ایم۔ زیڈ کنول کے شعری مجموعے ’’کائنات مٹھی میں ‘‘کی تقریبِ رونمائی

شریف اکیڈمی جرمنی کے زیر اہتمام ممتاز شاعرہ ایم۔ زیڈ کنول کے شعری مجموعے ’’کائنات مٹھی میں ‘‘کی تقریبِ رونمائی
تقریب کی صدارت ممتاز شاعر اور ادیب ڈاکٹر طارق جاوید نے کی ۔ مہمانِ خصوصی صاحبِ کتاب محترمہ ایم زیڈ کنولؔ تھیں جبکہ سعودی عرب سے آئے ہوئے شاعر ایوب صابر اور اِٹلی سے تشریف لائی ہوئی شاعرہ شازیہ نورین نے مہمانِ اعزاز کی حیثیت سے تقریب کو رونق بخشی۔
الحمرا ادبی بیٹھک میں منعقدہ تقریب سے شفیق مراد چیف ایگزیکٹو شریف اکیڈمی نے جرمنی سے وڈیو لِنک کے ذریعے خطاب کیا۔ تقریب کے آرگنائزر اکیڈمی کے ڈائریکٹر پاکستان ولایت احمد فاروقی تھے ، کائنات مٹھی میں کی
شاعر ی ،اردو ادب میں خوشگورار اضافہ ہے، مقررین
لاہور (ڈائریکٹر میڈیا شریف اکیڈمی جرمنی ؍نمائندہ اپنا انٹرنیشنل )پاکستان سمیت دنیا بھر میں فروغِ علم وادب میں سرگرمِ عمل عالمی تنظیم حاجی شریف احمد ایجوکیشنل اینڈ لٹریری اکیڈمی جرمنی کے زیر اہتمام الحمرا آرٹس کونسل لاہور کی ادبی بیٹھک میں معروف شاعرہ اور جرمنی سے شائع ہونے والے ادبی میگزین احساس کی ایڈیٹر ایم ۔ زیڈ کنولؔ کے اردو شعری مجموعے ’’کائنات مٹھی میں ‘‘ کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت چیئرمین شعبہء اُردو گورنمنٹ اسلامیہ پوسٹ گریجوئیٹ کالج،گوجرانوالہ معروف شاعر، ادیب ،نقّاد اور دانشور ڈاکٹر طارق جاویدنے کی۔ جبکہ سعودی عرب کے شہر ریاض میں شریف اکیڈمی جرمنی کے ڈائریکٹر اور معروف شاعر محمد ایوب صابر اور اٹلی میں مقیم شاعرہ شازیہ نورین نے مہمانِ اعزاز کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس پروقار تقریب میں سابق مشیر گورنر پنجاب بشریٰ ملک ، ، نیو جرسی امریکہ سے آئے ہوئے شاعر سعید چوہان اور ممتاز دانشور اور ماہرِ تعلیم حسین مجروح اور صاحبِ تقریب ایم ۔ زیڈ کنول ؔ نے معزز مہمان کی حیثیت سے شرکت کی ۔تقریب کے آرگنائزر اکیڈمی کے ڈائریکٹر پاکستان اور معروف شاعر ولایت احمد فاروقی تھے ۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پا ک سے ہوا ۔ایف جی سکول کی ٹیچر، ممتاز عالمہ نازیہ مبارک نے یہ سعادت حاصل کی۔جبکہ معروف ادیب چیئرمین الحبیب فاؤنڈیشن ذاکر خواجہ نے نعت رسولِ مقبولﷺ پیش کی جس کے بعد حسبِ روایت فرو غِ علم وادب کے اظہار کے لئے اپنے مہمانوں کے ہاتھوں سے شمع روشن کی گئی ۔ تقریب سے وڈیو لنک کے ذریعے فرینکفرٹ (جرمنی) سے خطاب کرتے ہوئے اکیڈمی کے چیف ایگزیکٹو ، معروف شاعر اور دانشور شفیق مراد نے تمام شرکاء ، مہمانانِ گرامی اور شعرا ء کا شکریہ ادا ہوئے کہا کہ ایم ۔ کنول ؔ کی شاعری میں معاشر ے کی بھرپو ر عکاسی نظر آتی ہے ر انہوں نے انسانی رویوں کو انتہائی خوبصورتی کے ساتھ شعری روپ میں ڈھالاہے،انھوں نے ایم زیڈ کنولؔ کو منفرد اسلوب کی شاعرہ اور اردو ادب کا گوہرِ انمول قرار دیا۔ شفیق مراد نے کہا کہ ایم ۔ کنول ؔ کا کلام جو عرصہ دراز سے مسودوں کے قالب میں ڈھلا ہوا ہے ،وہ شریف اکیڈمی جرمنی کے زیر اہتما م شائع کرکے جلد منظرِِ عام پر لایا جائے گا۔ انہوں نے شاعرہ کو خوبصورت کتاب کی اشاعت پر مبارکباد دی۔
تقریب کے صدر ڈاکٹر طارق جاوید نے کہا کہ کنولؔ ،ایم زیڈ کی ذات کا استعارہ بھی ہے اور اس کے فن کی علامت بھی ۔
کنولؔ کی شعری جمالیات کی تشکیل میں لفظوں،ترکیبوں،تشبیہوں،استعاروں،علامتوں،تجریدوں،اور آہنگوں کے سا تھ ساتھ ردیفوں نے بھی جادو جگایا ہے۔اور یہ جادو کبھی چُپکے سے اور کبھی اعلانیہ ایسے سر چڑھ کربولتا ہے کہ صدیوں سے جسم کے خاموش یا سوئے ہوئے ذّرا ت رقص میں آ جاتے ہیں۔اِس ضِمن میں اُن کی غزلوں کا مطالعہ ضروری ہے۔ مہمانِ ا عزازا یوب صابر نے ایمِ ۔ زیڈکنولؔ کو ایک ایسی منفرد شاعرہ قرار دیا جسکی شاعری قاری یا سامع کو انگلی پکڑ کر ایک دلنشیں وادی میں لے جاتی ہے۔جہاں لفظ و معانی کے خوشنما پھول جا بجا قرطاس کی دھرتی پر بکھرے نظر آتے ہیں۔ان پھولوں کی خوشبو شعور سے ٹکراتے ہی سارا بدن مہک اٹھتا ہے ۔شاعرہ نے اپنے فن شاعری میں ادب کی نئی جہتیں متعارف کرائی ہیں ۔ ا ور زندگی کے مختلف شعبو ں کو شاعری کا روپ دے کرایک کامیاب کوشش کی ہے اور یہی ایم ۔ زیڈ کنولؔ کی مقبولیت کا راز ہے مہمانِ اعزاز شازیہ نورین نے ایم زیڈ کنولؔ کی شاعری کو باطنی کیفیات اورقلبی واردات کا آئینہ دار کہتے ہوئے انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔۔منفرد لہجے کے شاعر اور دانشور حسین مجروح نے ایم زیڈ کنولؔ کے فن پر گفتگو کرتے ہوئے شعری حوالوں سے سیر حاصل تبصرہ کرتے ہوئے شاعرہ کو دورِ حاضر کی خوبصورت غزل گو شاعرہ قرار دیا۔ معروف شا عر ،محقق اور نقاد زاہد حسن نے کہا ایم زیڈ کنول ایک طویل عرصے سے اردو اور پنجابی میں شاعری کر رہی ہیں اور آج کے دور میں ہر قسم کی گروپنگ سے بالا تر ہو کر اپنے فن کا لوہا منوا رہی ہیں۔خوبصورت لہجے کے شاعر،سیکرٹری حلقہ اِرتقاعِ ادب ،ریاض رومانی نے ایم زیڈ کنولؔ کو نئی رُتوں کی شاعرہ اور ادب میں ایک توانا آوازقرار دیا۔منڈی بہاء الدین سے خاص طور پر تشریف لائے ہوئے سینیئر شاعر اور ادیب جمیل ناز نے ایم زیڈ کنولؔ کو عصرِ حاضر کی نمائندہ شاعرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا نا قابلِ تسخیرعزم اور مسلسل جدوجہدآج انھیں صفِ اول کے شعراء کی فہرست میں لے آئی ہے۔اپنے ہم عصروں میں ایم زیڈ کنولؔ کی کارکردگی انہیں مسندِ صدارت کے عظیم منصب پر فائز دیکھ رہی ہے۔
ملک کے مایہ ناز پرائڈ آف پرفارمنس آرٹسٹ ، اس کتاب کے ٹائٹل کے خالِق ڈاکٹر اعجاز انور نے ایم زیڈ کنولؔ کی شاعری کو خوبصورت علامتوں ،تشبیہات اور منفرد ردیفوں سے آراستہ با کمال مصوری قرار دیا۔ خوبصورت سرائیکی افسانہ نگار،ڈرامہ نگاراور ماہرِ تعلیم مسرت کلانچوی،ممتاز ماہرتعلیمِ عشرت جبیں ، ڈاکٹر ثروت زہرا سنبلؔ ،ممتاز ماہرِ تعلیم محمد اکرم شاکر، ولایت احمد فاروقی اور دیگر مقررین نے ایم زیڈ ۔ کنولؔ کی شاعری پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ شاعرہ نے چھوٹے اور عمیق موضوعات کو بھی جس فنی پختگی کے ساتھ بیان کیاہے اس سے ان کی شاعری اور فن کا نِکھار اپنے نُقط�ۂ عروج پر دِکھائی دیتا ہے۔ اسی لئے قاری ان کی شاعری کو پڑھ کو ہرگز بوریت کا شکار نہیں ہوتااور یہی وہ خوبی ہے جس سے شاعر قبول عا م کی سند حاصل کرتا ہے۔ انہوں نے کنول ؔ کو ایک منفرد لب و لہجہ کی شاعر قرار دیتے ہوئے ان کی کامیابیوں کی دعا کی۔ ’’کائنات مٹھی میں‘‘ سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ادبی تنظیم کردار کے بانی ، مقصود عامر ،پر نسپل ایف جی سکول محمداکرم شاکر،اورمعروف کمپیئر عزیز شیخ کاکہناتھا کہ ایم ۔ زیڈ کنولؔ کی شاعری گہرے جذبات کا اظہار ہے ،جسے شاعرہ نے اپنے فنی حسن کی بدولت ایک نیا رنگ اور نیا سوز دیاہے ۔ ان کی شاعری میں دردو غم کے علاوہ امیداور خوشی کا یکساں اظہار ملتاہے اور یہی انکی شاعری کا خاصہ ہے جو کنولؔ کو بہت سے شعراء سے ممتاز کرتاہے وہ کسی بھی موضوع پر کھل کر بات کرنے کا ہنر جانتی ہیں اسی لیے انہیں مختلف علمی و ادبی حلقوں میں پذیرائی میسرہے انہوں نے مستقبل میں بھی کنو ل ؔ کی کامیابی کے لئے دعاکرتے ہوئے کہا کہ اس جیسی بامقصد شاعری معاشرے اور قوم کی اشد ضرورت ہے۔ معروف شاعر فراست بخاری،امریکہ سے تشریف لائے شاعرمحمد سعید چوہان اور نگہت اکرم اور عالم لاہوری نے منظوم خراج پیش کیا۔
یہ تقریب شریف اکیڈمی جرمنی نے جس انداز میں سجائی تھی اس کا اعتراف کرتے ہوئے مقررین نے علم و ادب کے لئے کی جانے والی شریف اکیڈمی کی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے شفیق مراد کو خراجِ تحسین پیش کیاجو آج کے دور میں علم وادب کا پرچم بلند کرنے کی خدمت کا فریضہ سر انجام دے رہے ہیں۔ ہے۔ معزز ادباء و مقررین کا کہنا تھا کہ جس طرح کنول ؔ کی شاعری خوبصورت ہے۔ اسی طرح شریف اکیڈمی جرمنی نے ان کے اعزاز میں اتنی ہی خوبصورت تقریب کا اہتمام کیا ہے جس کے لئے اکیڈمی کی تمام ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ اس ضمن میں اکیڈمی کے ڈائریکٹر پاکستان ولایت احمد فاروقی کی خدمات کو خاص طور پر سراہا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ شریف اکیڈمی پاکستان سمیت دنیا بھر میں جس طرح علم وادب کے فروغ کے لئے خدمات سرانجام دے رہی ہے وہ قا بلِ ستائش ہے ایسے اداروں ، تنظیموں اور شخصیات کا ساتھ دیتے ہوئے ان کے ساتھ مکمل تعاون کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے ایم۔ زیڈ کنول ؔ کی کتاب ’’کائنات مٹھی میں‘‘کی جانے والی شاعری کو ایک منفرد اور معیاری کلام قرار دیا۔
اس موقع پر نئی دہلی(انڈیا ) میں غالب اکیڈمی کے روح ورواں احمد علی اعظمی برقی نے ایم ۔زیڈ کنولؔ کو منظو م خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے ایک نظم ارسال کی تھی جسے ڈاکٹر ارسلان طارق نے پڑھ کر سنایا اور بعد میں فریم شدہ یہ نظم ایم۔ زیڈ کنولؔ کو پیش کی گئی۔ تقریب کے دوران اکیڈمی کے ڈائریکٹر پاکستان نے بتایا کہ یہ حسنِ اتفاق ہے کہ آج کے دن کنول ؔ کی سالگرہ بھی ہے اور ان کی کتاب کی تقریب رونمائی بھی اور یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ آج پچیس ستمبر کو ایک تقریب الحمرا ادبی بیٹھک لاہور میں منعقد ہو رہی ہے ہے تو دوسری تقریب فرینکفرٹ (جرمنی ) میں شفیق مراد کی قیادت میں سعودی عرب کے ڈائریکٹر شریف اکیڈمی سلیم کاوش کے اعزاز میں ہو رہی ہے۔ ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایم زیڈکنولؔ کا کہنا تھا کہ وہ سب سے پہلے بے حد شکر گزار ہیں شریف اکیڈمی جرمنی کے چیف ایگزیکٹو شفیق مراد اور ڈائریکٹر پاکستان ولایت احمدفاروقی کی جنہوں نے ان کی کتاب کی اتنی شاندار اور پروقار تقریب رونمائی کا انعقاد کیا اور اکیڈمی کے تمام ڈائریکٹرز کی جن کی محنت سے اتنے عظیم علمی و ادبی شخصیات نے ان کی شاعری ، شخصیت اور فن سے متعلق اپنے خیالات کا اظہا رکیا انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں علم وادب کی بات کرنا کوئی آسان کام نہیں لیکن اگر نیت نیک ہو اور جذبے سچے ہوں تو ’’کائنا ت مٹھی میں‘‘جیسی کتابیں قارئین تک پہنچائی جاسکتی ہیں ایم ۔ زیڈ کنولؔ نے شریف اکیڈمی کے اس اقدام کوبے حد سراہا جو وہ نفسا نفسی کے اس دور میں ہر قسم کے تعصب سے بالا تر ہو کر شاعروں ، ادیبوں اور لکھاریوں کی تخلیقات کو منظرِِ عام پر لانے کی کوشش کرکے دنیائے ادب میں ایک نئی تاریخ رقم کر رہی ہے۔ انہوں نے اپنے اعزاز میں منعقد ہ تقریب میں شرکت کرنے والے تمام خواتین وحضرات کا شکریہ اد ا کرتے ہوئے شریف اکیڈمی کی اس تقریب کو تاریخی اور پروقار قرار دیا۔ اس موقع پر شریف اکیڈمی جرمنی کی جانب سے تقریب کے صدر ڈاکٹر طارق جاوید، مہمانِ خصوصی محمد ایوب صابر، شاعرہ ایم زیڈ کنولؔ اور اٹلی سے آئی ہوئی شاعرہ شازیہ نورین کو ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعترا ف میں شریف اکیڈمی شیلڈز دی گئیں جبکہ فروغِ علم وادب سے متعلق خدمات سرانجام دینے پر ہفت روزہ تاجر لوگ اخبار کے ڈپٹی ایڈیٹر مہر زاہد صدیق کو شریف اکیڈمی میڈل دیا گیا ۔جس پر ان شخصیات نے شریف اکیڈمی کے چیف ایگزیکٹو شفیق مراد اور ان کی ٹیم کا شکریہ اد ا کرتے ہوئے اسے علم وادب کے فروغ کا سبب قراردیا ۔ اس باوقار تقریب میں صدر ادب سرائے جاوید شیدا،جنرل سیکرٹری سفینہ چوہدری اور جوائنٹ سیکرٹری اظہر ندیم ساگر،ماہنامہ پھول کے ایڈیٹر شعیب مرزا،سیکرٹری حلقہ اربابِ ذوق دُرِّ نجف زیبی،معروف شاعر خلش بجنوری،جمیل اکیڈمی ادبیات،ریاض جسٹس،محمد شیراز انجم ، عمار یاسر مگسی، رحمن فارس شاعر محمد وسیم، جاوید شیدا، اختر علی قاسمی، فرح بٹ، شازیہ افضل، ایس آغا، محمد اظہر ،نگہت اکرم ، شعیب مرزا،شاہد بخاری ، حافظ سہیل احمد اور کامران نذیر سمیت متعدد افراد نے شرکت کر کے محفل کو دوبالا کیا اور شاعرہ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔اہم بات یہ کہ یہ دن شاعرہ کی سالگرہ کا دن تھا۔ شریف اکیڈمی کی جانب سے اس دن اس تقریب کا انعقاد شاعرہ کے لئے ایک یادگار تحفہ ہے ۔تقریب کا اختتام پرمعروف شاعرہ نگہت اکرم کی جانب سے لایا گیا کیک کا ٹا گیا اور یوں یہ اپنی نوعیت کی منفرد تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔
Viewers: 1589
Share