سلطان الہند ۔ڈاکٹر فہیم کاظمی کی علمی اور تحقیقی کاوش

سلطان الہند ۔ڈاکٹر فہیم کاظمی کی علمی اور تحقیقی کاوش تحریر ۔شفیق مراد حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی اور آپ کے کشوف و کرامات پر […]

سلطان الہند ۔ڈاکٹر فہیم کاظمی کی علمی اور تحقیقی کاوش
تحریر ۔شفیق مراد

shafiq murad pic
حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی اور آپ کے کشوف و کرامات پر مشتمل تصنیف ’’سلطان الہند‘‘ صاحب تصوف شاعر اور صوفی منش فقیر ڈاکٹر فہیم کاظمی کی گرانقدر علمی ،ادبی اور مذہبی تخلیق ہے۔جو عشق کے پُرپیچ اور خاردار راستوں کی آبلہ پائی کا ثمر بن کر صفحہ قرطاس پر گلہائے عقیدت و معرفت کے روپ میں نمودار ہوئی۔ڈاکٹر فہیم کاظمی کا نام اردو ادب میں ایک معتبر حوالہ ہے۔آپ کی شاعری بھی عشقِ خدا،عشقِ رسول اور عشقِِ اہل بیت سے مزین ہے۔جس میں خوبصورت اور با معنی الفاظ کی اس طرح ضاعی کی گئی ہے کہ قاری بیک وقت حیران بھی ہوتا ہے اور مضمون کی گہرائی میں غوطہ زن بھی۔ان کے پاس بر موقع اوربر محل الفاظ کے استعمال کی دولت عطیۂ خداوندی ہے۔
عشق سے مخمور ڈاکٹر فہیم کاظمی کی تصنیف’’سلطان الہند‘‘ کی اشاعت 2013 میں ہوئی۔دو برس کے مختصر عرصیمیں اس کتاب کی اشاعتِ سوئم ،مصنف کے دستِ کشادہ پر دلالت کرتی ہے جو علم و معرفت کے گنج ہائے گراں مایہ اس طرح بانٹ رہے ہیں کہ آج کے مادی دور کا انسان بھی کاسۂ دل،دستِ طلب میں لیے درگاہِ فقیر پر کھڑا سراپا آرزو ہے۔
faheem-kazmiانسان جب اپنے مقصدِ حیات سے بیگانہ ہو کر خرافاتِ زمانہ کا شکار ہوا تو پروردگار نے تزکیۂ نفس اور تریاق القلوب کے لیے انبیاء،صادقین،صالحین اور شہداء کو بھیجا کہ وہ انسان کو اس کے مقصدِ حیات کی طرف توجہ دلائیں۔اس مقصدِ عظیم کے لیے ہندوستان کے بت کدوں کو نورِ رسالتﷺ سے منور کرنے کے لیے اس سر زمین پر بحکم الٰہی صادقین اور صالحین آئے ۔ جن میں ایک حضرت خواجہ غریب نواز سلطان الہند ، معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ بھی تھے۔آپ وہ عظیم برگزیدہ ہستی ہیں جنکو آقائے دو جہان، سرورِ کونین حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ نے بذریعہ کشف ہندوستان جانے کا حکم صادر فرما یا تاکہ راہِ حق سے بھٹکی ہوئی قوم نور ہدایت سے حصہ پا کر آپ ؐ کی بے شمار رحمتوں اور برکتوں سے فیضیاب ہوسکے۔
سلطان الہند میں درج ہے۔
’’طلبی رسول خدا احمد مجتبیٰ محمد مصطفےٰ ﷺ پر خواجہ غریب نوازؒ نالاں و گریاں ایک عجیب حالت میں درود شریف پڑھتے روضۂ مقدسہ پر حاضر ہوئے۔نہایت مؤدب و دست بستہ کھڑے تھے کہ آواز آئی’’اے معین الدین حسن‘‘تو ہمارے دین کا معین و مددگار ہے۔ہندوستان کی ولایت ہم نے تمہیں عطا کی ہے۔اب اجمیر میں جا کر قیام کرو۔وہاں بہت بُری طرح کفر و شرک کی ظلمت پھیلی ہوئی ہے جاؤ اجمیر میں تمہارے قیام سے اسلام کی روشنی پھیلے گی۔یہ مژدہ جانفر ہ سن کر حضرت معین الدینؒ غریب نواز حیران تھے کہ ہندوستان کو ن سا ملک ہے؟ کہاں واقع ہے؟ آپؒ کو اس کے محل و وقوع کا علم نہ تھا۔اسی سوچ میں آپ کی آنکھ لگ گئی۔
حضور سرور کائنات نے عالم رویامیں آپؒ کو مشرق سے مغرب تک کی سیر کرائی اور جنت کا ایک انار سرکارغریب نواز ؒ کو عنایت فرما کر کہا’’جاؤ معین آج سے تم غریب نواز بھی ہو۔اللہ تعالیٰ تمہارا حامی و ناصر ہو گا،اجمیر چلے جاؤ‘‘
قافلۂ عشاق عازم سفر ہوا تو قدم قدم پر تائبد الہٰی کے مسحور کن واقعات نے سفر کی صعوبتوں کو آسان کر دیا۔تصنیف زیرِ نظر میں مصنف نے اُن تمام واقعات کو گنج ہائے گراں مایہ کی طرح اکھٹا کیا ہے۔ اور علم و معرفت کا ایک نہ ختم ہونے والا چشمہ جاری کر دیا ہے۔جس سے اہلِ نظر اور طالب حق فیض یاب ہوتے ہیں۔
حضرت کی زندگی پراس قدرحکمت اور باریک بینی سے روشنی ڈالی ہے کہ رموزِ کائنات قاری پر کھلتے چلے جاتے ہیں۔جو قرب الٰہی کی منازل تہہ کرنے میں زادِ راہ کا کام دیتی ہے۔اس میں جہاں اہلِ تصوف کے لیے حکمت و دانش کے رموز پوشیدہ ہیں وہاں عام قاری پر بھی بابِ تصوف کھلتے ہیں۔
حضرت معین الدین چشتی کی ذاتِ بابرکت کو یہ فضیلت حاصل ہے۔کہ آپ کا شجرۂ نسب بھی حضرت علی علیہ السلام سے ہوتا ہوا حضرت اقدس محمدﷺ سے ملتا ہے اور سلسلۂ طریقت بھی۔جسکی مکمل تفصیل کتاب میں درج ہے۔آپ کی پیدائش سے لیکر اجمیر شریف میں آپ کا جلوہ افروز ہونا ،آپ کا حضرت عثمان ہارونیؒ (نیشا پور۔ایران)کے زیرِ سایہ دس سال تک علم و معرفت کا حصول ،اس مرشدِ با کمال کے ساتھ مختلف ممالک کا سفر ، فریضۂ حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنا اور روضۂ رسولِ مقبول ﷺ پر حاضر ہونا۔ہندوستان میں آپ کی آمد اور بغرض تبلیغ ،ہندوستان کے مختلف علاقوں کا سفر ،الغرض ’’سلطان الہند‘‘میں پڑھ کر یہ محسوس ہوتا ہے۔کہ یہ قدسیوں کا سفر نامہ ہے جس پر تائید الٰہی اور رحمتِ خداواندی کے بادل سایہ فگن ہیں۔
صرف یہی نہیں بلکہ یہ کتاب ایک تاریخی دستاویزبھی ہے۔جس میں مصنف نے چشت شہر(جو صوبہ خراساں افغانسان کا شہر ہے اور اُس وقت ایران کی سلطنت میں شامل تھا) میں سلسلہ چشتیہ کے آغاز، حضرت معین الدین چشتیؒ کے آباؤ اجداد کی تاریخ، آپ کی ہندوستان آمد کے حوالے سے ہندوستان کی مختصر اور اجمیر شریف کی تفصیلی تاریخ بھی رقم کی ہے۔
sultan-ul-hindوہ اجمیر شریف ،جس شہر کو آپ کی آمد نے مرصع خواص و عام بنا دیا ،جسکی مٹی نے آپ کے قدم چومے تو اُسکے ذرّے آسمانِ شہرت پر درخشاں و تابندہ ستاروں کی طرح جگمگانے لگے۔آپ کے بابرکت وجود سے وہ زمین اس قدر مقدس و محترم ٹھہری اوراسے وہ طاقت نصیب ہوئی کہ بادشاہ یہاں آکربہ کمالِ عجزوانکسار اپنے تاج و تخت آستانۂ عالیہ پر رکھ کراس فقیر کے در کے فقیر ہو جاتے تو پہلے سے بڑھ کر صاحب ثروت ہو کر لوٹتے۔جہاں سپہ سالار اپنی تلوار رکھ دیتے اور فتح و کامرانیوں کی نوید لے کر جاتے ۔غرض اجمیر شریف اسلام کا ایسا مضبوط اور مستحکم قلعہ بن گیا۔جسکے میناروں سے نکلنے والی روشنی نے ہندوستان کو بُقعۂ نو ر بنا دیا۔اور جس سے چلنے والے دعاؤں کے تیروں نے ہندوستان میں وہ انقلاب برپا کیا۔جو انقلاب محمد بن قاسم کی منجنیقیں ،شہاب الدین غوری اور محمود غزنوی کی تلواریں برپا نہ کر سکیں۔
حضرت معین الدین چشتی ؒ کے علم اور فیضِ نظر نے جن بزرگانِ دین کے قلوب کو نورِ ایمانی سے منور کیا۔اور جنہوں نے آپ کے مقصد کی تکمیل کے لئے ہندوستان کے گوشے گوشے کو اسلام کی شمع سے روشن کرنا اپنا مقصدِ حیات بنا لیا۔ان کی حیاتِ طیبہ کے حالات بھی مصنف نے سلطان الہند میں درج کر کے حقِ محبت ادا کیا ہے۔آپ لکھتے ہیں’’سر زمینِ پاک و ہند نے اپنے دامن میں مثلِ چشت جن پانچ جلیل القدر بزرگوں کو جگہ دی ان کے پیشوا درحقیقت خواجہ معین الدین چشتیؒ غریب نواز ہی تھے۔جن کی بدولت جشتیہ شجر کی شاخیں پھیلتی چلی گئیں۔آپؒ کی ذات اقدس اس مسلک و مشرب کا وہ گھنا درخت تھی کہ جس کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ کر کئی اولیائے کرام اور بزرگانِ عظام نے نگاہوں کو حرم پاک کے جلوؤں سے طراوت بخشی اور دلوں کو گنبدِ خضراء کے نظاروں سے ایک یک گونہ طمانیت و سکون سے ہمکنار کیا‘‘ پھر آپ مزید رقمطرار ہیں’’حضرت غریب نوازؒ کے بعد جن چار سرِ فہرست بزرگوں نے لوگوں کے دلوں کو اپنی روحانیت سے مسخر کیا وہ قطب الاقطاب حضرت سید قطب الدین بختیار کاکیؒ ،بابا فرید الدین گنج شکرؒ ،حضرت محبوب الٰہی نظام الدین اولیاءؒ اور حضرت مخدوم علاؤ الدین سید احمد صابر کلیریؒ تھے۔
مذکورہ چاروں قطب الاقطاب کی زندگی کا مختصر مگر جامع تذکرہ کر کے مصنف نے طالبِ حق کے لیے ترکیۂ نفس کا سامان پیدا کیا ہے اور اپنا حقِ محبت و عقیدت ادا کیا ہے۔
بزرگانِ دین کے روحانی تجربات اور تعلیمات کی روشنی میں روز مرہ کے معاملات اور معمول سے ہٹ کر پیش آنے والے مسائل کے حل کے لیے عملیات و وظائف کو بھی کتاب میں درج کر کے فیضِ عام جاری کیا ہے۔
اسلاف کی قدر اور پہچان رکھنے والی قومیں اپنا تشخص ہمیشہ برقرار رکھتی ہیں۔اس کتاب کا مطالعہ اسلاف سے تعلق کو مضبوط کرتا ،قوتِ ایمانی عطا کرتا اور مصنف کی پاکیزہ فطرت پر دلالت کرتا ہے۔جس کے قلم میں حیرت انگیز تاثیر ہے۔تحریر میں جاذبیت قاری کو تصوف کی وادیوں میں لے جاتی ہے جہاں نور کی کرنیں رگ و پے میں اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں اورمادی دنیا کی لذات سے بیگانہ ہو کر انسان عشقِ الٰہی، رضائے الٰہی اورعشقِ رسول ﷺکی لازوال دولت سے فیضیاب ہوتا ہے ۔

 یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی

سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی

Viewers: 6051
Share