میرٹھ میں اطہر الدین نیشنل ایوارڈ تقریب کا انعقاد

athar-award
عصری حسیت، سید اطہر الدین اطہرؔ کی شاعری کا انفرادی وصف ہے: پرو فیسر انور پاشا
سید اطہر الدین اطہرؔ کی پہلی برسی کے مو قع پر سبھارٹی ٹرسٹ،البرکات ،علی گڑھ اور مشرف عالم ذوقی اطہر الدین نیشنل ایوارڈ سے سرفراز
(پریس ریلیز) میرٹھ13؍ مارچ2014ء
سید اطہر الدین اطہرؔ معروف شاعر اور مخلص استاد ہونے کے ساتھ ساتھ،ہمدرد، ملنسار، مہذب ،آئیدیل،اور علم دوست انسان تھے۔ان کی پہلی برسی کے موقع پر سید اطہر الدین میمو ریل سو سائٹی اور شعبۂ اردو، چو دھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ نے مشترکہ طور پر ایک شاندار تقریب ،شعبۂ اردو کے پریم چند سیمینار ہال میں منعقد کی۔ جس کی سرپرستی سید علیم الدین (سابق چےئر مین ،پھلاؤدہ) نے، صدارت پروفیسر انور پاشا(جوا ہر لال نہرو یو نیورسٹی، نئی دہلی) اور نظامت محترم آفاق احمد خاں نے کی مہمان خصوصی کے طور پر پرو فیسر جے۔ کے پنڈیر (پرو وائس چانسلر، سی سی ایس یو) شریک ہو ئے۔جب کہ استقبالیہ کی رسم سید معراج الدین اوراظہار تشکر کی رسم سید ذکی الدین(سا بق ایم۔ایل اے) نے ادا کی۔
پرو گرام کا آ غاز حا فظ محمد خالد نے تلا وت کلامِ پاک سے کیا۔ اور چا ند نی عباسی نے بار گاہِ رسالت میں سید اطہر الدین اطہرؔ کی تخلیق کردہ نعت کا ہدیہ پیش کیا۔اس کے بعد پرو فیسر جے کے پنڈیر نے مہمانوں کے ساتھ مل کر شمع روشن کی۔ یہ پرو گرام دو حصوں پر مشتمل تھا۔
؂ پرو گرام کے پہلے حصے میں مرحوم اطہر الدین اطہرؔ کی شخصیت اور خدمات پرتفصیلی روشنی ڈا لنے کے ساتھ ساتھ اطہر مرحوم کے مجمو ع�ۂ نظم’’لہر‘‘ اور شعبۂ اردو کی سہ ماہی میگزین’’ہماری آ واز‘‘ کے خصوصی شمارے’’بوئے اطہر‘‘ کی نقاب کشائی بھی کی گئی۔ڈاکٹر آصف علی نے اطہر الدین اطہرؔ کی نظم’’مجھے بھی کاش اک اولاد نالائق ملی ہو تی:انسانی فطرت کی نباضی کا نبے مثال نمونہ‘‘ کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا اور بتایا کہ یہ نظم حسن تخیل کی شادا بی، قدیم و جدید تجربوں کی عکاسی، اسلوب و طرز ادا کی بر جستگی، محا ورات کی شگفتگی، استعارات کی ندرت، لفظیاتی ساخت کی جدت، احساس کی نئی آ ہٹ اور اظہار کی نئی دھڑکن سے معمور ہے۔اس میں معنویت کی بہت سی پرتیں تلاش کی جا سکتی ہیں۔سید محمد علی طالب زیدی نے ’’سید اطہر الدین کی وضع داری اور ظرافت ‘‘عنوان سے مقالہ پیش کرتے ہو ئے مرحوم اطہر کی زندگی کے واقعات سے ان کی وضع داری اور ظرافت کی متعدد مثا لیں پیش کیں۔ ان کی شگفتہ مزاجی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال مجھے اسٹراک ہو گیا۔پورا بدن مفلوج تھا اور کئی دن تک بیہوشی کا عالم رہا۔مرحوم اطہر عیادت کے لیے آئے،مزاج پرسی کی او ر بو لے ’’حضرت عزا زیل سے ملاقات تو ہوگئی ہو گی ۔‘‘سید اطہر الدین کی صا حب زادی کاکل اطہر رضوی نے بڑے جذباتی انداز میں ان کی شخصیت پر رو شنی ڈالتے ہو ئے کہاکہ میرے پاپا ایک اچھے باپ، ایک اچھے بیٹے، ایک اچھے بھائی اور ایک اچھے شوہر ہی نہیں بلکہ ایک مثبت زا وےۂ فکر رکھنے وا لے انسان تھے ۔وہ مشکل اور نا مساعد حا لات میں حوصلہ رکھنے کا درس دیتے تھے۔ تعلیم ،بالخصوص عورتوں کی تعلیم کو عام کرنا ان کا مشن تھا۔انہوں نے محض میری اعلیٰ تعلیم کی خا طر آ بائی وطن ترک کر کے میرٹھ میں رہا ئش اختیار کی تھی اور میری ماں کوشادی کے بعد اعلی تعلیم سے سر فراز کرا یا تھا۔
اس مو قع پر سید اطہر الدین میمو ریل سو سائٹی کی جانب سے تعلیمی ،سماجی اور ادبی میدان میں کار ہائے نمایاں انجام دینے پر باالترتیب ’’البرکات ایجو کیشنل سو سائٹی ‘‘علی گڑھ ،سبھارتی ٹرسٹ ،میرٹھ اور محترم مشرف عالم ذوقی کو سند توصیف ،شال اورپہلا نشانِ یادگار پیش کیا گیا۔یہ اعزاز پیش کیے جانے سے قبل ڈاکٹر ریتا سرو ہی(پرنسپل ریشبھ اکیڈمی ،میرٹھ) نے سبھا رتی ٹرسٹ، کہکشاں فرحین نے البر کات ایجو کیشنل سو سائٹی، علی گڑھ اور افشاں یاسمین نے محترم مشرف عالم ذوقی کا تعارف پیش کیا۔سبھارتی ٹرست کی چےئر پرسن ڈاکٹر مکتی بھٹنا گر نے اس اعزاز کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمیں مزید بہتر سماجی خد مت کے لیے اکساتا رہے گا۔البرکات ٹرسٹ کے نمائندہ محترم فہیم صدیقی نے کہا کہ تعلیم کو عام کرنا ہی ہما رے تمام مسائل کا حل ہے مرحوم اطہر بھی اس کے حامی تھے۔محترم مشرف عالم ذوقی نے ایوارڈ کو اپنے لیے فخر کی بات بتاتے ہو ئے کہاکہ مرحوم اطہر کی تخلیقات سے اندا زہ ہو تا ہے کہ وہ روایات کی قدر شناسی کے با وجود نئے تجربوں کے حامی تھے۔
پرو گرام کے دوسرے حصے میں شاداں پھلاؤدی ، طالب زیدی ،حسیم الدین ہمدم ، ڈاکٹر یونس غازی ،نذیر میرٹھی ، انیس میرٹھی اور عامر نظیر ڈاروغیرہ ا نے مرحوم اطہر کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔ساتھ ہی شعبہ کی طالبات شوبی رانی اور مسرورا علی نے مرحوم اطہر کی مختلف شعری تخلیقات خوش الحانی کے ساتھ پیش کر کے سامعین کو محظوظ کیا۔نظامت کے فرا ئض ڈا کٹر فرقان سر دھنوی نے انجام دیے۔صدر شعبۂ اردو ڈا کٹر اسلم جمشید پوری نے سید اطہر الدین میموریل سو سائٹی کے مستقبل کے منصو بوں کو بیان، عنقریب پھلا ؤدہ میں ایک بڑی لائبریری کے قیام کا اعلان اور مرحوم کے ادبی امتیاز ات کا ذکر کرتے ہوئے کہا سید اطہر الدین ایک حساس دل شا عر ہیں۔ ساتھ ہی ان کو لفظیات پر بھی دسترس حاصل ہے۔ وہ بڑی صناعی سے جذبات کو الفاظ کے سانچے میں ڈھال دیتے ہیں۔متعدد مقامات پر ان کے یہاں لفظوں کی تکرار، نظم کے تاثر کو دو بالا کردیتی ہے اور ایک ایسی نغمگی پیدا ہوتی ہے جو دلوں میں اترتی چلی جاتی ہے۔ڈاکٹر شاداب علیم نے کہا کہ میری کوشش ہو گی کہ میں اطہر صا حب کے تمام ادھورے خواب پورے کروں اور خدا کے فضل سے یہ سلسلہ شروع بھی ہو چکا ہے۔ ان کی تمام تخلیقات کو یکجا کر کے جلد ہی منظر عام پر لایا جائے گا۔ اپنے صدارتی خطبے میں پرو فیسر انور پاشا نے مرحوم اطہر کی ادبی خدمات پر تفصیلی رو شنی ڈالتے ہو ئے کہا کہ ان کی شاعری میں عصری حسیت ان کی انفرادیت کے طور پر سامنے آ ئی ہے۔وہ سماج کی مکروہ حقیقتوں کو بیان کرنے میں اپنا ثا نی نہیں رکھتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا مرحوم کو سچا خراج عقیدت یہی ہو گا کہ ہم ان کی تخلیقات کو جلد از جلد زیور طبا عت سے آ راستہ کریں تا کہ نا قدین ان کوجانچ پرکھ کر ادب میں ان کے مقام کا تعین کر سکیں۔
پرو گرام میں لائبریرین جمال احمد صدیقی، مظفر الدین ،قاری شفیق الرحمن قاسمی ،ڈاکٹر خالد حسین خان ،انجینئر رفعت جمالی،ڈاکٹر ہما نسیم، ڈا کٹرشمع کو ثر یزدانی،ڈاکٹر نعیم صدیقی، ڈا کٹر شاہد صدیقی، ڈا کٹر فر حت خا تون،قمر النسا ء زیدی، نا یاب زہریٰ، زیدی، مشرف خاتون، فرزا نہ عاصم،شہناز احمد،ڈاکٹر منوج کمار،ڈا کٹر سر تاج،اکرام بالیان،حاجی مشتاق سیفی، سلیم سیفی، کلیم خان، نسرین بیگم،عمران چو ہان اور کثیر تعداد میں عما ئدین شہر اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔

Viewers: 1330

Share