Imran Akif Khan | تماشا

عمران عاکف خان imranakifkhan@gmail.com 85،ڈیگ گیٹ ‘گلپاڑہ‘بھرت پور ‘راجستھان تماشا چونکہ ملک میں عام انتخابات کا بگل بج چکا تھا اس لیے شہر کی ہر گلی ‘سڑک چوراہے اور مید […]
عمران عاکف خان
imranakifkhan@gmail.com
85،ڈیگ گیٹ ‘گلپاڑہ‘بھرت پور ‘راجستھان
تماشا
چونکہ ملک میں عام انتخابات کا بگل بج چکا تھا اس لیے شہر کی ہر گلی ‘سڑک چوراہے اور مید انوں کے آس پاس رنگ برنگے پوسٹر ‘جھنڈیاں اور فلیش بورڈ لگے تھے ۔ان کے دم سے شہر رعنائیوں اور خوشنما مناظر کی آماجگاہ بن گیا ۔وہ مناظر بہت پیارے لگتے ۔دیکھنے والا انھیں ایک ٹک دیکھے جاتا۔
سلیم ایسے ہی ایک چوراہے پر کھڑا دنیا و مافیہاسے بے خبر شوخ رنگوں کے ایک ایسے ہی پوسٹر کو دیکھ رہا تھا ۔پوسٹر ایسا ہی تھا کہ دیکھنے والے کی پہلی ہی نظر کو اپنی گر فت میں لے لیتا اور جب تک اس کے ایک ایک پہلو کا جائزہ نہیں لیا جاتا نگاہیں ہٹتی ہی نہ تھیں۔
اچانک ایک طرف سے بے ہنگم آوازیں اور شور بڑھتا آیا۔سلیم نے پلٹ کر اس طرف دیکھا۔ایک جلوس انتخابی نعرے لگاتا ہوا آرہا تھا اوران کا لیڈ رگلے میں مالا ڈالے کھلی گاڑی سے ہاتھ ہلا ہلا کر مقامی باشندوں کو سلام کررہا تھا ۔اس کے پیچھے آنے والی گاڑی سے تیز آواز میں محمد رفیع کے نغمے چل رہے تھے ۔’’یہ دیش ہے ویر جوانوں کا اس دیش کا یارو کیا کہنا……‘‘ سلیم کو وہ منظر پوسٹروں کے منظر سے بھی اچھا لگا ۔ایک تماشا تھا وہ ۔اچانک سلیم سوچنے لگا….. بھوکے پیاسے لوگ ‘مہنگائی اور بھک مری کے شکار لوگ نہ جانے کب سے اس لیڈر کے ساتھ ہیں اور ابھی کہاں تک جائیں گے پتا نہیں ۔یہ لوگ ان کا کس طرح استعمال کر تے ہیں اقتدار میں رہتے ہوئے بھی انہیں بے وقوف بناتے ہیں اور ا قتدار میں آنے کے بعد تو ان کا خون تک چوس لیتے ہیں …. . وہ سوچتا رہا اور غریبوں کے بھولے پن و لیڈروں کی سفاکی پر افسوس کرتا رہا ۔جلوس آگے بڑھ گیا تھا۔سلیم بھی اس کے پیچھے چل پڑا ۔’’لاکھ تماشے دیکھے ہیں ….ایک تماشا اور سہی‘‘سلیم کی زبان سے بھی نغمہ جاری ہو گیا ۔
جلوس آگے بڑھتا جارہا تھا کہ سامنے سے مخالف پارٹی کے امید وارکے جلوس نے اس کا راستہ روک لیا ۔پہلے پہل تو معاملہ باتوں سے ہی سلجھانا چاہا مگر بات بڑھتی چلی گئی اور دونوں طرف کے دبنگوں نے ایک دوسرے کے گریبان پر ہاتھ ڈال دیا ۔پھر کیا تھا گالیاں ‘برے کلمات ‘چیخیں‘اٹھا پٹکنے کی آوازیں۔دیکھتے ہی دیکھتے جانبین سے دوچار آدمی چو راہے پر خون میں لت پت پڑے تھے۔پر سکون اور شاندار ماحول چند ساعات میں غارت ہو گیا ۔کسی نے پولیس کو فون کر دیا اور اب نعروں و نغموں پر پولیس گاڑیوں کے سائرن بھاری پڑنے لگے۔پولیس دیکھ کر فالتو بھیڑ کائی کی طرح چھٹ گئی ۔جنھیں بھاگنے کا موقع ملا وہ بھاگ گئے اور کچھ بد نصیب پولیس کے ہاتھ لگ گئے۔ ’’یہ کیسا تماشا ہے میرے خدا ‘‘سلیم نے سوچنے لگا۔…’’ابھی تماشا دیکھا ہی کہا ں ہے تم نے سلیم صاحب !ابھی تو بات یہیں ہے میڈیا میں کہاں آئی ہے۔میڈیامیں آئے گی ۔مرچ مسالہ لگ کر خبریں بنیں گی۔گر م گر م سرخیوں کے ساتھ اخبارات کو لیس کیا جائے گا ۔بات کو بتنگڑ‘ ذرے کو پہاڑ‘افسانے کو حقیقت اور سچ کو جھوٹ بنایا جائے گا اس وقت ہوگا تماشا ۔‘‘سلیم کے دل سے آواز آئی۔پولیس خون میں لت پت لاشوں اور ہاتھ آئے لوگوں کو پکڑ کر لے گئی اور جائے حادثہ پر سناٹا پھیل گیا ۔سلیم ماحول سے گھبرا کر اکیلا ایک طرف چل پڑا۔غم ‘دکھ ‘افسوس اور انسانوں کی حیوانیت نے اس کے دل پر گہرااثر کیا تھا ۔ آج اس نے ایسا تماشا دیکھاتھا جس کے بعد کوئی اور تماشا دیکھنے کی حسرت دل میں نہ رہی۔
***
Viewers: 5369
Share