رسمِ اجراء ’’ کل کی بات اور تھی ‘‘ اور مشاعرہ عیدالوطنی

رسمِ اجراء ’’ کل کی بات اور تھی ‘‘ اور مشاعرہ عیدالوطنی
ریاض شاہد۔ منامہ۔بحرین

قوموں اور افراد کی زندگیوں میں کچھ چھوٹی چھوٹی خوشیاں اور کچھ بڑی خوشیاں انمٹ نقوش چھوڑ جاتی ہیں ، اور باالخصوص جب کوئی ملک یا قوم غلامی کی زنجیروں سے آزادی کی نعمت سے بہرہ مند ہوتی ہے تو یہ خوشی دائمی اور دلپذیر ہوتی ہے ، بڑٹش سرکار سے پاک و ہند ، مشرقِ وسطیٰ اور کئی دوسرے ممالک نے آزادی کی نعمت حاصل کی اور پھر ہرسال اس کی یاد تازہ کرنے کے لئے جشنِ آزادی منانے کا اہتمام کیا جاتا ہے ،مشرقِ وسطیٰ میں ایک چھوٹی سی مملکت بحرین کا جشن آزادی حال ہی میں گزرا ہے جسے تارکینِ وطن نے بھی بڑھ چڑھ کر منایا۔ بحرین کی فعال ترین ادبی تنظیم پاکستان اردو سوسائٹی ’’حلقۂ ادب‘‘ اور پاکستان کلب نے مشترکہ طور پر جشنِ آزادئ بحرین کے موقع پر ایک خوبصورت ادبی تقریب کا اہتمام کیا جس میں سعودیہ اور بحرین کے نمائندہ شاعروں نے شرکت کی ۔ تقریب دو حصوں پر مشتمل تھی ۔
پہلے حصے میں دمام سعودی عرب کے منفرد لب و لہجے کے مالک شاعر جناب سہیل ثاقبؔ کے تیسرے مجموعے ’’کل کی بات اور تھی ‘‘ کی تقریبِ رونمائی ہوئی، جس کی صدارت کے فرائض پاکستان کلب کے چیئرمین جناب زاہد شیخ نے کی ، مہمانِ خصوصی کی نشست پر سفارتخانہ پاکستان کے کیمونٹی ویلفیئر اتاشی عزت مآب مقصود قادر جلوہ افروز ہوئے ، مہمانِ اعزاز بحرین کے مشہور دانشور اور ادبی دوست ڈاکٹر شمس الحق علوی تھے ، نظامت کے فرائض جناب احمد امیر پاشا نے ادا کئے ، صدرِ تقریب جناب زاہد شیخ نے آنے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کلب اور حلقۂ ادب کی یہ کاوش یقیناً قابلِ ستائش ہے کہ آج ہمارے درمیان ادب سے تعلق رکھنے والی قدآور شخصیات موجود ہیں اور آنے والے تمام حاضرین کا بھی شکریہ ادا کیا ۔ کتاب کی رسمِ اجراء کیمونٹی ویلفیئر اتاشی عزت مآب مقصود قادر نے کی اور اپنے تاثرات دیتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے اہلِ علم اور اہلِ ادب لوگوں میں میرا بولنا بہت عجیب سا لگتا ہے ، اور منتظمینِ تقریب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادبی کاوش کیمونٹی کے حوالے سے بہت اہم ہے ، کیمونٹی کی ترتیب ، اس کے اسلوب اور تربیت کے لئے اس کے مزاج میں ہر شے کی ملاوٹ ہونا بہت ضروری ہوتا ہے ، اور جو بہت زیادہ اہم ہے وہ ادبی اور اس کے حوالے سے تقریبات کا انعقاد انتہائی اہم ہے ، ریاض سعودی عرب سے آئے ہوئے ممتاز شاعر جناب ڈاکٹر شفیق ندوی نے ’’اظہار کی بے ساختگی ، اور ترسیل کی ربودگی کا شہر ’’سہیل ثاقب‘‘ کے عنوان سے مقالہ پیش کر تے ہوئے کہا کہ چند لفظوں اور نپے تلے الفاظ سہیل ثاقب کی تحریروں میں احاطہ کرنا بہت مشکل ہے ، سہیل ثاقب تہہ دار شخصیت کے مالک ہیں ، ان کی شاعری میں داخلی عالی اور زیریں اندرون ملتا ہے ، انہیں ظاہری پیکر تراشی کے ساتھ ساتھ رومانوی اظہار پر زبردست قدرت حاصل ہے ، اپنی لطافت اور پاکیزگی ، مفہومِ معانی کی وسعت کے لحاظ سے حمدیہ شاعری اور غزلوں میں جو نمایاں خصوصیت ہے وہ مرکب ، مشّرک ردیفوں کا خلاقانہ استعمال ہے ، وہ بڑی معصومیت سے اپنی بات کا اظہارکھل کر کرنے کے عادی ہیں ، پہلے حصے کے آخر میں کلامِ شاعر بزبانِ شاعر پیش کرنے کے لئے جناب سہیل ثاقب کو دعوتِ کلام دی گئی ، جس میں انہوں نے حمدیہ شاعری پیش کی جو قارئین کے حُسنِ نظر کے لئے پیش ہے: 

میں جسے چاہوں اُسے میرا مقدر کر دے
تُو دعاؤں کو مری اتنا مؤثر کر دے
کم سے کم دل مرا آئینہ بنایا ہوتا
میں نے کب چاہا تھا دل کو مرے پتھر کردے
اپنے معیار سے گرنا مجھے منظور نہیں
رفعتِ شوق مرے قد کے برابر کر دے
اک تسل میں کہاں تک میں جیئے جاؤں گا
تو مرے صبر کی کچھ حد تو مقرر کر دے
اس کے ساتھ ہی ناظمِ تقریبِ رسمِ اجراء نے تقریب کے دوسرے حصے ’’ مشاعرہ عیدالوطنی ‘‘ کا اعلان کیا اور مشاعرے کی باگ دوڑجبیل سعودی عرب سے آئے ہوئے ممتاز شاعر سید شیراز ضیاء مہدی کے حوالے کی ۔ مشاعرے کی صدارت کے فرائض بحرین کی ممتاز ادبی شخصیت ڈاکٹر شمش الحق علوی نے ادا کئے ، مہمانِ خصوصی کیمونٹی ویلفیئر اتاشی عزت مآب مقصود قادر ، سفارتخانۂ پاکستان تھے ، مہمانانِ اعزاز کی نشستوں پر پاکستان اردو سوسائٹی حلقۂ ادب کے وائس چیئر مین محمد شفیق اور بورڈ ممبر بحرین چیمبر آف کامرس اور چیئر مین گولڈ کیمونٹی بحرین کے صدر جناب ساجد شیخ تھے ، مشاعرے میں بحرین او رسعودیہ سے شرکت کرنے والے شعراء نے بحرین کے یومِ آزادی کے حوالے سے نظمیں اور غزلیں سنا کر حاضرین محفل سے خوب داد سمیٹی ، قارئین کے لئے شریک شعراء کا نمونۂ کلام پیشِ خدمت ہے
اسد اقبال (بحرین)
پیار کے دیئے جلتے
کاش میرے گاؤں میں
بیٹھتا نہ کوئی بھی
یار غم کی چھاؤں میں
احمد شکیل(بحرین)
شب کی تنہائی میں آوارہ پرندوں کی طرح
میرے جذبات بہکتے رہے رندوں کی طرح
وادئ عشق میں ایسی تو مثالیں کم ہیں
شمع پر دیتے ہوئے جان پتنگوں کی طرح
ریاض شاہد (بحرین)
شب بھر ترے خیال سے آگے نہ بڑھ سکے
ہم ہجر اور وصال سے آگے نہ بڑھ سکے
اک پیکرِ وفا کا رہا ذکر رات بھر
ہم تیرے خدّو خال سے آگے نہ بڑھ سکے
ریاض شاہد نے بحرین کے حوالے سے ایک نظم بھی پیش کی جس کا ایک بند قارئیں کے لئے پیشِ خدمت ہے :
یہ سُرخ پرچم
کہ جس کے چاروں مثلثوں نے
بیاں کیا ہے یہ قلبِ انساں
کے چار حصے جو ربط میں ہیں
جو پانچویں ہے تکون اس کی
یہ روحِ انساں کرے ہے ظاہر
یہ سُرخ پرچم
اخوتوں کا یقین ہے یہ
محبتوں کا امین ہے یہ
جو چاہتوں کی زمین بھی ہے
یہ دل بھی اپنا جبین بھی ہے
رہے بلندی میں تاقیامت
یہ سرخ پرچم یہ سرخ پرچم
شرف خواجہ (بحرین)
فن جو پیغامِ وفا ہو جائے تو کیا خوب ہو
قلبِ شاعر کی جلا ہو جائے تو کیا خوب ہو
باہمی عزت وشفقت کا بنے وجہِ فروغ
با ادب ساری فضا ہو جائے تو کیا خوب ہو
مقصود سروری (بحرین)
قلبِ مومن پہ جُوں خدا آئے
پھر ترے شہر کی ہوا آئے
جس نے دیکھی نہیں تری آنکھیں
حشر اُس کی سمجھ میں کیا آئے
اشرف عاصم(بحرین)
بنا تُو سب کے لئے ایک سائباں کی طرح
محبتوں سے نوازا ہے مہرباں کی طرح
سبھی صبح کو نکلتے ہیں رزق کی خاطر
سمجھتے سب ہیں تجھے ایک آشیاں کی طرح
احمد امیر پاشا (بحرین)
آگ پانی کا کھیل ہے بابا
یہ دلوں کا جو میل ہے بابا
پیار کوئی کرے یا ہو جائے
اس میں دونوں کو جیل ہے بابا
یہ محبت سراب نگری ہے
رت جگوں کی بیل ہے بابا

رُخسار ناظم آبادی (بحرین)
خدا اور ناخدا کے بیچ اک دیوار کرنا ہے
اسی ٹوٹی ہوئی کشتی پہ دریا پار کرنا ہے

مختلف ان سرحدوں میں آب و دانہ ہو گیا
گود سے ماں کی ملے مجھ کو زمانہ ہو گیا
آج بھی ممتا کی گرمی روح میں پیوست ہے
کون کہتا ہے کہ یہ رشتہ پرانا ہو گیا
خورشید علیگ (بحرین)
ہر سال یومِ جشن مناتے رہیں گے ہم
سازِ دلِ نشاط بجاتے رہیں گے ہم
محبت، خلوص، مہر و وفا کی برات سے
بحرین تیری شان بڑھاتے رہیں گے ہم
سید شیراز ضیاء مہدی (جبیل۔ سعودی عرب)
وقت کو سمجھو ہر اک پل کی نزاکت جانو
فیض تنکے سے بھی مل جائے تو نعمت جانو
بے حسی اوڑھ کے سو جائیں جہاں لوگ وہاں
ایک بھی آنکھ کھلی ہو تو غنیمت جانو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترا تجزیہ مجھے ہر قدم پہ ڈبو رہا ہے ملال میں
مجھے میرے کل سے تُو نہ پرکھ کہ میں سانس لیتا ہوں حال میں
نہ جواب میں، نہ سوال میں ، نہ عروج میں، نہ زوال میں
وہ جو لفظ میرے نصیب تھے وہ ملے ہیں تیرے خیال میں
باقر نقوی ( جبیل ۔ سعودی عرب)
پیار کا یہ بھی اک طریقہ ہے
پیار جس سے کریں اسی سے لڑیں
جب کبھی اُن سے ہم نہیں لڑتے
دل یہ کرتا ہے ہر کسی سے لڑیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شدّتِ دردِ نہاں مجھ سے وہ کب پوچھتے ہیں
لوگ تو بس مرے رونے کا سبب پوچھتے ہیں
ہم تو ہر حال میں وہ بات چھپانا چاہیں
اور وہ ہیں کہ وہی قصۂ شب پوچھتے ہیں
قدسیہ ندیم لالی ( الخبر ۔ سعودی عرب)
پردیس میں آتا ہے وطن یاد زیادہ
رہتا ہے پرندے کو چمن یاد زیادہ
۔۔۔۔۔۔۔۔
یوں مکمل ہوا وضو میرا
جسم سارا لہو ہوا میرا
خواب میں آج میں نے یہ دیکھا
چھوڑ کر سب کو تُو ہوا میرا
شوکت جمال (ریاض ۔ سعودی عرب)
جب سویرے یہ سُنا کہ گھر میں چوری ہو گئی
بامِ حیرت میں سمجھ لو میں کہ بس جکڑا گیا
بچ کے بیگم کی نظر سے چور آیا کس طرح
میں تو جب بھی دیر سے گھر میں گھسا پکڑا گیا

ڈاکٹر شفیق ندوی ( ریاض۔سعودی عرب)
رات کس کی یاد میں زلفیں ہیں بکھرائے ہوئے
کھو گیا ہے کون تارے کیوں ہیں گھبرائے ہوئے
کہکشاں کی گود میں بیٹھا ہوا پونم کا چاند
دیکھ کر تارے گزر جاتے ہیں للچائے ہوئے
ہم مسائل کو غزل کی وادیوں تک لے گئے
کچھ فقیرِ رہگزر کو سر پہ بیٹھائے ہوئے
سہیل ثاقب ( دمام ۔ سعودی عرب)
یہاں پر ہر کوئی یارو کیوں محوِ حیرت ہے
کوئی ہو بات اُسے سب ہی کرنے لگتے ہیں
زمینِ صبر بھی آخر بشر سے سیکھا ہے
کہ دل دکھے تو جزیرے ابھرنے لگتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔
سیاسی لوگوں کی عزت کیا کرو ثاقبؔ
تمام شہر میں ان کو ہی معتبر جانو
ہر ایک بات کو ہنس کر سنا کرو ان کی
یہ بے وقوف ہیں ان کا برا نہیں مانو

آخر میں صدرِ مشاعرہ ڈاکٹر شمس الحق علوی نے اپنے خطبۂ صدارت میں کہا کہ قومی دنوں کے اعتبار سے اچھے اور بھر پور پروگرام ہونا ضروری ہوتا ہے اور بے شک منتظمِ اعلی ریاض شاہد اور انتظامیہ پاکستان کلب نے اس پروگرام کو ترتیب دے کر تارکینِ وطں کے لئے روح کی غذا کا بھر پور اہتمام کیا ہے جو کہ قابلِ ستائش ہے ، اور مزید یہ کہ سائنٹسٹ اور انجینئر صفحوں پر صفحے لکھ دیتے ہیں اور پھر کہیں جا کر ایک چھوٹی سی بات کا پتہ چلتا ہے ، مگر شاعر بہت بڑی بات کو ایک شعر میں بڑی مہارت اور خوبی سے کہہ جاتا ہے ، جو کہ نثر میں بھی اتنی وسعت سے نہیں کہی جاسکتی ۔ شعری نشستوں اور مشاعروں کا انعقاد وطن اور اردو زبان سے محبت کا ثبوت ہے ۔اور یہ سلسلہ اسی طرح سے جاری و ساری رہنا چاہیے ۔ آخر میں سعودیہ سے آنے والے تمام مہمان شاعروں کو اعزازی شیلڈز سے نوازا گیا اور یوں رات ڈیڑھ بجے یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔

Viewers: 946
Share