بزمِ ادب برلن میں تسلیم الٰہی زلفی کا لیکچر’’فیض احمد فیض بیروت میں‘‘

بر لن (رپورٹ؍تصاویر:سرور غزالی،جرنل سیکریٹری بزمِ ادب برلن۔جرمنی فون نمبر: 003965833)جرمنی کے شہر برلن میں قائم قدیم ادبی اور ثقافتی فعال انجمن’’بزمِ ادب برلن‘‘ کی خصوصی دعوت پر کینیڈا میں آباد پاکستانی نژاد معروف ادبی اسکالر تسلیم الٰہی زلفی برلن تشریف لائے اوران کے اعزاز میں خصوصی شام کا اہتمام کیا گیا۔بھٹو ہال میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں برلن اور اس کے گرد و نواح میں آباد اہلِ قلم اور باذوق خواتین و حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر بزم کے جرنل سیکریٹری سرور غزالی نے بزمِ ادب کی کارکردگی کا جائزہ پیش کیا‘ جبکہ بزم کے صدر علی حیدر وفا نے کینیڈا کے مہمان کے لئے اپنا استقبالی مضمون پیش کیا۔اور تسلیم الٰہی زلفی کو ’’فیض احمد فیض بیروت میں‘‘ کے موضوع پر خطاب کی دعوت دی۔جنہوں نے بیروت میں سنہ 1978سے1982تک فیض صاحب کے قیام کے دوران اپنی رفاقت اور یاسر عرفات سے معمول کی ملاقاتوں میں عربی؍اردو ترجمانی کے علاوہ علمی و ادبی حوالے سے عرب شاعر محمود درویش اور یاسر عرفات سے فیض صاحب اور اپنی ملاقاتوں کے ذکر کے علاوہ فیض صاحب کی جلاوطنی کی صعوبتوں کا تفصیلی بیان کیا‘جسے حاضرین نے نہایت توجہ اور دلچسپی سے سنا اور اختتامِ لیکچر زلفی صاحب سے سوالات بھی کئے۔خورد و نوش کے وقفہ کے بعدمحفلِ مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا جس میں: اجمل چوہدری‘ایوب اعوان‘ہمایوں مہر‘فضل محمود‘انصر بٹ‘ریاست خان‘ریاض احمد‘مشتاق چوہدری‘فاروق گل‘تصدق حسین‘رانا اکرم‘برکت علی‘حنیف الدین‘افضل چوہدری‘میاں افتخار‘ظہور احمد‘گرپیج سنگھ‘ رمضان علی‘رانا ارشد‘ملک اعوان‘رشید احمد‘اطہر بیگ‘عارف سلیمی‘رضیہ ملک‘ملک وزیر‘طارق احمد وڑائچ‘سہیل انور خان نے شرکت کی اور سوشیلہ شرما حق‘انور ظہیر رہبر‘سرور غزالی‘علی حیدر وفا کے علاوہ صدرِ مشاعرہ تسلیم الٰہی زلفی نے اپنا منتحب کلام پیش کیا۔ اس طرح شام پانچ بجے شروع ہونے والی بزمِ ادب برلن کی یہ یادگار تقریب رات دس بجے اپنے اختتام کو پہنچی۔
Viewers: 1633
Share