نواں عالمی اُردو مشاعرہ ابوظہبی2014

abudehbi-mushaira-02
آردو زبان و ادب سے محبت کو فروغ ملتا ہے ،شاعروں کے کلام سے زندگی کے حقائق سمجھنے و سلجھانے میں آگاہی ہوتی ہے: سفیرِپاکستان جناب آصف درانی
تقریب کی صدارت پیر زاہ قاسم نے کی،نظامت کے فرائض مشاعرے کے منتظمِ اعلی ظہور الاسلام جاوید انجام دیئے
اُردو ادب کے فروغ کیلئے ظہورالاسلام کی خدمات کا سرکاری سطح پر اعتراف ہونا چاہیے: اوجِ کمال۔اختتام تک سامعین کی کثیر تعداد دلجمی کیساتھ مشاعرہ گاہ میں موجود رہی
تمام شعراء اکرام کا کلام بہت پسند کیا گیا ۔ مگر فرتاش سیّدنے اپنے خوبصورت و عمدہ کلام اورمنفرد
اندازِ بیان سے مشاعرہ لوٹ لیا
ابوظہبی(رپورٹ:حسیب اعجاز عاشر )یوں تو شاعری دنیا کی ہر زبان میں ہو رہی ہے مگر مشاعرے کی روایت صرف اُرد زبان ہی میں ہے اور اُردو کے توسط ہی سے یہ ر وایت برِ صغیر کی دیگر زبانوں میں بھی فروغ پذیر ہوئی ۔یہ روایت جہاں ہمیں نشتند اور گفتند کے آداب سکھاتی ہے وہاں اردو زبان و ادب سے محبت کو بھی فروغ ملتاہے اِن خیالات کا اظہار سفیرِ اسلامی جمہوری�ۂپاکستان برائے امارات جناب آصف درانی صاحب نے نویں عالمی اُردو مشاعرے میں اپنے خطاب میں کیا انھوں نے کہا کہ مشاعروں میں شرکت سے شاعروں کے کلام سے نہ صرف سامعین محظوظ ہوتے ہیں بلکہ زندگی کے حقائق کو سمجھنے اور سلجھانے میں بھی آگاہی ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ غالب،علامہ اقبال، فیض احمد فیض، جوش ملیح آبادی اور احمد فراز بین الاقوامی حیثیت رکھتے ہیں انھوں نے مشاعرے کے منتظمِ اعلیٰ ظہورالاسلام جاویدکو تسلسل سے عالمی اُردو مشاعرے کے انعقادپر مبارکباد پیش کی اور دیارِ غیر میں اپنی تہذیب، ثقافت اور اقدار کے احیاء اور اُردو زبان کی ترویج کے لیے اُن کی کوششوں سراہا۔ انھوں نے سفارتخانۂ پاکستان کی معاونت کے سلسلے کو جاری و ساری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔انھوں نے مہمان شعراء کرام کو خوش آمدید بھی کہا ۔دنیائے ادب کے مدیرِاعلیٰ اُوجِ کمال کے اِس مطالبے’’کہ اردو ادب کے فروغ کے لیے ظہورالاسلام جاوید کی بھرپور خدمات کا سرکاری سطح پر اعتراف ہونا چاہیے اور اِس کے لیے سفیرِ پاکستان کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے،‘‘ پر جناب آصف درانی نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اِس ضمن میں ہر ممکن کوشش کریں گے۔انھوں نے اِس موقع پر پاکستانی کمیونٹی کے لیے اپنی ترجیحات کا بھی ذکر کیا اور کمیونٹی کی نمایاں شخصیات سے اپیل کی کہ وہ قدم بڑھائیں اور تعلیم کے معیار کو بہتر سے بہترین کرنے کے لیے میرا ساتھ دیں تا کہ پاکستان کی ترقی میں ہماری نسلیں اہم اور فعال کردار ادا کر سکیں۔
abudehbi-mushaira-01
تعارف کے لیے نامورشاعر یعقوب تصورنے اپنی خدمات پیش کیں۔مقامی و مہمان شعرائے کرام کو ان کی نشستوں پر مدعو کیا گیا۔ صدرِ محفل ڈاکٹر پیر زادہ قاسم اور مہمانِ خصوصی سفیرِ پاکستان جناب آصف درانی صاحب کا استقبال حاضرین نے کھڑے ہوکر تالیوں کی گونج میں کیا۔
تقریب کا باقاعدہ آغازتلاوتِ قرآنِ پاک سے ہو ا جس کی سعادت انعام جاویدنے حاصل کی ۔آپﷺکے حضور لیناسعید نے ہدیۂ نعت پیش کیا۔نظامت کے فرائض نویں عالمی اُردو مشاعرے کے منتظمِ اعلی جناب ظہورالاسلام جاوید نے حسبِ روایت بہت خوبصورتی سے انجام دیے جسے خوب سراہا گیا۔
صدرِ محفل ڈاکٹر پیر زادہ قاسم اور منتظمِ اعلی ظہورالاسلام جاوید نے مہمان خصوصی سفیرِ پاکستان جناب آصف درانی کو نویں عالمی اُردو مشاعرے کا مومنٹو پیش کیا جبکہ مہمان خصوصی سفیرِ پاکستان نے بھی صدرِ محفل کو مومنٹو پیش کیا ۔بعد ازاں مہمان شعرا ئے کرام جن میں ڈاکٹرانعام الحق جاوید(پاکستان)،تسلیم الہی زلفی(کینیڈا)، وصی شاہ(پاکستان)،ڈاکٹر نسیم نکہت(انڈیا)، فرتاش سید(قطر)،ڈاکٹر کلیم قیصر(انڈیا)، ڈاکٹر اقبال پیرزادہ(پاکستان)، اطہر عباسی(سعودیہ عرب)،شوکت جمال(سعودیہ عرب)،اوجِ کمال(پاکستان)اور ڈاکٹرزبیر فاروق(امارات) شامل تھے اور اسپانسرز حضرات کی خدمت میں صدرِ محفل اور مہمانِ خصوصی نے اپنے دستِ مبارک سے مومنٹو پیش کیے ۔ جن کی شرکت اور پُرخلوص تعاون اِس یادگار عالمی مشاعرے کے انعقاد کا باعث بنی۔مومنٹو کی تقسیم کے اختتام پر سفیرِ پاکستان، ڈاکٹر پیرزادہ قاسم اور ظہور الاسلام جاوید نے مشترکہ طور پرنویں عالمی اُردو مشاعرے کے مجلے کی رونمائی کی۔محمد اقبال نسیم نے نویں عالمی اُردو مشاعرے کے انعقاد پر منتطمِ اعلی ظہور الاسلام جاوید کو مبارکباد پیش کی اور دیارِغیر میں اُردو کے فروغ میں اِن کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا انھوں نے تمام مہمانان گرامی اور حاضرین کا شکریہ بھی ادا کیا ۔دنیائے ادب کے مدیرِ اعلی جناب اوجِ کمال نے بھی اپنے اظہار خیال میں کامیاب مشاعرے کے انعقاد پر منتظم اعلی ، اور مجلے کے مدیرِ اعلیٰ و مدیران کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کی او ر دیارِ غیر میں نخلِ اُردوکی آبیاری میں اپنا نمایاں اور اہم کردار ادا کرنے پرظہورالاسلام جاوید کی مسلسل کاوششوں کوخوب سراہا۔ اِس موقع پر انھوں نے سفیرِ پاکستان سے یہ درخواست بھی کی کہ ظہورالاسلام جاوید کی فروغِ ادب سے اس گہری وابستگی کا پاکستان میں سرکاری سطح پر اعتراف بھی کیا جانا چاہیے،جس کے لیے وہ اپنا اہم کردار ادا کریں۔ آرمڈ فورسز آفیسر کلب کا شائقینِ ادب سے کچھا کھچ بھراہوا آڈیٹوریم اوجِ کمال کا ہم آواز ہو کرتالیوں سے گونج اُٹھا۔ منتظمِ اعلی ظہور الاسلام جاوید نے نویں عالمی اُردو مشاعرے ۲۰۱۴ کو کامیاب بنانے پر سفیرِ پاکستان جناب آصف درانی اور فرسٹ سیکرٹری سفارتخانہ پاکستان سلمان شریف کے بھرپور تعاون کا شکریہ ادا کیا ۔انھوں نے ریاض ملک، حاجی محمد اسحاق، ہادی شاہد، نور الحسن تنویر،امامت نقوی، شکیل خان،خان زمان اورچوہدری بشیر کا بھی شکریہ ادا کیا جن کے بے لوث تعاون سے اِس عالمی مشاعرے کا انعقادممکن ہوا جبکہ اپنے معاونین شاداب رضا، یعقوب تصور، ڈاکٹر عاصم واسطی، انوار شمسی، محمد اقبال نسیم، خالد چستی المعروف فقیر سائیں، فرحت نور خان، حسیب اعجاز ہاشمی، شرافت علی شاہ، عبد الاسلام عاصم کی کاوششوں کو بھی سراہا۔انھوں نے اختر عابدی کی ناگہانی وفات پر تسینم عابدی سے تعزیت کا اظہار بھی کیا۔جب یعقوب تصور نے ظہورالاسلام جاوید کو مشاعرے کی نظامت کے لیے مدعو کیا تو شائقینِ ادب نے بھرپور تالیوں سے اُن کا اِستقبال کیا۔
مشاعرے کا آغاز مقصود احمد تبسم نے اپنی پُرسوز آواز میں نعتِ رسول مقبول ﷺ سے کیا،تابش زیدی، نیئر نیناں،جاوید حیات ،ارسلان طارق بٹ نے اپنے منتخب کلام سے سامعین کو بہت متاثر کیا فرہاد جبریل نے متفرق اشعار پیش کر کے محفل میں جان ڈال دی۔ خوش ذوق سامعین ہر اچھے اور عمدہ شعر پر داد و تحسین دے رہے تھے۔سلمان احمد خان،طارق بٹ، یعقوب عنقا ،فقیر سائیں اورخالد نسیم نے بھی اپنے تازہ کلام سے مشاعرے میں خوب رنگ بھرا۔اِس دوران میں ناظمِ مشاعرہ نے قطر سے تشریف لائے ہوئے مہمان شاعر فرتاش سید کو آواز دی۔ فرتاش سیدکے حوالے سے یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ عالمی اُردو مشاعرے ابو ظہبی ۲۰۱۴ء کو انھوں نے اپنے خوبصورت و عمدہ کلام اورمنفرد اندازِ بیان سے لوٹ لیا ۔صدرِ محفل،مہمانِ خصوصی اور تمام حاضرینِ محفل مسلسل داد دیتے رہے۔ان کے ہر ہر شعر کو دو دو تین تین بار فرمائش کر کے سُنا گیا، بھرپور پسندیدگی اور سامعین کے مطالبے نے انھیں تین بار واپس مائیک پہ آنے پر مجبور کر دیا، انھوں نے آخر میں محترم اوجِ کمال اور سٹیج پر موجود دیگر شعرأ کی بھرپور فرمائش پراپنے استاد حضرت جونؔ ایلیا کی وفات پر اُن کی معروف زمین میں لکھی گئی غزل سنائی،جس کا ہر شعر رنگ و آہنگِ جونؔ کی یاد دلا رہا تھا۔سامعین کی مسلسل اور بھرپور تالیوں کے جواب میں فرتاش سید جھک جھک کر ہاتھوں کے اشارے سے عاجزانہ تشکر کا اظہار کرتے رہے۔وصی شاہ کا کہنا تھا کہ فرتاش سید کاانداز آفریدی والاہے لیکن کلاس ٹنڈولکروالی ہے،ظہورالاسلام جاویدنے انھیں ’’مین آف دی نائٹ ‘‘ قراردیا۔ شوکت جمال کے مزاحیہ کلام سے سامعین کھلکھلا اُٹھے۔ ڈاکٹر ثروت زہرہ، ڈاکٹر عاصم واسطی،یعقوب تصور،اطہر عباسی ، ڈاکٹراقبال پیرزادہ نے اپنے اپنے دلفریب کلام سے مشاعرے کی گرم جوشی کو برقرار رکھا اور سامعین کے دلچسپی میں ذرہ برابر کمی نہ آنے دی۔انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور سامعین کی بے تابی نے بھی دم توڑا جب اُنکے ہر دلعزیز شاعر وصی شاہ کو مائیک پر مدعو کیا گیا،نئے کلام کے علاوہ فرمائشی کلام بھی پیش کیا،اُن کی نظم ’’محبت ہے عبادت ہے‘‘ کو سامعین نے بے حد پسند کیا ۔رات گئے مشاعرہ آہستہ آہستہ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا تھا مگر سامعین کے چہروں پر تازگی بالکل برقرار تھی وہ تمام شعراء کے کلام کو سماعت فرمانے کے لیے بے چین تھے۔تسلیم الہی زلفی نے اپنے کلام سے مشاعرے میں رنگ بھر دیا۔ نسیم نکہت اور ڈاکٹر کلیم قیصرکے کلام نے بھی سامعین کے دلوں پر خوب اثر کیا اور مشاعرے کو چار چاند لگا دیئے ۔ڈاکٹر زبیر فاروق نے اپنے آسان فہم کلام کو بڑے دلچسپ انداز میں پیش کر کے سب کو حیرت زدہ کر دیا۔ڈاکٹر انعام الحق جاویدکے مزاحیہ کلام نے سامعین کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیر دیں،ایک پنجابی نظم بھی نذرِ سامعین کی۔سامعین ’’واہ۔واہ‘‘اور قہقوں سے پسندیدگی کی سند پیش کرتے رہے۔میرِ مشاعرہ ڈاکٹر پیرزادہ قاسم کے آنے پر ایک بار پھر ہال میں بیٹھے سب حاضرین اُن کی تعظیم میں کھڑے ہو گئے اُنکے کلام سے بہت لطف اندوز ہوتے رہے سامعین کی فرمائش پر ترنم سے بھی کلام پیش کر کے مشاعرے کو یادگار بناabudehbi-mushaira-03دیا۔عالمی اُردو مشاعرے میں چوہدری نورالحسن تنویر، منیر ہانس،عبدالوحید پال، اقبال پرنس،چوہدری خالد بشیر، فاروق ورائچ،، ہادی شاہد، امامت نقوی،چوہدری اسلم،جاوید ملک،راحت نور خان، رضوان، مدثر حسین ھاشمی،سعید قریشی، شیخ واحد حسن،زشکیل احمد خان، زمان خان، محترمہ نجمی مسرت،شعیب بشیر، حسنین ھاشمی سمیت اہلِ ذوق خواتین و حضرات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
مشاعرے کے اختتام پر بذریعہ قرہ اندازی حاضرین میں قیمتی تحائف بھی تقسیم کیے گئے، سفیرِ پاکستان اور شائقینِ ادب کی کثیر تعداد ، اختتامِ مشاعر ہ تک پوری دلجمعی کے ساتھ مشاعرہ گاہ میں موجود رہی ۔ شعرائے کرام کے منتخب اشعارملاحظہ ہوں:
ارسلان طارق بٹ
لوگ کہتے ہیں کہ میرا آئینہ تو ہے
آج ٹوٹا ہوں میں کہ بکھرا تو ہے
نیر نیناں
رقص کرتے کرتے سطح آب پر
ہم چلے تو دائرہ رُک جائے گا
تابش زیدی
ضرورت ہے یہاں احساس کو بیدار کرنے کی
جو ہیں انسان کے دشمن انھیں انسان سا کر دے
جاوید حیات
ہر کسی میں یہاں بس جانے کا دم تھوڑی ہے
یہ مرا دل کوئی زاہد کا حرم تھوڑی ہے
عبدالسلام عاصم
عکسِ جمالِ یار ہر اک آئینے میں ہے
اُس کا خیال دل سے نکالانہ جائے گا
طارق بٹ
دوزخ میں نفرتوں کی جلایا گیا ہوں میں
اہلِ حشم کے ہاتھوں ستایا گیا ہوں
فرہاد جبریل
جہاں شب ایڑیاں رگڑے وہاں مژدہ سُنا دینا
یہاں تازہ سویرے کی ولادت ہونے والی ہے
فقیر سائیں
مجھے نفرت کی وہ پاؤں پٹخ اچھی نہیں لگتی
اِسی ’کارن ‘ تو میں لاہور سے واہگہ نہیں جاتا
سلمان خان
آج پھر دوستوں کو یاد کیا
آج پھر یاد آئے ہیں پتھر
یعقوب عنقا
ٹھہر گیا ہے نگاہوں میں ہجر کا موسم
کہاں یہ وقت نے آکر پڑاؤ ڈالا ہے
خالد نسیم
اللہ اللہ اب چمن میں ایک بھی تنکا نہیں
اپنے پر نوچے ہیں میں نے آشیانے کے لیے
فرتاش سید
کسی دباؤ میں ہم فیصلہ بدلتے نہیں
زمانہ آئے ہمیں آزمائے بسم اللہ
شوکت جمال
آپ کی فرقت میں شوکت جاں بہ لب ہے ان دنوں
بس یہی میں عرض کرنے اطلاعاًآگیا
ڈاکٹر نسیم نکہت
پتھروں کا خوف کیاجب کہہ دیا تو کہہ دیا
خود کو ہم نے آئنہ جب کہہ دیا تو کہہ دیا
ڈاکٹر ثروت زہرہ
پھر آس دے کر آج کو کل کر دیا گیا
ہونٹوں کے بیچ بات کو شل کر دیا گیا
ڈاکٹر عاصم واسطی
میں رکھ سکا نہ توازن اڑان میں قائم
مرے پروں میں کہیں ایک پر زیادہ ہے
یعقوب تصور
سچ بات اگر کہ دینے کے دل میں ارمان بھی ہیں
پھر اس بات سے کیا ڈرنا کہ دیواروں کے کان بھی ہیں
اطہر عباسی
پھر درد کی شدت ہے شناسائی کے دن ہیں
کیا جشنِ بہاراں ہے پذیرائی کے دن ہیں
ڈاکٹر اقبال پیرزادہ
ہر اک کے بس کی کہاں ہے یہ زندگی مرے دوست
گزارتے ہیں جو ہم تم ہنسی خوشی مرے دوست
ڈاکٹرزبیر فاروق
زنداں کے آس پاس ہوں باطل کی زد میں ہوں
سچا ہوں اس لیے میں سلاسل کی زد میں ہوں
ظہور الاسلام جاوید
سروں کی فصل کٹنے کا یہ موسم تونہیں لیکن
سروں کی فصل کٹنے کا کوئی موسم نہیں ہوتا
وصی شاہ
اپنے احساس سے چھو کر مجھے صندل کر دو
میں ایک صدی سے ادھورا ہوں مکمل کر دو
ڈاکٹر کلیم قیصر
سخنوروں میں یہ اعلیٰ مقام رکھتے ہیں
دیارِ شعر میں اپنا یہ نام رکھتے ہیں
تسلیم الہی زلفی
ذکر اس کا مری کہانی میں
چاند کا عکس جیسے پانی میں
ڈاکٹرانعام الحق جاوید
میں جرمانہ محبت کا کچھ ایسے بھر کے آیا ہوں
یہاں تک پاؤں پر چل کر نہیں ،بل سر کے آیا ہوں
فقط اتنا بتانا ہے کہ تیری بزم کے اندر
خصوصی طور پر میں بال کالے کر کے آیا ہوں
ڈاکٹر پیرزادہ قاسم
بے دلی سے ہنسنے کو خوش دلی نہ سمجھا جائے
غم سے جلتے چہرے کو روشنی نہ سمجھا جائے
گاہ گاہ وحشت میں گھر کی سمت جاتا ہوں
اس کو دشتِ عبرت سے واپسی نہ سمجھا جائے
***
Viewers: 1826
Share