بحرین میں عید ملن مشاعرہ

(رپورٹ: ریاض شاہدؔ ۔ منامہ ؍بحرین) دنیا کے تمام ممالک تہذیب و تمدّن سے مالا مال ہیں ، اور وہاں کے رہنے والے نفوس اپنی اپنی تہذیبوں پر فخر کرتے ہیں، اپنی اپنی ثقافت پر ناز کرتے ہوئے دوسرے ممالک میں اس کا اظہار کرتے ہیں اور بعض اوقات ثقافتی طائفوں کی صورت میں اسے پیش بھی کرتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی بھی خطّے کی ثقافت ، تہذیب کسی دوسرے خطّے کے مقابل ہو۔ لیکن میرے خیال میں ایک تہذیب ایسی ہے جو کہ تمام ممالک میں مشترک ہے اور وہ ہے شعر وسخن۔ پاک و ہند میں یہ ورثہ بہت مقبول ہے ، اسی طرح جس طرح امریکہ یا یورپ میں مقبول ہے۔ شاعری نے قوموں کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ، دنیا کی کوئی بھی آزدی کی تحریک ایسی نہیں کہ جس میں شاعروں کا حصہ نہ ہو،پاکستان اس کی زندہ مثال ہے ، حضرتِ اقبال ؒ کی شاعری نے سوئے ہوئے مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونکی اور قائدِ اعظم کی بے مثال قیادت میں دنیا کے نقشے پر ایک ملک( مملکتِ خداداد پاکستان ) کا اضافہ اسی ادب کی ایک کڑی ہے ۔
بحرین میں پچھلی تقریباً ڈیڑھ دہائی سے اردو ادب کی خدمت میں پیش پیش تنظیم ’’ پاکستان اردو سوسائٹی حلقۂ ادب بحرین ‘‘ نے لاتعداد مشاعروں کا انعقاد کیا ہے، اور اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے عید کے پُر مسرت موقع پر مذکورہ تنظیم نے پاکستان کلب بحرین کے تعاون سے ایک ’’عید ملن مشاعرہ‘‘ کے عنوان سے ایک تقریب کا اہتمام پاکستان کلب بحرین میں کیا ، جس میں سعودیہ کے منطقہ شرقیہ، جبیل اور ریاض سے شعرا کو مدعو کیا گیا علاوہ ازیں بحرین کے شعراء نے تقریب کے رنگ کو مزید نکھارا۔ تقریب کا آغاز جناب قاری محمد امین نے اپنی خوبصورت آواز میں کلام پاک کی تلاوت سے کیا بعد ازاں مدحتِ سرورَکونین پیش کی ۔ نظامت کے فرائض بحرین کے مقبول اور منفرد لب ولہجے کے شاعراقبال طارق نے ادا کئے، مہمانِ خصوصی چیئرمین پاکستان کلب جناب زاہد شیخ تھے جبکہ مہمانانِ اعزاز چیئرمین حلقۂ ادب شیخ اللہ دتہ ظفر اور وائس چیئر مین محمد شفیق اور مجلس فخرِ بحرین کے سرپرستِ اعلیٰ جناب شکیل احمد تھے ، مشاعرے کی صدارت مہمان شاعر جناب اقبال احمد قمرؔ کو سونپی گئی ۔ لاتعداد حاضرین نے مشاعرے میں شرکت کرتے ہوئے شاعروں کو خوب داد سے نوازا۔ قارئینِ پرنٹ
میڈیا کے ادبی ذوق کی تسکین کے لئے مشاعرے میں شریک شاعروں کا چنندہ کلام پیشِ خدمت ہے ۔
محمد انور بھٹی
درد دل میں دبا لیا جائے
اب تری یاد میں جیا جائے
احمد شکیلؔ
ترے خیالوں کی دنیا حسین ہے لیکن
ہمیں نصیب کہاں تم سا ہو بہو رکھنا
ترے نصیب میں خوشیاں جو نامیسر ہوں
کبھی نہ دل میں شکیلؔ ایسی آرزو رکھنا
ریاض شاہدؔ
حیرت ہے اک ہجومِ خرد سوچتا رہا
پر مسئلے کا حل کوئی سوچا نہیں گیا
پیشِ نظر سفر ہے نیا پر ابھی تلک
پچھلے سفر کا پاؤں سے چھالا نہیں گیا
اقبال طارقؔ
یہ چھت بھی مرے سر پہ ہے کچھ دیر کی مہماں
دیمک نے اسے چاٹا ہے شہتیر سے پہلے
غاصب نہیں ، ظالم نہیں ،جابر بھی نہیں تو!
وہ فوج نکالے مرے کشمیر سے پہلے
چوہدری مختار
آدم و حوّا ایسے انساں
جن کو جنت راس نہیں تھی
تھا دنیا کا خوش قسمت جوڑا
کیونلہ ان کی ساس نہیں تھی
مقصود سروری
اژدہے کو عصا کرے کوئی
کوئی آئے خدا کرے کوئی
کھو گیا ہوں کہیں ستاروں میں
پھر زمیں آسماں کرے کوئی
رُخسار ناظم آبادی
طفل نے کچھ بھی نہیں سوچا ملا کر لکھ دیا
زندگی اور موت کو باالکل برابر لکھ دیا
پہلے تو اک کاغذی کشتی بنائی اور پھر
پار جانے کے لئے اس پر مقدّر لکھ دیا
خورشیدؔ علیگ
سِوائے زخم کے وہ میرے دل کو کیا دے گا
مری وفا کا مجھے بس یہی صلہ دے گا
یقین ہی نہیں ہوتا ذرا سی رنجش پر
پُرانے رشتوں کی یادوں کو بھی بھلا دے گا
سرفراز حسین ضیاء
بڑے بے مہر ہوتے جا رہے ہیں
رویے زہر ہوتے جا رہے ہیں
بلا کی بھیڑ میں ہر کوئی تنہا
کہ جنگل شہر ہوتے جا رہے ہیں
ہوئے ہیں شاہ بھی کم ظرف ایسے
کہ دریا نہر ہوتے جا رہے ہیں
ڈاکٹر عابد علی عابد
سفر کا اس طرح آغاز کرنا
پروں کو باندھ کر پرواز کرنا
کوئی ایسی خطا بھی کر گزرنا
ہمیشہ جس خطا پر ناز کرنا
باقر نقوی
آپ جب سے شریکِ سفر ہو گئے
راستے خود بخود مختصر ہو گئے
بس وہی دن مری ساری جاگیر ہیں
جو تری جستجو میں بسر ہو گئے
ڈاکٹر شفیق ندوی
گلہ نہ لب پہ ! کوئی حرفِ مدعا بھی نہیں
کہوں میں کس سے ! کوئی لفظ آشنا بھی نہیں
کھڑا ہوں راہ میں ، پا آبلہ فسردہ بھی
فقیر راہ گزر ، کوئی التجا بھی نہیں
۔۔۔
باہم دگر ہوئے تھے ، شناشا سفر میں ہم
بیٹھے ہوئے ہیں آج تک اس رہ گزر میں ہم
ہم ہیں ہمارے ساتھ ہے اک شہرِ آرزو
محبوس ہو کے رہ گئے کس تنگ گھر میں ہم
سہیل ثاقبؔ
میں نے بس اتنا کہا تھا راستہ دکھلا مجھے
عشق حاصل ہے کہ لاحاصل ذرا سمجھا مجھے
ظرف اس کا تھا کہ تھی شاید پشیمانی مری
اس نے جب ہنس کر کہا تھا صبح کا بھولا مجھے
کتنا اکتایا ہوا ہجر کا مارا ہوا میں
منتشر ہوتا ہوا خود میں بکھرتا ہوا میں
اپنی آنکھوں میں تمنا کے جزیرے لے کر
اپنے حالات کے صحرا میں بکھرتا ہوا میں
آخر میں صدرِ معظم نے خطبۂ صدارت دیتے ہوئے منتظمِ اعلیٰ ریاض شاہد(راقم الحروف) اور اقبال طارق کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بلا شبہ یہ ایک احسن قدم ہے جو کہ دیارِ غیر میں اردو کی ترویج و ترقی کے لئے بے حد ضروری ہے اور معاونین کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان کلب جناب زاہد شیخ اور دیگر کلب انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا اور بعد میں اپنا کلام بھی پیش کیا جو نذرِ قارئیں ہے:
اقبال قمرؔ
وہ حا لِ دل ہے ترا ساتھ ختم ہونے پر
وہی جو ہوتا ہے برسات ختم ہونے پر
میں حوصلے سے رہا خوف کے سمندر میں
مگر میں گر پڑا خدشات ختم ہونے پر
۔۔۔۔
میری بُنیاد پہ دیوار اُٹھانے والے
مجھ سے آگے نکل آئے ہیں زمانے والے
میں نئے دور کی تصویر بناؤں کیسے
پاس میرے ہیں سبھی رنگ پرانے والے
تُو مرے کرب کی گہرائی کو کیا سمجھے گا
مجھ کو دیوار کے اُس پار دکھانے والے
آخر میں ناظمِ مشاعرہ نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور جلد ہی پھر کسی ایسی تقریب میں ملنے کا وعدہ کرتے ہوئے صدرِ مشاعرہ کے اس شعر پر اختتام کا اعلان کیا
نیند اتنی ہے کہ آنکھیں نہیں کھلتیں میری
خوف اتنا ہے کہ سونے نہیں دیتا مجھ کو
لیکن اس کے باوجود انسانی زندگی نیند اور خواب مانگتی ہے۔
Viewers: 1417
Share