Razia Rahman | یہ رسمِ جہیز مر کیوں نہیں جاتی۔۔۔۔ از: رضیہ رحمان

رضیہ ر حمان اسسٹنٹ پروفیسر اردو گورنمنٹ کالج برائے خواتین جہانیاں یہ رسم جہیز آخر مر کیوں نہیں جاتی؟ جہیز عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے اسباب […]

رضیہ ر حمان
اسسٹنٹ پروفیسر اردو
گورنمنٹ کالج برائے خواتین جہانیاں

یہ رسم جہیز آخر مر کیوں نہیں جاتی؟

جہیز عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے اسباب یا سامان ۔ہمارے ہاں جہیز اس سامان کو کہتے ہیں جو لڑکی کو نکاح میں اس کے ماں باپ کی طر ف سے دیا جاتا ہے۔ہمارے ہاں ایک محاورہ عام استعمال کیا جاتا ہے ’’ جہیز میں آنا‘‘ جس کا معنٰی ہے لڑکی کو شادی پر ماں باپ کی طرف سے سامان و اسباب ملنا۔
برصغیر پاک و ہند میں یہ ’’ رسم بد ‘‘ ہندو اثرات کی وجہ سے داخل ہوئی اور ایک لعنت کی شکل اختیار کرلی۔قاری سید محمد شفیق صاحب اپنے کتابچہ ’’ رسمِ جہیز اور مسئلہ وراثت‘‘ میں جہیز کا پسِ منظر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔
{’’ ہندوستان کے جو غیر مسلم ،اسلام میں داخل ہوئے ان میں سے اکثر و بیشتر کی دینی تربیت نہ ہوسکی ۔اس وجہ سے ان میں دینی تعلیمات ،عقائد و اعمال کا فقدان رہا لہٰذا انہوں نے جہالت کی وجہ سے ہندوئوں کی بعض مذہبی اور سماجی رسموں کو برقرار رکھا مثلاً جہیز دینا اور بیٹیوں کو وراثت سے محروم رکھنا، بیساکھی اور بسنت کے میلے ،بعضوں نے تو بت پرستی چھوڑ کر قبر پرستی اختیار کر لی، نیز ہندوں کی بیاہ شادی کی کم و بیش تمام رسوم کی پابندی کی۔ منگنی ، تیل ، مہندی اور سہرا بندی کی رسوم ، باجے ، ناچ گانے و دیگر خرافات اسی طرح ادا کر رہے ہیں جیسے ہندو ادا کر رہے ہیں جیسے ہندو ادا کرتے ہیں ۔ مسلم اور ہندو کی شادیوں میں اگر فرق رہ گیا ہے تووہ مولوی صاحب سے نکاح پڑھوانے اور ولیمے کا فرق ہے اور کوئی فرق نہیں‘‘۔}
شاعر کے بقول
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میںہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
جہیز کی لعنت کی وجہ سے کتنی ہی عورتیں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھر میں بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہوجاتی ہیں تو کہیں جہیز کم ہونے کی وجہ سے بہت سی عورتیں کی زندگی عذاب ہوجاتی ہے۔
2۔مارپیٹ کے علاوہ بعض دفعہ انہیں جلادیا جاتا ہے یا ان پر تیزاب پھینک دیا جاتا ہے۔
؎ پہلے غربت بیٹی کے رشتے میں اک دیوار بنی
پھر سر میں اِک چاندی جیسے بال نے رشتہ توڑدیا
بیٹی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے مگر برا ہو جہیز کی اس رسمِ بد کا جس نے بیٹی کو ’’ رحمت ‘‘ کی بجائے ’’زحمت ‘‘ بنادیا ہے ۔بیٹی کی پیدائش پر کئی گھروں میں صفِ ماتم بچھ جاتی ہے،بیٹی کی پیدائش کو نحوست کی علامت سمجھاجاتا ہے کیونکہ بیٹی کی پیدائش کے ساتھ ہی جہیز کی فکردامن گیر ہوجاتی ہے ۔
توقیر اسلم راں نے روزنامہ ’’ نوائے وقت ‘‘ کے 10جون 2011؁ء کے شمارے میں شائع شدہ مضمون ’’ اسلام میں جہیز کا تصور ‘‘ میںلکھا:
{’’ برصغیر پا ک و ہند میںشادی کے موقع پر دلہن کے والدین اور سر پرست جو سازوسامان مہیا کرتے ہیں وہ ’’جہیز‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ رسم ہندوستان اور پاکستان کے سوا دوسرے مسلم ممالک میںنہیں پائی جاتی ۔برصغیر کے مسلمانوں میں یہ رسم ہندودھرم سے آئی۔ہندو اپنے قدیم قانون (منو) کے مطابق بیٹی کو وراثت میں حصہ نہیں دیتے تھے ۔اس کی تلافی کے لیے ان کے یہاں یہ رواج پڑگیا کہ شادی کے موقع پر اپنی لڑکی کو کچھ نہ کچھ دے دیا جاتا اس طرح اس کو وراثت سے محروم کردینے کی راہ نکالی گئی‘‘}
اسلام دینِ فطرت ہے ۔اسلام میں شادی یا نکاح کا عمل ’’آدھا دین‘‘ ہے اگر ہم نکاح کے عمل کو ’’ اسوئہ حسنہ ‘‘ کے مطابق کرلیں تو نہ صرف دنیا فی الفور درست ہوجائے گی بلکہ آخرت بھی آسان ہوجائے گی ۔اسلام میں نکاح ایک سادہ اور آسان عمل ہے۔حکیم عبدالعزیز رحمۃاﷲعلیہ اپنے کتابچے ـ اطلاع نکاح مسنون میں لکھتے ہیں
اسلامی طریقہ نکاح
۱۔ لڑکی والا خواہ غریب ہو یا امیر نکاح کے سلسلہ میں ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کرے گا۔
۲۔ لڑکا حسبِ حیثیت خرچ کرے گا۔
۳۔ نکاح سے پہلے لڑکا اپنی ہونے والی بیوی کے لیے کپڑے ،زیورات اور دیگر سازو سامان حتیّٰ کہ خوشبو تک لڑکی والوں کے ہاں پہنچائے گا۔
۴۔ حق مہر کی ادائیگی نکاح کے موقع پر حسبِ حیثیت ہوگی۔
۵۔ لڑکا اکیلا بھی آجائے تو نکاح میںکسی قسم کی خامی یا کمی شمار نہیں ہوگی۔
۶۔ اگر لڑکا سمجھتا ہے کہ میری بیوی بغیر ’’فوج‘‘ کے نہیں آسکتی تو اپنے حالات اور ضرورت کے مطابق جتنے افراد لانا چاہیے لا سکتا ہے ۔
۷۔ ’’فوج‘‘ یا ’’بارات‘‘ میں شامل افراد مسجد میں تشریف رکھیں۔
۸۔ نکاح کے بعد، اسلامی نکاح کے تحت بننے والے اس جوڑے کے لیے دعا کریںاور تشریف لے جائیں۔
۹۔ نکاح کے بعد لڑکا اکیلا یا اس کے ورثاء اگر اس کے ساتھ جانا چاہیں تو لڑکی والوں کے ہاں جائیں، بغیر کچھ کھائے پیئے لڑکی کو ساتھ لیں اور اپنے گھر چلے جائیں ۔
۱۰۔ اگر کھانا کھلانے کی ضرورت پڑے تو لڑکے والے خود اس ’’بارات‘‘ کے لیے کھانے کا انتظام کریں کیونکہ نکاح کے موقع پر لڑکی والوں کے ہاں کھانا پینا’’ اسوئہ حسنہ ‘‘ سے ثابت نہیں ہے ۔
۱۱۔ البتہ ہندؤوانہ طریقہ نکاح میں تو ہے کہ لڑکی والا،لڑکی کی پیدائش کے جرم میں ’’حملہ آور‘‘ فوجِ ظفر موج کو بٹھا نے اور کھلانے پلانے کی مشقت برداشت کرے،چاہے وہ رشوت کے مال سے ہو یا کسی اور ذریعہ حرام سے ،یا صدقہ ،زکواۃ ، خیرات کے مال سے۔
۱۲۔ دعوتِ ولیمہ :۔ نکاح کے اگلے دن لڑکا حسبِ حیثیت دعوت ولیمہ کا انتظام کرے،چاہے چند دوستوں کو کوئی سادہ سا مشروب ہی پیش کردے۔
۱۳۔ کسی سے کوئی ’’تحفہ‘‘ ’’نیوندرہ‘‘ یا ’’سلامی‘‘ وغیرہ قطعاً قبول نہیںکی جائے گی۔
۱۴۔ مکلاوہ:۔ ولیمہ کے بعد لڑکا، لڑکی جب چاہیں آئیں جائیں ، نہ کوئی فوج انہیں لینے جائے گی، نہ کوئی فوج چھوڑنے جائے گی۔’’ مکلاوہ‘‘ کے نام پر دوبارہ فوج ظفر موج کی ’’ آمد ورفت‘‘ اسوئہ حسنہ‘‘ سے ثابت نہیں }
دلیل:۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کے نکاح کے موقع پر سرور کائنات محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ شادی کے اخراجات کے لیے کوئی رقم ہے ؟ تو انہوں نے جواب میں کہا کہ میرے پاس تو صرف ایک زرہ ہے ۔تو آپﷺ نے پوچھا کہ یہ زرہ کون خرید ے گا ؟تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وہ زرہ خریدلی۔
تحفہ،نیوندرہ یا سلامی ،اسلامی شعار ہوتا تو آپﷺ اعلان فرما دیتے کہ کون کون نیوندرہ یا سلامی دے گا؟آپﷺ کے ایک اشارے پر وہاں سامان کا ایک ’’ انبار‘‘ لگ جاتا۔ا سکے برعکس آپ ﷺنے زرہ کی رقم سے گھریلو سامان بھی منگوایا،حق مہربھی دیا اور ولیمہ کا انتظام بھی کیا گیا۔
علاوہ ازیں آپﷺ کی تین صاحبزادیوں کی شادیاں پہلے ہوچکی تھیں۔ان کی شادیوں پر بھی’’ جہیز ‘‘ نام کی کسی چیز کا ذکر نہیں ملتا۔اگر جہیز دینا سنت ہوتا تو ا نکو بھی دیا جاتا۔
مزید برآں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے بچپن ہی سے اپنی سرپرستی میں لے لیا تھا اور وہ آپﷺ کے چچا زاد بھائی بھی تھے ۔آپﷺ بچپن ہی سے ان کی کفالت کرتے آئے تھے۔اس لیے قدرتی بات تھی کہ نیا گھر بسانے کے لیے بطور سرپرست سامان کا انتظام کرتے سو آپﷺ نے ان کی زرہ سے یہ سامان فراہم کیا۔
جہیز نہ دینے کی دیگر مثالیں:۔
جانثار ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک غزوہ میں اپنے گھر کا تمام اثاثہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا لیکن جب اپنی بیٹی حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کا سردارِ انبیاءﷺ سے نکاح کیا تو’’ جہیز‘‘ نام کی کوئی چیز نہیں دی بلکہ تمام ضروریات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فراہم کیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ،حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ،دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور سلف صالحین نے بھی ’’ اسوہ حسنہ ‘‘ کو سامنے رکھتے ہوئے نکاح کئے جن میں ’’ جہیز کاکہیں ذکر نہیں ملتا اس لیے ہمارے لیے بھی یہی فلاح کا راستہ ہے ۔
رسمِ جہیز کے خاتمہ کے لیے تجاویز
٭ہم میں سے ہر شخص انفرادی طور پر عہد کرلے کہ آئندہ ہم نہ تو جہیز لیں گے، نہ دیں گے ۔اور نہ ہی ایسی شادیوں میں شرکت کریں گے جن میں جہیز کا لین دین ہو، خواہ وہ ہمارے کتنے ہی عزیز کیوں نہ ہوں۔
جہیز فاطمہ ؓ لوگوں نے کردیا مشہور
علاوہ ان کے کہاں اور تین کا مذکور؟
جہیز فاطمہ ؓ کی سنیئے اب حقیقت بھی
جہیز ہی کے لیے تو زرہ علیؓ کی بِکی
دلہن کی خوشبو منگائی اسی رقم سے گئی
گر ہستی گھر کی بنائی اسی رقم سے گئی
لکھا ہے شامی نے یہ مسئلہ صراحت سے
کہ مرد گھر کی گر ہستی بھی خو د مہیا کرے
٭ہم غریب لڑکیوں کی شادیوں پر ’’ مانگ تانگ ‘‘ کر جہیز مہیا کرنے کو ’’ نیکی ‘‘ تصور کرتے ہیں حالانکہ ’’ نیکی‘‘ یہ ہوگی کہ ہم لوگوں کی سوچ بدلیں خصوصاً لڑکیوں کو یہ باور کروائیں کہ جہیز لینا اور دینا دونوں ’’ حرام ‘‘ ہیں اس لیے آ پ حرام سے بچیں ۔
٭ضروت اس امر کی ہے کہ شہر شہر،قریہ قریہ اور محلہ محلہ ایسی تنظیمیں قائم کی جائیں جو جہیز کے خلاف عوام میں نفرت پیداکریں اور رفتہ رفتہ ایسا ماحول پیدا ہوجائے کہ لوگ جہیز کا نام لیتے ہوئے شرمائیں اور جہیز کو ایک عیب سمجھا جانے لگے۔
٭علمائے کرام مساجد میں اپنے خطبات اور اجتماعی جلسوں میں جہیز کے خلاف علمی و عملی مثالیں پیش کرکے انہیں بغیر جہیز کی شادیوں پر ابھاریں۔
٭اساتذہ کرام سکول،کالج،یونیورسٹی ،دینی مدارس میں بتدریج جہیز کوایک ہندوانہ رسم اور ایک لعنت ثابت کرنے کے لیے دلائل دیں اور طالب علموں کو جہیز کے بغیر شادیوں کے لیے تیار کریں۔
٭ٹی وی ،ریڈیو،اخبارات رسائل ،انٹرنیٹ پر جہیز کے خلاف شہ سرخیوں میں مختلف پیغامات وقتاً فوقتاً خصوصاً مذہبی مواقع مثلاً جمعہ وغیرہ کے دن اس طرح کے پیغامات کو نمایاں طور پر نشر اور شائع کریں۔
(1)جہیز مکائو۔۔۔۔۔۔۔۔ غربت مٹائو
(2)جہیز مکائو۔۔۔۔۔۔ سکھ چین پائو
(3)جہیز سے نجات۔۔۔۔۔۔۔ خوشحال لمحات
(4)جہیز کا عذاب۔۔۔۔۔ معاشرہ خراب
(5)جہیز سے انکار۔۔۔۔۔۔۔ دین سے پیار
(6)جہیز کا سامان۔۔۔۔خوشحال گھر بار
(7)جہیز کی علّت ۔۔۔۔۔۔ذلت ہی ذلت
(8)جہیز کا سامان ۔۔۔۔۔۔بے غیرتی کا نشان
(9)جہیز کی پکار۔۔۔۔۔ لعنت بے شمار
(10)جہیز کا مرض۔۔۔۔۔۔۔ نسلوںپر قرض
(11)جہیز کی رسم۔۔۔۔۔۔۔ سکھ چین ختم
(12)جہیز کا رواج۔۔۔۔۔۔۔۔ زندگی محتاج
(13)جہیز کا شوق۔۔۔۔۔۔ لعنت کا طوق
(14)جہیز کا جنون۔۔۔۔۔۔۔ انسانیت کا خون
(15)جہیز کی آزادی۔۔۔۔۔بربادی ہی بربادی
(16)جہیز کے ساتھ شادی۔۔۔۔۔بربادی ہی بربادی
(17)جہیز کے خلاف جہاد۔۔۔۔بہن ، بیٹی کا گھر آباد
(18)جہیز مکائو۔۔۔۔۔نسل بچائو
(19)جہیز کا ناگ۔۔۔۔۔۔جہنم کی آگ
(20)جہیز کا ناگ ۔۔۔۔۔۔۔۔بے غیرت سہاگ
(21)جہیز کا اعلان۔۔۔۔۔کنبہ پریشان
(22)جہیز پر ایمان۔۔۔۔۔۔ہمیشہ پریشان
(23)جہیز کا تیر۔۔۔۔۔۔۔۔نسلیں اسیر
(24)جہیز سے انکار ۔۔۔۔۔۔خوشحال گھر بار
بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ صدیوں سے چلی آنے والی روایت کو بدلنا کیسے ممکن ہے؟ یا یہ کہ ہم بھی جہیز کے حق میں نہیں ہیں لیکن معاشرے کے ساتھ چلنا پڑتا ہے وغیرہ وغیرہ
سر سید احمد خان اپنے مضمون ’’رسم و رواج ‘‘ میں لکھتے ہیں
{’’آپ بری روایت ہٹا کر اچھی روایت لا کر دیکھیں ،
اگر نئی روایت میں جان ہوگی تو وہ خود بخود اپنے آپ کو منواتی جائے گی۔
سینکڑوں نہیں ہزاروں لوگ آہستہ آہستہ آپ کی تقلید میں نکل کھڑے ہوں گے‘‘}
س لیے ہمیں بہر حال بارش کا پہلا قطرہ بننا پڑے گا ، پھر ان شاء اللہ قطرہ قطرہ مل کر دریا بن جائے گا اور ایک +ایک گیارہ بن جائیں گے ۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ملتے گئے اور کارواں بنتا گیا
اسلام سادگی کا دین ہے۔ اسلام کی نظر میں عورت کا’’ بہترین جہیز ‘‘ اس کی’’ بہترین تعلیم و تربیت ‘‘ہے ‘‘جہیز سے تنگ آئے ہوئے ماں باپ کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
ماں باپ کے سر سے سختی اتر کیوں نہیں جاتی
یہ رسم جہیز آخر مر کیوں نہیں جاتی؟
حقیقتاً یہ’’ رسم جہیز ‘‘ مرے گی نہیں بلکہ ہمیں مل جل کر اسے مارنا ہو گا۔

Viewers: 2091
Share