اردو انجمن برلن کے زیر اہتمام عصمت چغتائی اور راجندر سنگھ بیدی کی صد سالہ تقریب

رپورٹ: فرخندہ رضوی (ریڈنگ، انگلینڈ) اردو انجمن برلن کے زیر اہتمام عصمت چغتائی اور راجندر سنگھ بیدی کی صد سالہ تقریب  ۳۱ مئی ۲۰۱۵ بروز اتوار اردو انجمن برلن میں عظیم […]

رپورٹ: فرخندہ رضوی (ریڈنگ، انگلینڈ)

اردو انجمن برلن کے زیر اہتمام عصمت چغتائی اور راجندر سنگھ بیدی کی صد سالہ تقریب 

۳۱ مئی ۲۰۱۵ بروز اتوار اردو انجمن برلن میں عظیم افسانہ نگار عصمت چغتائی اور راجندر سنگھ بیدی کی صد سالہ سالگرہ پر ایک خوبصورت تقریب پالاسٹ (محل) نامی عمارت میں منعقد کی گئی ۔بہت زیادہ تعداد میں ہندوستانیوں ،پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ جرمن دانشواروں نے شرکت کی ۔۔پہلی نشت کے آغاز میں صدارت کے فرائض لکھنو سے آئے ہوئے ڈاکٹر عمار رضوی (سائینس اور ٹکنالوجی یونیورسٹی لکھنو کے بانی اور اِس وقت کے چیر پرسن)نے انجام دیئے ۔مہمان خصوصی ارشاد پنجتن (ڈرامہ آرٹسٹ)اور دھیرج کمار تھے ۔اردو انجمن برلن کے صدر جناب عارف نقوی صاحب نے سب کا مختصرتعارف کروایا ۔

rsbپھر نظامت کے فرائض دو بہت ہی چھوٹی لڑکیوں نایاب خواجہ اور جاریہ نے ادا کیئے ۔۔بیک وقت دونوں زبانوں میں نظامت کی گئی ۔اردو اور پھر جرمن زبان میں ترجمہ کیا جاتا رہا ۔ اردو انجمن کے صدر عارف نقوی صاحب نے عصمت چغتائی اور راجندر بیدی کی ادبی خدمات اجاگر کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا ۔ڈاکٹر عشرت سیمی نے عصمت چغتائی پر ایک خوبصورت مضمون پیش کیا ۔خاص کر ان کے کچھ افسانوں کا حوالہ بہت خوبصورت الفاظ میں ڈھالا ۔انور ظہیررہبر جو کہ اردو انجمن برلن کے نائب صدر ہیں انہوں نے عصمت چغتائی اور راجندرسنگھ بیدی کی اردو خدمات پر مختصر روشنی ڈالی ۔ارشاد پنجتن ( ڈرامہ آرٹسٹ )نے راجندر بیدی سنگھ کے ساتھ گزارے دنوں کو بہت خوبصورتی سے ہائی لائٹ کیا ۔بہت سے واقعات کو ایک فلمی انداز میں بیان کیا ۔لوگ ان کی باتوں اور انداز بیاں سے بہت محظوظ ہوئے ۔اردو انجمن برلن کے نائب صدر انور ظہیر کی تیار کی ہوئی عصمت چغتائی اور راجندر سنگھ بیدی پر تیار ڈکومنٹری سلائیڈ شو کی صورت دیکھائی گئی ۔ویڈیو میں ان کی زندگی میں ادبی پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ۔اس موقع پر صدر ِمحفل ڈاکٹر عمار رضوی صاحب نے کہا کہ اردو زبان کی نشو نما میں جرمن کا بھی رول رہا ہے ۔کیونکہ ہمارے ادب کی ارتقائی منزلوں میں شعرو سخن کو فکری اعتبار سے بلندیوں پر پہنچانے والی شخصیت علامہ اقبال کی ذہنی و فکری تربیت اِسی سر زمین سے ہوئی ہے ۔ مقررین نے عصمت چغتائی اور راجندر سنگھ بیدی کی اردو ادب کے حوالے سے خدمات پر خراج عقیدت پیش کیا ۔۔۔
شعری نشت سے پہلے دھیرج رائے نے اپنی خوبصورت آواز میں کچھ کلام پیش کیا ۔میاں اکمل لطیف نے طبلے پر آصف خان کے ساتھ مدُھر آواز میں کلاسکی گیت اور غزلیں پیش کیں ۔سامعین نے خوب داد دی ۔
دوسرے حصے میں شعری نشت کا آغاز ہوا اردو انجمن برلن کے صدر عارف نقوی صاحب نے شعرا کا مختصر تعارف پیش کیا نظامت کے لیئے ڈاکٹر عشرت سیمی صاحبہ کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دی ۔ڈاکٹر عشرت نے اسٹیج سنبھالتے ہی صدارت کے لیئے دوبارہ ڈاکٹر عمار رضوی صاحب کو عزت بخشی۔مہمان خصوصی میں برطانیہ سے آئی ہوئی شاعرہ و ادیبہ فرخندہ رضوی صاحبہ اور شاعرہ فرزانہ فرحت کو اپنی اپنی نشت سنبھالنے کے دعوت دی۔۔بقاعدہ مشاعرہ کا آغاز ڈاکٹر عشرت سیمی صاحبہ نے اپنے کلام سے کیا انہوں نے اپنی غزلیں سنائیں ۔مختلف مقامات سے آئے ہوئے شعرا ٔ نے اپنے کلام پیش کیئے ۔جن میں انور ظہیر صاحب ،ہندی کی سوشیلا شرما صاحبہ ،پنجابی شاعرہ ہربجن کور ،برطانیہ سے فرخندہ رضوی صاحبہ اور فرزانہ فرحت صاحبہ نے ،اور آخر میں عارف نقوی صاحب نے اپنا کلام سنایا ۔۔۔اردو انجمن برلن کی طرف سے فرخندہ رضوی صاحبہ اور فرزانہ فرحت صاحبہ کو اردو کی خدمت کے سلسلے میں اعزازی سرٹیفکیٹ اور شیلڈ دی گئی ۔۔پروگرام کے آخری حصے میں ڈاکٹر عشرت سیمی صاحبہ کی پہلی تصنیف سفر نامہ گامزن کی رسم اجرا ہوئی ۔عارف نقوی صاحب نے ایک مقالہ پیش کیا ۔اسی طرح بہت اچھے اور خوبصورت ماحول میں تقریب کا اختتام ہوا ۔۔۔چائے کے ساتھ بہت سے لوازمات کا انتظام بھی کیا گیا تھا ۔۔ سب ہنسی خوشی اِس تقریب کی یادیں لیئے رخصت ہوئے ۔

Viewers: 4536

Share