ڈاکٹر وسیم راشد کے ساتھ ایک نشست

تحریر و ملاقات: علی شاہ

دہلی میں مقیم بے باک صحافی،ادیبہ اور جلترنگ موسموں کی شاعرہ

ڈاکٹر وسیم راشد کے ساتھ ایک نشست
مائیکے جائوں تو اب تک مری چوکٹ پہ وسیم
مری ہی شکل کی اک لڑکی کھڑی ملتی ہے

waseem-rashid-01

نسائی جذبوں سے بھرپور اس خوبصورت اور منفرد شعر کی خالق ڈاکٹر وسیم راشد کا تعلقدنیا بھر میں اردو ادب کے سب سے بڑے دبستان اور عہد مغلیہ کے دارالخلافہ و تاریخی شہر دہلی سے ہے۔ ہمسائے ملک بھارت کا قدیم شہر دہلی کئی حوالوں سے اپنی الگ اور بین الاقوامی شناخت رکھتا ہے۔ عصر حاضر میں ڈاکٹر وسیم راشد بھی نہ صرف دلی کا منفرد حوالہ ہیں بلکہ دنیا بھر میں اپنے ملک کے ساتھ ساتھ دلی کی بھی بین الاقوامی ادبی و صحافتی سفیر ہیں۔ ڈاکٹر وسیم راشد بے پناہ خداداد صلاحیتوں سے مالا مال ہیں۔ وہ ممتاز ماہر تعلیم، منفرد اسلوب کی ادیبہ ،باکمال ٹی وی کمپیئر ،بے باک و جرأت صحافی، فرض شناس مدیرہ اور گلاب موسموں کی خوش خیال شاعرہ ہیں۔اگرچہ وہ ادب کو زنانہ و مردانہ حصوں میں تقسیم کرنے کی ہر گز قائل نہیں ہیںلیکن پھر بھی ان کی شاعری ان کے جلترنگ نسائی جذبوں کی دلکش زبان ہے۔ ان کی شاعری کی ضدوقچی بچپن کی یادوں ،حسین خوابوں کی قوس و قزح ،حیرت کدوں، احساسات وجذبات، من کے اندر بدلتے موسموں اور تخلیق کے کرب سے بھری پڑی ہے۔ وہ پلکوں پر رکھے آنسوئوں کی روشنائی سے من کے اُجلے شیشے پر غزل لکھتی ہیں۔ “ٹی۔ایس ایلیٹ نے کہا تھا کہ زندگی ایک مسلسل تحریک کا نام ہے”لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ زندگی خوشی اور دکھوں کا خوبصورت امتزاج ہے۔ بعض اوقات خوشیوں بھری زندگی کسی بھی موڑپہ دکھوں کی کالی پوشاک پہن کے اچانک سامنے آجاتی ہے اور بعض دفعہ غموں بھری زندگی خوشی کے چند لمحات کی متمنی ہو کر ہاتھ باندھے سامنے آکھڑی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر وسیم راشد ایسی کیفیات کایوں احاطہ کرتی نظر آتی ہے۔

بس تری اک دید پہ اٹکی ہیں یہ سانسیں وسیمؔ
آخری ہچکی سے پہلے مسکرانے دے مجھے
ڈاکٹر وسیم راشد کا تعلق ایسے سکول آف تھاٹ سے جس کی بنیادیں ادب برائے زندگی اور ادب برائے محبت کے نظریہ پر تعمیرکی گئی ہیں۔ بحیثیت صحافی ان کے کالم اور سیاسی و سماجی تجزیوں میں زندگی کے تلخ حقائق نمایاںہیں۔ کوئی بھی تخلیق کار اپنے اردگرد کے ماحول سے ہر گز بے خبر نہیں رہ سکتا سو ان کا تخلیقی سفر بھی دنیا بھر کے سلگتے ماحول سے بھر پور متاثر نظر آتا ہے۔ وہ بچپن سے تاحال زندگی کے سفر مسلسل سے دوچار ہیں اور اپنی جہد ِ مسلسل سے وہ راستے کے کسی پتھر کو رکاوٹ نہیں بننے دیتی ہیں۔ waseem-rashid-02وہ اپنے سفر کے دوران اگر دم بھر کو بھی کہیں ٹھہرتی ہیں توانہیں اپنی سانسیں اکھڑتی محسوس ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر وسیم احساسات کی دولت سے مالا مال ہیں سو ذرہ سی ناانصافی یا معاشرتی بے اعتدالیوں پر تڑٹ اٹھتی ہیں لیکن بظاہر ہر لمحہ اپنے لبوں پر گلابی مسکان سجائے رکھتی ہیں۔ ظاہری حسن تو کسی بھی شخصیت کو قدرت کی عطا ہوتا ہے لیکن علم و ادب کی روشنی نے ان کو باطنی حسن سے بھی مزین کردیا ہے اور جب ظاہری و باطنی حسن آپس میں بغلگیر ہو جائیں توکسی بھی شخصیت کو حقیقی معنوں میں چار چاند لگ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر وسیم راشد کے اطراف بھی انہی کیفیات کا ہالہ سا نظر آتا ہے۔ ان کی شخصیت کا یہ خوش رنگ پہلو اور ان کا معصوم وجلترنگ لب و لہجہ ان کی خوبصورت ٹی وی کمپیئرنگ کو گلرنگ بنائے ہوئے ہے۔ وہ رنگ و نسل اور طبقاتی تقسیم کے بجائے دنیا کو محبت کے پھولوں کی سیج کی صورت دیکھنے کی متمنی ہیں۔ گزشتہ سال ڈاکٹر وسیم راشد”شریف اکیڈمی “جرمنی کے زیر اہتمام لاہور میں منعقدہ عالمی ادبی سیمینار میں شرکت کی غرض سے تشریف لائیں۔ بعد ازاں ادبی بیٹھک الحمرا ہال لاہور میں ان کے ساتھ ایک تفصیلی نشست ہوئی جس کی تفصیلات نذر قارئین ہیں۔
س۔ ڈاکٹروسیم راشد صاحبہ! آپ کہاں پیدا ہوئیں؟ تعلیم کہاں تک اور کہاں کہاں حاصل کی؟
ج۔ علی شاہ صاحب میری پیدائش پرانی دہلی کے ایک بے حد معزز و مشہور و مقبول خانوادہ میں ہوئی۔ میرے دادا حافظ عبد الرشید خاں مرحوم پرانی دہلی کے بے حد معزز اور مقبول عام شخص تھے ۔ ان کی عزت و احترام کا یہ عالم تھا کہ لوگ ان کے اونچے شملہ اور سلیم شاہی جوتی دیکھ کر دور سے ہی راستہ چھوڑ دیا کرتے تھے۔ میرے دادا اصل نسل پٹھان تھے۔ مجھے یہ تو نہیں پتہ کہ کہاں سے اور کب ان کی دہلی آمد ہوئی لیکن یہ ضرور پتہ ہے کہ وہ 500سے 800سال پرانے دہلی والے تھے۔ میرے والد حافظ عبد الوحید خاں مرحوم کا9بھائیوں میں تیسرا نمبر تھا اور یہ پرانی دہلی کا واحد خاندان تھا ، جس کے ایک گھر میں ماشاء اللہ بیک وقت 9حافظ قرآن موجود تھے اور خود میرے دادا مرحوم بھی ایک وقت ایسا تھا کہ جب دہلی کی سبھی مشہور اور معروف مسجدوں میں میرے سبھی چچا تایا رمضان شریف میں قرآن سنایا کرتے تھے۔میرے والد کا میرے بچپن میں ہی انتقال ہو گیا تھا۔ میں اپنے بہن بھائیوں میں7ویں نمبر پر تھی۔ گھر کا ماحول بے حد دیندار اور پاکیزہ تھا ۔ والدہ صوم و صلوٰۃ کی اتنی پابند کہ پوری زندگی میں نے انہیں عصر سے مغرب تک ہمیشہ مصلے پر بیٹھا ہوا دیکھا۔ وہ عصر سے مغرب تک نہ کسی سے بات کرتی تھی۔ نہ ہی کچھ کھاتی پیتی تھیں۔ صبح آنکھ ان کی تلاوت سے کھلتی تھی۔ بے حد سخت اصولوں کی پابند اور ڈسپلن رکھنے والی خاتون تھیں، جن سے مجھے بے حد ڈر لگتا تھا۔ میری تعلیم سرکاری اسکول میں ہوئی، بچن سے ہی پڑھنے میں بے حد تیز تھی۔کبھی میری والدہ کو میری فیس ، یونیفارم ، کورس کی کتابوں کے پیسے نہیں دینے پڑے، اس لئے نہیں کہ خدا نخواستہ دے نہیں سکتی تھیں۔ ماشاء اللہ ہم سنار تھے ، میرے والد کا سونے کا اچھاکاروبار تھا جو بعد میں بھائیوں نے سنبھالا تھا۔ صرف اس لئے کہ ہمیشہ سبھی جماعتوں میں اول رہنے کی وجہ سے سب کچھ اسکول سے ملتا تھا۔ میں نے12ویں جماعت تک سرکاری اسکول سے پڑھائی کی پھر دہلی کے بے حد قدیم اور نامور کالج دلی کالج سے گریجویشن کی ۔ دہلی یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے بی ایڈ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے اردو میں ماس کمیونکیشن کا 2سالہ کورس کیا اور پھر میری شادی ہو گئی ۔ پی ایچ ڈی اب مکمل کی ہے ۔ جب میرا بیٹا ماشاء اللہ 23سال کا اور بیٹی 17سال کی ہو گئی ہے۔
س۔ آپ دوران تعلیم کس قسم کی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہی ہیں؟(ادبی یا سپورٹس سرگرمیاں)۔
ج۔ میں بچپن سے ہی بولنے میںبہت تیز تھی۔ اس لئے پرائمری اسکول سے یونیورسٹی لیول waseem-rashid-03تک میں نے بے شمار ادبی مقابلوں میں شرکت کی۔ میں اسکول سے کالج تک بہترین ڈبیٹر تھی۔ بیت بازی مقابلوں میں ہمیشہ اول رہنے والی، غزل سرائی میں بھی اول آتی تھی ۔ ہر وقت اسٹیج پر پروگراموں کی نظامت کرنا میرا محبوب مشغلہ تھا۔ میں بہترین اینکر تھی۔ اس لئے اپنے کالج کی بزمِ ادب کی سکریٹری تھی۔ کالج میں ادبی سرگرمیوں سے مجھے کالج کا 3سالوں کا بہترین ایوارڈ College Crest ملااورپوری یونیورسٹی کے سبھی کالجز میں سب سے زیادہ گریجویشن میں اردو میں نمبر لانے پر Ghalib Awardسے بھی نوازا گیا ۔ بے شمار اعزازات اور ایوارڈ مجھے اسکول سے کالج تک ملے ، جس میں بہترین اینکر، بہترین ڈبیٹر، بہترین شارٹ اسٹوری رائٹر، بہترین غزل گو، بہترین شاعرہ وغیرہ شامل ہیں۔
س۔ آپ کو کب ادراک ہوا کہ آپ کے اندر ایک خوبصورت شاعرہ موجود ہے؟
ج۔ علی شاہ صاحب پتہ نہیں کب ادراک ہوا میں نے گریجویشن کرتے کرتے ہی ایک انگلش میڈیم اسکول میں بحیثیت اردو ٹیچر جوائن کیا تھا، میں اپنے پیروں پر کھڑے ہونا چاہتی تھی۔ا س اسکول کا نام نیو ہورائزن اسکول تھا۔ وہاں میں نے 19سال پڑھایا ۔ پہلے ٹی جی ٹی اور پھر پی جی ٹی میں اس اسکول کی سب سے چھوٹی عمر کی پوسٹ گریجویٹ ٹیچر تھی۔ 19میں سے تقریباً 16سال مجھے صرف سینئر جماعت پڑھانے کو ہی دی گئی اور نویں سے بارہویں جماعت تک اردو ادب پڑھانا جیسے میری روح کی غذا تھی۔ میں اشعار پڑھاتے پڑھاتے اتنی کھو جاتی تھی ۔ میرے طالب علم بہت ہی محظوظ ہوتے تھے۔ میں اپنے طالب علموں کی بہت چہیتی استاد تھی۔ صرف اس لئے کہ شعر و شاعری اس عمر کے بچوں کو بہت رجھاتی ہے۔ میراCo-Eduationاسکول تھا ۔ لڑکے لڑکیاں سب ہوتے تھے، وہ بے حد شوق سے میرے پیریڈ کا انتظار کرتے تھے۔ میرؔ، غالبؔ، مومنؔ، فیض ؔ، فراقؔ، جذبیؔ ، مجروح ،کیفی ، علی سردار جعفری ، احمد فراز ان سبھی کو 16سال تک پڑھاتے پڑھاتے کب شعر ہونے لگے پتہ ہی نہیں چلا ۔ ہر شعر پڑھاتے وقت متبادل شعر ہو جاتا تھا، جس پر طالب علم واہ واہ کرتے تھے، لیکن میں نے ان اشعار کو کبھی اہمیت نہیں دی۔
س۔ کچھ یاد ہے پہلا شعر کب اور کونسا کہا؟
ج۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ اسکول میں طالب علموں کو پڑھاتے ہوئے جانے کتنے اشعار ہوتے جاتے تھے لیکن مجھے کسی بزرگ کی یہ بات ہمیشہ یاد آتی تھی کہ شاعر بننے کا حق اس کو ہے جس کو کم سے کم 4ہزار اشعار یاد ہوں۔ بس میں کبھی ہمت نہیں کر پاتی تھی ہاں مشاعروں میں بیٹھ کر شعراء کے کلام سنتے ہوئے ہر شعر پر میرے منھ سے بھی متبادل شعر نکل جاتا تھا لیکن مجھے یہ احساس شدید تھا کہ شعر کہنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں، کوئی استاد ہونا چاہیئے لیکن نہ کبھی استاد بنا پائی نہ شعر کسی کو سنا پائی۔ اسکول چھوڑنے کے بعد 2005میں سہارا ٹیلی ویژن بحیثیت سینئر پروڈیوسر جوائن کیا۔ا س دوران سہارا میں کئی لوگ تھے، جس میں کچھ نامور شاعر بھی تھے، ایک دن میری ایک دوست جو کہ ایئر ہوسٹس ہیں انھوں اپنی روداد سنائی کہ میرا شوہر یہ بھی چاہتا ہے کہ میں نوکری کروں اور شک بھی کرتاہے۔ اسی لمحہ ایک شعر ہوا۔
پہلے وہ میری تمنا ئوں کو پر دیتا ہے
شک کی قینچی سے انہیں پھر وہ کتر دیتا ہے
بس جیسے ہی یہ شعر ہوا بے ساختہ کانفرنس روم میں سب کے سامنے نکل گیا اور سبھی استاد شعراء نے بے حد داد دی اور پھر ان سب نے کہا کہ تم باقاعدہ شاعری کرو۔
س۔ شاعری کے علاوہ آپ نے کس کس صنف ادب میں کام کیا ہے؟
ج۔ شاعری کے علاوہ میں نے افسانے اور تنقیدی مضامین بے شمار لکھے ہیں۔
س۔ صحافت کو عام طور پہ مردانہ سا کام سمجھا جا تا ہے، آپ کو کارزار صحافت میں لانے کے محرکات کیا تھے؟
ج۔ علی شاہ جی بس یہی مردانہ لفظ پر مجھے اعتراض ہے۔ آزادی کی لڑائی میں رانی جھانسی لکشمی بائی ،بی اماں، بیگم حضرت محل، مولانا محمد علی جوہر کی بیگم امجدی بیگم، مولانا آزاد کی بیگم ذلیخا ، حسرت موہانی کی بیگم نشاط النساء ، سچیتا کرپلانی وغیرہ ا ایسی خواتین ہیں جنھوں نے پوری طرح انگریزوں کا مقابلہ کیا۔ وہ بھی مردوں والا ہی کام تھا بلکہ ہمیشہ ہم مردوں جیسا لفظ کا استعمال ہی کیوں کرتے ہیں۔ عورتوں کی تعریف بھی یہ کہہ کر کرنا کہ مردوں جیسا ہی کام ہے درست نہیں۔ صحافت میںتو کیا ہر شعبہ میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں۔ میں اپنے تدریسی عمل کے ساتھ بھی مختلف اخباروں اور رسائل کے لئے لگاتار لکھتی رہتی تھی لیکن پوری طرح صحافت میں آنے کا نہ ارادہ تھا نہ کبھی یہ خیال آیا لیکن میری زندگی میں ایک حادثہ ایسا ہوا جس نے ایک استانی کو صحافی بنا دیا۔ شاید وہ حادثہ نہ ہوتا تو میں کبھی بھی صحافی نہ بن پاتی۔ اچھا ہوا یا برا یہ تو میں نہیں کہہ سکتی لیکن یہ ضرور ہے کہ آج جو مقام اللہ نے مجھ نا چیز کو عطا کیا ہے وہ شاید استانی کے رہتے نہ مل پاتا کیونکہ تدریس میں بہت سے بہت آپ پرنسپل بن جاتے ہیں، جو میں بن گئی تھی اور اسی پرنسپل بننے کے بعد جونا انصافی میرے ساتھ ہوئی اس نے مجھے اس شعبہ سے بددل کر دیا۔ اس کے علاوہ تدریس میں جذبات و اظہار کے وسائل نہیں ہیں۔
س۔ ہفت روزہ ـ”چوتھی دنیا”میں کس حیثیت سے کام کر تی ہیں اور اس اخبار سے کب سے منسلک ہیں؟
ج۔ چوتھی دنیا میں تقریباً پانچ سال سے ہوں اور میرا تقرر ہی بحیثیت اخبار کی مدیرہ کے طور پر ہوا تھا بلکہ یہ اخبار میں نے ہی شروع کیا تھا۔ اس وقت میرے چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ نے اخبار کی پلاننگ سے اشاعت تک کی ذمہ داری مجھ جیسی ناتجربہ کار پر ڈال کر بہت بڑا رسک لیا لیکن اللہ نے ان کا بھروسہ اور میری عزت برقرار رکھی۔
س۔ علاوہ ازیں کس کس اخبار کے لیے کام کیا؟
ج۔ اس سے پہلے ہندوستان کے نمبر ون کثیر الاشاعت اخبار راشٹریہ سہارا اردو کی بحیثیت سینئر ایڈیٹر ذمہ داری سنبھال رہی تھی۔
س۔ شاعری یا نثر میں اب تک آپ کی کتنی تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں؟
ج۔ ابھی تک ایک بھی نہیں۔
غم حیات غم روزگار کیا کرتے
کسی سے شکوۂ پروردگار کیا کرتے
زندگی نے کبھی اتنی مہلت ہی نہیں دی کہ مواد کو یکجا کر کے کتاب کی اشاعت کر سکوں۔
س۔ اپنی تخلیقات کے لیے آپ موضوعات کہاں سے لیتی ہیںاور عام طور پہ کن موضوعات کو سپرد قلم کرتی ہیں؟
ج۔ افسانوں کے لئے پوری طرح عام زندگی ، عام لوگ، زندگی کی اصل حقیقت کو ہی لیتی ہوں ۔ میرا ماننا ہے کہ ادب زندگی کی تعبیر ہے، تفسیر ہے،، تنقید ہے۔ اس لئے میں بس اسی ادب کی قائل ہوں جو عوام سے خود کو جوڑے عوام کا دکھ درد محسوس کرے۔
س۔ آپ ادب برائے ادب یا ادب برائے زندگی میں سے کس کی قائل ہیں؟
ج۔ میں ادب برائے ادب کی سخت مخالف ہوں اور ادب برائے زندگی کی قائل ہوں ۔ بھلا ایسا ادب جو آپ کو زندگی کے رموز و اقاف ، اس کی جہت سے آشنا نہ کرے وہ بھی کوئی ادب ہے۔
س۔ آپ بھارت میں اردو ادب کا مستقبل کیسا دیکھ رہی ہیں؟
ج۔ الحمد اللہ میرے ملک میں اردو کا چلن بہت زیادہ ہے۔ رکشا، ٹھیلے والے تک غالب کے دیوانے ہیں، جن کی زبان اردو نہیں ہے وہ بھی میر، غالب، فیض ، فراز کو گنگناتے ہیں۔ جگہ جگہ غیر اردو داں مشاعرے،سیمنار، سمپوزییم منعقد کراتے ہیں اور اب تو ہندوستان کے سب سے بڑے صوبے یو پی میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔ دارالخلافہ دہلی میں بھی اردو دوسری سرکاری زبان ہے۔ الحمد اللہ میرے ملک میں اردو کا مستقبل تابناک ہے۔
س۔ ادب و صحافت کے حوالے سے آپ کے گھر کا ماحول کیسا رہا ہے؟کیا گھر والوں کی طرف سے کسی قسم کی مزاحمت وغیرہ کا سامنا کرنا پڑا؟
ج۔ خدا کا کرم ہے کہ میرے گھر کا ماحول خالص ادبی ماحول تھا۔ میرے والد تو میرے بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے۔ میرے بھائی ڈاکٹر مجیب الاسلام ، میری والدہ دونوں ہی ادب و صحافت کے دلدادہ تھے۔ صبح صبح کئی اخبار میرے گھر میں آتے تھے قومی آواز ، بلٹز، نشیمن ، پرتاپ ، ملاپ یہ سب میرے بچپن کے اخبار تھے اور میرے گھر میں سب آتے تھے۔ شادی کے بعد میرے شوہر نے میرے ادبی و صحافتی ذوق کو بہت جلا بخشی ، وہ میرے شوہر کم میرے ٹیچر زیادہ تھے۔ ہر بات پر محبت سے سکھانا ، ہر اچھائی برائی سے واقف کرانا ۔ خدا کا کرم ہے مجھے کسی بھی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
س۔ آپ پاکستان کتنی بار آئیں اور پاکستان اور پاکستان کا ادبی ماحول کیسا لگا؟
ج۔ میں پاکستان بچپن سے آج تک متعدد بار آئی ہوں ، لاہور اور کراچی تو آنا جانا رہا لیکن اسلام آباد دیکھنے کی حسرت کبھی پوری نہیں ہوئی۔ پاکستان کا ادبی ماحول تو بے پناہ متاثر کن ہے ۔ اس سے بھی زیادہ ہماری آنکھوں کو لاہور، کراچی میں داخل ہوتے ہی جو سائن بورڈ اردو میں لکھے ہوئے نظر آتے ہیں، وہ بہت زیادہ آنکھوں کو بھلے لگتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ہندی، انگریزی اور اردو تینوں زبانوں میں سڑکوں کے نام اور بورڈ تو نظر آتے ہیں لیکن خالص اردو میں صرف کشمیر میں ہی نظر آتے ہیں۔ پاکستان یقینا ادبی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ بڑے بڑے شاعر و ادیب اس ملک کو زینت بخشتے ہیں۔ بھلا فیض، فراز ، پروین شاکر اور کشور ناہید کا ملک ادبی سرشاری لئے ہوئے نہیں ہوگا تو کس کا ہوگا۔ جہاں انتظار حسین، جمیل الدین عالی، مشاق یوسفی ، عطاء الحق قاسمی، احمد ندیم قاسمی جیسے شہرت آفاق ادیب ہوں گے، وہ ملک تو بے مثال ہوگا ہی۔
س۔ آپ کی فارغ وقت کی کیا مصروفیات ہیں؟
ج۔ آہ ! یہ کیا سوال کر لیا آپ نے۔ فرصت اور میری تو سخت دشمنی ہے۔ کبھی فرصت ہی نہیں ملتی فارغ وقت کبھی ملا ہی نہیں، گھر ، بچے آفس، شاعری سیمنار، مشاعرے، ٹی وی پروگرام، اخبار یہ سب کبھی فارغ ہی نہیں ہونے دیتے ۔ کبھی اتفاق سے فرصتمیسر آ بھی جائے تو گھبرا جاتی ہوں کہ شاید کوئی کام کہیں چھوٹ گیا ہے۔ پر مجھے مصروف رہنے کا جنون ہے۔پھر بھی فارغ وقت کبھی مل جائے تو ٹی وی پر مزاحیہ پروگرام دیکھنا پسند کرتی ہوں یا پھر سیاسی مباحثے۔
س۔ ادب کے فروغ و ترویج کے حوالے سے میڈیا کیا کردار ادا کر رہا ہے؟ آپ کی کیا رائے ہے؟
ج۔ ادب کو میڈیا کے ذریعہ بھی بہت فروغ مل رہا ہے۔ یہاں ہمارے ملک میں تمام چیلنز مختلف ادبی سرگرمیاں باقاعدگی سے دکھاتے ہیں۔ ای ٹی وی اردو، ڈی ڈی اردو، ذی سلام، زندگی وغیرہ ایسے چیلنلز ہیں جو ہر ہفتہ اور اتوار کو باقاعدہ مشاعرے ٹیلی کاسٹ کرتے ہیں اور روزانہ مختلف شہروں کی ادبی سرگرمیاں بھی دکھائی جاتی ہیں۔ میڈیا بے حد مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ اخباروں میں بھی باقاعدہ روزنامہ اور ہفت روزہ میں ادبی صفحہ ہوتا ہے۔
س۔ کیااردو یا ہندی زبانوں میں بین الاقوامی معیارکا ادب تخلیق ہو رہا ہے ؟
ج۔ دونوںہی زبانوں میں جو ادب تخلیق ہو رہا ہے ، وہ بین الاقوامی معیار کا ہے ، جہاں ہندی کے ادیب و شاعر بدلتے حالات اور معاملات پر لکھ رہے ہیں ، وہیں اردو کے ادیب و شاعر بھی بہترین نثر لکھ رہے ہیں ۔ جو مقام گوپی چند نارنگ شمس الرحمن فاروقی ، رتن سنگھ، جو گندر پال ، مشرف عالم ذوقی کا ہے بھلا اس سے کون انکار کر سکتا ہے۔
س۔ آپ ادبی گروہ بندیوں کو کس نظر سے دیکھتی ہیں؟
ج۔ اف آپ نے یہ کیا سوال کر دیا ادبی گروہ بندی، سخت نفرت ہے مجھے اس ادبی گروہ بندی سے۔ اس کی وجہ سے قابل اور بہتر ادیب و شاعر گھر بیٹھے ہیں اور جو اردو زبان کی اسکرپٹ سے بھی واقف نہیں ہیں وہ عالمی شہرت یافتہ بن بیٹھے ہیں۔ ہر ملک میں اردو ادب کے متوالے رہتے ہیں۔ نئی بستیوں میں تو اردو خوب پھل پھول رہی ہے لیکن ہر کوئی کسی نہ کسی لابی سے کسی گروہ سے وابستہ ہے۔ مشاعرے ہوں یا سیمنار ہر ملک میں وہی لوگ جاتے ہیں جو کسی نہ کسی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے جو اچھے ادیب و شاعر ہیں ان کی جگہ وہ لوگ جا رہے ہیں ۔ جو شاعری کے اوزان ،ردیف وقافیہ ، وزن اور یہاں تک کہ رسم الخط سے بھی واقف نہیں گانے والی شاعرات نمایاں ہیں۔ اسی گروہ بندی سے ادب کو بہت نقصان ہو رہا ہے۔
س۔ آپ کے خیال میں موجودہ ادبی فضا میں تنائو کے اسباب کیا ہیں؟
ج۔ میں نہیں مانتی کہ ادبی فضاء میں تنائو ہے بلکہ یوں کہئے کہ اس بھاگتی دوڑتی زندگی میں جبکہ 2وقت کی روزی روٹی کے لئے دردر انسان کو بھٹکنا پڑتا ہے۔ ایسے میں ادب کے لئے جتنا بھی وقت مل جائے غنیمت ہے۔ادب روح کو سکون پہنچاتا ہے۔
س۔ عصرِ حاضر کے تخلیق کار پر معاشرتی عوامل کے اثرات کس حد تک مرتب ہو رہے ہیں؟
ج۔ آج کا تخلیق کار ادب برائے زندگی کو پیش کر رہا ہے۔ معاشرہ کو جیسا ہو ویسا پیش کرنا بھی ادب کی دیانت داری ہے۔
س۔ کہا جاتا ہے کہ قاری اور کتاب کے درمیان ایک خلیج سی حائل ہو رہی ہے ،آپ کیا کہتی ہیں؟
ج۔ بالکل نہیں، آج بھی تھکے ہوئے دل و دماغ کو کتاب ہی سکون دیتی ہے اور وہ کتاب جب تک خاموشی سے خود نہ پڑھو مزہ ہی نہیں آتا۔
س۔ معاشرتی مسائل کے حوالے سے ادیب اور بالخصوص خواتین اہل قلم کیا کردار ادا کر رہی ہیں؟
ج۔ خواتین بھی وہی لکھ رہی ہیں جو وہ محسوس کر رہی ہیں، دیکھ رہی ہیں ۔ بلکہ اب صحیح معنوں میں ادب برائے حقیقت اور ادب برائے زندگی سے قریب ہے۔ پاکستان کے سیریلز دیکھ کر بھی یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں معاشرتی مسائل کا بخوبی احاطہ کیا جاتا ہے۔ یہ کہانیاں حقیقت سے بے انتہا قریب ہیں۔ اسی طرح ہندوستان میں بھی خواتین افسانہ نگار اور شاعرات بخوبی معاشرتی مسائل کو پیش کر رہی ہیں۔
س۔ ادبی رسائل و جرائد ادب کے فروغ وترویج کے حوالے سے اپنا کردار کس حد تک نبھا رہے ہیں؟
ج۔ بے شک نبھا رہے ہیں اور بخوبی نبھا رہے ہیں۔
س۔ آپ شاعری میں کس سے اصلاح لیتی رہی ہیں اور آپ اپنے ادبی سفر میں اپنا استاد کسے مانتی ہیں؟
ج۔ میں خود کو شاعرہ سے زیادہ صحافی کہلانا پسند کرتی ہوں۔ سچ جانئے آج بھی میں ذہنی طور پر خود کو شاعر تسلیم نہیں کر پائی۔ میں نے عرض کیا تھا نہ کہ شعر ہوتے گئے صنائع ہوتے گئے۔ ویسے بھی 19سال شاعری پڑھانے کے بعد بھی اگر شعر نہ کہا جائے تو لعنت ہے آپ کے ذوق پر ۔ کوئی استاد نہیں ہے ابھی تو شاگردہ بھی بننے لائق نہیں ہوں۔
س۔ اتنے عرصہ سے اتنی خوبصورت شاعری تخلیق کرنے کے باوجود اب تک آپ کا کوئی شعری مجموعہ منظر عام پر نہیں آیا۔وجہ؟
ج۔ وجہ میں بتا چکی ہوں کہ صحافت خود ہی پورا وقت لے لیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر ہفتے اخبار کا اداریہ لکھنا ایک نہ ایک کوئی اسٹوری کرنا اور پھر بحیثیت مدیر اخبار دیکھنا سیمناروں میں مقالے پڑھنا، ٹی وی پروگرامز کرنا، مختلف شخصیات کے ٹی وی پر انٹرویو کرنا،ان سب سے فرصت ہی نہیں ملتی۔
س۔ اب تک آپ کو ادب و صحافت پر ملنے والے ایوراڈز کی تفصیل؟
ج۔ بے شمار ایوارڈ ملے ہیں۔ان میںاردو اکادمی بہترین استاد ایوارڈ،گورنمنٹ آف انڈیا بہترین استاد ایوارڈ،غالب ایوارڈ،میر تقی میرؔ ایوارڈ برائے شاعری،مولانا محمد علی جوہر ایوارڈ برائے صحافت،مولانا ابو الکلام ایوارڈ برائے صحافت،آبروئے صحافت،آفتابِ صحافت ،صحافت کی رانی لکشمی بائی ۔ صحافت کی خاتون اول ۔ بے شمار ایوارڈز ہیں کہاں تک گنائوں۔
س۔ آپ عصر حاضر کا بڑا شاعر یا شاعرہ کسے مانتی ہیں؟
ج۔ فیض احمد فیضؔ، ناصر کاظمی، احمد فراز، مجروح سلطان پوری کے بعد عصر حاضر میں پاکستانی شاعرات میں زہرہ نگاہ اور فاطمہ حسن میری محبوب شاعرات ہیں اور ہندوستان میں شاعرات میں نسیم نکہت اور ملکہ نسیم اور شاعروں میںمنور رانا ، بشیر بدر میرے پسندیدہ شاعر ہیں اور یہی بڑے شاعر ہیں۔
س۔ آپ ادب میں تجربے کی کس حد تک قائل ہیں؟
ج۔ ادب کی تخلیق تجربے سے ہی ہوتی ہے۔
س۔ آپ سے آخری سوال ،ادب اور صحافت کی طرف نئی آنے والی خواتین کے نام آپ کا پیغام۔
ج۔ خدا کے لئے زبان سیکھئے۔ زبان پر عبور حاصل کیجئے۔ ادب اور صحافت دونوں میں کسی ایک زبان پر عبور حاصل ہونے سے آپ کے اندر اعتماد بڑھ جاتا ہے۔ ادب کو زندگی کا عکاس بنایئے ۔ کسی ماورائی شے کو ادب میں لانے سے ادب کمزور پڑ جاتا ہے۔ ادب آپ کی ، میری، سارے زمانے کی سچائی کا ترجمان ہونا چاہئے اور صحافت میں ایمانداری، لگن اور سچائی پہلی شرط ہے۔
س۔ وسیم راشد صاحبہ! آپ کا بے حد شکریہ کہ آپ نے نہ صرف اپنا قیمتی وقت دیا بلکہ ہمارے قارئین کو اپنے خوبصورت خیالات سے بھی نوازا۔
ج۔ علی شاہ !میں آپ کی اور “سہ ماہی بزم لطیف”کی پوری ٹیم کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنے بین الاقوامی ادبی جریدے کی اولین اشاعت کے لیے میرے انٹرویو کا اہتمام کیا اور دعا گو ہوں کہ اردو سخن دنیا بھر میں اردو ادب کے فروغ وترویج اور انسان دوستی کا پیامبر اور حقیقی ترجمان ثابت ہو۔

Viewers: 1982
Share