عالمی پرواز ڈاٹ کام کے زیر اہتمام مہتاب عالم پرویز کی تین کتابوں کی شاندار رسمِ اجرا

mehtab-alam-parvaiz-3-book
عالمی پرواز ڈاٹ کام کے زیر اہتمام مہتاب عالم پرویز کی تین کتابوں کی شاندار رسمِ اجرا

جمشیدپور(۲۴؍مارچ۔ رپورٹ : تنویر اختر رومانی): ’’بحث اس سے نہیں ہے کہ مہتاب عالم پرویز کے افسانے منٹو کے افسانوں کی طرح کتنے نفسیاتی ہیں، کتنے جنسی ہیں یاکتنے گرم ہیں۔ افسانے گرم ہوں یا ٹھنڈے یہ بھی قابلِ ذکر بات نہیں ہے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ مہتاب عالم پرویز کا اسلوب اپنا ہے۔یہ بڑی خوبی ہے کہ جب ان کے افسانے موجودہ وقت کے مسائل کی عمدیہ عکاسی ہیں۔ ہم ان کے افسانے پڑھتے ہیں تو محسوس ہوجاتا ہے کہ یہ افسانے مہتاب پرویز ہی کے ہیں۔یہی چیز ادب میں کسی افسانہ نگار کو زندہ رکھتی ہے، اسے دوام عطا کرتی ہے۔یہ بڑی بات ہے کہ مہتاب عالم پرویز کسی کے اسلوب کی نقل نہیں کرتے۔ ‘‘
مہتاب عالم پرویز کی افسانہ نگاری کے تعلق سے یہ خیالات،تقریبِ رسمِ اجرا میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک،ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری ،صدر شعبہ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے ہیں۔
انھوں نے اس موقع پر مزید کہا ’’بے جا تعریف و توصیف سے تنقید نگار یا مبصر حضرات افسانہ نگار کے ساتھ انصاف نہیں کرتے ۔ایسا کرنے سے افسانہ نگار کو اپنی خامیوں اورفنی کمزوریوں پر فکرو تدبر کرنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ آپ مہتاب عالم پرویز کے افسانے سنجیدگی سے پڑھئے اور صحت مند نقد و نظر سے آگاہ فرمائیں،تو یہ افسانہ نگار کے ساتھ انصاف ہوگا۔‘‘
ادبی تنظیم ’’عالمی پرواز ڈاٹ کام ‘‘ کے زیر اہتمام۲۴؍مارچ کو صابر کامپلکس، آزادنگر، جمشیدپور میں جواں سال افسانہ نگار مہتاب عالم پرویز کے بہ یک وقت تین افسانوی مجموعوں (۱) بازگشت (۲) مہتاب عالم پرویز کی منتخب کہانیاں[مرتب:ابرار مجیب ](۳) مہتاب عالم پرویز کے گرم افسانے[مرتب:رضواں واسطی]کی رسمِ اجرا کی تقریب کا انعقاد، معروف ادبی سرپرست جناب سید عباس رضوی چھبن کی زیر صدارت ہوا۔
شام ۷؍بجے حافظ افروز سلیمی کی تلاوتِ قرآن سے تقریب کا آغاز ہوا۔
نامور شاعر اور ناقدڈاکٹرزین رامش (شعبہ اردو،ہزاری باغ یونیورسٹی ) اورمشہور افسانچہ نگار ایم اے حق(رانچی) نے مہمانانِ اعزازی کے طور پر اپنے خیالات کا اظہار فرمایا۔
اسلم بدر، رضواں واسطی، ابرار مجیب اور جاوید اختر نے مہتاب عالم پرویز کے افسانوں جائزہ کا پیش کیا۔
اس تقریب کی نظامت جناب گوہر عزیز نے فرمائی جبکہ ہدیہ تشکر نامور فکشن نگار ڈاکٹر اختر آزاد نے پیش کیا ۔
آخر میں صاحبِ کتاب نے اپنی افسانہ نگاری، اپنی گھریلو زندگی اور اپنی معاشی جدوجہد کے تعلق سے سامعین کو آگاہ فرمایا۔
شاکر عظیم آبادی،اسلم محمود، انور امام، سید احمد شمیم، پروفیسر احمد بدر،تنویر اختر رومانی، ممتاز شارق،نیاز اختر، نیاز احمد آسی، جی ڈی احمر، مشتاق احزن، یوسف دانش، عالمی پرواز (پورٹل) کی مدیرہ نغمہ ناز مکتومی، گل فشاں شبیر، دعا ایمان، شمع آفتاب، تحسین، صنم راج، طلعت نور فاطمہ،روشن جہاں،مکتوم شرط ،نوشاد احمد، شفیق احمد،مطیع اللہ صدیقی، محمد نور اللہ حیدری، آفتاب عالم جاوید،شہاب عالم خورشید،نواب عالم قیصرجیسے شعرا،ادبا اور ادب نواز خواتین و حضرات کی ایک کثیر تعداد شریکِ محفل تھی۔
شب کے دس بجے محفل کا اختتام ہوا۔

Viewers: 1056
Share