Sahil Munir | ساحل منیر کی شاعری

ساحل منیر میاں چنوں (پنجاب۔ پاکستان) غزلیں مِٹ جائیں شب و روز کے ہنگام کِسی روز رہ جائیں فقط درد کے الہام کِسی روز دیکھیں گے سرِدار تیرے شہرِ وفا […]

ساحل منیر
میاں چنوں (پنجاب۔ پاکستان)

غزلیں

مِٹ جائیں شب و روز کے ہنگام کِسی روز
رہ جائیں فقط درد کے الہام کِسی روز
دیکھیں گے سرِدار تیرے شہرِ وفا میں
اِس دردِ مسیحائی کا انجام کِسی روز
خوابوں کے خیالوں کے یہ نایاب خزینے
ہو جائیں گے بازار میں نیلام کِسی روز
اِک حرفِ صداقت کو رقم کرنے کے موجب
ہونا ہے ہمیں شہر میں بدنام کِسی روز
ہم جیسے غمِ ہجر کے ماروں کو کبھی تو
آئے گا تیرے وصل کا پیغام کِسی روز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم کورعنائیِ جذبات نہیں راس آئی
تجھ سے وہ پہلی ملاقات نہیں راس آئی
کیا کہیں کتنی اذیت سے گزر جاتا تھا
جِس کو غم خواریِء حالات نہیں راس آئی
ہم کو اِس درجہ محبت سے بلانے والے
تیری یہ نظرِ کرامات نہیں راس آئی
ہِجر کی آگ میں جلتے ہوئے پروانوں کو
یہ جنوں اور یہ برسات نہیں راس آئی
ہم محبت کے گنہگارو تہی داماں کو
عہدِ کم ظرف کی سوغات نہیں راس آئی
پاسدارانِ محبت کو کڑی دھوپ تلے
سرد جذبوں کی کوئی بات نہیں راس آئی
برف جِسموں کو محبت کی حرارت دے کر
ہم کو اخلاص بھری رات نہیں راس آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جینا مشکل ہے مرنا آساں ہے
کیسا قدرت کا ہم پہ احساں ہے
پھر وہی عہدِ کم نگاہی ہے
پھر وہی رندِ چاک داماں ہے
جِس کے تن کا لباس تھے یارو
اس کے ہاتھوںمیں ہی گریباں ہے
نقش پائے جنون کی سوگند
راہِ دار و رسن ہی ارماں ہے
جاں کنی کے عذاب میں ساحلؔ
کوئی ہمدم نہ کوئی درماں ہے

Viewers: 2505
Share