Daud Kakar | مشابہت ۔۔۔ از: دائود کاکڑ

دائود کاکڑ۔ امریکہ daudkakar@gmail.com مشابہت لاس اینجلس کا ٹام بریڈلی انٹر نیشنل ائیر پورٹ کرسمس کے لیئے گھروں کو جانے والے مسافروں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔مائیکل کی فلائٹ […]

دائود کاکڑ۔ امریکہ

daudkakar@gmail.com

مشابہت

لاس اینجلس کا ٹام بریڈلی انٹر نیشنل ائیر پورٹ کرسمس کے لیئے گھروں کو جانے والے مسافروں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔مائیکل کی فلائٹ میں ابھی خاصا وقت تھا۔ہالی ڈیز کی ٹریفک کو مدّنظر رکھتے ہوئے وہ ہوٹل سے جلدی نکل آیا تھا۔اب وہ یونہی وقت گزارنے کے لیئے چہل قدمی کے سے انداز سے پھر رہا تھا۔ڈیپارچر کے سبھی ٹرمینل مسافروں سے بھرے ہوئے تھے۔وہ کافی سالوں کے بعد لاس اینجلس ائیرپورٹ سے گزر رہا تھا۔کچھ عرصہ پہلے کی گئی امپرومنٹ متاثّر کن تھی۔اس نے نوٹ کیا کہ اب جگہ جگہ وائی فائی کے سائن بھی لگے ہوئے تھے اور مسافروں کی سہولت کے پیشِ نظر لیپ ٹاپ کے لیئے اونچے اونچے کاؤنٹراور ساتھ ہی بار سٹولز بھی ایستادہ تھے۔کاؤنٹرز کے نیچے کافی تعداد میں الیکٹرک آؤٹ لٹس بھی لگادیئے گئے تھے تاکہ مسافر اپنے لیپ ٹاپ پلگ ان کر سکیں۔

اسی طرح کے ایک کاؤنٹر کے آگے سے گزرتے ہوئے اس نے دیکھا کہ ایک لڑکی اپنا لیپ ٹاپ اپنے کیری آن میں رکھ رہی تھی۔وہ فوراّ اس کے پیچھے پہنچ گیا۔اس نے ارد گرد نظر دوڑائی اور کسی کو اس جگہ کے انتظار میں نہیں پایا تو لڑکی کے ہٹتے ہی وہاں پہنچ گیا۔وقت گزارنے کا اس سے بہتر کوئی اور طریقہ نہیں تھا۔اس نے اپنے کیری آن سے لیپ ٹاپ نکال کر کاؤنٹر پر جما دیا اور کیبل کو پلگ ان کردیا۔وائی فائی کا آئیکان کلک کرنے کے بعد اس نے رابطہ چنا اور پھر انٹر نیٹ کا براؤزر کلک کیا لیکن کچھ نہ ہوا۔اس نے دوبارہ سہہ بارہ یہ عمل دھرایا لیکن پھر بھی کچھ نہ ہوا تو اس نے اپنی عینک اتار کر اس کے موٹے اور ڈارک کلر کے لینزز صاف کیئے اور عینک واپس چہرے پر جما کر چوتھی مرتبہ کلک کیاتو بھی کوئی نتیجہ نہ نکلا تو وہ جھنجھلا سا گیا۔او۔۔۔کم آن۔۔۔۔وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔
میں کچھ مدد کردوں سر۔۔۔؟ اس کے ساتھ کھڑے نوجوان سے رہا نہ گیا۔
یقیناّ۔۔۔۔اگر مائینڈ نہ کرو تو۔۔۔۔اس نے خوشدلی سے ایکطرف ہوتے ہوئے نوجوان کو جگہ دی۔
نوجوان نے تھوڑا سا آگے کی طرف جھک کے اس کے لیپ ٹاپ پر چند کلس کیں اور براؤزر کھل گیا۔
اوہ۔۔۔۔تھینک یوویری مچ۔۔۔۔کس قدر آسانی سے کر لیا تونے ینگ مین۔۔۔مائیکل نے تعریف کرتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کیا۔
کوئی بات نہیں سر۔۔۔۔یہ معمولی سی بات تھی۔نوجوان اس کی طرف دیکھ کر مسکرایا تو اسے انیس بیس برس کا یہ نوجوان بہت اچھا لگا۔
میں کیا غلط کر رہا تھا؟ اس کا دل چاہا کہ وہ اس نوجوان سے مذید باتیں کرے۔
آپ سب صحیح کر رہے تھے۔یہ سسٹم چونکہ نیا ہے تو اس میں ابھی کچھ بگز باقی ہیں۔نوجوان نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور پھر اپنے لیپ ٹاپ کی سکرین پر نظریں جما دیں۔
مائیکل نے اسے مذید ڈسٹرب کرنا مناسب نہ سمجھالیکن اسے جانے کیوں لگ رہا تھا کہ اس نے اسے پہلے بھی کہیں دیکھا ہوا ہے۔اس نے تصوّر ہی تصوّر میں اپنے رشتہ داروں اور جان پہچان کے نوجوانوں پر نظر ڈالی لیکن کوئی بھی اس سے ملتا جلتا نہ نکلا۔۔ اس نے کندھے اچکا کر سر کو جھٹکا دیااو ر اپنے لیپ ٹاپ پر نظریں جما دیں۔دس پندرہ منٹ تک وہ اکتا سا گیا تھا۔ اس نے لیپ ٹاپ سمیٹ کر کیری آن میں رکھا۔ساتھ کھڑے نوجوان پر نظر ڈالی تو وہ کانوں سے ہیڈ فون لگائے شاید میوزک سننے میں محو تھا۔وہ اسے ڈسٹرب کیئے بغیر وہاں سے آگے بڑھ گیا۔سامنے ہی ایک بک سٹور تھا۔وہ اس میں گھس گیا۔کچھ دیر رسالوں کی ورق گردانی کرنے کے بعد اس نے ایک رسالہ اٹھایا اور کاؤنٹر پر لگی لائن میں لگ گیا۔اس سے پہلے صرف دو لوگ تھے۔وہی کھڑے کھڑے اس کی نظریں دور وائی فائی کے کاؤنٹر کے پیچھے کھڑے اسی نوجوان پر رک گئیں۔اس نے غور سے دیکھا وہ واقعی دیکھا بھالا معلوم پڑتا تھا لیکن اس کی یاداشت بالکل اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔پھر اس نے نوٹ کیا کہ وہ اپنے ساتھ کھڑی ایک خاتون کے ساتھ محوِ گفتگو تھا جس کا ہاتھ اس نوجوان کے کندھے پر تھا۔عمر اور صورت سے وہ اس کی ماں لگ رہی تھی۔
یس سر۔۔۔۔۔کیشئیر نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا تو اس نے فوراً میگزین آگے کر دیا۔پے منٹ کرنے کے بعدوہ مڑا اور ایک طرف رک کراپنی عینک کے لینزز صاف کیئے۔عینک لگانے کے لیئے سر اٹھایا تو اچانک سٹور کے قدآدم آئینے میں اپنے عکس پر نظر پڑی اور اس کا چہرے کی طرف بڑھتا ہوا ہاتھ وہی رک گیا۔بس ایک لمحے میں جیسے اس کی رگوں میں سنسنی سی دوڑ گئی۔عینک چہرے پر جما کر اس نے ایکدم سے نظریں گھماکر اس نوجوان کی طرف دیکھا تو وہ وہاں سے جاچکے تھے۔اس نے ذہن پر زور ڈالاتو اسے یقین ہوگیا کہ وہ خاتون اس نوجوان کی ماں ہی تھی جس کے ساتھ آج سے بیس برس پہلے اس کی ایک رات کی فلنگ ہوئی تھی۔وہ نوجوان خود اسی سے مشابہت رکھتا تھا اور اگر اس کا سر چٹیل نہ ہو چکاہوتااورآنکھوں پر موٹے شیشے کی عینک نہ چڑھی ہوتی تو وہ نوجوان بھی اسے دیکھ کر ایک مرتبہ توضرور چونکتا۔اسے تو اس نوجوان کا نام تک معلوم نہیں تھابلکہ اس کی ماں تک کا نام یاد نہیں تھا۔

Viewers: 5277
Share