معروف پنجابی و اردو شاعر اسلم کولسری اب ہم میں نہیں رہے۔

لاہور(ناصر بشیر) اردو اور پنجابی زبان کے ممتاز شاعر صحافی اور براڈ کا سٹر اسلم aslamکولسری گذشتہ روز حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے ۔ان کی عمر ستر برس تھی۔تفصیل کے مطابق انہیں چھاتی میں ریشے کی مسلسل شکایت تھی۔ صبح سویرے ان کی طبیعت خراب ہوئی تو ان کے بیٹے انہیں فوری طور پر شالیمار ہسپتال لے گئے لیکن ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی احباب لاہور کینٹ صدر کے علاقے میں واقع ان کے مکان پرپہنچنا شروع ہو گئے لیکن ان کے اہل خانہ ان کی میت آبائی گاؤں گیمبر(سابقہ کولسر)ضلع اوکاڑہ لے گئے اور رات تقریباً آٹھ بجے گاؤں کے قبرستان میں ان کی تدفین کر دی گئی۔اس موقع پر اوکاڑہ اور ساہیوال کے ادیبوں شاعروں اور صحافیوں کے علاوہ ان کے اعزا واقارب بھی موجود تھے۔مرحوم کے پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ ایک بیٹی اور دو بیٹے شامل ہیں۔اسلم کولسری اگست1946میں کولسر ضلع اوکاڑہ میں پیدا ہوئے۔’’نخل جاں‘‘’’کاش‘‘’’ویرانہ‘‘ اور پنچھی‘‘ ان کے اردو شعری مجموعے ہیں۔ا ن کے پنجاب مجموعہ ہائے کلام میں ’’نیند‘‘عنبر‘‘برسات‘‘جیون اور کومل‘‘شامل ہیں۔اس کے علاوہ انہوں نے غیرملکی زبانوں کی شاعری کے تراجم بھی کئے۔کولسر سے لاہور منتقل ہونے کے بعد وہ روزنامہ مشرق سے وابستہ ہوگئے تھے۔اردو سائنس بورڈ میں بھی خدمات انجام دیں۔انتقال سے چند روز پہلے تک وہ مختلف ریڈیو پروگرام کرتے رہے۔لیکن ادبی دنیا سے کنارہ کش تھے۔یہ شعر عالمی سطح پر ان کی پہچان بنے:

ہر میں آکر پڑھنے والے بھول گئے
کِس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا

اسلم بڑے وقار سے ڈگری وصول کی
اور اس کے بعد شہر میں خوانچہ لگا لیا

مجھ کو تو نوکری نے بچا ہی لیا مگر
سینے میں ایک پھول سا فنکار مر گیا

Viewers: 350
Share