Izhar Ahmad Gulzar | پنجابی زبان و ادب کا چاند دلشاد احمد چن

izhar ahmad

پنجابی زبان و ادب کا چاند۔۔۔دلشاد احمد چن
بادلوں کی اوٹ میں چھُپ گیا
(۱۹۴۴ء تا ۲۰۱۳ء)
تحریر: ڈاکٹر اظہار احمد گلزار
E-mail:izhar.dhamal94@gmail.com

مایہ ناز پاکستانی ادیب ، شاعر ،سفرنامہ نگار، دانشور اور عظیم رجحان ساز تخلیق کار حاجی دِلشاد احمد چن پنجابی زبان و ادب کا وہ آفتاب جہانِ تاب جو ۱۹۴۴ ء کو پھگواڑہ (ہندوستان ) میں میاں نور محمد کے گھر طلوع ہوا۔ پنجابی زبان و ادب کو اپنی ضیا پاشیوںسے منور کرنے کے بعد ۱۶ ستمبر ۲۰۱۳ء کی درمیانی شب ۳ بجے فیصل آباد پاکستان میں حرکت قلب بند ہونے سے غروب ہو گیا۔ غلام محمد آباد فیصل آباد کی سرزمین نے اس آسمان کو اپنے دامن میں چھپا لیا۔ ان کی وفات سے پنجابی زبان و ادب کو ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ انہوں نے گزشتہ پانچ عشروں سے پنجابی زبان و ادب کے فروغ کے لیے جو گراں قدر خدمات انجام دیں وہ تاریخ کے اوراق میں زریں حرف سے لکھی جائیں گی۔
ان کی وفات سے پنجابی شاعری کا ایک عہد زریں ختم ہو گیا۔
زمیں لوگوں سے خالی ہو رہی ہے
یہ رنگ آسماں دیکھا نہ جائے
اگرچہ وہ اب ہمارے درمیان موجود نہیں رہے لیکن ان کی عطر بیز یادیں نہاںخانہ دل میں ہمیشہ موجود رہیں گی۔انہوں نے اپنے خونِ جگر سے گلشن ادب کو سیراب کیا۔ پنجاب میں منعقد ہونے والے مشاعروں میں اُن کا دبنگ لہجہ اور خلوص بھری آواز سفاک ظلمتوں میں ستارہ سحر کی نقیب تھی۔
دلشاد احمد چن کا جذبۂ انسانیت نوازی اپنی مثال آپ تھا۔ تاریخ ہر دور میں اس عظیم انسان کے نام کی تعظیم کرے گی۔ یہ حقیقت ہے کہ چاند جیسی صورتوں کو مٹی نے اپنے دامن میں چھپا لیا ہے۔ لیکن ہمارے درمیان بعض ہستیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر ہم جیتے ہیں جن کی باتوں سے ہمیں تقویت حاصل ہوتی ہے۔ جب ایسی ہستیاں مستقل طور پر آنکھوں سے اوجھل ہو جاتی ہیں تو دِل پر قیامت گزر جاتی ہے۔ ان کی جدائی جو صدمات دے جاتی ہے۔ ان کے احساس سے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ میری محفل سے کیسے کیسے آفتاب غروب ہو گئے۔ دلشاد احمد چن جیسے روشنی بکھیرتے چراغ اجل کے ہاتھوں بجھ گئے۔ اقبال شیدا ، منظر فارانی ، اسیر سوہلوی ، عبیر ابوذری، بری نظامی، شوق عرفانی، نور محمد کپور تھلوی، صائم چشتی، عبدالستار نیازی،پروفیسر عظمت اللہ خان، پروفیسر غلام رسول شوق، حافظ محمد حسین، بیکس بٹالوی، جوہر جالندھری، نادر جاجوی اور عبدالغفور شاہد وہ جری تخلیق کار جنہوں نے اپنی شاعری میں اشہب قلم کی جولانیاں دکھائیں۔ انسانیت کے وقار اور عظمت کو اپنی لازوال تحریروں سے آسمان کی بلندیاں عطا کرنے والے تخلیق کار پیوند زمین ہو گئے۔ سب نابغہ روزگار ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے۔ لفظوں کی حرمت کے محافظوں سے فرشتہ اجل نے قلم چھین لیے۔ ان کے چلے جانے سے وطن کے درودیوار غم و اندوہ میں حسرت و یاس کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
۱۶ ستمبر ۲۰۱۳ء کی درمیانی شب آندھی اور طوفان کی گرج چمک کے ساتھ بارش مسلسل جاری تھی۔ آسمانی بجلی بے باکی سے کڑک رہی تھی جب ۳ بجے رات پنجابی زبان و ادب کا چاند پانچ عشرے اپنی ضیاء پاشیوں سے سفاک ظلمتوں کو کافور کرنے کے بعد بادلوں کی اوٹ میں ہمیشہ کے لیے چھپ گیا تھا۔ بارش کا مسلسل برسنا اور آسمانی بجلی کی کڑک مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر رہی تھی کہ وہ شخص جس نے اپنی حیات مستعار میں عظمت مصطفی ﷺ کے ترانے گائے۔ جس نے دُکھی انسانیت کے زخموں پر لفظوں کے مرہم رکھ کر ان کو حوصلہ اور خودداری سے آشنا کیا۔ جس نے دُکھی انسانوں کے دُکھوں کو کم کرنے میں کبھی آنکھیں نہ چرائیں۔ آج اُس عاشق نعت اور عاشق رسولﷺ اور علم و ادب کی دولت سے دُنیائے ادب کو مالا مال کرنے والے تخلیق کار کی موت پر آسمان بھی آنسو بہا رہا ہے۔ آسمانی بجلی کی کڑک بھی آہ و بکا کر رہی ہے۔ وہ زار و زار کیوں نہ روتے۔ علم و ادب کی کہکشاں کے درمیان اپنی نورانی روشنی بکھیرنے والا ’’چاند‘‘ (چن) جس نے تقریباً نصف صدی حریت ضمیر سے جینے کے لیے اپنی شاعری کے ذریعے ابدی پیغام دیا۔ مسکراہٹوں اور عجز و انکساری کا پیکر یہ شخص جس شخص سے بھی ملتا تھا اُس کے دل میں ہی گھر کر لیتا تھا۔ وہ ہر ایک کا دوست تھا۔ ہر ایک کا بزرگ تھا۔ ہر کوئی اُسے اپنا قریبی دوست سمجھتا تھا یہی اُس مرد قلندر کی خوبی تھی۔ حاجی دلشاد احمد چن کے ساتھ میرا جو تعلق خلوص، مروّت، احترام اور عقیدت کی اساس پر استوار تھا۔ وہ مسلسل تین عشروں پر محیط رہا۔ میں جب بھی ایام گزشتہ کی کتاب کی ورق گردانی کرتا ہوں تو قریۂ جاں میں ان کی حسیں یادیں اس طرح پھیل جاتی ہیں کہ جس سمت بھی نگاہ اُٹھتی ہے۔ اسی کی آواز کی بازگشت کانوں میں رس گھولتی ہے۔ وہ شخص جا چکا ہے لیکن اس کے احباب کے دل کی انجمن آج بھی اس کی یادوں کی عطر بینری سے مہک رہی ہے۔
کوئی لمحہ بھی کبھی ٹوٹ کر نہیں آیا
وہ شخص ایسا گیا پھر نظر نہیں آیا
دلشاد احمد چن واقعی چاند ( چن) تھے۔ وہ اسم با مُسمیٰ تھے کہتے ہیں ایک چاند آسمان پر چمکتا ہے جو ستاروں کے ساتھ چھپن چھپائی کھیلتا ہے اور رات کے ماتھے پر ٹکا بن کر روشنیاں بانٹتا ہے۔ آسمان سے زمین کی طرف پیار کے پیغام بھیجنے والے ’’چاند‘‘ کی چاہت میں زمین کے صحن میں خوشیوں کا انکھیلا چکور اپنے پاؤں اُٹھا اُٹھا کے اُڈاریاں مارتا نہ تو تھکاوٹ کا شکار ہوتا ہے اور نہ اکتاہٹ کا۔ کبھی کبھی وہ ’’چن‘‘ اپنے چکور کو پیار بھرے اشارے کر کے رات کے تاروں بھرے پردے میں اپنا روپ دکھاتا ہے۔ تو کبھی کبھی بادلوں کی اوٹ میں بیٹھ کر اپنے چکور کی مست بھری اُڈاریوں کو دیکھ کر زیرِ لب مسکراتا ہے اور چکور کی اُڈاریوں کی خیر مانگتے دکھائی دیتا ہے۔
دھرتی کے رہنے والے اپنے دل جانی کو چن ، چن سجن اور چن ماہی کہہ کر اپنی سوچوں کے صحن کو روشن کرتے ہیں۔ اُسی چن ماہی کی باتیں یاد آجائیں تو پلکوں کے آسمان پر تارے چمکارے مارنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک چاند (چن) پنجابی زبان و ادب کے آنگن کا چاند ہے جو نصف صدی سے اپنی سوچوں کی روشن کرنوں سے روشنی بانٹ رہا تھا۔ اور ماں بولی کے ادب کو خوب لشکا مہکا رہا تھا۔ جو اپنی شاعری کے ذریعے گھر گھر ،قریہ قریہ ، نگر نگر اُجالا کر رہا تھا۔ مائیں اپنے بچوں کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے آسمانی چاند سے تشبیہہ دیتی ہے لیکن حقیقت میں آسمانی چاند کا حسن ایک ماورائی حسن ہے۔ سائنسدانوں نے چاند پر پہنچنے کے بعد دعویٰ کیا ہے کہ وہاں صرف ویرانہ ہی ویرانہ ہے۔ ہمارا چن (چاند) جس کی خوبصورتی، انسان دوستی، علم پروری اور ادب نوازی کا ہر شخص معترف ہے اور رہے گا۔
دلشاد احمد چن نے ایک بھرپور زندگی گزاری ہے۔ فیصل آباد (لائل پور) میں ایک وقت وہ بھی ہوتا ہے جب شہر میں مشاعروں کا سیلاب آیا ہوتا تھا۔ بلکہ مشاعروں کا مقابلہ ہوا کرتا تھا۔ صائم چشتی، بری نظامی اور شوق عرفانی کے ڈیروں پر بڑے بڑے مشاعرے ہوا کرتے تھے۔ اُسی دور میں دھوبی گھاٹ فیصل آباد میں عوامی مشاعرے ہوا کرتے تھے جن میں ایک بہت بڑا مشاعرہ آج بھی لوگوں کو یاد ہے۔ دلشاد احمد چن نے ان مشاعروں کو دیکھا بھی اور اِن میں حصہ بھی لیا ہے۔ پنجابی ادبی محاذ کے تحت ہونے والے مشاعروں میں ان کے ساتھ امین راہی، بری نظامی، گلزار غازی،عاشق حسین کنگ، فقیر سوز اور بہت سے شعراء ہوا کرتے تھے۔ اسی طرح بابا شوق عرفانی اپنے گھر چنیوٹ بازار میں بڑے اہتمام کے ساتھ ہفتہ وار مشاعرے کا اہتمام کیا کرتے تھے اس ڈیرے پر اردو اور پنجابی کے نامور شعراء شرکت کیا کرتے تھے۔ جن میں عبیر ابوذری، شوق عرفانی، اسیر سوہلوی ، بسمل شمسی، لالہ محسن رفیع جواز، یعقوب سفر، سائیں عاجز، جوہر جالندھری، نور محمد نور کپور تھلوی، زیارت حسین جمیل، احمد شہباز خاور اس کے علاوہ بزم چناب رنگ حاتم بھٹی کا لگایا ہوا وہ تناور پودہ جن کے سائے میں بھرپور مشاعرے ہوتے رہے اس ڈیرے پر ہونے والے مشاعروں میں نادر جاجوی، صائم چشتی، اقبال شیدا، عبدالوحید اختر، حاتم بھٹی، احسن زیدی، جوہر جالندھری، جی یٰسین، غفور شاہد اور بہت سے شعراء کو اپنا آپ منوانے کا موقع ملا۔ اسی طرح سمن آباد اور غلام محمد آباد فیصل آباد میں مشاعرے الگ ہوا کرتے تھے اور ہر ڈیرے کے شعراء کرام مختلف ہوا کرتے تھے۔ دورِ حاضر میں آج معاشی مجبوریوں کی وجہ سے یہ سلسلہ کبھی ماند پڑ جاتا ہے اور کبھی پھر متحرک ہو جاتا ہے ۔
دلشاد احمد چن اِس حوالے سے خوش نصیب ہیں کہ اُنہوں نے دونوں عہد دیکھے ہیں۔ اُنہوں نے ادب کی دُنیا میں بڑا لمبا سفر کیا ہے مگر کہیں پر بھی اُن کے قدم لڑکھڑائے نہیں ہیں۔ وہ ہر دور اور ہر عہد میں ہمیں ثابت قدم نظر آئے ہیں۔ اُنہوں نے ہر دور میں فکری سوچ اور آفاقی سچائی کے وہ پھول تیار کیے ہیں جن کی مہک ابد تک دُنیائے ادب میں محسوس کی جاتی رہے گی۔
دلشاد احمد چن کے بزرگوں کا تعلق جالندھر ہندوستان سے تھا۔ اُن کے والد کا نام میاں نور محمد اور دادے کا نام اللہ بخش تھا۔ ۱۹۴۷ء کو میاں نور محمد اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ ہجرت کر کے فیصل آباد(لائل پور) آباد ہو گئے تھے۔ دلشاد احمد چن کی پیدائش اپنے ننھیال چک پھگواڑہ (انڈیا) میں ۱۹۴۴ء کو ہوئی۔ والدہ نے اُن کا حیدر علی جب کہ والد نے دلشاد احمد رکھا۔ اُنہوں نے ایم سی پرائمری سکول دھوبی گھاٹ سے پرائمری اور سٹی مسلم ہائی سکول عیدگاہ روڈ سے مڈل تک تعلیم مکمل کی۔ پھر والد کے ساتھ ذاتی کاروبار میں مصروف ہو گئے۔
اُنہوں نے ۱۹۶۰ء میں باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا اور شاعری میں مشہور گیت نگار بری نظامی کے شاگرد بنے۔ ان کے قریبی دوستوں میں عاشق حسین کنگ ایڈووکیٹ ، امین راہی، اسیر سوہلوی، سائیں عاجز اور یعقوب سفر شامل ہیں۔ لیکن ان کے دوستوں کی فہرست بہت طویل ہے۔ جن میں اسیر سوہلوی، بیکس بٹالوی، بسمل شمسی، امین راہی، رفیق پاشا، سرور خاں سرور، ارشد بیلی، پروفیسر عظمت اللہ خان، میاں اقبال اختر، لطیف ساجد، اخلاق عاطف، کوثر علیمی، حافظ محمد حسین حافظ، اکرم باجوہ، یعقوب سفر ، الیاس گھمن، مکرم لدھیانوی، محمد احمد نسیم ، عاشق علی فیصل، ڈاکٹر احمد حسین قلعداری، ڈاکٹر اجمیر سنگھ، رانی ملک، علی زلفی، امین بابر، علی محمد ملوک، نور محمد نور کپور تھلوی، اثر انصاری، حکیم نذیر احمد نذیر، اقبال زخمی، محمد جمیل چشتی، خالد محمود عاصی، احمد شہباز خاور، پروفیسر مفتی عبدالرؤف ، ڈاکٹر محمد ایوب ، اخلاق حیدر آبادی اور کلیم شہزاد و دیگر شامل ہیں۔
ڈاکٹر حمید محسن رقم طراز ہیں:
’’دلشاد احمد چن محبت پیار اور خلوص کا مہکتا ہوا وہ تازہ پھول تھا جس کی خوشبو نے چار چفیر مہکایا ہوا تھا ۔ وہ ہر انسان کو عظیم سمجھتا تھا وہ ہر انسان کے ساتھ عجز و انکساری اور خلوص کے ساتھ ملتے تھے۔ وہ منافقت اور مفاد پرستی کی بیماری سے بچے ہوئے انسان تھے۔ ‘‘
دلشاد احمد چن نے تمام اصنافِ سخن سے پنجابی ادب کے گلشن کی آبیاری کی ہے جن میں حمد، نعت، منقبت، مسدس، محتمس ، غزل، نظم ، گیت ، بچوں کی نظمیں، دینی شاعری اور نثر میں سفرنامہ حج لکھ کر اپنے ہونے کا بھرپور احساس دلایا ہے۔
دلشاد احمد چن کا تخلیقی سفر ایک جہد مسلسل ہے۔ اُنہوں نے اپنی زندگی میں جو کچھ قریب سے دیکھا، پڑھا اور محسوس کیا اُسے اُسی شدت سے پڑھنے والے تک پہنچا دیا۔ اُن کے شعروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اچھا اور سچا شعر وہی ہوتا ہے جو اُس لمحے کو گرفت میں لے لیتا ہے جب وہ نازل ہوتا ہے۔ دلشاد احمد چن نے ایسے کتنے سینکڑوں لمحات شعروں میں گرفتار کر رکھے ہیں۔ یہ لمحے اُس عہد کی کہانی پیش کرتے ہیں جو دلشاد احمد چن کا عہد ہے۔ آپ کا عہد ہے۔ میرا عہد ہے۔ جنہیں ہم کمزور اور بے بس طبقہ کہتے ہیں۔ غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے کہتے ہیں۔ جنہیں بے زمین کہا جاتا ہے۔ دلشاد احمد چن نے اِن محروم طبقے کو تاریخ کے اوراق میں مزین کر دیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جب ہم نہیں ہوں گے یہ عہد نہیں ہو گا تو دائم آباد رہنے والی دُنیا اور ہم جیسے کئی دلشاد احمدچن کے شعروں میں ہمیں اپنے شُعلے برساتی آنکھوں اور تمتاتے چہروں کے ساتھ سجے دیکھیں گے۔ اُن کی بیشتر شاعری غریب اور کمزور کی آواز ہے۔
دھرتی ماں نوں گہنے رکھ کے دھی دا داج بنایا اے
اک غریب کسان نے اِنج وی اپنا وقت لنگھایا اے
(زمین کو گروی رکھ کر قرضہ حاصل کرنے کے بعد بیٹی کا جہیز بنا کر ایک غریب کسان نے اپنی سفید پوشی کا بھرم اس طرح بھی قائم رکھا ہے۔ )
دھی غریب دی بُڈھی ہو گئی بیٹھی داج اُڈیکدی
کن کسے دے واج نہیں پیندی اوہدی دُکھیا چیکدی
(کسی غریب اور فاقہ حال انسان کی بیٹی محض اِس وجہ سے باپ کی دہلیز پر بیٹھی بوڑھی ہو گئی کہ اُس کے پاس اُس کے ہاتھ پیلے کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں اور اُس کے دکھ کی آواز کسی بھی سرمایہ دار کے کانوں تک نہیں پہنچ پاتی۔ )
؎دھی غریب دی سُوہے پا کے بیٹھی رہی
روندی چھڈ گئے داج نہیں ملیا مہراں نُوں
(کسی غریب اور مجبور و لاچار شخص کی بیٹی سہاگ کے کپڑوں میں بابل کی چوکھٹ پر اس وجہ سے بیٹھی رہی کہ دولہا کو اُس کی خواہش کے مطابق جہیز نہ ملنے کی پاداش میں مہراں کے ماتھے پر رسوائی کا داغ لگا کر چھوڑ دیا گیا۔ )
فطرت ویکھی جگ اُتے انساناںٰ دی
دھرتی ویچی جاندے قبرستاں دی
(آج کے مادہ پرستی کے دور میں انسان اِس قدر گراوٹ کا شکار ہوتا جا رہا ہے کہ قبرستان کے لیے مختص کی گئی جگہ کو فروخت کر کے اپنی ہوس اور لالچ کے تاج محل تعمیر کیے جا رہا ہے۔ )
سُرخ سویرا ہویا اوتھے وگدے لہو دی لالی نال
چودھریاں نے مارے جتھے کامے بنھ کے ٹالھی نال
وہاں پر اب سرخ سویرا یعنی انقلاب کی روشنی پھوٹ پڑی ہے۔ جہاں پر چودھریوں نے اپنے کامے (نوکر) کو درخت سے باندھ کر قتل کیا تھا۔
وہ غیور اور غیرت مند انسانوں کے حوصلوں کو تقویت دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب بھی غیرت مند اور باوقار قوم اپنے حق کے لیے کھڑی ہو جاتی ہے تو وہ اپنے حقوق کو حاصل کر کے دم لیتی ہے۔
سُتے جذبے وی جاگے انکھی تے غیوراں دے
اوس دن دیکھیں جھُک جاون گے اُچے سِر مغروراں دے
اگر کوئی جاننے کی کوشش کرے کہ ایک شاعر یا ادیب اپنے معاشرے کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ جب کشمیر میں مسلمانوں کا ناجائز خون بہایا جا رہا ہو یا پھر جب سن ۱۹۷۱ء میں سقوط ڈھاکہ میں ملک دو لخت ہو گیا تھا۔ یا اسی طرح وطن کی سرحدوں کی حفاظت کرنے نئی نویلی دُلہن کا سہاگ جب شہادت کا کفن پہن کر اُس کے پاس آیا ہو گا تو کیا شاعر کا دل پھٹ نہ گیا ہو گا۔ دلشاد احمد چن کا قلم ایسے مواقع پر چیخ اُٹھا۔ اُن کی نظموں کا مجموعہ ’’چن سدھراں دے رنگ‘‘ کے اندر پھول بھی ہیں اور کانٹے بھی۔ اُن کی بیشتر نظموں میں سے خون کی لالی نمایاں دکھائی دے رہی ہے۔
اِسی طرح اُن کی ایک اور نظم ’’شہید دی منگ‘‘ میں بھی وہی تڑپ اور کرب نظر آتا ہے۔ اُن کی سدا بہار نظموں میں لہو لہو کشمیر ، رُوح بابے دی روندی پئی اے، اُڈیکاں، کنجری، سنجوگ، گھن چھاواں رُکھ، جیب تراش، پیسہ، سانحہ اوجڑی کیمپ، چرخہ، مہنگائی، دھی رانی، سیلاب، اُٹھ قبروں سُتیا وارثا، کنگھی، غریبی اور بے شمار طویل نظمیں شامل ہیں۔
اُن کی شہرہ آفاق تصانیف ہر دور کے محقق اور مؤرخ کو اپنا آپ سراہنے پر مجبور کرتی رہیں گی۔ اُن کی تصانیف میں ہرنی دی اکھ (لوک گیت) چن سُفنے (غزل) نبی سوہنا ﷺ (نعت) چن سدھراں دے رنگ (نظم) ویہڑے کھیڈن چن (بچوں کی نظمیں) بن گئے خواب حقیقت (حج سفرنامہ) کربلا دا چن (کربلائی نظمیں) موم دا سورج(غزل مجموعہ) چن توں سوہنا قائداعظم (منظوم نظمیں) اور چن حضوری زُلفاں (نعتیہ شاعری) شامل ہیں۔
ان کی کتب پر عصرِ حاضر کے مایہ ناز سخن شناس، ادیبوں ، نقادوں، محققین اور دانش وروں نے فلیپ، تقریظ اور دیباچہ کی صورت میں ان کے فکرو فن کو سراہا ہے جن دانشوروں نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے ان میں الیاس گھمن، ڈاکٹر درشن سنگھ آشٹ ، بیرا جی ، ریاض احمد قادری، اخلاق عاطف، غلام مصطفی بسمل، تنویر بخاری، کلیم شہزاد، اکرم باجوہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی شخصیت اور فکر و فن کے حوالے سے ان کی شخصیت پر ماہنامہ ’’لکھاری‘‘ لاہور کا ایک خاص شمارہ ’’دلشاد احمد چن نمبر ‘‘ اُن کی زندگی میں ہی منصہ شہود پر آ گیا تھا۔ ایک شاعر کی زندگی میں اُس کے فکر و فن کو سراہے جانا یقینا بہت بڑا کریڈٹ ہے جس کو جتنا بھی سراہا جائے کم ہے۔ ایسے نابغہ روزگار لوگ دھرتی کا حُسن ہوتے ہیں ۔ ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے یہ دُنیا خوبصورت نظر آتی ہے۔ دلشاد احمد چن اپنی شاعری کے ذریعے اپنے دیس میں سدا خوشیوں کا راج دیکھنا چاہتے تھے۔ چن صاحب کی شاعری اصل میں نچلے طبقے کے لوگوں کی اُمنگوں ، چاہتوں اور جذبوں کی شاعری ہے۔
دلشاد احمد چن اِس لحاظ سے خوش قسمت شاعر ہیں کہ اُن کی زندگی میں ہی اُن کے فن کو پذیرائی ملتی رہی ان کے فن کو ہر جگہ پر سراہا گیا۔ یہ بہت بڑی بات ہے جس کی جتنی بھی تحسین کی جائے کم ہے۔ ورنہ ہمارے یہاں کسی کی خدمات کا اعتراف اُس کے مرنے کے بعد کیا جاتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ بہت کم شاعر ہوں گے جن کو اُن کی زندگی میںہی ہر طبقے اور تنظیموں کی طرف سے داد تحسین اور معتبری ملی ہو۔ مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ دلشاد احمد چن کا نام اس فہرست میں شامل ہے جن کی ادبی کاوشوں کو نقادوں اور دانشوروں نے ان کی زندگی میں ہی ان کے جائز مقام کو مانا اور ان کی زبردست پذیرائی کی۔ ان کی قدر آور پنجابی شخصیت اور پنجابی شاعری کے فنی اعتراف کی وجہ سے ماہنامہ ’’لکھاری‘‘ لاہور نے دلشاد احمد چن نمبر شائع کیا جس میں ان کی شخصیت ،شاعری اور فن کا مکمل تنقیدی احاطہ کیا گیا۔
دلشاد احمد چن اپنی ہی دُھن میں نظریں نیچی کیے محبت اور اخلاص کے ساتھ پنجابی ادب کی خدمت کرتے رہے۔ ورنہ ہمارے ہاں ادبی دُنیا میں کاندھا مار کر آگے بڑھنے کا رجحان عام ہے۔ منافقت اور کینے کی غلاظت سے بھرے ادیب شاعروں کی بھی کمی نہیں ہے۔ ایسے لوگ تو کسی کی نئی کتاب کی اشاعت کا سُن کر حسد کا شکار ہو جاتے ہیں جب کہ چن صاحب ایسی خرافات سے بچے ہوئے تھے۔ وہ عجز و انکساری کا مجسمہ تھے۔ پیکر خلوص و مروت تھے ۔ میرا اُن کے ساتھ نیاز مندی کا تعلق تین عشروں پر مشتمل رہا ہے۔ چن صاحب کے میرے والدِ گرامی قبلہ رانا محمد گلزار خاں مرحوم اور تایا جان نور محمد نور کپور تھلوی سے دوستانہ مراسم رہے ہیں۔ اِسی بنا پر میں انہیں دوست کم بزرگ زیادہ سمجھتا تھا بلکہ بزرگ دوست کہا کرتا تھا۔ اُن کی مثال اُس شجرِ سایہ دار کی تھی جس کی گھنی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ کر میں علم و ادب کی باتیں سیکھتا رہتا تھا۔ اُن کی دُکان میرے گھر کے خاصی قریب جھنگ بازار میں تھی۔ اس طرح راقم اس بازار سے سودا سلف لینے کے بہانے اُن سے ملنے اکثر اُس بازار کا رُخ کر لیتا اور پھر اصل کام بھی یاد نہ رہتا کہ گھر سے کس مقصد کے لیے نکلا تھا کیونکہ وہ اپنی شاعری سنانے میں اس قدر محو کر لیتے تھے ۔ اُن کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں بائیس ایوارڈ اور مختلف میڈلز کے علاوہ بارہا نقدی انعامات سے نوازا جاتا رہا۔ ان کے ایوارڈز میں بری نظامی میموریل ایوارڈ، پنجابی سیواکار ایوارڈ، غزل ایوارڈ(دو مرتبہ) ہاشم شاہ ایوارڈ، مولوی غلام رسول عالمپوری ایوارڈ، پنجابی مانتا پتر ایوارڈ، گولڈن جوبلی نعت ایوارڈ، آزادی مشاعرہ ایوارڈ، بال ادب ایوارڈ، نعت ایوارڈ ، انجمن فقیرانِ مصطفی ﷺ ، بال ادب گولڈ میڈل، ادبی کارکردگی ایوارڈ شکر گڑھ ، نور محمد نور کپور تھلوی ادبی ایوارڈ، ادبی قومی محاذ ، سیو ک ایوارڈ، ورلڈ پنجابی فورم روزن ایوارڈ ، قلم قافلہ شعری ادب ایوارڈ اور دیگر بے شمار شامل ہیں۔ انہوں نے جہیز کے بغیر بابل کے گھر بیٹھی بیٹیوں ، انیٹیں اُٹھاتے ہوئے ناتواں و کمزور مزدور، ڈگریاں ہاتھ میں پکڑ کر دفتر دفتر نوکری کی تلاش میں سرگرداں نوجوان اور اپنے بچوں کو پڑھانے کی خواہش رکھنے والے کمزور باپ کی خواہشوں کو شعروں کا روپ دیا ہے۔ ان کی غزلوں کے شعر خیالی محبوب کے دلاسے نہیں بلکہ اس پاکستانی معاشرے میں رہ رہے ایک حساس فرد کے تجربات ، دکھوں ، دردں اور احساسات کا اظہار ہے۔دلشاد احمد چن کی غزل اپنی ہیئت کے اعتبار سے غزل ضرور ہے۔ مگر ان غزلوں میں بہت سارے شعر ایسے بھی مل جاتے ہیں جن میں تغزل جیسی شے اپنی پوری خوبصورتی اور جذبوں کی شدت سے موجود ہے۔
ہتھیں گٹ کے بنھ گئی جیہڑی
دھاگا لال پراندی دا
اکھیاں دے وچ گھمدا چہرہ
اوہدا ہسدی جاندی دا
منظوم قصہ کربلا پر مشتمل تصنیف ’’کربلا دا چن ‘‘ کے فلیپ پر ممتاز مذہبی سکالر اور محقق پروفیسر مفتی عبدالرؤف خان (مرحوم ) رقم طراز ہیں:
’’دلشاد احمد چن کی منظوم شعری لکھت ’’کربلا دا چن ‘‘ ان کی دوسری قابل تحسین تصانیف کی طرح عقیدت و احترام کے جذبے سے لبریز ہے۔ جس میں انہوں نے آلِ رسولؐ اور اہل بیت کے ساتھ اپنی بے پناہ محبت اور اُلفت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے جس درد اور سوز کے ساتھ اس قصے کو منظوم رقم کیا ہے۔ وہ پنجابی جنگ ناموں میں ایک معتبر اور لافانی حوالے سے ہمیشہ زندہ و جاوید رہے گا۔ ‘‘
دلشاد احمد چن کے خیالوں کے جال وقت کے پانی میں کربل کے منظر دیکھتا ہے۔ جس طرح اس میدان میں خامہ فرسائی کرتے ہوئے بڑے بڑے اہل قلم ہارمان گئے۔ معصوم سکینہ کے جذبات کو چنؔ صاحب نے جیسے محسوس کیا وہ اُن کا ہی حصہ ہے۔ دوسری شہادتوں پر بھی انہوں نے ایسی نظر مار کر منظر نگاری کی ہے کہ قاری چنؔ صاحب کی جرأت کاری اور منظر نگاری سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
پنجابی زبان کے نامور ادیب الیاس گھمن دلشادا حمد چن کے فن بارے خامہ فرسائی کرتے ہیں۔
’’ دلشاد احمد چن شاعری کی ہر صنف کا شاہ سوار ہے۔ انہوں نے اپنی خوبصورت غزلوں اور نظموں سے اپنا آپ منوایا ہے۔ اُن کی نعتوں سے بھی عشق و عقیدت کے چشمے پھوٹتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ اپنی غزلوں میں چن صاحب اس معاشرے سے نفرت، بغض ، حسد اور نفرتوں کو ختم کر کے ہر طرف امن و آشتی اور پیار کے جھنڈے لہرانا چاہتے ہیں۔ اُس کی شاعری دلوں میں حرارت اور عمل کی طرف مائل کرتی ہے تو دماغوں کو تابندہ کرتی چلی جاتی ہے۔ ‘‘
ممتاز شاعر ، ادیب اور نقاد پروفیسر ریاض احمد قادری ایک تحریر میں دلشاد احمد چن کو یوں گلہائے عقیدت پیش کرتے ہیں۔
’’ دلشاد احمد چن اِس مایوس زدہ ماحول میں روشنی کی کرنیں دینے والا رجائیت پسند، محنتی ، غیرت مند اور کمزوروں کی حوصلہ افزائی کرنے والا شاعر ہے جو اچھے وقت کا متمنی ہے اور یہی اُمید وہ دوسروں کو دکھاتا ہے۔ ‘‘
اپنی تمام تر شعری خوبیوں اور پنجابی ادب کے عظیم خدمت گار ہونے کے علاوہ وہ ایک خوبصورت اور پیار کرنے والے انسان تھے۔ راقم نے اُن کے ساتھ متعدد بار دوسرے شہروں کا سفر کیا ہے۔ بے شمار شہروں میں ہم اکٹھے مختلف تقریبات میں شمولیت کی غرض سے جاتے رہے ہیں۔ میں نے اُن کے ماتھے پر کبھی شکن نہیں دیکھی۔ ہمیشہ مسکراہٹیں بانٹنا اُن کا طرئہ امتیاز تھا۔ کئی بار ہم اکٹھے الیاس گھمن کی دعوت پر لاہور کی کسی تقریب میں مہمان خاص بنتے رہے ہیں۔ پروفیسر ریاض احمد قادری کی ہمراہی میں بھی اِن کے ساتھ کئی جگہ جانے کا شرف حاصل ہوا۔
اُن کی دُکان پر دو تین ادیب ہمہ وقت موجود پائے جاتے تھے۔ موصوف اپنے کام کے ساتھ ساتھ ادیبوں کی مہمان نوازی بھی کرتے جاتے اور خوش گپیاں اور شعر بھی سناتے جاتے۔ پنجابی شاعری اُن کا اوڑھنا بچھونا بنی رہی۔ اوّل و آخر پنجابی تھے اگر انہیں ’’فنافی الپنجابی ‘‘ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ وہ ہر وقت کوئی نہ کوئی تحریر کرتے ہوئے نظر آتے گھر ہو یا دُکان ، سفر ہو یا حضر، دن ہو یا رات ہمہ وقت قلم اُن کی انگلیوں میں رقصاں نظر آتا۔
مرحوم وضع دار شریف النفس اور مرنجاں مرنج شخصیت کے مالک ایک ہر دلعزیز انسان تھے۔ وہ واقعی دلشاد تھے جن کو مل کر ’’دل شاد‘‘ ہو جاتا تھا۔
’’چن سدھراں دے رنگ‘‘کی نظموں میں موضوعات کی رنگا رنگی ہے۔ نظموں کے اس مجموعہ میں اس کا دل پوری دُنیا میں رہتے مسلمانوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ دلشاد احمد چن ایک پکا سچا مسلمان اور پاکستانی ہے۔ وہ دُنیا کے کونے کونے میں جہاں جہاں بھی مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے ان کے دُکھوں پر آنسو بہا رہا ہے۔ وہ اپنی نظموں میں اک محب وطن پاکستانی کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ کہیں وہ یوم آزادی کے گیت گاتے ہیں تو کہیں کشمیریوں کے دُکھوں پر آنسو بہاتے نظر آتے ہیں۔ کہیں وہ سقوط ڈھاکہ پر آنسو گراتے نظر آ رہے ہیں۔ کہیں وطن کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ اور کہیں بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی عظمت کے ترانے گاتے دکھائی رہے ہیں اور کہیں بابے جناح کی روتی روح دیکھ کر تڑپ اُٹھتے ہیں۔
’’بن گئے خواب حقیقت‘‘ دلشاد احمد چن کا ’’سفرنامہ حج ‘‘ ہے۔ یہ سفرنامہ اس حوالے سے اہم ہے کہ اس میں ایک ہی وقت میں منظوم اور منشور دونوں کا مزہ مل جاتا ہے۔ انہوں نے نثر میں اپنے سفر کے حالات قلم بند کئے ہیں اور شعروں میں جذبے پروئے ہیں۔ نثر پڑھتے ہوئے بندہ اُن کے ساتھ سفر کرتا جاتا ہے۔ پروفیسر ریاض احمد قادری کے بقول:
’’ انہوں نے اپنے سفرنامے میں آج کے لاگو محاوروں اور روزمرہ کے الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ سفرنامہ پڑھتے ہوئے قاری ان کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ تجسس اور دلچسپی برقرار رہتی ہے۔قاری کسی بھی جگہ پر بوریت یا اکتاہٹ کا شکار نہیں ہوتا۔ ‘‘
’’چن حضور زلفاں ‘‘اپنی طرز اور نوعیت کی منفرد اور انوکھی کتاب ہے۔ اس انوکھی کتاب میں ان کا سارا کلام حضور نبی کریم ﷺ کی مبارک ’’والیل‘‘ زُلفوں کے حوالے سے لکھا گیا ہے۔ ردیفیں ، قافیے نورانی زلفوں کے حوالے سے ہیں۔ انہوں نے مناجات ، دُعا ، استمداد ، استغاثہ ، سراپا نگاری، حلیہ شریف، صورت، سیرت نگاری، سراپا نگاری غرض کہ ہر صنف سخن زلفوں کے حوالے سے ہی لکھی ہے۔ دلشاد احمد چن نبی پاکﷺ کی پیاری زلفوں کی شان بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ان زلفوں کی وجہ سے پوری کائنات میں روشنی ہے۔ ان زلفوں کی وجہ سے ہی زمین و آسمان میں تجلیٰ ہے۔ آپؐ کے سوہنے نورانی چہر ے سے ادھار نور لے کر سویرے پھوٹتے ہیں۔ زلفوں کا فیض لے کر راتیں آتی ہیں۔ دلشاد صاحب کا یہ کمال ہے کہ وہ حضور کریم ﷺ کی زلفوں کا ذکر کرتے ہوئے آپﷺ کے اخلاق کریمہ ، اخلاق حسنہ، سیرت پاک، آپؐ کی عادات ، حسن سلوک اور لوگوں کی باتیں ساتھ ساتھ کرتے چلے جاتے ہیں۔ حضورﷺ کا مقام و مرتبہ، عظمت، شان آپؐ کے اختیارات ، کمالات بھی سامنے لاتے جاتے ہیں۔
’’نبی سوہناؐ‘‘ دلشاد احمد چن کی نعتوں کا اوّلین مجموعہ ہے۔ ان کی نعتوں میں لوک گیتوں جیسی چاشنی اور ترنم موجود ہے۔ انہوں نے گنگناتے الفاظ، مترنم بحریں، بولتے قافیے اور ردیفیں استعمال کیں ہیں۔ ان کے نعتیہ اشعار پڑھتے ہی الفاظ ہونٹوں پر حرکت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس کتاب میں انہوں نے بے شک غزل ، مسدس، چو مصرعہ اور گیت کی ہیئت میں نعتیں کہی ہیں۔ لیکن گیت کا رنگ ہر جگہ پر چھایا ہوا ہے۔ ان کی نعتوں میںجدت اور روایت ساتھ ساتھ چلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے روایتی شاعروں کی طرح مائی حلیمہ کی اونٹنی ، بکریاں ، کُلی، واقعہ معراج اور مدینے جانے کی خواہش کو بھی موضوع بنایا ہے۔ اور جدید شعراء کی طرح حضورﷺ کی سیرت کے واقعات کو تلمیح کے طور پر استعمال کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کے خوشیوں اور دُکھوں کو پیش کر کے حضور اکرمﷺ سے مدد بھی مانگتے نظر آتے ہیں۔
’’چن حضوری زلفاں‘‘ ان کا نعتیہ مجموعہ ان کی وفات کے بعد ان کے ہونہار بیٹے محمد عمران چن نے بڑی عقیدت اور محبت سے ترتیب دے کر شائع کرایا ہے۔ اس نعتیہ مجموعہ میں دلشاد احمد چن صاحب نے اپنی زندگی میں ایسی نعتیں لکھیں جن میں سرکارِ دو عالمﷺ کی زلفوں مبارک کا ذکر آتا ہے۔ ہر نعت جذب و مستی اور عشق سے لبریز ہے۔
’’موم دا سورج‘‘ دلشاد احمد چن کا دوسرا غزل پراگا ہے۔ ’موم دا سورج‘ کا تجزیاتی مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے ان کی شاعری میں دیس پنجاب کی مٹی کی خوشبو ، پنجاب کا تہذیب و تمدن ، پنجاب کے مذہبی ، اخلاقی، معاشی ، معاشرتی ، ثقافتی اور سیاسی سارے ہی رنگ نظر آتے ہیں اگر کھُلی آنکھ اور وجدان سے ایک طالب علم کی طرح ان کی شاعری کا تجزیہ کریں تو ہر غزل میں نرمی اور پیار کے آفاقی رنگ پھیلے نظر آتے ہیں۔ اس مجموعہ میں چھوٹی چھوٹی باتوں کا بڑی باریک بینی سے مشاہدہ کیا ہوا ملتا ہے۔ دلشاد احمد چن نے بڑے شاعروں کی طرح اپنے آپ کو ساری اصناف لکھ کر منوا لیا ہے۔ گیت پر طبع آزمائی کی اور ’’ہرنی دی اکھ‘‘ لکھ دی ، حمد، نعت ، منقبت لکھی تو ’’نبی سوہناؐ‘‘ ہمارے سامنے لائے۔ نظم لکھی تو ’’چن سدھراں دے رنگ‘‘ دکھا دئیے۔ اہل بیت کا ذکر کیا تو ’’کربلا دا چن‘‘ ادبی میدان میں لے کر اُترے۔ بچوں کے لیے نظمیں لکھیں تو ’’ویہڑے کھیڈن چن‘‘ سے اپنے آپ کو ملکی سطح پر منوایا۔ حج کا موقع ملا تو ’’ بن گئے خواب حقیقت‘‘ سفرنامہ لکھ کر حاجی اور دینی خیال افراد سے ڈھیر داد وصول کی ’’چن سفنے ‘‘ اور ’’موم دا سورج‘‘ میں غزلوں کے شہسوار بن کر سامنے آئے۔ سرکار دو عالمﷺ کی محبت میں آپؐ کی زلفوں کا ذکر اس زور سے کیا کہ پوری کتاب ہی ’’والیل‘‘ زلفوں کے حوالے سے ’’چن حضور زلفوں‘‘ کے عنوان سے مکمل ہو گئی۔ مختصراً دلشاد احمد چن نے اس معاشرے کی عکاسی ایک کیمرہ مین کی طرح کی ہے اور ایسی لفظی تصویریں بنائیں جن میں زندگی اور کائنات کا متحرک موجود ہے۔ اُن کا اسلوب الگ پہچان رکھتا ہے اور قاری کو بار بار پڑھنے کی طرف مائل کرتا ہے۔ دلشاد احمد چن کی وفات سے پنجابی زبان و ادب کو ایک ایسے متحرک اور فعال تخلیق کار سے محرومی کا نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔ جس نے انسانیت کے وقار اور عظمت کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھا اور اولیت دی۔ آج اگرچہ وہ ہمارے درمیان موجود نہیں رہے مگر اُن کی عطربیز یادیں نہاں خانہ دل میں ہمیشہ امر رہیں گے۔ اُن کے بچھڑنے کا جتنا بھی غم کیا جائے کم ہے۔ اُن کی کمی ہمیشہ محسوس کی جاتی رہے گی۔ خداوند کریم اُن کو اپنی جوار رحمت میں بلند مقام عطا فرمائے۔’’ انا للہ وانا الیہٖ راجعون‘‘ دُنیا مسافر خانہ ہے ۔ نام اُس کا زندہ رہتا ہے جس کے جذبوں میں صداقت اور فکرو خیال میں اُونچی اڑان ہوتی ہے۔ جو لفظوں کو امانت سمجھ کر اُن کی حرمت اور وقار کا خیال رکھتے ہیں۔ جو شعروں کو دل کے بہلانے کا ذریعہ نہیں بناتے بلکہ اصلاح معاشرہ کے لیے نگینے تراشتے ہیں۔ اور یہی بات دلشاد احمد چن پر صادق آتی تھی۔ وہ ہمارے دلوں میں رہتے ہیں ۔
آہ!معلوم نہیں، ساتھ سے اپنے شب و روز
لوگ جاتے ہیں چلے سو یہ کدھر جاتے ہیں(میر درد)

ڈاکٹر اظہار احمد گلزار
11گورونانک پورہ فیصل آباد ، پاکستان
فون: 0092-300/313-7632419
E-mail:izhar.dhamal94@gmail.com

ماخذ/حواشی

۱۔ منظر پھلوری، ارحم عالم ، فیصل آباد: احسن پبلی کیشنز ، ۲۰۱۴ء ، ص ۵
۲۔ ایضاً
۳۔ راغب مراد آبادی ، مدح رسول ، کراچی: ۱۹۸۳ء
۴۔ سید محمد امین علی نقوی، محمد ہی محمد، باب الہدیٰ فیض آباد فیصل آباد، ۱۹۸۵ء
۵۔ سید محمد امین علی نقوی، محمد رسول اللہ ، باب الہدیٰ فیصل آباد، ۱۹۸۹ء
۶۔ سید مختار گیلانی ، محامد وراء المعرآء ، میاں چنوں ، پاکستان، ۱۹۹۳ء
۷۔ منظر پھلوری، ارحم عالم، ص ۴۵
۸۔ ایضاً، ص ۴۷
۹۔ ایضاً، ص ۷۳
۱۰۔ ایضاً، ص ۷۸
۱۱۔ ایضاً، ص ۸۱
۱۲۔ ایضاً، ص ۱۴۷
۱۳۔ ایضاً، ص ۱۴۸
۱۴۔ ایضاً، ص ۸۴
۱۵۔ ایضاً، ص ۹۲
۱۶۔ ایضاً، ص ۸۶
۱۷۔ ایضاً، ص ۸۷
۱۸۔ ایضاً
۱۹۔ ایضاً، ص ۲۷
۲۰۔ ایضاً، ص ۴۱
۲۱۔ ایضاً، ص ۱۴۷
۲۲۔ ایضاً، ص ۱۰۵
۲۳۔ دیباچہ سید شاہد حسین شاہد، ص ۱۵۶
۲۴۔ منظر پھلوری، ارحم عالم، ص ۵۹
۲۵۔ فلیپ سید مختار گیلانی ، ارحم عالم، ص ۱۱
۲۶۔ مدعا ، منظر پھلوری، ارحم عالم ، ص ۲۴
۲۷۔ دیباچہ ، طاہر سلطانی ، ارحم عالم، ص ۲۱
۲۸۔ منظر پھلوری، ارحم عالم، ص ۵۵
۲۹۔ ایضاً، ص ۶۰
۳۰۔ مدعا، منظر پھلوری، ارحم عالم، ص۲۴
۳۱۔ ایضاً، ص ۵۵
۳۲۔ دیباچہ ، ریاض احمد قادری، ارحم عالم، ص ۱۷
۳۳۔ منظر پھلوری ، ارحم عالم، ص ۱۲۳
۳۴۔ ایضاً، ص ۱۱۹

Viewers: 966
Share