سوانح حیات نواب آف کالاباغ ملک امیر محمد خان

سوانح حیات نواب آف کالاباغ ملک امیر محمد خان
(سابق گورنر مغربی پاکستان )
تبصرہ نگار: ذوالفقارخان
سوانح حیات ادب کی سب سے زیادہ پڑھی جانی والی صنف ہے۔ اس سے انسان کو بہت کچھ سیکھنے اور سوچنے کا موقع ملتاہے۔ سوانح حیات ہمیشہ ایسے افراد کی کتابی شکل اختیارکرتی ہے جنہوں نے لوگوں کی ایک کثیرتعداد کو متاثر کیاہو، کسی وسیع علاقے کی عملداری میں کچھ قابلِ ذکر کرکے دکھایاہو۔ سوانح حیات اگرکسی بہت معروف شخصیت کی ہوتو پھر ہر خاص و عام کی توجہ کی مستحق ٹھہرتی ہے۔
kalabaghایسی ہی ایک کتاب نواب آف کالاباغ ملک امیر محمد خان سابق گورنر مغربی پاکستان کی سوانح حیات ہے جو اگست دوہزار چودہ میں چھُپ کر مارکیٹ میں آچکی ہے۔ یہ سید صادق حسین شاہ کی مجموعی طور پر چوتھی کتاب ہے۔ اس سے پہلے مصنف کی تین کتابیں ، صبح صادق، نوید سحر اور سول سوسائٹی شائع ہو چکی ہیں۔
یہ کتاب نواب آف کالاباغ کی پیدائش سے قبل کے حالات سے لے کر نواب صاحب کی پیدائش، بچپن، لڑکپن،جوانی، گورنری، بعد از گورنری کے زمانے اور نواب کے قتل تک سب حالات کا احاطہ کیے ہوئے دکھائی دیتی ہے۔
جیسے ہی کتاب کے ٹائٹل پر نظر پڑتی ہے نواب آف کالاباغ کی یادگار تصویر اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہے۔ صفحہ ۴ پر نواب کے چار بیٹوں میں سے لمحہ ء موجود میں زندہ بچ رہنے والے بیٹے ملک اسد خان کی اپنے بیٹوں ملک فواد اور ملک عماد خان(سابق وزیرِمملکت برائے امورِخارجہ) کے ساتھ تصویر اور نیچے سوہان برج ریلوے اسٹیشن کی تصویر ہے۔ یہ ریلوے اسٹیشن نواب آف کالاباغ کی جاگیر کی آخری حدود پہ واقع ہے۔
کتاب کا انتساب کالاباغ اسٹیٹ کے باسیوں کے نام کیاگیاہے۔ صفحہ ۶ پر نواب آف کالاباغ کے پوتے ملک وحید خان کی ہے۔ ملک وحیدخان ملک مظفرخان مرحوم کے بیٹے ہیں اور آج کل کالاباغ اسٹیٹ ان کی عملداری میں ہے۔
مصنف کی طرف سے آغاز ِ سفر اورمحمدرفیع آبی کی طرف سے ایک عمدہ کاوش کے عنوانات کی تحریروں کے بعد کتاب کا باقاعدہ آغاز صفحہ ۱۹ سے نواب ملک امیر محمدخان کے خاندانی پس ِ منظر سے ہوتاہے۔
خاندانی پسِ منظر اور کالاباغ اسٹیٹ کے علاقہ کی وضاحت بڑی خوبی سے کی گئی ہے۔ صفحہ ۲۴ پہ نواب خاندان کا شجرہ نسب کا چارٹ دیاگیاہے جو شیخ ادو سے شروع ہوتاہے۔ نواب آف کالاباغ شیخ ادو کی بارھویں پشت ہیں۔ یہ شجرہ نسب نواب صاحب کے پڑپوتوں پڑپوتیوں تک کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔
صفحہ ۲۵ سے ابتدائی زندگی کے عنوان سے سوانح حیات بتدریج آگے بڑھتی ہے۔ اسی صفحہ پر مصنف رقم طراز ہیں۔ ۔ ۔ نواب امیر محمدخان کی عمر ابھی صرف چودہ سال تھی کہ ان کے والد ملک عطامحمد خان کا انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال کے متعلق مقامی طور پر ایک قصہ بہت مشہور ہے۔ (وہ قصہ کتاب میں ملاحظہ کیاجاسکتاہے۔)
صفحہ ۲۸ پہ دورِ جوانی کا آغاز ہوتاہے۔ شادیاں کے عنوان سے لکھا گیاہے کہ نواب کی پہلی شادی 1929ء میں پنڈی گھیپ کے معروف گھیبا خاندان میں ہوئی اور دوسری شادی 1931ء میں کالاباغ کے محلہ ڈھکی میں ہوئی۔ ان شادیوں کا دلچسپ اور رسوم ورواج سے بھرپور حال اور پہلی بیوی سے علیحدگی کی داستان خوبصورت پیرائے میں پیش کی گئی ہے۔
معروف ہم جماعتوں کی لسٹ، نواب کے ذاتی کوائف، جسمانی ساخت تفصیلاََ اور اولاد، بیٹوں کا تعارف، اولاد کی شادیوں کا ذکر اجما لاََ پیش کیاگیاہے۔
صفحہ ۳۳ پہ اسٹیٹ آف کالاباغ کی جاگیر کا نقشہ دیاگیاہے۔ جو دیکھنے سے تعلق رکھتاہے۔ صفحہ ۳۲ سے ۶۰ تک کالاباغ کے عنوان سے لکھے گئے واقعات اتنے دلچسپ اور حیرت نگیز ہیں کہ ہر واقعہ بیان کرنے کو جی چاہتاہے مگر تعارف میں اس کی گنجائش نہیں ۔بس ایک دو واقعات ملاحظہ کریں۔
ایک بار نواب صاحب نے اپنے گھریلو ملازم عمر حیات دایا کو منع کیا کہ میرے مہمان آئے ہوئے ہیں، اندر کسی کو مت بھیجنا۔ بے چارے نے غلطی فہمی میں کسی کو اندر بھیج دیا۔ جب مہمان چلے گئے تو اسے بلا کر ایسا تھپڑ رسید کیا کہ وہ مکمل بہرہ ہو گیا۔ نواب صاحب کا ہاتھ بہت بھاری مشہور تھا۔(صفحہ ۴۰)
نواب صاحب جب گھر سے باہر ہوتے تو اس بات پر بہت غصہ ہوتے جب کوئی آدمی ان سے یہ پوچھ لیتا کہ واپس کب آئیں گے؟ ایک دن ملازم نے پوچھ لیاکہ جناب یہ اتنا خفا ہونے والی بات تو نہیں ہے ، آپ کیوں غصے میں آجاتے ہیں۔ نواب نے کہا تمھاری بات ٹھیک ہے لیکن میں کسی کاپابند یا ملازم تو نہیں ہوںکہ لوگوں کو بتاتا پھروں۔امیر عبداللہ خان روکھڑی (نیوخان ٹرانسپورٹ کے بانی )کو نواب کی اس عادت کا علم تھا۔ کبھی کبھی چھیڑنے کے لیے کہہ دیتے ہمارا بڈھا شیر کب واپس آرہاہے؟ تو نواب غصے سے سر ہلا دیتے۔
صفحہ 61 پر \’\’ پَٹی \’\’ کا عنوان ہے۔ پَٹی کا علاقہ یونین کونسل مسان اور تھانہ چکڑالہ کی حدود میں آتاہے۔ پَٹی کے حالات و واقعات تقریباََ تیرہ صفحات پر مشتمل ہیںجہاں اس علاقے کے رسوم و رواج ، ثقافت ، نواب صاحب کی یہاں پر عملداری ، فیصلے اور بہت سے دیگر معاملات بیان کیے گئے ہیں۔
صفحہ73 سے 76 تک وہاں کے ایک علاقہ \’\’ نِکی\’\’ کا ذکر ہے۔ یہ علاقہ مصنف کی جنم بھومی بھی ہے۔ آگے صفحہ 80 تک نواب کے مشہور علاقہ \’\’ جابہ \’\’ ، صفحہ 87 تک \’\’ کچہ \’\’ کے واقعات قلم بند کیے گئے ہیں۔ان علاقہ جات کے تمام ملازمین ، عہدیداران کا تعارف بھی موجود ہے۔
صفحہ 88 سے گورنر بننے سے قبل کی ذمہ داریاں کے عنوان سے سوانح حیات کو آگے بڑھایا گیا ہے۔ صفحہ 90 سے نواب آف کالاباغ بطورِ گورنر مغربی پاکستان کے واقعات کا تسلسل صفحہ 130 تک چلتاہے۔یہاں بہت سے قابلِ ذکر واقعات ہے۔ صرف ایک واقعہ ملاحظہ ہو۔
1965ء کی جنگ کے دوران جنرل شیر علی واہگہ بارڈر کی نگرانی پر معمور تھے۔ جنرل شیرعلی نے ایک آدمی کو پرائیویٹ کپڑوں میں دیکھا کہ وہ مورچوں میں تعینات فوجی جوانوں کے ساتھ مصافحہ کر رہاہے۔ انہوں نے پائلٹ سے کہا کسی مناسب جگہ پر ہیلی کاپٹراُتارو۔ ان حالات میں جب ہر طرف سے گولیاں برس رہی ہیں، فضا سے جہاز آگ اُگل رہے ہیں۔ میں بھی جاکر دیکھوں کہ یہ قوم کا ہمدرد کون ہے؟ جنرل شیر علی نیچے اترے تو نواب امیر محمد خان فوجی جوانوں میں بسکٹ تقسیم کر رہے تھے۔ جنرل شیر علی نے کہا جناب آپ جیسے لیڈروں کی قوم کو ضرورت ہے۔ جو لوگ اس طرح کٹھن حالات میں اپنی فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے دشمن کی گولی کے سامنے کھڑے ہوسکیں وہ اپنے وطن کے لیے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ نواب صاحب نے جواب دیا جنگیں ہمیشہ قومیں لڑا کرتی ہیں اور میں اس قوم کا ایک فرد ہوں۔نواب صاحب نے جنرل شیرعلی کو بتایاکہ میں نے اپنے جوانوں کے لیے سوجی، ایلسی اوردیسی گھی کی آمیزش سے خاص بسکٹ تیار کرائے ہیں ، ان میں خاصی توانائی ہوتی ہے۔ یہ جوانوں کو تازہ دم رکھیں گے۔
انہی صفحات پہ صدر ایوب خان کی کالاباغ آمد پر ان کے استقبال اور ان کے اعزاز میں ہونے والی تقریبات وغیرہ کا ذکر پڑھنے کے لائق ہے۔
صفحہ 131 سے حلقہ ء احباب نواب ملک امیر محمد خان کے عنوان سے اندرونِ ملک دوست، بیرونِ ملک دوست،پاکستانی اسٹیبلیشمنٹ، بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ، ضلع میانوالی کے خاص اتحادی اور مختلف برادریوں کے درجنوں افراد کے نام کی فہرست دی گئی ہے جو نواب صاحب کے بہت قریب اور اہم کارکن رہے۔
نواب آف کالاباغ کے عیسیٰ خیل کے خوانین کے ساتھ بہت خوشگوار تعلقات تھے۔انہوںنے محترمہ ذکیہ شاہنواز صاحبہ کی شادی میںبھرپور طریقے سے شرکت کی مگرایک مرحلے پر ان دوخاندانوں کے تعلقات سردمہری سے کشیدگی تک پہنچ گئے۔ اس کی وجوہات اس کتاب کی زینت ہیں۔
نواب آف کالاباغ نے اصول اور انصاف پسندی کی خاطر اپنے ایک نوجوان بیٹے کو ایک مستری کے ہاتھوں زور دار تھپڑ رسید کروا دیا۔
جب صحافی نے سوال کیاکہ گورنرصاحب آپ کا مسلک کیاہے ؟ تو نواب آف کالاباغ نے برجستہ جواب دیا:ملک کے سربراہ کاکوئی مسلک نہیں ہوتا، اُس کے لیے سب برابر ہوتے ہیں۔ ان واقعات کی تفصیلات بھی قارئین اس کتاب میں پڑھ سکتے ہیں۔
صفحہ ۱۳۶ سے ۱۷۴ تک نواب صاحب کے رہن سہن، مشاغل اور مصروفیات کی ذیلی سُرخیوں کے ساتھ خوراک ، لباس، کبڈی، سینما، شکار، انسانی ہمدردی، تعلیمی خدمات کے عنوان کے تحت دلچسپ اور حیرت انگیز واقعات قلم بند کیے گئے ہیں۔
کالاباغ کے رہائشی لکشمن کی بیٹی روپ دیوی کے رشتہ اور شادی کا دلچسپ احوال بھی انہی صفحات پر ہے۔ تحفہ لوگوں کے سامنے اور رشوت خفیہ دی جاتی ہے۔ یہ بات نواب نے کس سرکاری اہلکار کو کہے اس کی تفصیل بھی ان صفحات کی زینت ہے۔
۱۷۵ سے ۱۸۷ تک کے صفحات پر\’\’ مخالفت، رنجشیں اور دُشمنیاں \’\’ اور صفحہ ۱۸۷ سے ۱۹۰ تک رائے عامہ کا عنوان ہے۔ یہاں نواب صاحب اور ان کے دوست احباب کے نام سے منسوب ایسے بیانات ہیں جو آگے چل کر سچ ثابت ہوئے۔ جیسے ملک عبداللہ چکڑالوی نے ایک موقع پر کہاکہ ملک صاحب کے قریبی رشتہ داروں نے بنی امیہ اور بنی عباس کے درمیان ہونے والی جنگ کی طرح یہاں پر بھی محاذ آرائی شروع کررکھی ہے۔ جس قسم کی سازش کے تانے بانے بُنے جارہے ہیں اس کا انجام انتہائی بُرا ہوگا۔
اس کتاب کا ایک اہم باب صفحہ ۱۹۱ سے \’\’ نواب آف کالاباغ کا قتل\’\’ ہے۔ جس میں قتل کے سارے حالات کو مختلف زاویوں سے کھول کر بیان کردیاگیاہے۔ صفحہ ۱۹۶ پر \’\’ سُرخ داغ \’\’ کی سُرخی اِس واقعہ کا نچوڑ ہے۔ جس میں مصنف رقم طراز ہیں : نواب صاحب کی میت کو قبر میں اتارنے کے بعد جب اس پر مٹی ڈالی جارہی تھی تو ملک مظفر خان دھاڑیں مار کر رونے لگے۔ بعض لوگ کہتے ہیں انہوں نے یہ الفاظ بھی ادا کیے کہ ہم غلط ہاتھوں میں کھیلتے رہے۔ ہمیں استعمال کیا گیا۔ ہماری مثال سفید کپڑوں پر سُرخ داغ کی مانند ہے جو دُور سے نظر آتاہے اور بار بار دھونے کے باوجود اپنا نشان چھوڑ جاتاہے۔
صفحہ ۲۰۷ \’\’نواب صاحب اہلِ خانہ کی نظر میں ــ\’\’ نوابزادہ ملک اسد خان، ملک عطا محمد خان آف کوٹ فتح خان، موجودہ نواب آف کالاباغ ملک وحیدخان، ملک فواد خان، ملک عماد خان کی نواب صاحب سے متعلقہ یاداشتیں قلم بند کی گئی ہیں۔
صفحہ ۲۳۳ سے\’\’ نواب آف کالاباغ اکابرین ِ میانوالی اور مصنفین کی نظر میں \’\’کے تحت سابق صوبائی وزیر محمدسبطین خان، سابق صوبائی وزیرگل حمید خان روکھڑی، سابق صوبائی وزیر عبدالرحمن خان ببلی، سابق ایم این اے انعام اللہ خان نیازی، سابق ممبر صوبائی اسمبلی ملک ممتاز احمد بھچر، سابق آرمی سٹاف کار ڈرائیور ملک محمد خان، پیر لعل خان، سابق ڈی ایل او میانوالی ملک زوار حسین، حاجی خدا بخش آف کالاباغ، شینئر صحافی عنایت اللہ قریشی، سابقہ میانوالیہ روشن لعل چیکر(حال مقیم دہلی بھارت)، سابق ایم پی اے پیر غلام عباس شاہ آف مکھڈ، سابق یونین لیڈر غلام حسن خان نیازی،سابق چیئرمین موسیٰ خیل صوفی بہادر خان،میجر (ر) ملک عطا محمد، لیفٹینیٹ جنرل (ر) جہانداد خان، سابق وزیر قانون ایس ایم ظفر، انجم وکیل، پیر محمد راشدی، الطاف گوہرنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مذکورہ اکابرین میں نواب صاحب کے دوست و مخالف دونوں کی آرا شامل ہے۔
صفحہ ۲۶۰ تا ۲۶۳ پرموجودہ نوابزادگان سے لے کرخوانینِ عیسیٰ خیل تک، پپلاں ، میانوالی کے خوانین سے روکھڑی خاندان تک، واں بھچراں کے اعوان سے جوہر آباد کے اعوانوں تک،نواب کے شیف سے لے کر دھوبی تک،سبزی فروش سے لے کراسٹیٹ منیجر تک،تنگ بازار کے تیلی سے لے کر دہلی کے ہندو تاجر تک اور نواب کے دوستوں سے لے کر دُشمنوں تک ۸۳ افراد کی فہرست ہے جنہوں نے نواب صاحب کے متعلق معلومات فراہم کی۔
اگلے دو صفحات پر ایسے چودہ افراد کے نام کی فہرست بھی موجود ہے جنہوں نے بعض وجوہات کی بنا پر نواب صاحب بارے گفتگو کرنے کی ہمت نہ ہوئی اور کئی کو توفیق نہ ہوئی۔ ان میں جہاں نواب صاحب کی پوتیاں مسلم لیگ ن کی راہنماسابق ایم این اے سمیرا ملک، پی ٹی آئی کی راہنما اور سابق ایم این اے عائلہ ملک شامل ہیں تو وہیں سابق ایم این اے منصورحیات ٹمن ، کالم نگار ڈاکٹر محمد اجمل نیازی، شیخ محمدحنیف مرحوم ایڈووکیٹ، سید محب حسین شاہ آف ماڑی انڈس،مرحوم ملک غلام محمد ودے خیل آف ماڑی شہر وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
آخری تیس صفحات پر نواب آف کالاباغ کی نایاب تصاویر، نواب کے استعمال رہنے والی اشیاء، نواب کو ملنے والے ایوارڈز، جابہ قلعہ،بوہڑ بنگلہ،صدر ایوب، اسکندرمرزا،شاہ ایران کے استعمال رہنے والا کمرہ، پیپل بنگلہ، نواب کے مطالعہ کا کمرہ، اس رہائش گاہ کی تصویر جہاں نواب نے آخری رات گزاری اور آخری تصویر نواب کی آخری آرام گاہ کی ہے۔
یہ کتاب کم وبیش ۳۰۰ صفحات پر مشتمل ہے۔ کتاب کا ہر صفحہ پڑھنے کے لائق ہے۔ میری زندگی میں مکمل طور پر پڑھی جانے والی چند کتابوں میں سے یہ کتاب ایک ہے۔ میں اس کتاب کا دوبار مطالعہ کرچکاہوں۔ بلکہ مصنف نے کتاب کی ایڈیٹنگ کی ذمہ داری بھی مجھے سونپی۔ جس کی وجہ سے مجھے اس کتاب کا ہر ہر لفظ پڑھنے کا موقعہ ملا۔ واقعات اس انداز سے بیان کیے گئے ہیں کہ قاری نواب صاحب کے بچپن، لڑکپن، جوانی اور بڑھاپا میںخود کو نواب صاحب کے ساتھ ساتھ چلتا محسوس کرتاہے۔
اس کتاب میں نواب صاحب کی شخصیت کے ہر پہلو کو اُجاگر کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ جہاں نواب کی سخت گیری نظر آتی ہے تو وہاں انسانی ہمدردی کے واقعات کی بھی کمی نہیں۔ جہاں نواب عام آدمی اور دوستوں سے ہلکی پھلکی گفتگو کرتے نظر آتے ہیں وہاں حکمت سے بھرپور باتوں کی بھی کمی نہیں۔ بطورِ گورنر تو نواب صاحب شخصیت آج بھی ضرب المثل کا درجہ رکھتی ہے مگر اُن کی باقی زندگی بھی قابلِ رشک ہے۔
نواب آف کالاباغ کے اہم کردار\’\’ نورا\’\’کے نواب صاحب کے قریب ہونے، ترقی کی منازل طے کرنے کے بارے بھی یہ کتاب راہنمائی کرتی نظر آتی ہے۔
کتابچوں وغیرہ کے متعلق تو میں کچھ نہیں کہہ سکتا مگر مجھے یقین ہے کہ ایک مکمل کتاب شاید نواب آف کالاباغ کی سوانح حیات ہی ہے جو سرکاری و غیر سرکاری سرپرستی کے بغیرضلع میانوالی میں اتنی تعداد میں شائع ہوئی اور صرف ایک مہینے کے مختصر سے عرصے میں پانچ سوکاپیاں فروخت ہوچکی ہیں اور مزید دو سو کاپیاں چھُپوائی گئی ہیں۔
وسائل کی کمی کی بدولت ابھی تک اس کتاب کی افتتاحی تقریب کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکا۔اور نہ ہی ابھی تک ادب شناس اہلِ ثروت، نواب خاندان کی طرف سے اور نہ ہی سرکاری سطح پر اس سلسلہ میں کوئی قدم اُٹھایا گیاہے۔
میں پورے خلوص اورشعور کے ساتھ کہتاہوں کہ یہ سوانح حیات کسی عام آدمی کی نہیں بلکہ اعوان قبیلے کے سربراہ، اہلیانِ میانوالی کے لیے اعزاز، مغربی پاکستان کی پہچان، گورنروں کے سُرخیل اور مغربی و مشرقی پاکستان کی دبنگ شخصیت نواب آف کالاباغ ملک امیرمحمدخان کی ہے۔اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ آنے والے دنوں میں سب پر عیاں ہوجائے گا۔یہ کتاب ہر گھر کی زینت بننے کے لائق ہے۔
اس کتاب کی خاص بات مصنف کا خود نواب صاحب کے علاقہ سے تعلق رکھناہے۔ مصنف کے آبائو اجداد کا نواب صاحب کے دُکھ سُکھ کے دنوں کا ساتھ رہاہے۔پَٹی کے علاقہ سے نقل مکانی کرنے والوں کے ساتھ مصنف کو اپنے آبائی گائوں نِکی میں اپنی سینکڑوں کنال اراضی اور ہنستے بستے گھر چھوڑ کر نقل مکانی کا دُکھ سہنا پڑا۔ مصنف نے یہ کتاب دل کی گہرائیوں سے دماغی اور جسمانی صلاحیتوںکو بروئے کار لا کر لکھی ہے۔اس کتاب کی تکمیل کے دوران جن صعوبتوں اور مشکلات کا سامنا مصنف کو کرناپڑا اگر وہ مضبوط اعصاب کا مالک نہ ہوتا تو کبھی یہ کتاب پایہ تکمیل کو نہ پہنچ پاتی۔ معلومات کے لیے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر، شدید گرمی اور سردی میں موٹرسائیکل پر ریگستانوں اور پہاڑوں کے دامن تک نواب صاحب کے دور کے لوگوں تک پہنچنا، نواب فیملی سے معلومات کے لیے درجنوں بار ان کے ہاں حاضری دینا، کئی لوگوں کا معلومات دینے سے انکار کرنا، لوگوں کا اس کام سے روکنا، خطرناک نتائج سے ڈرانا، ناسمجھ دوستوں کی طرف سے تنقید کا سامنا کرنا ، یہ ایسی مشکلات ہیں جن کا میں خود عینی شاہد ہوں۔
افسانے، ناول لکھنے والے بھی کمال کرتے ہیں اور شاعری بھی ہرکسی کے بس کی بات نہیں۔افسانہ، ناول اور شاعری کوئی شک نہیں کہ ادب کی بڑی اصناف ہیں۔ مگر یہ سب اصناف ِ ادب ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر، کسی درخت کی ٹھنڈی چھائوں میں لیٹ کر اور کسی حسین کی حسین یادوں میں کھوکر لکھی جاسکتی ہیں لیکن ماضی قریب کی ایک بین الاقوامی اور دبنگ شخصیت کی سوانح حیات لکھنے کے لیے اے سی والے ڈرائنگ روم اور درختوں کی گھنی چھائوں کو خیر آباد کہنا پڑتاہے۔
شاعری و افسانے میں مصنف کا اپنا مزاج جھلکتاہے۔ جبکہ سوانح حیات میں اپنے مزاج کی قربانی دینا اور \’\’ مَیں \’\’ کو مارنا پڑتاہے۔ آج بھی مصنف کوکتاب میں بیان کردہ حقیقتوں کی بدولت اپنے دوستوں اور دیگر افراد کی طرف سے ناراضی کا دُکھ سہنا پڑرہاہے۔ مگر اس سب کچھ کے باوجود سید صادق حسین شاہ استقامت کے ساتھ کھڑے ہیں۔
کتاب کی قیمت بس اتنی ہے جو کسی چھپر ہوٹل سے بیس کپ چائے،کسی درمیانے ہوٹل سے ایک فرد کے کھانے یا چارلٹر پٹرول کی ہوتی ہے یعنی صرف پانچ سو روپے۔ مجھے خوشی ہے کہ عام آدمی یہ کتاب خوشی اور شوق سے خریدرہے ہیں۔ پاکستان بھر سے مختلف افراد فون کرکے طلب کررہے ہیں۔ یہاں تک کہ بیرونِ ملک سے بھی نواب آف کالاباغ کی سوانح حیات سے دلچسپی رکھنے والے اور ادب شناس افراد آرڈرز دے رہے ہیں۔مگر مجھے اپنے علاقے کے نودولتیے اور ادب نا شناس لوگوں کے رویے پر دُکھ ہوتاہے۔ وہ جب بھی مصنف سے ملتے ہیں یا مصنف کے ہم جیسے دوستوں کو تو کتاب مفت میں طلب کرنا شروع کردیتے ہیں۔ میری ذاتی رائے میں کتاب مفت طلب کرنا ادب کی ناقدری، کتاب کی بے حرمتی، متعلقہ شخصیت کی توہین اور مصنف کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہے۔
کتاب کی مزید کاپیاں چھُپوائی جارہی ہیں۔ یہ کتاب حاصل کرنے کے لیے مصنف سید صادق حسین شاہ سے 03339834157، راقم ذوالفقارخان 03006080579 اور اقبال نیوز ایجنسی پکی چوک پکی شاہ مردان سے بھی حاصل کرسکتے ہیں۔کالاباغ میں پراچہ بک ڈپو اور میانوالی میں نیو نفیس بُک ڈپو پر بھی ممکن ہے کتاب مل جائے۔

Viewers: 6121

Share