Safina | جمیل مظہری اور ان کے مرثیے

سفینہ safina deptt of urdu delhi university 110007 mob 9136437866 جمیل مظہری اور ان کے مرثیے شاعری کھیل میرا بازیِ طفلی کی جگہ مرثیے میں نے سنے گود میں لوری […]
سفینہ
safina
deptt of urdu delhi university 110007
mob 9136437866

جمیل مظہری اور ان کے مرثیے
شاعری کھیل میرا بازیِ طفلی کی جگہ
مرثیے میں نے سنے گود میں لوری کی جگہ
جدید مرثیہ نگاری کے عہد میں جمیل مظہری کا نام امتیازی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے عہد طفلی میں ہی شاعری کا آغاز کیا اور اس ماحول میں پرورش پائی جہاں مجالسِ عزا کا اہتمام ہوتا تھا۔ ا س بات کا اعتراف جمیل مظہری نے اپنے سوانحی مضمون ’’غبارِ کارواں‘‘ میں بھی کیا ہے۔

’’میرے کان میں جو شاعری کی پہلی آواز گئی وہ انیسؔ کے مراثی کے بندتھے جنہیں میرے والدِ محترم گنگنایا کرتے تھے۔ او ران کی یہی گنگناہٹ میرے لئے لوری کا کام کرتی تھی۔ جب گہوارے سے اُتر کر پاؤں پاؤں چلنے لگا تو آدمیوں کا پہلا اجتماع جو میں نے دیکھا تو وہ محرم کی مجلسیں تھیں۔ جن میں میرے اباّ مرحوم میر انیسؔ کا مرثیہ پڑھا کرتے تھے۔ میں مجلس سے گھر آکر اُن کی نقل کرتا اور اپنی توتلی زبان میں انیسؔ کے مصرعے دہراتا۔ جب سات۔ آٹھ سال کی عمر ہوئی تو والد نے ایک سلام رٹوا کر منبر پر پہنچا دیا۔ اُس وقت سے عنفوانِ شباب تک برابر محرم میں مرثیہ خوانی کرتا رہا۔ اور چودہ سال کی عمر میں میری شاعری کی ابتدا غز.ل سے نہیں بلکہ سلام سے ہوئی جس میں کچھ اشعار میرے او رکچھ والد مرحوم کے ہوتے۔ شاید ذوقِ سخن کی اسی ابتدائی تربیت نے مجھے میری شاعری کے عہد شباب میں مرثیے کہلوائے۔‘‘ (کلیاتِ جمیل مظہری، حصہ دوم، 647)
جمیل مظہری عزادارِ حسین ہی نہیں پیمامبر قوم بھی تھے ،انیس کے پیرو ہی نہیں دبیرؔ کے مداح بھی تھے،وہ حسین کے مثالی کردارکوکسی ایک فرقہ یامذہب سے منسوب کرنے کے قائل نہ تھے ، بلکہ حسین کے مثالی کردار کو عالمی نقتہ نظر سے دیکھنے کی خواہاں تھے۔ جمیل مظہری کی مرثیہ نگاری کاآغاز 1930ء میں ہوا۔ ’’عرفانِ عشق‘‘ جمیل مظہری کا پہلا مرثیہ تھا جو انہوں نے 26 سال کی عمر میں کہا۔ اسی سال غالبؔ کے قصیدہ ’’دہر جز جلوہ یکتائی معشوق نہیں،، پر تضمین بھی لکھی اور اسی سال اپنی غزل کا لازوال مطلع بھی کہا ؂
بقدر پیمانۂ تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا
اگر نہ ہو یہ فریبِ پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا
اس مطلع کے بارے میں علامہ کایہ کہنا تھا کہ کمبخت میری غزل کا یہ مطلع مجھ سے زیادہ مشہور ہو گیا۔ اس لحاظ سے 1930ء جمیل مظہری کی زندگی کا اہم سال ثابت ہوتا ہے۔
’’عرفانِ عشق‘‘ کے بارے میں بیشتر ناقدین کی رائے یہ ہے کہ اس مرثیہ پر غالبؔ کا رنگ نمایاں ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جمیل مظہری غالبؔ سے بہت متاثر تھے۔ اور اس مرثیہ کے ابتدائی اشعار میں غالبؔ کا رنگ بھی جابجا ملتا ہے۔ لیکن جوں جوں مرثیہ اپنا سفر طے کرتا ہے غالبؔ کا رنگ کم ہوتا جاتا ہے اور جمیل مظہری کا ایک الگ رنگ و انداز اور لب و لہجہ نظر آنے لگتا ہے۔
آدمی زاد کب انساں ہے بقولِ غالبؔ
اُستواری ہی میں ایماں ہے بقولِ غالبؔ
سوزِ دلِ رازِ چراغاں ہے بقولِ غالبؔ
درد خود معنئ درماں ہے بقولِ غالبؔ
عشرتِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہوجانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہوجانا
آہستہ آہستہ یہ رنگ معدوم ہوجاتا ہے151
بند پانی ہو گلے تیغ سے ریتے جائیں
درس ایثار کا ہر حال میں دیتے جائیں
نامِ حق نرغۂ باطل میں بھی لیتے جائیں
اپنی کشتی کو تلاطم میں بھی کھیتے جائیں
کھیلیں طوفانوں سے اور خوگرِ طوفاں ہو جائیں
جب ہوا تیز چلے نوحِ غریباں ہو جائیں
اس کے علاوہ اس مرثیے کے آخر میں۱۱بند اُن کے عمِ محترمرحوم غازی پوری کے ہیں، جن کو جمیل مظہری نے تبرکاََ شامل کیا ہے اور یہی بند بقول جمیل مظہری انکی مسدّس گوئی کی بنیاد بنے ۔جمیل مظہری کے اسی مر ثیہ کے بارے میں بیشتر ناقدین کی رائے یہ بھی ہے کہ انھوں نے یہ مرثیہ مولانا آزادؔ اور ترقی پسند تحریک سے متاثر ہوکر لکھا۔ جمیل مظہری نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے لیکن سوال یہ اُٹھتا ہے کہ یہ مرثیہ 1930ء میں کہاگیا اور ترقی پسند تحریک 1936ء میں شروع ہوئی۔
جمیل مظہری بہت ہی بے نیاز آدمی تھے اور اسی بے نیازی نے ان کی شخصیت کونقصان پہنچایا۔ دارصل اسی بے نیازی میں انہوں نے یہ کہہ دیا کہ
’’عرفانِ عشق 1930ء ترقی پسند تحریک اورمولاناآزادکی تقاریر سے متاثر ہوکرکہاگیاتھا‘‘ (بحوالہ جدیداردومرثیہ،محمدرضاکاظمی،صفحہ۱۲۷)
اب سوال یہ اُٹھتا ہے کہ تحریک باقاعدہ تو نہ تھی ہاں رجحان ضرور تھے ایک جگہ ترقی پسند تحریک کے بارے میں کہتے ہیں:
’’تحریک سے پہلے لٹریری کانفرنس 1935ء میں جو خیالات ہم نے رکھے، وہی بعد میں ترقی پسند تحریک بن کر سامنے آئے۔‘‘ (جشن جمیل سویئنر، صفحہ119)
جمیل مظہری بھی ایک ترقی پسند شاعر تھے،چونکہ ان کا مزاج پابندی کا خوگر نہ تھا جس کی وجہ سے وہ بھی کسی بھی طرح کی پا بندی برداشت کرنے کے قائل نہ تھے چاہے وہ مذہب کی پابندی ہو،تحریک کی یا پھر نظریے کی ایک جگہ اقرار کرتے ہیں۔
’’باضابطہ تو میں نہ کسی مذہب کا پابند ہوں نہ کسی سیاسی جماعت کا پابند رہا۔اس کا(ترقی پسند تحریک)بھی باضابطہ ممبر نہیں رہا‘‘ (صفحہ۶۰جشن جمیل سوینئر)
ان حوالوں سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ جمیل مظہری ترقی پسند نظریات کے پابند نہ تھے بلکہ ترقی پسند خیالات سے متاثر تھے۔
ان کا دوسرا مرثیہ’پیمانِ وفا‘ سیاسی رنگ ، طنز کے نشتر، قوم کی بیداری جیسی خصوصیات کی نشاندہی کرتاہے۔ دراصل یہ مرثیہ جارج پنجم کی جبلی پرکہا گیا تھا، جس میں طنز کا عنصر شامل ہے۔ ماہِ عزا کے موقع پر جارج پنجم کی سلور جبلی پر چراغاں کا اہتمام کیا گیا، جس پر کوئی ردِعمل یا اختلاف ظاہر نہ ہوا۔
آج بھی جب کہ ہے ماضی سے کہیں بہتر حال
حاکمِ شہر کے بگڑے ہوئے تیور کا خیال
کتنے ایمانوں کو کرسکتا ہے دم بھر میں نڈھال
جوبلی ماہِ عزا میں ہوئی خود اِس کی مثال
کیوں جہاں ہو علمِ شاہِ شہیداں اے قوم
جوبلی میں اُسی پھاٹک پہ چراغاں اے قوم؟
کچھ اسی طرح کا طنز ان کے ہم عصر مرثیہ نگارشاہد نقوؔ ؔ ی کے یہاں بھی ملتاہے۔انہوں نے شب بیداری کرنے والوں کو کچھ اس طرح طنز کا نشانہ بنایا ہے۔
غضب خدا کابیانِ امام اور یہ حال
کہ جیسے نشے میں مجذوب کرتے ہوں دھمال
یہ گالیاں سرَ منبر بزعم حسنِ مقال
تمام رات وہ غوغہ کہ سانس لینا محال
محلّے والے نہ جیتے ہیں اور نہ مرتے ہیں
ہمیں یہ ناز کہ ذکرِ حسین کرتے ہیں

یہ جدید مرثیہ نگاری ہی کا کمال ہے جس نے صنفِ مرثیہ میں بھی بے حس لو گوں کو طنز کا نشانہ بناکران کی اصلاح کرنے کی سعی کی ۔یہ مرثیہ جمیل مظہری نے 1936ء میں کہا ، جب ترقی پسند تحریک باقاعدہ شروع ہوئی، حالانکہ جمیل مظہری نے 1930ء میں کہے گئے مرثیے ’’عرفانِ عشق‘‘ کے بارے میں اعتراف کیاہے کہ یہ مرثیہ، میں نے مولانا آزاد اور ترقی پسند تحریک سے متاثر ہوکرلکھا ہے لیکن مطالعہ کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ ان کا یہ مرثیہ بھی ترقی پسندی کی دین ہے۔ کیونکہ یہ وہ دور تھا جب تمام ملک آزادی کے لئے جدوجہد میں مصروف تھا۔ بہت سی تحریکیں اور تنظیمیں محوعمل تھیں، جن میں ترقی پسند تحریک کا بہت جوش و ولولہ تھا۔ ہر طرف اس تحریک کی لہر دوڑ رہی تھی۔ انقلابی نعرے گونج رہے تھے، حالانکہ ان کے مرثیے انقلابی نہیں لیکن انقلاب سے خالی بھی نہیں۔
ماہِ عزا میں سلور جبلی کے موقع پر چراغاں کے اہتمام سے جمیل مظہری نے جو کرب محسوس کیا،اس میں طنز کے نشترشامل کرکے لوگوں کی بے حسی کو نشانہ بنانے کی کامیاب کوشش کی ہے، خاص طور سے انہوں نے لوگوں کی خاموشی پر جو شدید طنز کیا ہے، اُس کا جواب نہیں۔
اگرجمیل مظہری کی شاعری کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ان کے مراثی میں ترقی پسند ی صاف ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے اپنے مرثیوں میں قوم کو بیدار کرنے کی جو کامیاب سعی کی ہے وہ ان کی ترقی پسندی کا ثبوت ہے۔
خلیل الرحمن اعظمی نے ترقی پسند ادبی تحریک میں لکھا ہے،
’’پریم چند نے اپنا خطبہ ختم کرتے ہوئے آخر میں یہ الفاظ کہے:
ہماری کسوٹی پر وہ ادب کھرا اُترے گا جس میں تفکر ہو، آزادی کا جذبہ ہو، حسن کا جوہر ہو، تعمیر کی روح ہو، زندگی کی حقیقتوں کی روشنی ہو، جو ہم میں حرکت، ہنگامہ اور بے چینی پیدا کرے، سلائے نہیں کیوں کہ اب زیادہ سونا موت کی علامت ہوگی۔‘‘ (ترقی پسند ادبی تحریک، صفحہ45)
اور واقعہ یہ ہے کہ جمیل مظہری کی شاعری میں یہ تمام خوبیاں جابجاموجود ہیں:
دفعتاً پھیل گئی چار طرف بیداری
دلِ انساں سے محبت کی اُٹھی چنگاری
زندگی ہونے لگی فکر و عمل پر طاری
قومیں انگڑائیاں لینے لگیں باری باری
سونے والوں کو حدی خواں نے جگایا آخر
کارواں اپنا تمدّن نے بڑھایا آخر

جمیل مظہری کے ساتھ ساتھ ان کے ہم عصر شعرا،جوش ؔ ملیح آبادی،اور نجم آفندی، کے یہاں بھی بیداری اور ترقی پسندی کی سعی کا انداز کچھ اس طرح ملتاہے ۔
جوش:
اے قوم وہی پھرہے تباہی کا زمانہ
اسلام ہے پھر تیرا حوادث کا نشانہ
کیوں چپ ہے اُسی شان سے پھر چھیڑترانہ
تاریخ میں رہ جائے گا مَردوں کا فسانہ
مٹتے ہوئے اسلام کا پھر نام جلی ہو
لازم ہے کہ ہر شخص حسینؐ ابنِ علیؐ ہو
نجم آفندی:
یہ نوجوان تھے جن کی جوانی کو آفریں
تعمیرِ قوم کرتے ہیں ایسے ہی خوش یقیں
اِسلام کی حیات تھی مقصودِ اولّیں
دھڑکا یہ تھا اصول کو جنبش نہ ہو کہیں
شایانِ حرزِجاں تھے تیور دلیر کے
تعویز حبِّ مرگ تھا بازو پہ شیر کے
جمیل اور ان کے ہم عصروں میں بیداری کی یہ مثالیں جا بجاملتی ہیں ہاں اس بات میں کوئی دورائے نہیں کہ جوش کی یہاں گھن گرج زیادہ ہے لیکن پھر بھی جمیل کا ایک الگ انداز ہے ۔جمیل مظہری بھی اس تحریک سے بہت متاثر تھے اوراس بات کی وضاحت مندرجہ ذیل اقتباسات سے اور بھی واضح ہو جاتی ہے ۔
’’ایک دور تھا ہم لوگوں کے عہدِ شباب کا کہ جب ترقی پسند تحریک مرحوم سجاد ظہیر نے قائم کی تھی اور میں اس سے وابستہ تھا۔‘‘ ( جشنِ جمیل سوینئر۱۹۷۵ صفحہ۶۱)
پھر دوسری جگہ کہتے ہیں 151 ’’ میں اصولاً اس تحریک کے ساتھ ہوں او رمیں ہر اُس جدت کو برداشت کر سکتا ہوں جس میں کلام میں یعنی اتنا ابہام نہ ہو کہ ایک ذہن سے دوسرے ذہن 151 اگرچہ غالبؔ کی تقلید کی وجہ سے خود مجھ میں بھی ابہام بہت زیادہ ہے مگر میں اب بھی یہی سمجھتا ہوں کہ جو جلد سامعین کے ذہن تک پہنچ سکے، تحت الشعور کی باتیں بھی کہے مگر شعور کی زبان میں کہے تحت الشعور کی باتیں اگر تحت الشعور کی زبان میں کہے گا تو کون سمجھے گا۔ یہی ہے اور کلام میں ہر قسم کی جدت گوارہ ہے مگر توازن ہونا چاہئے۔‘‘
(صفحہ ۶۱جشن،جمیل سویبئر۱۹۷۵)
تیسرامرثیہ ’’عزم محکم‘‘ یہ مرثیہ اُس زمانے کی تخلیق ہے جب انھوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی۔ اس مرثیے میں زینب کی زبان سے جو مکالماتی بند نکلے ہیں وہ جدید عہد کی دلیر عورت کی ترجمانی کرتے ہیں151
پھر میرا کیا جب آپ کی گردن پہ سر نہیں
قربان جاؤں مجھ کو اسیری کا ڈر نہیں
وہ ملک کیا بہشت ہے زنداں اگر نہیں
آزادئ ضمیر کا جس میں گزر نہیں
بہتر رسن گلے میں قیودِ عمل سے ہے
زنجیر اہل فرض کا زیور اَزل سے ہے

آئے گا جب وہ وقت تو ہمّت کروں گی میں
ہوکر اسیر آپ کی نصرت کروں گی میں
اعلانِ عام سرّ شہادت کروں گی میں
حق کی قدم قدم پہ اشاعت کروں گی میں
ہوگا یہ غل کہ ہے یہ اشاعت اصول کی
سر ننگے پھر رہی ہے نواسی رسولؐ کی

ان کا چوتھا مرثیہ ’’مضرابِ شہادت‘‘ ہے جو تقسیم ہند کے بعد کے زمانے میں رقم کیا گیا، سیاسی رنگ ساقی نامہ ، بیداری و طنز،رزمیہ عناصر کلاسکل و جدید روایت کا میل اس مرثیے کا خاصہ ہے ،جمیل مظہری آزادی کے بعد بھی جس کرب کو محسوس کر رہے تھے وہ اس مرثیے میں جا بجا نظر آتا ہے۔ یہ بند دیکھئے:
ظلمت کدے میں ہند کے محشر بپا ہے آج
تہذیب اپنے خون سے رنگیں قبا ہے آج
رفتار وقت مدعیِ ارتقا ہے آج
لیکن جو ہورہا تھا وہی ہو رہا ہے آج
جنسِ خودی جہاں میں ہے ارزاں اسی طرح
انساں کا غلام ہے انسان اُسی طرح
ان کا یہ مرثیہ ان کی فکری جہت کا تر جمان بھی ہے۔
ممکن ہے اس سے قوم کو کچھ زندگی ملے
غفلت کو حِس، جمود کو کچھ بے کلی ملے
غیرت ملے، شعور ملے، آگہی ملے
مستقبلِ حیات کو اے روشنی ملے
میں جانتا ہوں مصلحتِ بے نیاز کو
مضراب چاہیے دلِ انسان کے ساز کو

پانچواں مرثیہ ہے ’’افسانۂ ہستی‘‘ اس پر انیس کے مرثیہ ’جب قطع کی مسافت شبِ آفتاب نے‘کی چھاپ نظر آتی ہے جو حضرت عون ومحمد کی دلیری کی مثال ہے۔
دونوں اشعار رجز کے جو پڑھے جاتے تھے
فصحا دنگ تھے فقرے وہ گڑھے جاتے تھے
گرچہ کمسن تھے مگر ان پہ چڑھے جاتے تھے
تھا جدھر شمر اُسی سمت بڑھے جاتے تھے
جس جگہ کھیت میں مینہ تیروں کا پڑتے دیکھا
وقت نے اُن کو اسی موڑ پہ لڑتے دیکھا
تھے جو کمسن تو طریقہ تھا نرالا اُن کا
زد پہ جو آگئے ٹیڑھا کیا بھالا اُن کا
نوک شمشیر سے عمامہ اُچھالا اُن کا
ایک ہی ضرب میں ارمان نکالا اُن کا
جو کہ تلوار کو بچپن سے کھلونا سمجھیں
کیوں نہ وہ جنگ کے میداں کو گھروندا سمجھیں
نیمچے ان کے ہلالی تھے کہ ابروئے اجل
کاٹ کر رکھ دیا دو بچوں نے سارا جنگل
دو بچھیڑوں نے مچا دی تھی صفوں میں ہلچل
صفِ اوّل صفِ آخر صفِ آخر اوّل
پھینک کر بارِ غلط پشت سے گھوڑے بھاگے
گھوڑے پیچھے رہے اس طرح بھگوڑے بھاگے
انیسؔ نے میدانِ جنگ میں عون و محمد کے کارناموں کو کچھ اس طرح بیان کیا ہے۔
اللہ اے علیؑ کے نواسوں کی کار زار
دونوں کے نیمچے تھے کہ چلتی تھی ذوالفقار
شانہ کٹا کے کسی نے جو روکا سپر پہ وار
گنتی تھی زخمیوں کی نہ کشتوں کا کچھ شمار
اتنے سوار قتل کئے تھوڑی دیر میں
دونوں کے گھوڑے چھپ گئے لاشوں کے ڈھیر میں
وہ چھوٹے چھوٹے ہاتھ وہ گوری کلائیاں
آفت کی پھرتیاں تھیں غضب کی صفائیاں
ڈر ڈر کے کاٹتے تھے کما کش کنائیاں
فوجوں میں تھیں نبی و علی کی دہائیاں
عون و محمد کی قربانی کے بعد اُن کی ماں زینب نے جس طرح صبر و ضبط کیا ہے اور خدا کی بارگاہ میں فدیہ قبول ہونے کی دُعا کی ہے، وہ قابلِ تعریف ہے:
بیٹھ کے لاش پہ آنسو نہ بہایا اُس نے
صبرِ مخدومۂ کونین دکھایا اُس نے
صحن میں آن کے سجادہ بچھایا اُس نے
سجدۂ شکر میں سر اپنا جھکایا اُس نے
مامتا دل کو مسلنے جو لگی بات یہ کی
تھرتھراتے ہوئے ہونٹوں سے مناجات یہ کی
اے مرے پالنے والے مرا فدیہ ہو قبول
میری قربانئ احقر مرے مولا ہو قبول
آلِ احمد کا یہ ناچیز ہدیہ ہو قبول
تپشِ داغِ دلِ دختر زہرا ہو قبول
کیا ہے اعدا نے مری کوکھ جو ویراں کر دی
تیری بخشش تھی تری راہ میں قرباں کر دی

چھٹے مرثیہ کا عنوان ہے: ’’شامِ غریباں‘‘ یہ جمیل مظہری کا سب سے کامیاب مرثیہ ہے۔ شاعری کے مفہوم و معنی سے بحث،ساقی نامہ کا انداز، حضرت زینب کی کردار نگاری کے جوہر اور حضرت زینب کا اپنی والدہ کی روح سے مخاطب ہونا،انکامکالماتی انداز ا س مرثیے کا خاصہ ہے ۔ اس کی ابتدا شاعر ی کے مفاہیم و معنی کی بحث سے ہوتی ہے۔
شاعری بحرِ معانی کا تلاطم ہے جمیلؔ
جس میں غلطاں ہیں ستارے یہ وہ قلزم ہے جمیلؔ
رنگ و بو کے جو کنایوں میں خرد گم ہے جمیلؔ
شاعری اس پہ حقیقت کا تبسّم ہے جمیلؔ
اہلِ دانش ہے وہی اہلِ بصائر ہے وہی
اس تبسّم کو جو پہچان لے شاعر ہے وہی

مذکورہ اوصاف کے علاوہ اس میں ان تمام شعراء کا ذکر بھی ہے جن سے جمیل مظہری کو بے پناہ عقیدت ہے:
ساتواں مرثیہ’’لمحۂ غور‘‘ ہے انسان دوستی، تشکیک، تفکر ،طنز او رہیئت کی تبدیلی اس مرثیے کا خاصہ ہے۔ اس میں کہیں کہیں جمیل مظہری گاندھی جی کے فلسفے سے متاثر بھی نظر آتے ہیں۔ یہاں پر حسینؑ کے لیے ماتم اور تاریخ سے ناواقفیت پر جو طنز کیا ہے وہ قابلِ تعریف ہے۔
گزریں صدیاں تمھیں مظلوموں پہ کرتے ہوئے بین
پھر بھی معلوم نہیں ہے تمہیں تاریخِ حسینؑ
تم نے دنیا کو کبھی ظلم سے نفرت نہ دلائی
رائیگاں ہو گیا ہر فلسفۂ شیون و شین
میرا کیا منھ جو کروں اہلِ وِلا پر تنقید
صورت حال ہے خود رسمِ عزا پر تنقید
آٹھواں مرثیہ’’علمدار وفا‘‘حضرت عبّاس کی شان میں تحریر کردہ مرثیہ ہے جس میں حضرت عباّس کی شجاعت و دلیری کا بیان ہے۔ اس کے علاوہ یہ مرثیہ ہندوستانی عناصراورانسان دوستی کی بہترین مثال ہے۔بچوں کی پیاس کی شدت سے حضرت عباسؑ کی کیفیت کا بیان جمیل مظہری کے یہاں قابل داد ہے۔
بچوں کی پیاس یاد جو آئی جناب کو
روکا تھپک کے اشہبِ انجم رکاب کو
موجوں کے پیچ و تاب پہ اس طرح کی نظر
جس طرح دیکھے دیدۂ دانش سراب کو
چلّو میں لے کے آب کو پھینکا زمین پر
چھینٹیں نہ آنے پائیں مگر آستین پر
ہاں مشک تو بھری مگر اس طرح سے بھری
یعنی کہ انگلیوں کو پہنچنے نہ دی تری
لاؤں کہاں سے نطق انیسؔ سخن طراز
کیوں کر دکھاؤں ضیغم حیدرؑ کی صفدری
کیا ماجرا بیان ہو اس خلفشار کا
اُڑنے لگا ہے رنگ رُخِ اعتبار کا
’’حقیقتِ نور و نار‘‘ ان کا نواں اور آخری مرثیہ ہے۔ اس مرثیے کی فضا خالص ہندوستانی عناصر سے ہموار کی گئی ہے۔ جمیل مظہری کے مرثیوں میں ہندوستانی عناصر اور قوم کو بیدار کرنے کی سعی اور قومی یکجہتی کی مثالیں جابجا ملتی ہیں۔ان کا یہ مرثیہ بے حد پختہ اور جاندارہے جس میں خالص ہندوستانی رنگ ہے جو کلاسیکی مرثیے کے لحاظ سے نیا ہے، اس کے علاوہ جمیل مظہری نے جو ہیئت کی تبدیلی کی ہے مندرجہ ذیل بند اُس بھی کی مثال ہے۔جمیل مظہری نے اپنے مرثیوں میں ہندوستانی سماجی وتہذیبی عناصر اس طرح سے سموئے ہیں کہ فضلی کی ’کربل کتھا‘ کی یاد آجاتی ہے جمیل مظہری اس مرثیے کے بندمیں’ ستی ‘کی رسم کی نشان دہی بھی کرتے ہیں۔
آگ ہے! آگ دلِ خستہ دلاں تک پہنچے
بن کے پروانہ رخِ شمع رُخاں تک پہنچے!
بات چھپنے کی نہیں ہے کہ چھپائی جائے
دلِ تخلیق کا یہ راز جہاں تک پہنچے!
شہہ رگِ بیوۂ مجبورِ وفا تک جائے
کسی مہجور سہاگن کی چتا تک جائے
فضلی کی ’کربل کتھا‘ بھی ستی کی رسم کی نشان دہی کی گئی ہے۔ وقت اور زبان قدرے مختلف ہے البتہ فکر یکساں ہے۔
ستیاں جو ستی ہوویں، ست بوجھ جل مرے ہیں
سو، ست نہیں کو ست ہے، پر کفر وہ کرے ہیں
ست کہتے ہیں گے اِس کوٗں جو ست سے ہم چلے ہیں
چلنا سنبھل سنبھل اب ست کا سخن چلا
دسواں مرثیہ’’میں ہوں مسیح سخن عیسٰیؑ زمانِ سخن‘‘ اورگیارہواں مرثیہ ’’مرثیہ پیش خوانی‘‘ ان مراثی کا سن اشاعت درج نہیں اس لئے راقمہ یہ معلومات فراہم کرنے سے قاصر ہے کہ یہ کب لکھے گئے، اگر چہ یہ ان کے آخری مراثی نہیں ہیں ۔’’میں ہوں مسیح سخن عیسٰیؑ زمانِ سخن‘‘عیسیٰ علیہ سلام کی خصوصیات سے مرثیہ کا آ غاز ہو تا ہے ، یہ ساقی نامہ،محاکات نگاری کا بہترین نمونہ ہے اس میں شاعر اپنی آنکھوں دیکھی بیان کر رہا ’’میں دیکھتا ہوں‘‘کہہ کر جو انہونے کربلا کا منظر کھینچا ہے وہ بہت اہم ہے اور اختصار اس مر ثیہ کا خاصہ ہے۔
میں دیکھتا ہوں تقاضائے ادّعائے ظہور
میں دیکھتا ہوں تماشائے انکسارِ غرور
میں دیکھتا ہوں کہ طوفاں اُگل رہا ہے تنّور
میں دیکھتا ہوں کہ شعلہ فشاں ہے سینۂ طور
میں دیکھتا ہوں کہ روشن چراغِ یزداں ہے
اور اس کے سوز میں آتشکدہ فروزاں ہے
گیارواں مرثیہ پیش خوانی مختصر ہونے کے باوجود بھی ان کے ذوقِ سخن اور اُفتادِطبع کا ترجمان ہے۔
ہے مرا ذوقِ سخن جوشِ طبیعت کی دلیل
میرے افکارِ رسا سایۂ بالِ جبریل
میرے سینے میں ہے میراثِ بزرگانِ جلیل
میں وہ ہوں جس کو ملی راحتِ آغوشِ جمیلؔ
شاعری کھیل مرا بازیِ طفلی کی جگہ
مرثیے میں نے سنے گودمیں لوری کی جگہ
نیاز فتح پوری نے جمیل مظہری کے حوالے سے لکھا تھا کہ اُن کے قلم سے درجہ دوم کی چیز کبھی نہیں نکلی۔ نیاز فتح پوری کا یہ قول جمیل مظہری کے مرثیوں پر بھی صدفیصد صادق آتا ہے۔
جمیل مظہری کو مرثیوں سے قلبی لگاؤ تھا، انہوں نے مرثیوں میں فکری عناصر داخل کرکے اُردو مرثیے کو فکری توانائی بخشی۔ اور مرثیے کے مزاج کو فلسفیانہ آہنگ عطا کیا۔
اگر اُردو غزل کو غالبؔ نے دماغ عطا کیا تو ہمارا یہ کہنا بے بنیاد نہ ہوگا کہ اُردو مرثیے کو جمیل مظہری نے دماغ عطا کیا۔ مرثیے کے ذرّیں دور میں بھی ہمیں تمام مراثی میں جذبات اور گریہ کی فراوانی نظر آتی ہے۔ لیکن جمیل مظہری نے مرثیوں میں غور و فکر کی دعوت دی۔
ہے لقب آج ترا امتِ قریاں اے قوم
تنگ ہے تیرے لئے عرصۂ امکاں اے قوم
منفعل تجھ سے گردش دوراں اے قوم
رائگاں تجھ پہ ہوا خونِ شہداں اے قوم

Viewers: 11565

Share