘‘
سرفراز علی آزاد کو جو وقت ملا اُسی میں انہوں نے اپنی سوانح عمری کے لئے تصویریں کھینچ لیں ۔ یہاں کے جغرافیائی حالات اور یہاں کی تہذیبی اور ثقافتی زندگی کے متعلق بھی بہت ساری معلومات جمع کر لیں ۔ناول کے لئے ستیّہ کمارسے اُن کی زندگی کے چند اہم پہلوؤں پر گفتگو کی ۔ اُنہیں ہندوستانی عظمت کا گہوارہ قرار دیا ۔ دالد کی شخصیّت بھی اُن کے لئے کسی مُعمّے سے کم نہیں تھی ۔ کفایت شعاری اور پیسے کے پیچھے بھاگنے والا شخص انہیں اب سادھو ، فقیر نظرآرہا تھا ۔ناول کے ضمنی کردار بھی اُسے اس طرح گھر بیٹھے مل جائیں گے ۔اس نے سوچا نہیں تھا ۔ وہ آج بہت خوش تھے ۔
ویزا کی میعاد ختم ہو چکی تھی ۔ آج تینوں پاکستان لوٹ رہے تھے ۔ لوٹنے سے پہلے اطہر علی خاں نے گھرکے ایک ایک حصّے کو اچّھی طرح دیکھا تھا۔ آخر میں ستّیہ کمار کے کمرے میں آئے ۔ اپنی گاڑھی محنت سے بنی بلیک شیشم کے پلنگ کوجس میں اب بھی وہی چمک تھی ، اُسے کئی بار چھوا ۔ گذرے دنوں کی یادوں کو اپنے اندر محسوس کیا اس پلنگ پر ہی انہوں نے دلہن کا شرم سے گلنار چہرہ دیکھا تھا ۔ اُسے سونے کی انگوٹھی پہنائی تھی ۔ پھر یکے بعد دیگرے کئی مناظر اپنے بدن کھولنے لگے ۔ اُن کی آنکھیں پوری طرح سے چھلک اُٹھیں ستیّہ کمار سب کچھ سمجھ رہے تھے ۔ لیکن خاموش تھے ۔ اُن کی اِس خاموشی میں بھی کئی راز پنہاں تھے ۔ وہ بھی اطہر علی خاں کے گلے مل کر خوب روئے ۔جئے کمار بھی سرفراز علی آزاد سے گلے ملتے ہی جذباتی ہو گئے تھے ۔ انھوں نے تحفے میں ہندوستان و پاکستان کا نیا نقشہ پیش کیا ۔ سرفراز نے بھی انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی ۔
گھر سے نکلتے وقت ستیّہ کمار خود کو کمزور پاؤں پر گھیسٹتے ہوئے باہر لائے ۔ عورتیں برآمدے تک آئیں ۔ بچّے بھی پاؤں چھونے کے لئے روڈ تک آئے ۔ اِس بھیڑمیں گھر کے جہاں سارے افراد تھے ۔ وہیں رام کمار سر درد کی وجہ سے بام لگا کر دادا کے کمرے میں سویاہوا تھا ۔
ٹیمپومیں سامان رکھا جا رہا تھا۔ آس پاس کے دوچار لوگ بھی اُن سے ملنے آگئے تھے۔ ستیّہ کمارنے آخری بار اِلتجا کی ’’پلیز گھر کے کاغذات لیتے جائیں ۔ ‘‘ اطہر علی کی آنکھیں اُس وقت بھیگی ہوئی تھیں ۔ اُنہوں نے ستّیہ کمار کی طرف دیکھا ۔ لیکن کوئی جواب نہیں دیا ۔ ستّیہ کمار بھی کچھ دیر خاموش رہے ۔ پھر جئے کمار سے بولے ۔
’’ بیٹے انہیں جلدی اِسٹیشن چھوڑ آ ‘‘
اِسٹیشن پہنچتے ہی شاہنواز کو کچھ یا د آیا ۔ ٹرین آنے میں کچھ دیر تھی ۔ اُس نے اِ س کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے کہا ۔ ’’ میں نے کل پاس کی ایک دکان سے ممّی کے لئے تحفہ پسند کیا تھا ۔ سوچا تھا کہ جاتے وقت لے لوں گا ۔ بس میں ابھی گیا اور ابھی آیا ۔ ‘‘
باہر نکل کروہ ٹیمپو میں سوار ہوا ۔ راستہ بھر سوچتا رہا کہ ستّیہ دادا سے جا کر وہ کیا کہے گا ۔؟ سیدھاکہے گاکہ ابوّ جان آپ کے نیک جذبات کو دیکھتے ہوئے گھر کے کاغذات لینے کے لئے تیّار ہو گئے ہیں ۔ لیکن کہیں اُسی وقت انہوں نے فون لگا لیا تو …. ؟ سارا کھیل خراب ہو جائے گا ۔ وہ پریشان تھا ۔ لیکن اسی ادھیڑ بن میں راستہ طے ہوگیا ۔
شاہنواز کو دیکھتے ہی ستّیہ کمارکے چہرے پروقت نے صدیو ں پر محیط زندگی کا غازہ مل دیا ۔ وہ سمجھ گئے کہ شاہنواز کیوں آیا ہے ۔ ؟ پہلے مُسکرائے ۔ پھر بولے ’’بے وقوف کو میں نے اتنا سمجھایا پر نہیں مانا ۔ صرف قُرآن لے کر چلتا بنا ۔ لیکن بھگوان پر مجھے وشواس تھا ۔ چلو اطہر میاں نہیں آئے ،کوئی بات نہیں ۔ میرا پوتا تو آگیا ۔‘‘
شاہنواز کی خوشی کی انتہا نہیں تھی ۔ بغیر جھوٹ بولے بات بن گئی تھی ۔ لیکن یکایک اُس کی خوشیوں میں فور فورٹی کا گہن اُس وقت لگ گیاجب ستّیہ کمارنے جھُک کر پلنگ کے نیچے سے اُس پرانے صندوق کو کھینچا ۔ زنجیر ٹوٹی ہوئی تھی ۔ قبضے کے ساتھ تالا ایک طرف جھول رہا تھا ۔ اندر نہ ہی کاغذات تھے اور نہ ہی پاس بُک …..
ستّیہ کمارکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا پھیل گیا ۔ اندر ایک بونڈر اُٹھنے ہی والا تھا … . .روح کے پرخچے اُڑنے ہی والے تھے…… کہ یکایک فون کی گھنٹی بج اُٹھی ۔
’’دادا میں نے صندوق توڑنے کا گناہ کیا ہے ۔ چیک پر جعلی دستخط کر کے کچھ پیسے بھی نکال لئے ہیں ۔ لیکن بینک سے نکلتے ہی آپ کے آدرشوں نے میرے منفی خیالات کے پاؤں میں پُرانی صندوق کی وہی زنجیریں ڈال دی ہیں، جسے توڑ کے میں یہاں تک آیا تھا سر درد ٹھیک ہو گیا ہے ۔ کیوں مجھ میں بھی آپ کا ہی خون دوڑرہا ہے ۔ اب یہاں سے میں سیدھے اِسٹیشن جا رہا ہوں کہ سب کچھ شاہنواز کو سونپ دوں ۔ تاکہ کبھی ہمارا ’گھر‘ ہمیں آواز دے تو ’ شرمند گی ‘ نہ ہو۔‘‘
اُس وقت ستّیہ کمار خوشیوں سے پاگل ہو اُٹھے تھے ۔ شاہنواز کو دیر تک گلے سے لگائے رکھے ۔ پھر بولے ’’ تو جو لینے آیا ہے ، اُسے دینے کے لئے رام کمار خود اِسٹیشن گیا ہے ۔ جا بیٹا جا جلدی جا گاڑی کا وقت ہو رہا ہے ۔
شاہنوازچلا گیا ۔
ستّیہ کمار نے اُ س طاق پر جو اب خالی ہو چکا تھا ۔وہا ں پاکستان سے لائے ہوئے ’گیتا ‘ کورکھ دیا ۔
اب یہ گھراُنہیں اپنا لگ رہا تھا ۔
***

Viewers: 4175
Share