ایک شام عباس تابش کے ساتھ

abbas-tabish-kay-nam-sham

عباس تابش کے اعزاز میں ادبی محفل

(ابوظہبی۔حسیب اعجاز عاشر)گزشتہ شب ابوظہبی کے مقامی ریسٹورنٹ مایہ ناز شاعرعباس تابش کے اعزاز میں ایک بھرپور ادبی محفل ’’ایک شام عباس تابش کے نام‘‘ کا انعقاد کیا گیا ۔عباس تابش کسی تعارف کے محتاج نہیں ،پیشے سے اُردو لیکچرار ہیں مگرانکا نام مشاعرے کی کامیابی کی ضمانت تصور کیا جاتا ہے ۔دُنیا اردو ادب میں انکا ایک خاص مقام ہے اور اِنکی شاعری میں جدت پسندی اپنی مثال آپ ہے۔اِنکا یہ نمائندہ شعر مقبول عام ہے ’’ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابشؔ ۔۔میں نے اک بار کہا تھا ، مجھے ڈر لگتا ہے‘‘۔ اِنکا پہلا مجموعہ کلام ’’تمہید ‘‘ ۱۹۸۶ میں شائع ہوا۔اِنکے دیگر شعری مجوعے ’’آسمان‘‘ ۱۹۹۲میں ، ’’مجھے دعاؤ ں میں یاد رکھنا‘‘ ۱۹۹۸میں، ’’پروں میں شام ڈھلتی ہے‘‘ ۱۹۹۸ میں ، عشق آباد(کلیات)‘‘ ۲۰۰۴ میں شائع ہو چکے ہیں ۔

ظہورالاسلام جاوید کی ذیرِصدارت اِس تقریب کی میزبانی ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی نے کی۔سلمان احمد خان نے نظامت کے فرائض باحسنِ انداز انجام دیئے۔محفل کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا جسکی سعادت حسیب اعجاز نے حاصل کی ۔ظہورالاسلام جاوید کا آپ ﷺ کے حضور پیش کیا گیاہدیہِ نعت تمام حاضرین نے بڑی عقیدت و احترام سے سماعت فرمایا۔شعراء کرام میں عامر علی مرزا ساحل، فرہاد جبریل، آصف رشید اسجد، سلمان خان، ک م حسرت، سعید پسروری ،ڈاکٹر عاصم واسطی، ظہورالاسلام جاوید شامل تھے۔جواں سال شاعر عامر علی مرزا ساحل نے اپنا پنجابی پیش کیا جو بہت پسند کیا گیا۔تیزی سے اُبھرتے ہوئے شاعر فرہاد جبریل نے بھی پہلے اپنا صحرائیکی پھر اُردو کلام پیش کر کے خوب داد حاصل کی۔ شعری محافل میں اپنا مقام بناتے ہوئے شاعر آصف رشید اسجد نے بھی اِسی تسلسل میں پہلے پنجابی پھر اپنا اُردو کلام پیش کیا اور داد و تحسین کے حقدار بنے،ناظمِ محفل سلمان خان نے دورانِ عمرہ اپنا لکھا ہوا نعتیہ کلام پیش کیا پھراپنے تازہ کلام سے چند اشعار بھی پیش کئے جو سماعتوں کو خوب اثرانداز ہوئے۔ک م حسرت کے جداگانہ پنجابی اور اُردو کلام کو سبھی نے بے حد پسند کیا اِس موقع پر انکو حالیہ شائع ہونے والے اُنکے پنجابی اور اُردو کے دو مجموعہ کلام کی مبارکباد بھی پیش کی گئی۔سعید پسروری نے کا پنجابی اور اُردو کلام بھی اپنا الگ ہی رنگ لئے ہوئے تھا۔میزبان محفل ڈاکٹر عاصم واسطی نے اپنے تازہ اور پُرکشش کلام سے خوب سماں باندھا اورکئی غزلیں پیش کر کے سامعین سے زبردست تحسین حاصل کی،مہمان خصوصی عباس تابش کی اپنے معتبرانداز میں پیش کی گئی جدید اور منفرد شاعری سے سامعین بہت لطف اندوز ہوتے رہے کئی تازہ غزلوں سمیت فرمائشی کلام بھی سماعتوں کی نذر کیا جسے بے انتہا سراہا گیاسامعین کی بھرپور فرمائش پر تادیر اپنا کلام پیش کرتے رہے اور ہر شعر پر داد سمیٹتے رہے،محفل کے اختتام پذیر ہو نے کے بعد بھی انکے کلام کا سرور تمام سامعین کے آنکھوں سے خوب جھلکتا رہا انہوں نے میزبان محفل ڈاکٹر عاصم واسطی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اِنکے اعزاز میں ایک خوبصورت ادبی محفل کا انعقاد کیا ، مزید کہا کہ ایسی نشستیں اُردو زبان کی تجدید اور ترقی میں اہم کردار ادا کرتیں ہیں جو شاید بڑے مشاعروں میں ممکن نہیں۔صدرِ محفل ظہورالاسلام جاوید کو دعوت سخن دیا گیا تو انہوں نے بھی اپنے کلام ا و رحسنِ انداز بیان سے بزمِ مشاعرہ کو پُررونق بنا دیا ۔اِس موقع پر ظہورالاسلام جاوید نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ عباس تابش نے اپنے دلفریب کلام سے سماعتوں کو یقیناًخوب تازگی بخشی ہے ۔یہ یقیناًدورِ حاضر کے چند نمایاں ترین شعراء کرام میں شامل ہیں انہوں نے اِس محفل میں بھی اپنی اِس روایت کو برقراررکھا ہے کہ یہ مشاعرہ کو لوٹ لینا خوب جانتے ہیں ۔ اختتام پر میزبان محفل ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی نے محفل کے اظہار تشکر میں کہا کہ یہ ہمارے لئے باعٹِ اعزاز و مسرت ہے کہ ہماری خواہش پر عباس تابش نے ہمیں وقت دیا اور ہماری سماعتوں کو اِنکا منفرد اور جدیدکلام سننے کو ملا انہوں نے تمام شرکاء کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے چند گھنٹوں کے مختصر نوٹس میں شرکت کر کے اِس محفل کے انعقاد کو یقینی بنایا،محفل میں معروف افسانہ نگارکبیر احمد خان، نامور ناول نویس ڈاکٹر سلیم خان،نمایاں سماجی شخصیت نسیم اقبال سمیت دیگر نے شرکت کی۔تمام شرکاء کو ضیافت بھی پیش کی گئی
محفل میں پیش کئے گئے کلام سے منتخب اشعار ۔۔۔۔۔
عامر علی مرزا ساحل
اپنا آپ رول ریا واں
خورے لب جائے لعل گواچا
فرہاد جبریل
ہے وقت شام سُرخ ہے پانی کا رنگ دیکھ
سُورج سے ہو رہی ہے سمندر کی جنگ دیکھ
آصف رشید اسجد
فقط زباں سے نہ کہہ مجھ کو زندگی اپنی
میں زندگی ہوں تو اچھی طرح گزار مجھے
سلمان خان
ایک مجبوری بنے گی اک گناہ
پھر یہ دل مجبور ہوتا جائیگا
م ک حسرت
سانپ اگر پالنا ہے مجبوری
آستینوں میں پا لیئے صاحب
سعید پسروری
ہم تشنگانِ عشق شناسائے میں
وہ وصل میں مزہ نہیں جو آرزو میں ہے
ڈاکٹر عاصم واسطی
یہ کون ہے جو ترے ساتھ سر جھکاتا ہے
کہ واعظہ ترے سجدے تری جبیں کے نہیں
عباس تابش
وہ جس کے خوف سے چھوڑا تھا میں نے بستی کو
وہ سانپ پھرمیرے ساماں سے نکل آیا
میں اپنے ہجر سے مایوس ہونے والا تھا
کہ پھول سا کوئی گلدان سے نکل آیا
کسی سے سانس سنائی دیئے اندھیرے میں
پھر ایک چاند گریباں سے نکل آیا
ظہورالاسلام جاوید
ہمیں معلوم ہے اُس سے محبت کیسے کرنی ہے
کہاں پہ بھول جانا ہے کہاں پر یاد رکھنا ہے

Viewers: 2036
Share