ادب میں خواتین کی کارکردگی ۔۔۔۔ از: فرخندہ رضوی

فرخندہ رضوی ریڈنگ (انگلینڈ) اَدب میں خواتین کی کارکردگی تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں سماجی رسم و رواج کی پاسداری کو مقدس فریضہ مان کر مردوں نے عورت […]

فرخندہ رضوی
ریڈنگ (انگلینڈ)

اَدب میں خواتین کی کارکردگی

تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں سماجی رسم و رواج کی پاسداری کو مقدس فریضہ مان کر مردوں نے عورت ذات پر جبر و قہر اور ظُلم و ستم کے پہاڑ توڑے ہیںاِسے کچل کر اور دبا کر رکھا ہے ۔
پھر جب وقت بدلا مردوں کی سوچ بدلی اور شعور پیدا ہوا تو عورت پر بعض وحشیانہ مظالم کی روایات ترک کر دی گیئں ۔لیکن بدلے وقت اور تبدیل شدہ سماج میں بھی عورت کی حقوق تلفی ،تعصب اور استحعال کا چلن کسی نا کسی شکل میں جاری رہا ۔عورت کے ساتھ تنگ نظری اور تعاصب کا رویہ شعبہ اَدب میں بھی دیکھنے میں آتا رہا ۔اُسے شعبہ ادب سے جڑنے کی اجازت تو دیدی گئی لیکن تخلیقی سطح پر اِس کے فن کو لائق اعتنا نہیں سمجھا گیا ۔انہیں ادبی تخلیقات کی اشاعت میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔خدا کا شُکر ہے کہ حالات پہلے جیسے نہیں رہے آج عورت مرد کی تفریق ختم کر چکی ہے اور عورت حیات و معاشرے کے سبھی شعبوں کی طرح شعبہ ادب میں بھی ارتقائی منزلوں کا سفر طے کر رہی ہے ۔۔
آج بڑی تعداد میں خواتیں ادب کی خدمت میں ہمہ تن مصروف نظر آتی ہے ۔برصغیر ،ہندوپاک ،یورپ ،امریکہ ،جہاں جہاں بھی اردو کی بستیاں آباد ہیں وہاں مردوں کی دوش بدوش خواتیں بھی بڑی تعداد میں ادب کی خدمات انجام دے رہی ہیں ۔صحافی،ادیب ،دانشوار ،شاعر ہ اور نقاد ،افسانہ نگار ہیں ۔چند خواتین قلمکار بطور نمونہ رقم کرنے کی کوشش کروں گی ۔محترمہ عطیہ صاحبہ،سلطانہ مہر صاحبہ ،رضیہ اسماعیل ،بانو ارشد ،نیر جہاں ،صفیہ صدیقی ،عظمہٰ صدیقی ،(ان میں مجھ جیسی ناچیز کا نام بھی )قابل ِ قدر نام ہیں جن محترم خواتین کا نام نا لکھ سکوں معذرت ۔ وقت محدود ہونے کی صورت آج ادب میں خواتین کے ساتھ کہیں بھی کوئی تفریق نہیں ہے ۔
مردوں کی طرح خواتین قلمکارروں کی تخلیقات کو رسائل میں بڑی خندہ پیشانی سے جگہ دی جاتی ہے ۔اِس کے علاوہ خود بھی کئی خواتین اردو رسائل شائع کیا کرتی تھیں ۔۔نسوانی ادب پر کتابیں ترقیم کی گئی ہیں ۔اُن کے ادب پر سمینار منعقد کیئے جاتے ہیں ۔غرض کی دنیائے ادب میں خواتین کی شمولیت کے تناظر میں موجودہ صورتحال یقینا خوشگوار ہے ۔ادب سے نسواں کی وابستگی اس لیئے اور بھی لائق تحسین ہے کہ اسکا پیشتر وقت امور خانہ داری کی نذر ہو جاتا ہے اس کے باوجود بھی وہ قلم و قرطاس سے اپنا رشتہ بنائے رکھنے میں کوئی کسر بقایا نہیں چھوڑتی فروغ اَدب کیلئے کوشاں ہیں ۔
اَدب میں مرثیہ گوہی ،اردو ماہیا جیسی تخلیقات نے ادب میں نو نہ نو تجربات ہوئے ۔اسی طرح پوپ کہانی بھی نثری نوعیت میں ایک تجربہ ہے ۔ان کی تقلید میں بہت سے ادیبوں نے پوپ کہانیاں لکھ کر شائع کرائی ہیں میرا خیال ہے جن تجربات میں دَم ہوتا ہے وہ زندہ رہتے ہیں ۔
اُس کی مثال آزاد نظم ہے ۔کچھ لوگ اِسی پوپ کہانیوں کی مخالفت میں ہیں ۔ان کا خیال ہے کہ
افسانچہ کو پوپ کہانی سمجھا جانے لگا ہے ۔اُن مخالفین کا خیال ہے کہ پوپ کہانی افسانچہ کو نگل جائے گی ۔میں سمجھتی ہوں پوپ کہانی نے بھی انگلی پکڑ کر چلنا سیکھ لیا ہے ۔اس کا مستقبل میں کیا انجام ہو گا ۔یہ وقت ہی بتائے گا ۔بطور لحاظ اور فیشن اِسے مُنہ لگانے والے اس کا ساتھ کہاں تک دیں گے ۔۔۔۔میرا خیال ہے جو بھی خواتین کا قلم کی دنیا میں کردار ہے لائق تحسین ہے ۔انشااللہ قلم میں سچائی لفظوں میں پختگی رہی تو راہیں ہموار ہوں گی ۔۔۔

Viewers: 2430
Share