ادب کا نوبل انعام بیلا روس کی صحافی سویتلانا ایگزیوچ نے حاصل کر لیا

nobel

ادب کا نوبل انعام بیلا روس کی صحافی سویتلانا ایگزیوچ نے حاصل کر لیا۔سویتلانا ایگزیوچ کو ادب کا نوبل انعام دینے کا اعلان کرتے ہوئے سوئیڈش اکیڈمی کی سربراہ سارہ ڈینیس کا کہنا تھا کہ وہ 30 ، 40 سال سے روس کے حوالے سے لکھ رہی ہیں۔سارہ نے مزید کہا ایگزیوچ نے ہزاروں بچوں، خواتین اور مردوں کے انٹرویو کیے، اس طرح انہوں نے انسانوں کی اس تاریخ سے سب کو روشناس کروایا جس سے وہ لاعلم ہوتے، اور اسی دوران انہوں نے سب کو انسانی جذبات کی تاریخ سے بھی روشناس کروایا۔انہوں نے ایگزیوچ کی کتاب ’جنگ کے غیرزنانہ چہرے‘ (War’s Unwomanly Face) کی مثال بھی دی جس میں انہوں نے ان خواتین کے انٹرویو کیے تھے جنہوں نے دوسری جنگ عظیم میں حصہ لیا تھا۔واضح رہے کہ ہر سال 6 شعبوں میں نوبل انعام کا اعلان کیا جاتا ہے ان شعبہ جات میں فزکس، کیمسٹری، فزیولوجی اینڈ میڈیسن (طب) ، ادب ، امن اور معاشیات (اکنامکس) شامل ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ برس فرانس کے ڈارمہ، فلم اور ناول نگار پیترک مودیانو نے ادب کا نوبل انعام اپنے نام کیا تھا۔پیترک مودیانو اپنے ادبی کام کے ذریعے فرانس پر نازی سوشلسٹوں کے قبضے اور اس کے بعد کے اثرات کے حوالے سے تحریر کرتے رہے۔رواں برس کا کیمسٹری کا نوبل انعام ڈی این اے کی مرمت کا مطالعہ کرنے والے سوئیڈن کے سائنس دان ٹامس لنڈہل، امریکی کے پال موڈرچ اور ترک نڑاد امریکی عزیز سنجار کو دیا گیا۔سویڈش رائل اکیڈمی کی جانب سے نوبل انعام کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ان سائنسدانوں نے مطالعہ کیا کہ خلیات کس طرح ڈی این اے کی مرمت اور اس میں موجود جینیاتی معلومات کا تحفظ کرتے ہیں۔فزکس کا نوبل انعام نیوٹرون کی کمیت دریافت کرنے والے جاپان کی ٹوکیو یونیورسٹی کے تکاکی کجیٹا اور کینیڈا کی کوئنز یونیورسٹی کے آرتھر بی مک ڈونلڈ کو دیا گیا۔دونوں سائنسدانوں نے تجربات سے سورج سے زمین تک سفر کرنے والے نیوٹرینوز کی ساخت کی تبدیلی دریافت کی جس سے کائنات میں ہونے والی تبدیلیاں سمجھنے میں مددے ملے گی۔فریولوجی اور میڈیسن (طب) کے شعبہ میں ملیریا سے بچاو کی دوا ایجاد کرنے والی چین کی سائنسدان یویوتو جبکہ انسانی قوت مدافعت پر حملہ کرنے والے وائرسز کے خلاف اثر کرنے والی دوا ایجاد کرنے والے جاپان کے ستوشی میورا اور آئرلینڈ کے ولیم کیمبل کو دیا گیا۔

(روزنامہ دنیاپاکستان سے)

Viewers: 968
Share