صندل کی خوشبو اور سانپ

پرویز شہر یار نئی دہلی۔ انڈیا spa1962@gmail.com صندل کی خوشبو اور سانپ کوئی افعی ہے، جو چندن کے پیڑ کی خوشبو سے مخمور ہو اُٹھتا ہے۔ اس کی شاخوں، اس […]
پرویز شہر یار
نئی دہلی۔ انڈیا
spa1962@gmail.com
صندل کی خوشبو اور سانپ
کوئی افعی ہے،
جو چندن کے پیڑ کی خوشبو سے مخمور ہو اُٹھتا ہے۔
اس کی شاخوں، اس کے پتّوں سے لپٹ کر
نہ جانے کیا ڈھوندتا رہتا ہے۔
جیسے چاند کی تاک میں ہردم چکور رہتا ہے۔
جیسے چاند کی گھات میں کوئی میگھ کا کالا چور رہتا ہے۔
.. …اور پھر ایک پل ایسا بھی آتا ہے،
جب وہ چاند کو اپنی بانہوں میں بھر لیتا ہے۔
دُنیا کی نگاہوں سے بچا کر اپنی آغوش میں ڈنپ لیتا ہے،
سفیدی ظلمت میں حل ہو جاتی ہے،
روشنی تاریکی میں بدل جاتی ہے۔
لیکن ____
یہ تاریکی ہی اصلاً تخلیق کا منبع ہے۔
من کا افعی بھی
رہنا چاہتا ہے
تیرے گردوپیش
گو تری زلف کوئی شنکر کی جٹا بھی نہیں،
پھر کیوں یہ افعی
تیری گردن، تیرے نافِ تن میں حمائل ہونا چاہتا ہے؟
باربار!
تیرے صندل بدن کی خوشبو ____
کوئی امرت، کوئی سوم رس بھی نہیں،
پھرکیوں یہ دُشٹ راہو کیتو کی طرح
پینا چاہتا ہے اسے بوند بوند،چال بازی سے
تاریکی ہی تیرا مقّدر ٹھہرا،
تیرا مسکن بھی تاریک ہے
اے ذوالقرنین!
ظلمت ہی توآبِ حیات کا سر چشمہ ہے
تیرا سکون، تیرا قرار بھی تاریک ہے
تاریکی ہی اصل منبعِ نور ہے
تخلیقِ کائنات کا شعور ہے
بادل جب چھٹتا ہے،
چاند اور بھی دمکتا ہے،
میگھ دوت کے کالے گھنے حلقے سے نکل کر
چاند اور بھی دودھیا —- پُر نور— – ہو جاتا ہے
صندل کے شجر سے لپٹ کے سانپ.. …
اور بھی مسرور ہو جاتا ہے،
لا شعور سے شعور کا سفر ختم ہو جاتا ہے۔
**
Viewers: 4125
Share