سترہواں عالمی فروغِ ادب ایوارڈ اور عالمی مشاعرہ

 (۱۷) سترھواں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ ۔

(۱۹) انیسواں عالمی مشاعرہ ۲۰۱۳ء

دوحہ(رپورٹ:فرتاشؔ سیّد )عالمی شہرت یافتہ ادبی تنظیم ’’مجلسِ فروغِ اُردو ادب دوحہ ۔قطر‘‘ کے زیرِاہتمام انعقاد پذیر سالانہ تقریب میں ہیڈ آف چانسری سفارت خان�ۂ ہند عزت مآب سنیل تھپلیال ،میرِ مشاعرہ گلزار دہلوی ،پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم ،جناب محمد عتیق ( چیئرمین مجلس)،جناب محمد صبیح بخاری (رکن سرپرست کمیٹی ) ،ادبأ و شعرأ،عمائدینِ شہراور سیکڑوں محبانِ اردوادب کی موجودگی میں (۱۷) سترھواں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ،تاحیات اُردو زبان وادب کی گراں قدر اور اعلیٰ ترین خدمات کے اعتراف کے طور پر پاکستان سے معروف فکشن نگار اورپرائڈ آف پرفارمنس محترمہ نثار عزیز بٹ اور ہندوستان سے فکشن نگار اور مترجم نند کشور وکرم کو تالیوں کی بھرپورگونج میں پیش کیا۔
۱۹۹۶ ؁ء سے تاحال تواتر اور تسلسل کے ساتھ ہر سال ایک ہندوستانی اور ایک پاکستانی ادیب کی خدمت میں پیش کیا جانے والا ’’عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ‘‘ ایک لاکھ پچاس ہزار کیش اور طلائی تمغے پر مشتمل ہے۔ ۱۹۹۶ ؁ء میں اجرأ پذیر ’’عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ‘‘احمد ندیم قاسمی اور پروفیسر آلِ احمد سرور سے لے کر اب تک ۱۷ پاکستانی اور ۱۷ ہندوستانی فکشن رائٹرزکی خدمت میں پیش کیا جا چکا ہے۔ ’’عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ ‘‘دنیائے اُردو میں درجۂ استناد حاصل کیے ہوئے ہے یہی وجہ ہے کہ دنیائے اردوکا ہرفورم پینل آف ججز کے فیصلے کی توثیق کرتا ہوا نظر آتا ہے۔
مجلس کی تین روزہ سالانہ تقریبات کے سلسلے کی پہلی کڑی ’’تقریبِ پذیرائی برائے ایوارڈیافتگان‘‘بتاریخ ۳۰؍اکتوبر۲۰۱۳ء ؁ بروزبدھ ، ریڈیسن بلو ہوٹل کے ’وینس ہال‘ میں پروفیسر ڈاکٹرپیرزادہ قاسم کی صدارت میں منعقد ہوئی ،مہمانانِ اعزاز محترمہ نثار عزیز بٹ اور نند کشور وکرم اور مہمانانِ خصوصی امجد اسلام امجدؔ اور پروفیسر شافع قدوائی تھے ،جبکہ نظامت کے فرائض فرتاش سیّد(راقم الحروف)نے سرانجام دیے۔اِس تقریب کے میزبان چیرمین مجلس محمد عتیق اور رکن سرپرست کمیٹی محترمہ شمیم عتیق تھے۔
امجد اسلام امجدؔ نے پاکستانی ایوارڈونرمحترمہ نثار عزیز بٹ کی ناول نگاری پر تفصیلی مقالہ پیش کیا،انھوں نے ناول کے کرداروں کا تجزیاتی جائزہ بھی پیش کیا۔مزید براں انھوں نے ایوارڈ ونر کی خود نوشت سوانح عمری ’’ گئے دنوں کا سراغ‘‘کو اردو کی اہم آب بیتی قرار دیا۔مقالے کو حاضرینِ مجلس نے بہت پسند کیا۔
محترمہ نثار عزیز بٹ نے اپنے تعلیمی اور فنی سفر پر تفصیلی روشنی ڈالی ،انھوں نے حرفِ سپاس اور خطبۂ قبولیت (Acceptance Speech) میں چیرمین محمد عتیق اور کارکنان مجلسِ فروغِ اردو ادب دوحہ قطر ،پاکستانی جیوری کے وائس چیئرمین مختار مسعود ،جنھوں نے امسال چیرمین جیوری مشتاق احمد خان یوسفی کی نیابت کی اور اراکینِ جیوری مسعود مفتی اور ڈاکٹر تحسین فراقی ؔ کا شکریہ ادا کیا۔انھوں نے کہا کہ میں ایوارڈ کو قبول کرتے ہوئے خوشی محسوس کررہی ہوں ۔
پروفیسرشافع قدوائی نے نند کشور وکرم کے افسانوں ،ناول اور اُن کے زیرِ ادارت اشاعت پذیر خاص نمبرزکے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ نند جی اُردو کے ایک ایسے عاشقِ صادق ہیں جو ۸۴ سال کی عمر میں بھی اُردو کے فروغ کے لیے متحرک نظر آتے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ نند جی نے ہندی، پنجابی اور اُردو کے باہمی تراجم سے ادب کو مالا مال کیا ہے۔
نند کشور وکرم نے اُردو کے مستقبل کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو اُردو کے لیے سنجیدگی سے سوچنا ہو گا،گیتا اور بھگوت گیتااُردو میں اشاعت پذیر ہوئیں ،لیکن آج کل رسم الخط کی بحث اُردو کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش ہے۔ کلماتِ سپاس اور خطبۂ قبولیت (Acceptance Speech) عطا کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں ایوارڈ کا مستحق قراردینے پرہندوستان جیوری کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اور اراکین پروفیسرشافع قدوائی،پروفیسر شریف حسین قاسمی،اور پروفیسر اخترالوسع کا شکریہ ادا کیا۔چیرمین محمد عتیق اور اراکینِ مجلس فروغِ اُردو ادب کابھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں ایوارڈ قبول کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں۔ایوارڈ ونر نے اپنے فنی سفر کو مختصر مگر جامع انداز میں نذرِ سامعین کیا۔
صدرِتقریب پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے صدارتی کلمات عطاکرتے ہوئے ایورڈ یافتگان کو مبارک باددی اور کہا کہ آج کے دن تک مجلس نے جتنے بھی ایورڈز دیے وہ انتہائی مستحق نثرنگاروں کی خدمت میں پیش کیے گئے ۔انھوں نے اِس بات پر زور دیا کہ اردو ادب و تہذیب کو نسلاً بعد نسل شعوری کوششوں ہی سے منتقل کیا جا سکتا ہے،اس تناظر میں مجلسِ فروغِ اُردوادب دوحہ قطر کی فروغِ اُردوادب کے لیے کوششیں لائقِ تحسین ہیں۔صدرِ تقریب نے مجلس کے حسنِ انتظام کوبھی سراہا۔
تقریب کے میزبان اور چیئرمین مجلس جناب محمد عتیق نے کلماتِ تشکر ادا کرتے ہوئے مہمانانِ گرامی کا شکریہ ادا کیااور یوں ایک پُرتکلف عشائیہ کے بعد یہ مؤقر تقریب اختتام پذیر ہوئی۔
مجلسِ فروغِ اُردو ادب دوحہ ۔قطر کی دوسری تقریب ۳۱؍اکتوبر۲۰۱۳ء ؁ بروز جمعرات ،دوحہ شیراٹن ہوٹل کے دفنا ہال میں منعقد ہوئی۔یہ تقریب (۱۷) سترھویں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ کی تقریبِ تقسیم اور سالانہ عالمی مشاعرہ ۲۰۱۳ء ؁ پر مشتمل تھی۔جس میں پاکستان ،ہندوستان ،امریکہ،سعودیہ،کویت،بحرین اور قطر کے شعرائے کرام نے شرکت کی۔تقریب کی صدارت پدم شری گلزار دہلوی نے کی۔ہندوستان سے معروف نقاد و دانشور پروفیسرشافع قدوائی اور نامورشاعر و دانشور پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے بطور مہمانانِ اعزازی ایوارڈ کی تقریب تقسیم اور عالمی مشاعرہ ۲۰۱۳ء ؁ کو رونق بخشی۔
مذکورہ تقریب کے آغاز میں، وزارتِ داخلیہ کی طرف سے ایک تعارفی و معلوماتی سیشن ہوا ۔ کمیونٹیزکے ساتھ بات چیت کے لیے مجلسِ فروغِ اُردو ادب کا پلیٹ فارم فراہم کرنے پر کمیونٹی پولیس آفیسرکیپیٹل سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کیپٹن خلیفہ مبارک الکعبی نے چیرمین مجلس محمد عتیق کاشکریہ ادا کیااور وزارتِ داخلیہ کی نمائندگی کرتے ہوئے مجلسِ فروغِ اُردو ادب کے جملہ اراکین کی اسٹیج پر موجودگی میں چیرمین مجلس محمد عتیق کو حاضرینِ محفل کی تالیوں کی گونج میں مومینٹو(momento)پیش کیا۔
دوسرے حصے میں، مجلسِ فروغِ اُردو ادب کے اراکینِ مجلسِ انتظامیہ شوکت علی نازؔ ، جاوید ہمایوں ، اعجاز حیدر،فرقان پراچہ اور امین موتی والانے شرکائے تقریب کا پُر تپاک استقبال کیا۔ نظامت کے فرائض فرتاشؔ ؔ سیّداور سیّد فہیم الدّین نے خوش اسلوبی سے سرانجام دیے ۔
تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت قاری نادر حسین عمیرنے حاصل کی۔چیرمین محمد عتیق نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے ایوارڈ یافتگان محترمہ نثار عزیز بٹ اورنند کشور وکرم کو مبار ک بادپیش کی، جن کا انتخاب دو معزز و معتبراور مکمل طور پر خود مختار سینئر اہلِ قلم پر مشتمل جیوریز نے کیا، جن کی صدارت لاہور (پاکستان) میں مختار مسعود اور دہلی (ہندوستان) میں پروفیسر ڈاکٹرگوپی چند نارنگ نے کی ۔ جناب محمد عتیق نے عزت مآب ڈاکٹر حمد عبد العزیز الکواری وزیرِ ثقافت وفنون وتراث سٹیٹ آف قطر کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جن کے تعاونِ خاص کا سلسلہ اِس سال بھی جاری رہا۔انھوں نے مجلس کی معاونت و تعاون پر مومینٹو(momento)دینے کے لیے وزارتِ داخلیہ کا شکریہ ادا کیا۔انھوں نے بانیِ مجلس ملک مصیب الرحمن(مرحوم) کی ہر دلعزیز شخصیت ،اُن کے عزم و استقلال اور ان کی لازوال خدمات کو بھی عقید ت و محبت کے بیش بہا نذرانے پیش کیے۔
انھوں نے مجلس کے دیرینہ ساتھی اور ممتاز نقاد ڈاکٹر محمد علی صدیقی ،خالد احمد،اظہر جاوید،محترمہ شبنم شکیل،پروفیسر فرمان فتح پوری،پروفیسر وہاب اشرفی،پروفیسر وارث کرمانی،ثمینہ راجا اور مظہر امام کی وفات کو اردو ادب کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے اُن کے لیے دعائے مغفرت کی۔
انھوں نے مزید کہا ،میں یہ اعتراف کرتا ہوں کہ بعض ادب پرور اور ادب نواز اداروں اور شخصیات کی معاونت، ہمارے فروغِ اردو کے سفر کو آسان بنائے رکھتی ہے، ہم ان سب کے سپاس گزار ہیں۔
مجلس کی سرپرست کمیٹی کے فعال رکن سیّد محمد صبیح بخاری نے کلماتِ تشکر ادا کرتے ہوئے سفارت خانۂ ہندوستان اور سفارت خانۂ پاکستان کے حسنِ تعاون پر اُ ن کا شکریہ ادا کیا،انھوں نے مجلس کی تقریبات کے کامیاب انعقادپر مجلسِ انتظامیہ کی بھرپور کارکردگی کو بھی سراہا۔انھوں نے حاضرینِ مجلس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ شائقینِ شعرو ادب ہی کے دم قدم سے یہ محفلیں آباد ہیں،اللہ تعالیٰ آپ کو شاد و آباد رکھے۔
فرتاشؔ سیّد نے ایوارڈ یافتگان محترمہ نثار عزیز بٹ اور نند کشور وکرم کی Citations(تعارف)پیش کیں اوروضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آج کی ا س تقریب کے مہمانِ خصوصی عزت مآب ڈاکٹر حمد عبد العزیز الکواری ،وزیرِثقافت و فنون و تراث، دولۃ قطرتھے ،لیکن اُن کی حکومتی مصروفیت کی وجہ سے جناب حمد المہندی ( ہیڈ آف ہیریٹیج ڈیپارٹمنٹ ، وزارت ثقافت و فنون وتراث، دولۃ قطر)نے آپ کی نیابت کرنی تھی،لیکن بوجوہ وہ بھی تشریف نہ لا سکے۔اِسی طرح ناظم الامورسفارت خانۂ پاکستان عزت مآب ملک محمد فاروق بھی اپنی والدہ محترمہ کی اچانک طبیعت بگڑ جانے کی وجہ سے تقریب میں شرکت نہ کر سکے۔
ہیڈ آف چانسری سفارت خان�ۂ ہند عزت مآب سنیل تھپلیال ،میرِ مشاعرہ گلزار دہلوی ،مہمانِ اعزازی پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم ، محمد عتیق ( چیئرمین مجلس)،سید محمد صبیح بخاری (رکن سرپرست کمیٹی مجلس ) ،ادبأ و شعرأ،عمائدینِ شہراور سیکڑوں محبانِ اردوادب کی موجودگی میں (۱۷) سترھواں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ،تاحیات اُردو زبان وادب کی گراں قدر اور اعلیٰ ترین خدمات کے اعتراف کے طور پر پاکستان سے معروف فکشن نگار اورپرائڈ آف پرفارمنس محترمہ نثار عزیز بٹ اور ہندوستان سے فکشن نگار اور مترجم نند کشور وکرم کو تالیوں کی پھرپورگونج میں پیش کیا۔معزز مہمانوں نے مشترکہ طور پرایوارڈ یافگان کی تخلیقات پر معروف و نامورناقدینِ ادب کے لکھے گئے مضامین اور یادگار تصاویر پر مشتمل مجلس کے (۲۰) بیسویں سالانہ ضخیم مجلے کی رونمائی بھی کی۔
عزت مآب سنیل تھپلیال نے اپنے خطاب میں کہا کہ عزت مآب سنجیو اروڑا ،سفیر جمہوریۂ ہند نے اپنی منصبی مصروفیت کی وجہ سے مجھے یہ موقع فراہم کیا کہ میںآپ سے ہم کلام ہو سکوں ۔میں ہندوپاکستان سے سترھویں عالمی فروغِ اُردوادب ایوارڈ یافتگان نند کشور وکرم اور محترمہ نثار عزیز بٹ کومبارک باد پیش کرتا ہوں اور ہندوپاکستان اور دیگر ممالک سے تشریف لائے ہوئے جملہ شعرائے کرام کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ مجلس فروغِ اُردو ادب ،اُردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے جو کردار ادا کر رہی ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔انھوں نے مجلسِ فروغِ اُردو ادب کے جملہ کارکنان کوپروگرام کے کامیاب انعقاد پر مبارک با د بھی پیش کی۔
فرتاشؔ سیّدنے پہلے دورکے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے زمامِ نظامت تالیوں کی گونج میں لکھنؤ سے تعلق رکھنے والے نامور ناظمِ مشاعرہ پروفیسر انور جلال پوری کے حوالے کر دی۔
اس عظیم الشّان یادگار عالمی مشاعرے میں ہندوستان سے میرِ مشاعرہ حضرتِ گلزارؔ دہلوی، انورؔ جلال پوری، ڈاکٹر نسیم نکہتؔ اور ڈاکٹر مشتاق صدفؔ ،پاکستان سے پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسمؔ ،امجد اسلام امجدؔ ،ڈاکٹر انعام الحق جاویدؔ ،رضی الدین رضی ؔ اورسلیم فوزؔ ، امریکہ سے الماس شبیؔ ،سعودی عرب سے سیّد قمر حیدر قمرؔ ،کویت سے فیاضؔ وردگ،بحرین سے ریاض شاہدؔ ،اور دوحہ قطر کی نمائندگی شوکت علی نازؔ اور مظفر نایابؔ نے کی۔ہندوستان سے ڈاکٹر راحتؔ اندوری بوجوہ تشریف نہ لا سکے ۔مجلس کے کوآرڈینیٹر برائے پاکستان داؤد احمد ملک اور ڈاکٹر نبیلہ داؤد ملک اورمجلس کے کوآرڈینیٹر برائے دبئی سیّد صلاح الدّین بھی مشاعرہ گاہ میں موجود تھے۔
شعراے کرام نے اپنی خوبصورت شاعری سے حاضرین وسامعین کو مشاعرے کے آخر ی مرحلے تک اپنے ساتھ ہم آہنگ اور
مربو ط رکھا ۔تمام شعر�أنے اپنے خوب صورت اشعار پر خوب داد سمیٹی ،خصوصاً میرِ مشاعرہ گلزار دہلوی ،پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم،ا مجد اسلام امجدؔ ،ڈاکٹر انعام الحق جاویدؔ ، رضی الدین رضی ؔ ،سلیم فوزؔ اور الماس شبی ؔ نے دلوں کو چھُو جانے والی نظمیں اورغزلیں پیش کر کے مشاعرے کو یادگا بنا دیا۔صبح پونے دوبجے تک جاری رہنے والے اِس عظیم الشان اور یادگارعالمی مشاعرے میں سیکڑوں شائقینِ ادب سے بھرا ہوا دفناہال ،شروع سے آخر تک تالیوں اور واہ واہ ، داد و تحسین ،آفریں آفریں ،بہت خوب ،بہت خو ب اورسبحان اللہ، سبحان اللہ جیسے دلپذیراوربے ساختہ حروفِ تحسین اورتبصروں سے گونجتا رہا۔ (شعرأ کا منتخب کلام رپورٹ کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں)۔
مجلس کی تین روزہ تقریبات کی آخری تقریب حسبِ روایت بروز جمعہ منعقد ہوئی، اس تقریب کے میزبان بیگم و سیّد محمد صبیح بخاری ہوتے ہیں ۔اس بار یہ الوداعی تقریب ’گرین ویلج‘ کے ’ کلب ہاؤس‘ میں برپا ہوئی۔ مجلس کی مذکورہ تقریب غیر رسمی ہوتی ہے۔ناظمِ تقریب فرتاشؔ سید نے صدارت قائم کیے بغیر شرکائے تقریب کو خوش آمدید کہہ کر دوحہ کے معروف بزنس مین ،میزبان تقریب اور مجلس کی سرپرست کمیٹی کے فعال ترین رکن سیّد محمد صبیح بخاری کوکلماتِ تشکر کے لیے مائک پر آنے کی دعوتِ دی۔انھوں نے عزت مآب سنجیو اروڑا سفیر جمہوریۂ ہند،ایوارڈ یافتگان ،شعرائے کرام اور ہال میں موجودجملہ محبانِ ادب کی تشریف آوری پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے اپنے منتخب مزاحیہ قطعات اور نظم سے ہال کو کشتِ زعفران بنا دیا۔امجد اسلام امجدؔ نے مجلس کی تقریبات کے حوالے سے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مجلس کے چیرمین محمد عتیق،سید محمد صبیح بخاری اور تمام کارکنانِ مجلس مبارک باد کے مستحق ہیں جو پروگرام کے کامیاب انعقاد کے لیے دن رات کوشاں رہتے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسمؔ نے کہا کہ مشاعروں کے سلسلے میں میرا اکثر ممالک میں جانا رہتا ہے،تاہم میں یہ بات بڑے وثوق سے کہتا ہوں کہ مجلس کی تقریبات اپنے حسنِ انتظام میں اپنی مثال آپ ہیں۔
نند کشور وکرم نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے فروغ کے لیے مجلس کی تقریبات اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔مجھے ان تقریبات میں شرکت کر کے بہت خوشی ہوئی، ایوارڈ کے لیے میرا نام منتخب کرنے پر میں ایک بار پھر مجلس کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
گلزار دہلوی نے اردو کے فروغ اور ترویج کے لیے مجلس کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ میں تیسری بار ان تقریبات میں شریک ہوا ہوں ،لیکن ان تقریبات کے وقار اور حسنِ انتظام میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ اسی طمطراق سے جاری و ساری ہیں جو مجلس کا طرۂ امتیاز ہے۔میں ان تقریبات کے تسلسل و تواتر کے لیے دعا گو ہوں۔انھوں نے اپنے مخصوص انداز میں رباعیاں بھی عطا کیں۔
عزت مآب سنجیو اروڑا صاحب نے اپنے خطاب میں کہاکہ وہ اپنی منصبی مصروفیت کی وجہ سے رات تقریب میں شریک نہیں ہو سکے۔انھوں نے مشاعرے کی دعوت دینے پر چیرمین مجلس محمد عتیق کا شکریہ ادا کیا ،انھوں نے مزید کہا کہ اُردو زبان میں یہ تاثیر ہے کہ وہ ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے ۔ یہ اتنی پیاری اور شیریں زبان ہے کہ لوگوں کے دلوں کو چھو لیتی ہے ۔ اشعار کے برجستہ اور برمحل استعمال سے مزین ان کی گفتگو نے پاک و ہند سے تعلق رکھنے والے شائقینِ شعرو ادب کو پُر جوش ہو کر تالیاں بجانے پر مجبور کر دیا۔
اِس غیر رسمی الوداعی تقریب کا اختتام بھی خالصتاً غیر رسمی انداز میں ہوا،سید محمد صبیح بخاری نے اپنے بہت ہی قریبی دوست ویرندر کمار واہی کو سرپرائز دیتے ہوئے انھیں سالگرہ کا کیک کاٹنے کے لیے آواز دی،جس پر ہال میں موجود سب لوگ بشمول ویرندر کمار واہی حیران ہو گئے۔ناظمِ تقریب نے شرکائے تقریب کو مزید کسی حیرانی کا سامنا کرنے سے بچانے کے لیے ایک شعر کے ساتھ دعوتِ لذتِ کام ودہن کا اعلان کیا ،اور یوں مجلس کی تین روزہ تقریبات بے تکلف اندازمیں پُرتکلف ظہرانے پر اختتام پذیر ہوئیں۔
شعراے کرام کا نمونۂ کلام :
حضرتِ گلزارؔ دہلوی(میرِ مشاعرہ):
اس ستم گر کی مہربانی سے
دل الجھتا ہے زندگانی سے
اشک بہتے ہیں، دل سلگتا ہے
آگ بجھتی نہیں ہے پانی سے
پروفیسرڈاکٹر پیرزادہ قاسم ؔ (کراچی):
اپنے سر الزام نہ رکھا بال برابر بھی
اُس کو ہی چاہا بے سوچے بھی،سوچ سمجھ کر بھی
دیکھیں کس رستے جا نکلیں گرتے پڑتے ہم
دل پر بھی اک بوجھ دھرا ہے،بوجھ ہے سر پر بھی
امجد اسلام امجدؔ (لاہور):
کہا ں آکے رکنے تھے راستے ،کہاں موڑ تھا اُسے بھول جا
وہ جو مل گیا اُسے یاد رکھ ،جو نہیں ملا اُسے بھول جا
وہ مرے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں
دلِ بے خبر مری بات سُن ،اُسے بھول اُسے بھول جا
پروفیسر انور جلال پوری ۔ناظمِ مشاعرہ(لکھنؤ):
میکدے سے ،دیر سے،کعبے سے رخصت ہو گئے
کیسے کیسے لوگ اِس دنیا سے رخصت ہو گئے
جب لگا اُن کو کہ کچھ بھی عشق میں حاصل نہیں
قیس اور فرہاد بھی صحرا سے رخصت ہو گئے
ڈاکٹر انعام الحق جاویدؔ (اسلام آباد):
میں جرمانہ محبت کا کچھ ایسے بھر کے آیا ہوں
یہاں تک پاؤں پر چل کر نہیں ،بل سر کے آیا ہوں
فقط اتنا بتانا ہے کہ تیری بزم کے اندر
خصوصی طور پر میں بال کالے کر کے آیا ہوں
ڈاکٹر نسیم نکہتؔ (لکھنؤ):
پتھروں کا خوف کیاجب کہہ دیا تو کہہ دیا
خود کو ہم نے آئنہ جب کہہ دیا تو کہہ دیا
ہم کسی انسان سے کوئی طلب رکھتے نہیں
ہے ہمارا اک خداجب کہہ دیا تو کہہ دیا
رضی الدین رضیؔ (ملتان):
جہاں پر در بنانا ہو،وہاں دیوار کرتے ہیں
ہم اہل دل محبت کو بہت دشوار کرتے ہیں
تمھیں اب کیا بتائیں ،اُس پری کا لمس کیسا تھا
ہمارے ہونٹ جلتے ہیں اگر اظہار کرتے ہیں
ڈاکٹر مشتاق صدفؔ (دہلی):
اُس کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھو
درد کیسا بھی ہو چھپاتا ہے
اپنے گھر والوں سے موبائل پر
ہر جمعے کو وہ مسکراتا ہے
سلیم فوزؔ (کراچی):
سکوت بڑھنے لگا ہے صدا ضروری ہے
کہ جیسے حبس میں تازہ ہوا ضروری ہے
بہت قریب سے کچھ بھی نہ دیکھ پاؤ گے
کہ دیکھنے کے لیے فاصلہ ضروری ہے
محترمہ الماس شبیؔ (امریکہ):
جانے کس موڑ پر میں نے دیکھا نہیں
مڑ گیا ہمسفر ،میں نے دیکھا نہیں
تم گئے ساتھ اُس کے جدھر بھی کہیں
تم سمجھنا اُدھر میں نے دیکھا نہیں
سیّد قمر حیدر قمرؔ (جدہ):
جگنو مانگے ، چراغ بخش دیے
قطرے مانگے ایاغ بخش دیے
اس نے حیران کر دیا مجھ کو
پھول مانگے تھے ،باغ بخش دیے
فیاضؔ وردگ (کویت):
اُس کے افسانۂ الفت میں مرا نام نہ تھا
شکر ہے نامۂ اعمال میں الزام نہ تھا
آج اُس شخص کو روتے ہوئے دیکھا میں نے
جس کو اوروں کو رلانے کے سوا کام نہ تھا
ریاض شاہدؔ (بحرین):
لا رہے ہیں چھپا کے اب خنجر
لوگ الفت کی آستینوں سے
کتنی پہچان ہو گئی مشکل
کون دشمن ہے ہم نشینوں میں
شوکت علی نازؔ (قطر):
یہ عذاب و ثواب میں رہنا
ہر گھڑی اضطراب میں رہنا
آگئی مجھ میں تابِ نظارہ
تم بھی چھوڑو نقاب میں رہنا
مظفر نایابؔ (قطر):
اتنا نہ ستاؤ کہ عدو تم کو بنا لوں
قرطاس و قلم پھینک دوں،تلوار اٹھا لوں
حق بات کے کہنے میں تکلف نہ کوئی خوف
حق عام کروں اور اسے عادت میں بنالوں
*****
المرسل: شوکت علی نازؔ ۔قطر۔ اردو سخن رپورٹ
Viewers: 1602
Share